رمضان المبارک کے موقع پر منعقدہ مجلسِ افطار میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران، علماء کرام اور معزز احباب کی بڑی تعداد شریک ہوئی، میزبان نے اسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل قرار دیا۔

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدایِ بخشندہ
یہ ہمارے لیے انتہائی سعادت، فرحت اور مسرت کا مقام ہے کہ اللہ ربّ العالمین کے فضل و کرم سے گزشتہ کل میرے غریب خانے پر ایک بابرکت اور باوقار مجلسِ افطار منعقد ہوئی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے معزز ذمہ داران اور اکابرین کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ فخر و اعزاز بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی بابرکت مجالس اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور اس کی عنایت کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں، اس لیے ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔
بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب، صدر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی قیادت میں ایک معزز وفد کی شرکت نے اس مجلس کی رونق کو دوبالا کردیا۔ مزید برآں جنوبی دہلی کے صدر محترم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد نعیم قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی آمد بھی ہمارے لیے باعثِ مسرت و افتخار رہی۔
اس بابرکت مجلس میں دیگر معزز علماء و احباب بھی شریک رہے۔ ان میں بالخصوص مولانا کلیم الدین قاسمی صاحب، مولانا عظیم اللہ قاسمی صاحب، مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی صاحب، مولانا نجیب اللہ قاسمی صاحب، مفتی ذاکر حسین قاسمی صاحب، مولانا ہارون الرشید قاسمی صاحب، مولانا مفتی خلیل صاحب، قاری عبد الشکور صاحب، قاری ہارون صاحب، مولانا عتیق الرحمن قاسمی صاحب شامل ہیں۔
نیز حضرت ناظمِ عمومی صاحب کے صاحبزادگان حافظ ابو بکر سلمہ، حافظ محمود سلمہ، مامو جناب جلال الدین صاحب، مولانا عمیر احمد قاسمی، قاری محمد آصف قاسمی اور قاری رفیع الدین کے علاوہ دیگر معزز حضرات بھی شریک رہے۔ اسی طرح ہمارے مخلص کرم فرماں بھائی مشبر صاحب اور برادرم محمد افضل صاحب بہرائچی کی شرکت بھی اس مجلس کے حسن میں اضافہ کا سبب بنی۔ ان تمام معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لیے اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔
اس موقع پر میں بالخصوص اپنے مشفق و مربی اور مجھ پر ہمیشہ ایک والد کی طرح شفقت فرمانے والے اس بزرگ کا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں جو میری زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر میری رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ ان کی محنتوں، کاوشوں اور خلوص کے نتیجے میں آج یہ بابرکت محفل سجی ہے۔
میں اپنے ماموں محترم الحاج زبیر احمد صاحب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مجلس کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی لی اور اپنی کوششوں سے اس محفل کو ممکن بنایا۔
نیز اس موقع پر اپنے والدِ مرحوم کو یاد نہ کرنا میرے لیے یقیناً بد نصیبی کی بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کی بے شمار راحتوں اور خواہشات کو قربان کردیا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ میری تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا اور ہر ممکن کوشش کی کہ میں علم کے راستے پر آگے بڑھوں۔
آج اگر میں تعلیم کے کسی مرحلے تک پہنچ سکا ہوں اور کچھ حاصل کر سکا ہوں تو یہ دراصل انہی کی محنتوں، قربانیوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو بھی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ان کی دعاؤں اور تربیت کا ثمرہ ہے۔
اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ اس بابرکت مجلسِ افطار کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، تمام معزز مہمانوں کی آمد کو ہمارے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے اور ہم سب کو دینِ اسلام کی خدمت اور آپس میں محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسی کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے والدِ مرحوم کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ربّ العالمین ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *