سپریم کورٹ کا فیصلہ: وندے ماترم گانا لازمی نہیں، مولانا محمود مدنی کا ردِعمل

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے وندے ماترم گانے سے متعلق دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قومی نغمے کو گانا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی اسے نہ گانے پر کسی قسم کی سزا کا کوئی قانونی provision موجود ہے۔عدالت نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ سرکلر میں بھی وندے ماترم کو لازمی قرار نہیں دیا گیا، اس لیے کسی شہری کو اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ جمعیۃ کا واضح مؤقف ہے کہ “وندے ماترم” کا تصور ان کے عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی کو بھی اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ یا ضمیر کے خلاف کوئی عمل کرنے پر مجبور کرنا آئین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جس کا تحفظ ضروری ہے۔

دہلی ریلوے اسٹیشن واقعہ: طالب علم کا بیان سامنے آگیا، ہراسانی کا الزام

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آئے ایک واقعے میں دارالعلوم دیوبند کے امتحان کے لیے سفر کر رہے ایک طالب علم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں راستے میں ہراساں کرنے اور اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔متاثرہ طالب علم کے مطابق ایک شخص نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز جملے کہے، جن کا مقصد ردِعمل حاصل کرنا اور ماحول کو خراب کرنا تھا۔ تاہم طالب علموں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کی جھڑپ سے گریز کیا اور خاموشی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔طالب علم کے بیان کے مطابق ایسے واقعات کا مقصد نوجوانوں کو اشتعال دلانا اور انہیں قانونی مشکلات میں پھنسانا ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھالا۔واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں مبینہ طور پر گفتگو دیکھی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے پولیس یا ریلوے انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں عام شہریوں، خصوصاً طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور انتظامیہ کو ایسے معاملات کا نوٹس لے کر مناسب کارروائی کرنی چاہیے تاکہ سماجی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔

بہادر فوجیوں کے لیے بڑا اعلان: گیلنٹری ایوارڈ یافتگان کو ٹرین میں مفت سفر کی سہولت

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):مرکزی حکومت نے ملک کی حفاظت میں نمایاں خدمات انجام دینے والے بہادر فوجیوں کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے گیلنٹری ایوارڈ حاصل کرنے والے اہلکاروں کو خصوصی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری نئے احکامات کے مطابق اب فوج، بحریہ اور فضائیہ کے وہ اہلکار جنہیں بہادری کے اعزازات سے نوازا گیا ہے، انہیں بھارتی ریلوے کی 2AC کلاس میں تاحیات مفت سفر کی سہولت حاصل ہوگی۔حکام کے مطابق یہ اقدام صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ان جانبازوں کے لیے ایک اعزاز ہے، جنہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف فوجیوں کا حوصلہ بلند ہوگا بلکہ عوام میں بھی ان کے لیے مزید احترام اور قدردانی کا جذبہ پیدا ہوگا۔

علم و تحقیق کی ایک روشن مثال: مولانا نعیم قاسمی کی ڈاکٹریٹ تک کا علمی سفر

علم کی دنیا میں وہی نام زندہ رہتے ہیں جو محنت، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہیں، مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی جو امام و خطیب ڈبیا والی مسجد اندھیریا موڑ اور صدر جمعیۃ علماء جنوبی دہلی کی حیثیت سے اپنی دینی و سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے (DU) سے ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کی، جو ان کی علمی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ بعنوان “عماد الدین خلیل: حیاتہ و اعمالہ” نہ صرف ایک علمی کاوش ہے بلکہ اسلامی فکر و ادب کے ایک اہم مفکر کی زندگی اور خدمات کو اجاگر کرنے کی سنجیدہ اور بامقصد کوشش بھی ہے۔یہ تحقیقی سفر سن 2019 میں شروع ہوا، جب انہوں نے باقاعدہ طور پر داخلہ لیا۔ کئی برسوں کی مسلسل محنت، مطالعہ، تحقیق اور علمی جستجو کے بعد 2025 میں مقالہ مکمل ہوا، جبکہ 2026 میں انہیں باضابطہ طور پر ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس پورے سفر میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر محمود صاحب نے ان کی رہنمائی کی، جن کی علمی سرپرستی نے اس تحقیق کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دینی اور عصری علوم کا امتزاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ انتہائی مفید بھی۔ ایک طرف وہ مسجد کے منبر سے دین کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف علمی تحقیق کے ذریعے فکر و دانش کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔ان کا یہ کارنامہ نوجوان طلبہ کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو ذمہ داریوں کے ساتھ بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ علمی و دینی حلقوں کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے علم میں مزید برکت عطا کرے اور انہیں امت کے لیے نافع بنائے۔

بنگلہ دیش میں افسوسناک حادثہ: بس دریا میں گرنے سے 24 افراد ہلاک

ڈھاکہ (بین الاقوامی ڈیسک):بنگلہ دیش میں ایک دلخراش حادثے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے، جب ایک مسافر بس فیری پر سوار ہوتے وقت بے قابو ہو کر دریا میں جا گری۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس فیری پر چڑھ رہی تھی، تاہم اچانک توازن بگڑنے کے باعث وہ سیدھا دریا میں جا گری۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور متعدد افراد کو نکال لیا گیا، جبکہ لاشوں کی تلاش کا عمل بھی جاری رہا۔حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ ابتدائی طور پر ڈرائیور کی غلطی یا تکنیکی خرابی کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثہ انتہائی تیزی سے پیش آیا اور لوگوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ کئی مسافر بس میں پھنس گئے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نیوی کمانڈر ہلاک

