آدھار کارڈ تاریخِ پیدائش کا نہیں بلکہ شناخت کا ثبوت ہے: UIDAI

نیشنل اردو ٹائمز | عوامی معلومات آدھار کارڈ تاریخِ پیدائش کا نہیں بلکہ شناخت کا ثبوت ہے: UIDAI📍 نئی دہلی:Unique Identification Authority of India کی جانب سے جاری ایک وضاحت میں کہا گیا ہے کہ آدھار کارڈ کو تاریخِ پیدائش (Date of Birth) کے مستند ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ صرف شناخت (Identity) کا ثبوت ہے۔ادارے کے مطابق آدھار بنیادی طور پر فرد کی شناخت کے لیے جاری کیا جاتا ہے، جبکہ تاریخِ پیدائش کے درست اور مستند ثبوت کے لیے دیگر دستاویزات استعمال کی جانی چاہئیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری کاموں میں آدھار کے استعمال کے حوالے سے درست معلومات رکھیں اور غلط فہمیوں سے بچیں۔

دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے معاملات پر عدالت کا اظہارِ تشویش، پولیس کو مستعدی کی ہدایت

نئی دہلی:قومی راجدھانی دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور پولیس کو اس معاملے میں زیادہ مستعدی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران معزز عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کرے گی تو ایسے معاملات کی سنگینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ لاپتہ بچوں کے کیسز میں سنجیدگی کے ساتھ فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اس نوعیت کے چند واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار اور تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

وضاحت:یہ خبر دستیاب عدالتی ریمارکس اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید مستند معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

رپورٹ: نیشنل اردو ٹائم

زمرہ: India / Court / Crime

مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت، نجی مکان پر بڑی تعداد میں نماز کی ادائیگی سے گریز کریں

الہ آباد:الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلم شخص کے معاملے میں اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے نجی مکان پر نماز کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع نہ کریں۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر علاقے میں امن و امان یا سکون متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو ریاستی حکومت ضروری کارروائی کرے۔واضح رہے کہ مذکورہ شخص کو اس سے قبل اپنے نجی مکان پر نماز ادا کرنے کے لیے پولیس تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔عدالت نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ حالات پر نظر رکھی جائے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔ نوٹ:یہ خبر دستیاب عدالتی ہدایات اور اطلاعات پر مبنی ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر اپڈیٹ کیا جائے گا۔

کمال مولا مسجد معاملہ: ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج

بھوپال (اسٹاف رپورٹر):کمال مولا مسجد سے متعلق جاری تنازع میں مسلم فریق نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ پر مکمل طور پر اعتراضات پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا سپریم کورٹ میں جانا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں تمام فریقین کے دلائل اور شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔یہ تنازع پہلے ہی ملک میں مذہبی اور قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور اب سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد اس کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم ریمارک: شادی شدہ مرد کا لیو اِن ریلیشن جرم نہیں

پریاگ راج (نمائندہ خصوصی)

الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے لیو اِن ریلیشن (ہم باشی) سے متعلق ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ خاتون کے ساتھ اس کی رضامندی سے لیو اِن ریلیشن میں رہ رہا ہے تو یہ بذاتِ خود کوئی مجرمانہ عمل نہیں ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کسی عمل کو جرم قرار دینے کے لیے مخصوص قانونی بنیاد ضروری ہوتی ہے، اور محض سماجی یا اخلاقی بنیادوں پر کسی تعلق کو مجرمانہ نہیں کہا جا سکتا۔عدالتی بنچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر دونوں فریق بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے ساتھ رہ رہے ہوں تو اسے فوجداری جرم کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا، البتہ ایسے معاملات میں دیگر قانونی پہلو جیسے ازدواجی حقوق یا خاندانی تنازعات الگ سے زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ماہرین قانون کے مطابق یہ ریمارک موجودہ قانونی تشریح کو واضح کرتا ہے، جس میں لیو اِن ریلیشن کو بذاتِ خود جرم نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس میں زبردستی یا غیر قانونی عناصر شامل نہ ہوں۔

