ایپسٹین فائل میں مہاتما گاندھی کا نام ہونے کے دعوے پر تنازع، سوشل میڈیا پر بحث تیز

نئی دہلی، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان سدھانشو ترویدی کے ایک بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس وقت بحث چھڑ گئی جب انہوں نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران مبینہ طور پر کہا کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں مہاتما گاندھی کا نام بھی موجود ہے۔اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے کو تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مہاتما گاندھی کی وفات 30 جنوری 1948 کو ہو گئی تھی جبکہ جیفری ایپسٹین کی پیدائش 20 جنوری 1953 میں ہوئی تھی، اس لیے دونوں کے درمیان کسی قسم کے تعلق یا ملاقات کا امکان نہیں بنتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور کئی افراد نے اسے تاریخی معلومات کے برخلاف قرار دیتے ہوئے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض صارفین نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے غیر ضروری سیاسی تنازع پیدا ہوتا ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے کچھ حامیوں کا کہنا ہے کہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے اور مکمل ویڈیو سامنے آنے کے بعد ہی اس کے اصل مطلب کو سمجھا جا سکتا ہے۔اب تک اس معاملے پر سدھانشو ترویدی کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم سوشل میڈیا پر یہ موضوع مسلسل زیر بحث ہے۔

ایپسٹین کون تھا؟جیفری ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھا جس پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ 2019 میں اس کی گرفتاری کے بعد اس کے روابط سے متعلق متعدد دستاویزات اور عدالتی ریکارڈ منظر عام پر آئے جس میں کئی عالمی شخصیات کے نام زیر بحث رہے۔

تاریخی حقیقت

مہاتما گاندھی کی وفات: 30 جنوری 1948جیفری ایپسٹین کی پیدائش: 20 جنوری 1953اس بنیاد پر ماہرین کے مطابق دونوں کے درمیان کسی حقیقی تعلق کا دعویٰ تاریخی طور پر درست ثابت نہیں ہوتا۔

Indian ExpressHindustan TimesReuters

(پس منظر معلومات)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *