دینِ جعفری بعنوان فقہ جعفری
از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
نیشنل اردو ٹائمز (نئی دہلی) 1447 شوال 03 ھ 23 مارچ 2026ء گذشتہ مضمون بعض فریب خوردہ برادران کو شاق گذرا، ان کو حیرت ہے کہ چار فقہ کا قائل پانچویں فقہ سے کیوں متوحش ہوا، یہ سنگین غلط فہمی ہے یا دانستہ مغالطہ، پانچویں فقہ کے نام پر آپ جداگانہ دین رائج کر رہے ہیں، ایک اور فقہ پر اشکال کے معنی نہیں، ہم تو غیر مقلدین سے کہتے ہیں کہ آپ ایک رائے قائم کر لیں، فقہ غیر مقلدیت پر ہمیں اعتراض نہیں ہوگا، یہ منہ مارنا خطرناک ہے، ہر جائیت میں مذہبی انتظام کا خون ہے، انارکی پھیلتی ہے، آٹو ڈرائیور بھی اجتہاد کی بات کرتا ہے۔فقہ در اصل قرآن وحدیث سے ماخوذ ہوتا ہے، بخاری اور مسلم آپ کے نزدیک غیر معتبر تھیں، ناچار کتبِ احادیث وضع ہوئیں، بخاری و مسلم کو سامنے رکھ کر مطلب کا مواد چنا گیا اور ائمۂ اہل بیت کے ناموں پر تیار سندیں پہنا دی گئیں، اضافی ضروریاتِ شیعیت میں متن اور سند دونوں سطح پر محنت ہوئی، دیانت سے فرمائیں کہ یہ فقہ ہے یا دین؟ اگر یہ فقہ ہے تو دین کیا ہے؟ اخلاقیات وغیرہ مشترکہ مضامین کی یکسانیت کوئی دلیل نہیں، یہ خوبیاں ادیان باطلہ میں بھی ہیں۔فقہ جعفری کے نام پر آپ دینِ جعفری رکھتے ہیں اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ کی تاریخ تک الگ ہے، غیر جانبدار مورخ پہلے تاریخ بیان کرتا ہے، جسے مسلمانوں سمیت پوری دنیا جانتی اور مانتی ہے، پھر شیعی تاریخ کے نام پر خرافات نقل کرتا ہے، یہ ایران اور اسلام میں فرق کی حد ہے، ہمارے یہاں شیعوں کے تعلق سے یہ بحث ہوتی ہے کہ وہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں یا نہیں، دیوبندی فتاوی کفر کے فتوے میں جو تین چار شرائط رکھتے ہیں ان میں تحریف قرآن شامل ہے، کفر کے فتوے میں قانونی اور معاشرتی مسائل ہیں؛ اس لیے بھی دیوبندی قلم احتیاط برتتا ہے۔غالی شیعہ جذباتی ہیں، تحریف قرآن کے عقیدتی مضمرات کو سمجھنے کے اہل نہیں، دانشور شیعہ جانتے ہیں کہ تحریف والی بات بہت بڑی سرخ لکیر ہو جائے گی، انھوں نے مطلب برآری کے لیے نئی راہ دریافت کی، جب معنوی تحریف کافی ہو جاتی ہے تو تحریف کا الزام کیوں ڈھوئیں؟ اب قرآن بھر میں نور، ہدایت، رحمت، نعمت؛ غرض جو بھی ذکر خیر ہے سب کا مصداق حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو گئے، قرآن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی مرکزیت سے نکال کر اہل بیت بیسڈ بنا دیا گیا، جذباتی شیعہ جو اضافی پارے لیے پھرتے تھے عیار شیعوں نے وہ پارے تشریح کے راستے سے داخل کردیے، اب یہی سنیوں والا قرآن اہل بیت محدود ورژن ہو گیا۔غزہ قتلِ عام کے دوران میں نے ایران کے حق میں کئی طاقت ور مضامین لکھے، جو اپنے حلقے میں ناگوار تھے؛ مگر ان میں یہ وضاحت تھی کہ سیاسی اتحاد مقصود ہے، غزہ تنظیم کی صواب دید وجہِ تقویت تھی؛ لیکن ایران نے غزہ میں وفا نہیں کی، میرا خیال تھا کہ ایران نے وسعت بھر تعاون کیا، جاری جنگ نے بتایا کہ وہ تقیہ کر رہے تھے، موجودہ ایرانی کارروائیاں کہتی ہیں کہ ایران واقعی علاقائی سپر پاور تھا، اس نے غزہ تعاون اپنے مقاصد کی حد تک محدود رکھا، ایران اسی وقت منہ توڑ جواب دے سکتا تھا۔اگر آپ کو دامن چھڑانا یا بچانا تھا تو ان کو امیدیں کیوں دلائیں؟ غزہ خاکستر ہو گیا اور آپ اسرائیل کو جلانے کا سامان بدستور دبائے رہے، اقصی کشتی میں ہم سواری کے دعوے وقتِ ثبوت کاغذی نکلے، ڈوبنے کے لیے ان کو تنہا چھوڑ دیا گیا، غزہ آر پار آپ کے لیے عز وشرف کا موقع تھا، آپ کے ساتھ آج بھی وہی ہوگا، امریکائیل آپ کو زندہ رہنے نہیں دیکھیں گے، آپ نے جو راستہ چنا ہے اس میں فیصلہ ہی ہوتا ہے، آج شام کو اڑتالیس گھنٹوں کی ٹرمپ مہلت پوری ہو رہی ہے، وہ نئے پلان میں نیوکلیئر کی طرف بھی جاسکتا ہے۔اگر آپ کا چراغ سحر کو نہیں پہنچا ہے، آپ تنکوں سے معلق نہیں ہیں اور مہینوں استقامت کے دعوے درست ہیں تو پھر نیوکلیئر استعمال حتمی سمجھیں، آپ کے لیے لیٹ گو کا آپشن نہیں ہے؛ لیکن غزہ کے ٹائم دو ارب مسلمان آپ کے شریک حال ہوتے اور کوئی معجزہ بھی ہو سکتا تھا، اب تو ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ آپ اقصی کے پاسداران میں نہیں تھے، آپ امت مسلمہ کے پیالے کے تین یا چار مدعیان میں سے ایک ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دور آخر میں اقوام عالم مسلمانوں پر اس طرح ہجوم کریں گی، جیسے بھوکے لوگ کھانے کے پیالے پر جھپٹتے ہیں، افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں نے ثابت کردیا کہ وہ مسلم وجود اور مشرق وسطی پیالے پر حملہ آور اقوام میں سے ایک ہے۔

