ویسٹ ایشیا بحران پر آل پارٹی میٹنگ، سفارتکاری اور توانائی تیاریوں پر غور

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):

بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ حالیہ آل پارٹی میٹنگ میں ویسٹ ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی اور توانائی کے شعبے میں تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں دو اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں پہلا جغرافیائی سیاست اور سفارتکاری جبکہ دوسرا توانائی سے متعلق امور تھا۔ حکومت نے اس موقع پر مختلف ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا۔سسمت پاترا کے مطابق توانائی کے شعبے میں ایل پی جی، تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور ملک کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے سوالات اٹھائے اور وضاحتیں طلب کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ ویسٹ ایشیا کے موجودہ تنازع میں بھارت کہاں کھڑا ہے اور اس کی تیاری کس سطح پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ بھارت کو آئندہ بھی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ میں خارجہ امور، توانائی، تعلیم اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں سمیت مختلف پہلوؤں پر بات ہوئی، اور تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ مشترکہ رائے سامنے آئی کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونی چاہیے اور معمولات زندگی بحال ہونے چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *