حکومت کا دعویٰ: ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں؛ اپوزیشن اور عوام نے سوال اٹھا دیے

نئی دہلی، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز)

:حکومتِ ہند نے واضح کیا ہے کہ ملک میں خام تیل (Crude Oil) کی فراہمی مستحکم ہے اور پیٹرول و ڈیزل کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔ حکام کے مطابق ملک کی تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں جس کے باعث ایندھن کی سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خطرہ نہیں ہے۔وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی مکمل طور پر مستحکم ہے اور گھریلو طلب کو پورا کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ملک میں ایل پی جی (LPG) کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی اور کسی قسم کی قلت کی اطلاع نہیں ملی۔حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں احتیاط کے طور پر ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عام طور پر روزانہ تقریباً 75 سے 76 لاکھ بکنگ ہوتی ہے، جو بڑھ کر تقریباً 88 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔سجاتا شرما نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر سلنڈر بک نہ کریں اور صرف ضرورت کے وقت ہی بکنگ کریں تاکہ سپلائی کا نظام معمول کے مطابق برقرار رہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت تجارتی صارفین کو ایل پی جی کے بجائے PNG (Piped Natural Gas) استعمال کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے GAIL سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ صارفین کو متبادل توانائی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔حکام کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تجارتی ایل پی جی سلنڈروں کی تقسیم جاری ہے جبکہ ایل پی جی کی آن لائن بکنگ تقریباً 84 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ اسے مستقبل میں 100 فیصد تک بڑھایا جائے۔وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت1,01,469 پیٹرول پمپ (ریٹیل آؤٹ لیٹس)25,605 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرزموجود ہیں جو ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔اپوزیشن اور عوام کا موقفدوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض سماجی حلقوں نے حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی میں تاخیر اور مشکلات کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض شہروں میں گیس کی دستیابی کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے ہیں اور عوام کو سلنڈر حاصل کرنے کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور کسی بڑے بحران کی صورتحال نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اس لیے حکومت اور توانائی کے ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

:Press Information BureauMinistry of Petroleum and Natural Gas

ایران سے متعلق بیان پر تنازع: سنبھل کے سرکل آفیسر سے وضاحت طلب، کئی سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

لکھنؤ / سنبھل، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک پولیس افسر کے متنازع بیان کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) نے سرکل آفیسر کلدیپ کمار سے وضاحت طلب کی ہے، جنہوں نے ایک امن کمیٹی کی میٹنگ کے دوران ایران سے متعلق بیان دیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ میٹنگ رمضان المبارک کے آخری جمعہ (الوداع جمعہ) اور عید الفطر کی نماز کے انتظامات کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی۔ اس اجلاس میں مقامی علما، سماجی رہنما اور پولیس حکام شریک تھے تاکہ مذہبی تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات کی جا سکے۔رپورٹس کے مطابق میٹنگ کے دوران سرکل آفیسر کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر کسی کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کی اتنی فکر ہے تو وہ اس جہاز میں بیٹھ کر ایران چلا جائے جو وہاں پھنسے بھارتی شہریوں کو واپس لانے جا رہا ہے، اور وہاں جا کر ایران کی طرف سے لڑے۔افسر نے مزید کہا کہ اگر بیرونی ممالک کے درمیان ہونے والے تنازعات کا اثر بھارت کے امن و امان پر پڑا تو پولیس سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے لوگوں کو یہ بھی تنبیہ کی کہ جمعہ یا عید کی نماز کے دوران کسی دوسرے ملک کے حق میں نعرے بازی یا پوسٹر نہ لگائے جائیں کیونکہ اس سے مقامی ماحول خراب ہو سکتا ہے۔اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔اس معاملے پر کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ Iqra Hasan، Imran Pratapgarhi اور Ziauddin Bukhari سمیت متعدد رہنماؤں نے اس بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری افسر کو اس طرح کے سیاسی یا اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے اور انتظامیہ کو اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرنی چاہیے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر Asaduddin Owaisi نے بھی اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری ملک میں شہریوں کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی پولیس افسر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ وہ اپنے خیالات کس طرح ظاہر کریں۔دوسری جانب سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سرکل آفیسر سے وضاحت طلب کی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ بیان کس تناظر میں دیا گیا تھا اور آیا اس میں کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔پولیس حکام کے مطابق رمضان اور عید کے موقع پر ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف امن کمیٹی میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ مذہبی تقریبات پرامن طریقے سے انجام دی جا سکیں۔

ذرائع:The Indian Expressدیگر میڈیا رپورٹس

ایپسٹین فائل میں مہاتما گاندھی کا نام ہونے کے دعوے پر تنازع، سوشل میڈیا پر بحث تیز

