نیپال کے سابق وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ گرفتار

کھٹمنڈو (بین الاقوامی ڈیسک)

نیپال میں بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق وزیرِاعظم اور سابق وزیرِداخلہ کو ان کے مبینہ پرانے کرتوتوں اور بدعنوانی کے معاملات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی احتسابی اداروں کی جانب سے کی گئی، جس میں کئی پرانے مقدمات کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ذرائع کے مطابق تحقیقات کافی عرصے سے جاری تھیں اور شواہد سامنے آنے کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں نیپال کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات بھی متوقع ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران روس کا بڑا فیصلہ: پیٹرول برآمدات عارضی طور پر بند

ماسکو (بین الاقوامی ڈیسک)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ-ایران کشیدگی کے پس منظر میں روس نے یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارتِ توانائی کو اس سلسلے میں باضابطہ تجویز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ قدم ملک کے اندر ایندھن کی فراہمی کو برقرار رکھنے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ روس یومیہ تقریباً 1.2 سے 1.7 لاکھ بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے، اور اس فیصلے کے اثرات چین، ترکی، برازیل، افریقہ کے کئی ممالک اور سنگاپور سمیت دیگر خطوں پر پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں مزید بے یقینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

جے پور میں پرنٹنگ انڈسٹری نمائش، راجستھان میں ترقی کے نئے مواقع: دیا کماری

جے پور (نمائندہ خصوصی)

راجستھان کی نائب وزیر اعلیٰ نے جے پور میں منعقدہ پرنٹنگ انڈسٹری نمائش کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے پروگرامز صنعت کے فروغ اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں سیکھنے اور دیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے، جو اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ راجستھان میں اس نمائش کا دوسری بار انعقاد خوش آئند ہے اور اسے آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔دیا کماری نے مزید کہا کہ راجستھان ہر شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس طرح کے صنعتی پروگرامز نہ صرف نئے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو اس صنعت کی جانب راغب بھی کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے ایونٹس ریاست میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دارالعلوم وقف دیوبند میں داخلہ امتحانات شروع، ہزاروں طلبہ شریک

دیوبند (نمائندہ خصوصی)

میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلہ امتحانات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے آئے ہزاروں طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔امتحانات کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ نظم و ضبط کے ساتھ ہال میں بیٹھ کر امتحان دے رہے ہیں۔ ادارے کی جانب سے امتحانی نظام کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے خصوصی نگرانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق داخلہ امتحانات مختلف درجات کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو آئندہ تعلیمی سال میں داخلہ دیا جائے گا۔ اس موقع پر طلبہ میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ادارہ کے ذمہ داران نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک کے مختلف علاقوں سے طلبہ بڑی تعداد میں یہاں پہنچے ہیں، جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس تاریخی ادارے کا انتخاب کرتے ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم ریمارک: شادی شدہ مرد کا لیو اِن ریلیشن جرم نہیں

پریاگ راج (نمائندہ خصوصی)

الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے لیو اِن ریلیشن (ہم باشی) سے متعلق ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ خاتون کے ساتھ اس کی رضامندی سے لیو اِن ریلیشن میں رہ رہا ہے تو یہ بذاتِ خود کوئی مجرمانہ عمل نہیں ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کسی عمل کو جرم قرار دینے کے لیے مخصوص قانونی بنیاد ضروری ہوتی ہے، اور محض سماجی یا اخلاقی بنیادوں پر کسی تعلق کو مجرمانہ نہیں کہا جا سکتا۔عدالتی بنچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر دونوں فریق بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے ساتھ رہ رہے ہوں تو اسے فوجداری جرم کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا، البتہ ایسے معاملات میں دیگر قانونی پہلو جیسے ازدواجی حقوق یا خاندانی تنازعات الگ سے زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ماہرین قانون کے مطابق یہ ریمارک موجودہ قانونی تشریح کو واضح کرتا ہے، جس میں لیو اِن ریلیشن کو بذاتِ خود جرم نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس میں زبردستی یا غیر قانونی عناصر شامل نہ ہوں۔

