ماہواری کی چھٹی کے معاملے پر بھارت میں نئی بحث، سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد سوالات اٹھنے لگے
نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)
بھارت میں خواتین کو ماہواری کے دوران چھٹی دینے کے معاملے پر ایک بار پھر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سپریم کورٹ نے اس موضوع سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیتے ہوئے ملک بھر میں ماہواری کی لازمی چھٹی کے قانون کے امکان پر سوال اٹھائے۔سپریم کورٹ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر خواتین کے لیے ماہواری کی چھٹی کو قانون کے ذریعے لازمی قرار دیا گیا تو اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس طرح کے قانون سے یہ خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ بعض آجر خواتین کو ملازمت دینے سے گریز کریں، جس کے نتیجے میں خواتین کے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔عدالت میں دائر عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت خواتین ملازمین اور طالبات کو ماہواری کے دوران چند دن کی بامعاوضہ چھٹی دینے کے لیے ملک گیر پالیسی یا قانون بنائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ماہواری کے دوران بعض خواتین کو شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے انہیں آرام کا حق دیا جانا چاہیے۔تاہم عدالت نے اس معاملے کو قانون سازی کے بجائے پالیسی کے طور پر دیکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس موضوع پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو غور کرنا چاہیے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی پالیسی کو بناتے وقت صنفی مساوات اور روزگار کے مواقع پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ماہرین اور سماجی کارکنان کے درمیان اس مسئلے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ حلقے ماہواری کی چھٹی کو خواتین کی صحت اور وقار کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لازمی چھٹی کا قانون خواتین کے خلاف امتیاز کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اس وقت بھارت میں ماہواری کی چھٹی سے متعلق کوئی قومی قانون موجود نہیں ہے، تاہم چند ریاستوں، تعلیمی اداروں اور نجی کمپنیوں نے اپنی سطح پر ایسی سہولتیں فراہم کی ہیں۔سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے بعد یہ سوال ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے کہ کیا ماہواری کی چھٹی خواتین کے لیے سہولت ثابت ہوگی یا اس سے ان کے روزگار کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔

