بھوپال میں فتویٰ پر تنازع، عید کی نماز سے پہلے امام کی امامت پر بحث
بھوپال | نیشنل اردو ٹائمز
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں عید کے موقع سے قبل ایک مذہبی معاملہ تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ شہر میں جاری ایک فتویٰ کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ عید کی نماز کی امامت کون کرے گا۔رپورٹس کے مطابق مقامی دارالافتاء کی جانب سے جاری کیے گئے ایک فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو ایسی بیماری ہو جس کے باعث پیشاب پر مکمل قابو نہ رہے تو اسے نماز کی امامت نہیں کرنی چاہیے۔ اس فتویٰ کے بعد شہر قاضی کی امامت کے معاملے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔اس معاملے کے بعد بھوپال کے معروف اور ایشیا کی بڑی مساجد میں شمار ہونے والی Taj-ul-Masajid میں عید کی نماز کی امامت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم برادری کے مختلف حلقوں میں اس مسئلے پر الگ الگ آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ فتویٰ شرعی اصولوں کے مطابق ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے اسے غیر ضروری تنازع قرار دیا ہے۔مقامی مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ معاملے کو باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عید کی نماز پر کوئی اثر نہ پڑے اور شہر میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے۔

