اتراکھنڈ و گجرات میں یونیفارم سول کوڈ پر اعتراضات، مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت ردِعمل

اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیں: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی:3/اپریل 2026گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو’’ یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو UCC کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراء طلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں UCC نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراء طلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراء کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں UCCکے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔🎙️پریس کو مخاطب کر نے والےمولانا محمد علی محسن تقوی، نائب صدر بورڈ ، امام وخطیب شیعہ جامع مسجد دہلیمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، نائب صدر بورڈ و صدرمرکزی جمیعت اہل حدیث ہندجناب ملک معتصم خان، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، رکن بورڈایڈوکیٹ طاہرایم حکیم، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں

نئی دہلی
دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک مقامی جلوس (شوبھا یاترا) کے دوران پیش آیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات اور پس منظر کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی بنیاد پر بعض افراد کی شناخت کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق علاقے میں فی الحال حالات معمول پر ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے تاکید کی گئی ہے کہ حساس معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔

مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی گرفتاری کے معاملے پر اخترالایمان کی جانب سے پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں مبینہ طور پر گرفتاری کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔

پٹنہ (نیشنل اردو ٹائمز): پٹنہ میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں، مختلف مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے مشہور عالم دین اور تعلیمی شخصیت مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی حالیہ گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانفرنس کے دوران، اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کے بہار کے ایم ایل اے اور ریاستی صدر اختر الایمان نے مولانا چترویدی کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کارروائی قرار دیا۔​اختر الایمان نے کہا کہ مولانا چترویدی کی گرفتاری کے پیچھے مبینہ طور پر سیاسی وجوہات اور مذہبی تعصب کارفرما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا نے ہمیشہ امن اور بھائی چارے کا درس دیا ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ان کی گرفتاری سے متعلق ذرائع کے مطابق متعدد شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔​AIMIM ایم ایل اے نے اس معاملے میں فوری مداخلت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اہم آئینی عہدیداروں اور اداروں کو مکتوب روانہ کیے ہیں۔ ان مکتوبات میں بہار کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ، انسانی حقوق کمیشن اور اقلیتی کمیشن شامل ہیں۔ ان خطوط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مولانا عبداللہ سالم چترویدی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے۔​پریس کانفرنس میں شامل تمام رہنماؤں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر مولانا بے قصور ثابت ہوں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مطالبہ کسی فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے معاملات پر عدالت کا اظہارِ تشویش، پولیس کو مستعدی کی ہدایت

نئی دہلی:قومی راجدھانی دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور پولیس کو اس معاملے میں زیادہ مستعدی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران معزز عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کرے گی تو ایسے معاملات کی سنگینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ لاپتہ بچوں کے کیسز میں سنجیدگی کے ساتھ فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اس نوعیت کے چند واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار اور تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

وضاحت:یہ خبر دستیاب عدالتی ریمارکس اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید مستند معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

رپورٹ: نیشنل اردو ٹائم

زمرہ: India / Court / Crime

راگھو چڈھا کو بڑا سیاسی جھٹکا، راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹائے گئے

نئی دہلی:راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کو بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، جہاں عام آدمی پارٹی نے انہیں ایوانِ بالا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ان کی جگہ اشوک متل کو نیا ڈپٹی لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو پارٹی کے اندرونی تنظیمی رد و بدل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔تاحال اس فیصلے پر راگھو چڈھا کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس تبدیلی پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت، نجی مکان پر بڑی تعداد میں نماز کی ادائیگی سے گریز کریں

الہ آباد:الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلم شخص کے معاملے میں اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے نجی مکان پر نماز کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع نہ کریں۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر علاقے میں امن و امان یا سکون متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو ریاستی حکومت ضروری کارروائی کرے۔واضح رہے کہ مذکورہ شخص کو اس سے قبل اپنے نجی مکان پر نماز ادا کرنے کے لیے پولیس تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔عدالت نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ حالات پر نظر رکھی جائے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔ نوٹ:یہ خبر دستیاب عدالتی ہدایات اور اطلاعات پر مبنی ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر اپڈیٹ کیا جائے گا۔

مولانا عبداللہ سالم چترویدی گرفتار، 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا

بہرائچ / کشن گنج:مولانا عبداللہ سالم چترویدی کو اتر پردیش پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں بہار کے ضلع کشن گنج سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد اتر پردیش ایس ٹی ایف نے اس معاملے میں مزید کارروائی کی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق مولانا پر ایک مذہبی اجتماع کے دوران اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی والدہ کے حوالے سے مبینہ طور پر قابلِ اعتراض بیان دینے کا الزام ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل (جوڈیشل ریمانڈ) میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔تاحال اس معاملے میں مولانا عبداللہ سالم چترویدی یا ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ کیس کی مزید جانچ جاری ہے۔ نوٹ:یہ خبر دستیاب ابتدائی معلومات پر مبنی ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

اسرائیل کے شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ، ایران سے میزائل لانچ کی نشاندہی

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیل نے اپنے شمالی علاقوں میں ابتدائی وارننگ جاری کر دی ہے، جب ایران کی جانب سے میزائل لانچ ہونے کی نشاندہی ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے میزائل لانچ کا سراغ لگاتے ہی شہریوں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا، جبکہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر سائرن بجنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج چکے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے حملوں اور الرٹس میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

کمال مولا مسجد معاملہ: ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج

بھوپال (اسٹاف رپورٹر):کمال مولا مسجد سے متعلق جاری تنازع میں مسلم فریق نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ پر مکمل طور پر اعتراضات پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا سپریم کورٹ میں جانا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں تمام فریقین کے دلائل اور شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔یہ تنازع پہلے ہی ملک میں مذہبی اور قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور اب سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد اس کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