این سی ای آر ٹی تنازع: سپریم کورٹ کی کارروائی اور نصاب میں مداخلت پر بحث تیز

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کی درسی کتابوں سے متعلق تنازع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں عدالت کی جانب سے سخت اقدامات کے بعد نصاب اور عدلیہ کے تعلق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کے مصنفین کو بلیک لسٹ کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے 26 فروری کو اس کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، کیونکہ اس میں عدلیہ میں بدعنوانی اور مقدمات کے بوجھ جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس باب پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں این سی ای آر ٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے عدلیہ کے لیے اپنے “اعلیٰ احترام” کا اظہار کیا اور باب کو دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔عدالت نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈی پی ساکلانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور بعد میں مصنفین کی نشاندہی ہونے پر سرکاری و عوامی اداروں کو ہدایت دی کہ ان افراد کو ملازمت نہ دی جائے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کتاب میں عدلیہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر اداروں جیسے پارلیمنٹ اور انتخابی نظام پر محدود یا نرم تنقید کی گئی۔ عدالت نے اسے حقائق کی “جان بوجھ کر غلط پیشکش” قرار دیا۔ پس منظر اور اہم سوالاتماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک کتاب تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ نصاب کی تیاری میں حکومت یا عدلیہ کی مداخلت کہاں تک درست ہے۔ این سی ای آر ٹی، اگرچہ ایک خود مختار ادارہ ہے، لیکن اس پر پہلے بھی حکومتی اثر و رسوخ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں درسی کتابوں سے ارتقاء (Darwin Theory)، 2002 گجرات فسادات اور بابری مسجد جیسے موضوعات کو ہٹانے پر بھی بحث ہوئی تھی، جسے “ریشنیلائزیشن” قرار دیا گیا تھا۔ تجزیہماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی مواد کا ہونا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہو، تاہم اداروں کی ساکھ اور آئینی حدود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں مختلف اداروں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

اسرائیلی فوج تھک چکی ہے، الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی بھرتی کا مطالبہ

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک)

اسرائیل کے اپوزیشن رہنما نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج طویل عرصے سے جاری تنازعات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے اور اب ریزرو فوجی تھک چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریزرو فورسز سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں، جس کے پیش نظر فوجی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔یائر لیپڈ نے مطالبہ کیا کہ الٹرا آرتھوڈوکس (حریدی) یہودیوں کو بھی لازمی طور پر فوج میں شامل کیا جائے تاکہ فوجی بوجھ کو تقسیم کیا جا سکے اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو مختلف محاذوں پر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور فوج پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس تجویز پر عمل ہوتا ہے تو یہ اسرائیل کے اندر ایک بڑی سماجی اور سیاسی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے اثرات: خوراک اور ادویات سمیت کئی اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ

لندن (بین الاقوامی ڈیسک)

بین الاقوامی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث نہ صرف تیل اور گیس بلکہ خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس راستے میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مختلف مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ خاص طور پر خوراک اور ادویات جیسے ضروری شعبے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مہنگائی میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

سعودی قیادت کی جانب سے بنگلہ دیش کو یومِ آزادی پر مبارکباد

ریاض/ڈھاکہ (بین الاقوامی ڈیسک)

سعودی قیادت نے بنگلہ دیش کے یومِ آزادی کے موقع پر صدر کو مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت نے اپنے پیغام میں بنگلہ دیش کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی امید بھی ظاہر کی گئی۔سعودی قیادت نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام نے مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے مواقع موجود ہیں۔

پنجاب میں منشیات کے خلاف سخت کارروائی، 15.49 کروڑ روپے کے اثاثے برآمد

چنڈی گڑھ (نمائندہ خصوصی)

پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی قیادت میں منشیات کے خلاف مہم کو مزید تیز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پولیس نے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دی ہیں۔حکام کے مطابق “وار آن ڈرگز” مہم کے تحت منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ اس دوران منشیات سے متعلق تقریباً 15.49 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے برآمد کیے گئے ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق اس مہم کا مقصد نہ صرف منشیات کی سپلائی چین کو توڑنا ہے بلکہ نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھنا اور پنجاب کو ایک محفوظ اور منشیات سے پاک ریاست بنانا بھی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکے اور ریاست میں قانون و نظم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