تل ابیب/تہران (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیلی مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ (IRGC) کے بحریہ کے کمانڈر کو ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر علی رضا تنگسیری کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اس خبر کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا عسکری دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ خلیج فارس میں اہم اسٹریٹجک کردار ادا کرتی ہے۔دوسری جانب، اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

تمل ناڈو میں بی جے پی کا دعویٰ: 200 سے زائد نشستوں کے ساتھ اقتدار میں آنے کی امید

چنئی (نمائندہ خصوصی)
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ونگ کے ریاستی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پارٹی تمل ناڈو میں 200 سے زائد نشستوں کے ساتھ اقتدار میں آنے کی پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اتحاد نے سب سے پہلے سیٹ شیئرنگ معاہدہ مکمل کیا، امیدواروں کا اعلان کیا اور اتحادی جماعتوں کے لیے حلقے بھی طے کر دیے، جس کے باعث وہ انتخابی دوڑ میں دوسروں سے آگے ہیں۔
ڈاکٹر سوریہ نے کہا کہ پارٹی جلد ہی بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کرے گی، جبکہ ان کے مطابق اتحاد ابھی تک اپنے اتحادیوں کے لیے نشستوں کی تقسیم کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔
انہوں نے ریاست میں قانون و نظم کی صورتحال پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 دنوں میں قتل، زیادتی اور اغوا جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جو حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی حفاظت میں ناکام ہو چکی ہے اور اقتدار سے باہر ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ایران کے وزیرِ صنعت کا بیان: پیداوار جاری رکھنے کے لیے بحالی منصوبہ تیار

تہران (بین الاقوامی ڈیسک):ایران کے وزیرِ صنعت نے جاری کشیدگی کے درمیان ملک کی صنعتی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے بحالی (Reconstruction) کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں اور تنازع کے باعث صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود حکومت نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ پیداوار کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ وزیرِ صنعت نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ فیکٹریاں اور پیداواری یونٹس جلد از جلد مکمل فعالیت کے ساتھ کام جاری رکھ سکیں۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران پہلے بھی جنگی حالات میں صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے اور پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی پیکجز اور سپورٹ پروگرام متعارف کرا چکا ہے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ماہرین کے مطابق، حالیہ تنازع میں ایران کی دفاعی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد اس کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرنا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بحالی منصوبوں کے ذریعے ملک کی معیشت اور صنعتی نظام کو مستحکم رکھا جائے گا۔

ویسٹ ایشیا بحران پر آل پارٹی میٹنگ، سفارتکاری اور توانائی تیاریوں پر غور

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):

بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ حالیہ آل پارٹی میٹنگ میں ویسٹ ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی اور توانائی کے شعبے میں تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں دو اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں پہلا جغرافیائی سیاست اور سفارتکاری جبکہ دوسرا توانائی سے متعلق امور تھا۔ حکومت نے اس موقع پر مختلف ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا۔سسمت پاترا کے مطابق توانائی کے شعبے میں ایل پی جی، تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور ملک کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے سوالات اٹھائے اور وضاحتیں طلب کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ ویسٹ ایشیا کے موجودہ تنازع میں بھارت کہاں کھڑا ہے اور اس کی تیاری کس سطح پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ بھارت کو آئندہ بھی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ میں خارجہ امور، توانائی، تعلیم اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں سمیت مختلف پہلوؤں پر بات ہوئی، اور تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ مشترکہ رائے سامنے آئی کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونی چاہیے اور معمولات زندگی بحال ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایس سی درجہ نہیں ملے گا

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد کسی شخص کو شیڈولڈ کاسٹ (SC) کا درجہ حاصل نہیں رہتا۔ عدالت نے 24 مارچ کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس اصول کی توثیق کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کے مطابق صرف ہندو، سکھ اور بدھ مذہب کے ماننے والوں کو ہی شیڈولڈ کاسٹ کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مذہب کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ درجہ فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس قانون میں کوئی استثنا موجود نہیں ہے، اور جیسے ہی کوئی شخص مذہب تبدیل کرتا ہے، وہ ایس سی کے تحت ملنے والے ریزرویشن اور دیگر قانونی تحفظات سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا جس میں ایک شخص، جو عیسائی مذہب اختیار کر چکا تھا، نے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس درج کیا تھا۔ ملزمان نے اس کو عدالت میں چیلنج کیا، جس پر آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے پہلے ہی مقدمہ خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار طویل عرصے سے عیسائی مذہب پر عمل کر رہا تھا اور اس نے اپنے اصل مذہب میں واپسی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کیا، اس لیے وہ ایس سی کے فوائد حاصل کرنے کا اہل نہیں ہے۔