نئی دہلی، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان سدھانشو ترویدی کے ایک بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس وقت بحث چھڑ گئی جب انہوں نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران مبینہ طور پر کہا کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں مہاتما گاندھی کا نام بھی موجود ہے۔اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے کو تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مہاتما گاندھی کی وفات 30 جنوری 1948 کو ہو گئی تھی جبکہ جیفری ایپسٹین کی پیدائش 20 جنوری 1953 میں ہوئی تھی، اس لیے دونوں کے درمیان کسی قسم کے تعلق یا ملاقات کا امکان نہیں بنتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور کئی افراد نے اسے تاریخی معلومات کے برخلاف قرار دیتے ہوئے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض صارفین نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے غیر ضروری سیاسی تنازع پیدا ہوتا ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے کچھ حامیوں کا کہنا ہے کہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے اور مکمل ویڈیو سامنے آنے کے بعد ہی اس کے اصل مطلب کو سمجھا جا سکتا ہے۔اب تک اس معاملے پر سدھانشو ترویدی کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم سوشل میڈیا پر یہ موضوع مسلسل زیر بحث ہے۔

ایپسٹین کون تھا؟جیفری ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھا جس پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ 2019 میں اس کی گرفتاری کے بعد اس کے روابط سے متعلق متعدد دستاویزات اور عدالتی ریکارڈ منظر عام پر آئے جس میں کئی عالمی شخصیات کے نام زیر بحث رہے۔

تاریخی حقیقت

مہاتما گاندھی کی وفات: 30 جنوری 1948جیفری ایپسٹین کی پیدائش: 20 جنوری 1953اس بنیاد پر ماہرین کے مطابق دونوں کے درمیان کسی حقیقی تعلق کا دعویٰ تاریخی طور پر درست ثابت نہیں ہوتا۔

Indian ExpressHindustan TimesReuters

(پس منظر معلومات)

مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ کا سخت تبصرہ

اگر امن و امان برقرار نہیں رکھ سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں: عدالت

پریاگ راج، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ کو یہ خدشہ ہے کہ مسجد میں زیادہ نمازیوں کی آمد سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے تو متعلقہ افسران کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔یہ ریمارکس الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے ایک عرضی کی سماعت کے دوران دیے جس میں سنبھل میں واقع ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے صرف 20 افراد کو اجازت دینے کے انتظامی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ پابندی آئین ہند کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے۔عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ قانون و انتظام برقرار رکھنا ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس بنیاد پر عبادت کے حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ (DM) اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ نمازیوں کی موجودگی سے حالات سنبھالنا ممکن نہیں تو انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ یہ پابندی ممکنہ امن و امان کے خدشات کے پیش نظر عائد کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کا کام لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں محدود کرنا۔سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو مزید دستاویزات اور تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ تبصرہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم عدالتی موقف کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرنے کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

پس منظر

ضلع سنبھل میں حالیہ دنوں میں مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرنے کے انتظامی فیصلے کے بعد یہ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد آتے ہیں اور ایسی پابندیاں مذہبی آزادی کو متاثر کرتی ہیں۔

The Indian ExpressLive LawHindustan Times

چین نے ایران میں اسکول حملے میں جاں بحق بچوں کے خاندانوں کے لیے دو لاکھ ڈالر انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امداد ریڈ کراس کے ذریعے ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو دی جائے گی۔

china-aid-iran-school-attack

بیجنگ / تہران، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):چین نے ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے دو لاکھ ڈالر کی انسانی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ امداد چین کی ریڈ کراس سوسائٹی کے ذریعے ایران کی ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) سوسائٹی کو فراہم کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی اور انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔چین کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں اور بچوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق بے گناہ شہریوں خصوصاً بچوں پر حملے انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور عالمی برادری کو اس طرح کے واقعات کی واضح مذمت کرنی چاہیے۔چینی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ چین مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا۔ حکام کے مطابق امدادی رقم ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ذریعے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی تاکہ انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ادھر ایرانی حکام کے مطابق اسکول پر ہونے والے حملے میں متعدد بچے جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔چین کی جانب سے اعلان کردہ امداد کو انسانی ہمدردی کے جذبے کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق اس اقدام سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا ملے گا۔

📌 حوالہ جات (Sources)

چین کی وزارت خارجہ کا بیان

چین کی ریڈ کراس سوسائٹی

ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیاں (رائٹرز / شنہوا)

اٹلی کا اہم اعلان: ایران کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے — وزیر اعظم جارجیا میلونی

نیشنل اردو ٹائمز | روم

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شریک ہوگا۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اٹلی کی حکومت موجودہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کسی ایسے فوجی اتحاد یا کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی جس کا مقصد ایران کے خلاف جنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔جارجیا میلونی کے اس بیان کو عالمی سیاست میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

#Italy #Iran #MiddleEast #BreakingNews

نوجوان محمد اریب کے قتل کا دردناک واقعہ۔ ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند کی سربراہی میں ایک وفد کی اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت

نیشنل اردو ٹائمز | نئی دہلی

پرانی دہلی کے علاقہ کوچہ چیلان سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد اریب کے دلخراش قتل کے واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق محمد اریب اسکریپ کے کاروبار سے وابستہ تھے اور چند روز قبل لاپتہ ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ان کی لاش کے مختلف ٹکڑے فرید آباد کے جنگلات سے برآمد ہوئے، جس کے بعد اہلِ خانہ اور علاقے کے لوگوں میں شدید صدمہ اور غم کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس نے بعض ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔گزشتہ روز بعد نمازِ مغرب مولانا محمد حکیم الدین قاسمی مرحوم محمد اریب کی تدفین میں شریک ہوئے اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔ بعد ازاں نمازِ تراویح کے بعد ان کی قیادت میں ایک وفد مرحوم کے گھر پہنچا اور ان کے والد شکیل احمد سمیت دیگر اہلِ خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کی۔اس موقع پر وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام پہنچایا اور اہلِ خانہ کو صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، مگر ایسے حالات میں صبر اور حوصلہ ہی مومن کا سہارا ہوتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جمعیۃ علماء ہند متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔وفد میں جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ذمہ داران مولانا محمد قاسم نوری، مولانا قاری محمد عارف قاسمی، مولانا محمد یوسف اعظمی اور حاجی محمد اسعد میاں کے علاوہ مرکزی دفتر سے مفتی ذاکر حسین قاسمی اور حافظ ابوبکر بھی شامل تھے۔جمعیۃ علماء ہند نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین قتل کی غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار تحقیقات کر کے تمام قصورواروں کو سخت سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں امن و امان برقرار رہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

نیوز ایجنسی ، 11 مارچ2026 (نیشنل اردو ٹائمز ):

یورپی یونین کونسل کے صدر Antonio Costa نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف United States اور Israel کی جانب سے جاری جنگی صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ Russia کو ہو رہا ہے اور اس تنازع کا واحد بڑا ‘فاتح’ روس ہی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے روس کی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کی توجہ بھی بڑی حد تک Ukraine کے ساتھ روس کے تقریباً چار سال سے جاری تنازع سے ہٹ گئی ہے۔انتونیو کوسٹا کے مطابق یہ جنگ اب اپنے گیارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے میں بعض تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔یورپی یونین کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حوالہ:

UNI News Agency،

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس

(رپورٹ: نیشنل اردو ٹائمز – NUT)

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی میں ہولناک آتشزدگی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے وفد کا دورہ

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی میں ہولناک آتشزدگی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے وفد کا دورہ نئی دہلی، 11 مارچ:2026

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی، نزد رٹھالا میٹرو اسٹیشن میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں پوری جھگی بستی جل کر راکھ ہو گئی۔ اس افسوسناک حادثے میں ایک کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ سینکڑوں جھگیاں اور گھروں کا سامان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں انتہائی افسوسناک اور تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں خاندان بے گھر اور بے سہارا ہو گئے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس سانحے کے بعد جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر حضرت مولانا محمد قاسم نوری کی ہدایت پر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کا ایک وفد جنرل سکریٹری مولانا آفتابِ عالم صدیقی کی قیادت میں جائے حادثہ پر پہنچا اور متاثرہ علاقے کا معائنہ کیا۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے ان کی دلجوئی کی اور حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔وفد میں مولانا عبدالملک (نائب امام مسجد ابوبکر صدیق، بی بلاک جے جے کالونی بوانہ، دہلی)، قاری ابو بشر (امام و خطیب مسجد بلال، ایف بلاک بوانہ)، قربان انصاری، عالم بھائی، مولانا مامون رشید اور دیگر حضرات شامل تھے۔اس موقع پر مولانا آفتابِ عالم صدیقی نے بتایا کہ آگ کی اس تباہ کن واردات کے بعد متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا تمام سامان جل کر خاک ہو چکا ہے اور لوگ اس وقت بے یار و مددگار حالت میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر بھی قریب ہے اور زیادہ تر متاثرہ آبادی غریب اور ضرورت مند مسلمانوں پر مشتمل ہے، اس لیے فوری امداد اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں اور ایسے خاندانوں کی فہرست بھی تیار کی جا رہی ہے جنہیں فوری مدد درکار ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر ان بے سہارا لوگوں کی مدد کریں تاکہ اس مشکل گھڑی میں انہیں سہارا مل سکے۔(رپورٹ: نیشنل اردو نیوز)

أتم نگر واقعہ: جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، سخت نوٹس لینے اور مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ

أتم نگر واقعہ: جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، سخت نوٹس لینے اور مسلم اقلیت تحفظ سمیت پانچ مطالبات پیش

نیشنل اردو نیوز | نئی دہلی 10- مارچ

2026نئی دہلی کے علاقہ أتم نگر میں پیش آئے حالیہ واقعہ کے سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی نے کی کی ہدایت پر جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات کی اور واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد کی قیادت، جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کی۔وفد نے جوائنٹ پولیس کمشنر کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہا کہ أتم نگر میں 26 سالہ نوجوان ترون کمار کی ہلاکت نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔جمعیۃ علماء ہند نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ بعض شرپسند عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواد پھیلا کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