این سی ای آر ٹی تنازع: سپریم کورٹ کی کارروائی اور نصاب میں مداخلت پر بحث تیز

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کی درسی کتابوں سے متعلق تنازع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں عدالت کی جانب سے سخت اقدامات کے بعد نصاب اور عدلیہ کے تعلق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کے مصنفین کو بلیک لسٹ کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے 26 فروری کو اس کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، کیونکہ اس میں عدلیہ میں بدعنوانی اور مقدمات کے بوجھ جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس باب پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں این سی ای آر ٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے عدلیہ کے لیے اپنے “اعلیٰ احترام” کا اظہار کیا اور باب کو دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔عدالت نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈی پی ساکلانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور بعد میں مصنفین کی نشاندہی ہونے پر سرکاری و عوامی اداروں کو ہدایت دی کہ ان افراد کو ملازمت نہ دی جائے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کتاب میں عدلیہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر اداروں جیسے پارلیمنٹ اور انتخابی نظام پر محدود یا نرم تنقید کی گئی۔ عدالت نے اسے حقائق کی “جان بوجھ کر غلط پیشکش” قرار دیا۔ پس منظر اور اہم سوالاتماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک کتاب تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ نصاب کی تیاری میں حکومت یا عدلیہ کی مداخلت کہاں تک درست ہے۔ این سی ای آر ٹی، اگرچہ ایک خود مختار ادارہ ہے، لیکن اس پر پہلے بھی حکومتی اثر و رسوخ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں درسی کتابوں سے ارتقاء (Darwin Theory)، 2002 گجرات فسادات اور بابری مسجد جیسے موضوعات کو ہٹانے پر بھی بحث ہوئی تھی، جسے “ریشنیلائزیشن” قرار دیا گیا تھا۔ تجزیہماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی مواد کا ہونا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہو، تاہم اداروں کی ساکھ اور آئینی حدود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں مختلف اداروں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ: وندے ماترم گانا لازمی نہیں، مولانا محمود مدنی کا ردِعمل

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے وندے ماترم گانے سے متعلق دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قومی نغمے کو گانا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی اسے نہ گانے پر کسی قسم کی سزا کا کوئی قانونی provision موجود ہے۔عدالت نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ سرکلر میں بھی وندے ماترم کو لازمی قرار نہیں دیا گیا، اس لیے کسی شہری کو اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ جمعیۃ کا واضح مؤقف ہے کہ “وندے ماترم” کا تصور ان کے عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی کو بھی اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ یا ضمیر کے خلاف کوئی عمل کرنے پر مجبور کرنا آئین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جس کا تحفظ ضروری ہے۔

علم و تحقیق کی ایک روشن مثال: مولانا نعیم قاسمی کی ڈاکٹریٹ تک کا علمی سفر

علم کی دنیا میں وہی نام زندہ رہتے ہیں جو محنت، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہیں، مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی جو امام و خطیب ڈبیا والی مسجد اندھیریا موڑ اور صدر جمعیۃ علماء جنوبی دہلی کی حیثیت سے اپنی دینی و سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے (DU) سے ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کی، جو ان کی علمی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ بعنوان “عماد الدین خلیل: حیاتہ و اعمالہ” نہ صرف ایک علمی کاوش ہے بلکہ اسلامی فکر و ادب کے ایک اہم مفکر کی زندگی اور خدمات کو اجاگر کرنے کی سنجیدہ اور بامقصد کوشش بھی ہے۔یہ تحقیقی سفر سن 2019 میں شروع ہوا، جب انہوں نے باقاعدہ طور پر داخلہ لیا۔ کئی برسوں کی مسلسل محنت، مطالعہ، تحقیق اور علمی جستجو کے بعد 2025 میں مقالہ مکمل ہوا، جبکہ 2026 میں انہیں باضابطہ طور پر ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس پورے سفر میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر محمود صاحب نے ان کی رہنمائی کی، جن کی علمی سرپرستی نے اس تحقیق کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دینی اور عصری علوم کا امتزاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ انتہائی مفید بھی۔ ایک طرف وہ مسجد کے منبر سے دین کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف علمی تحقیق کے ذریعے فکر و دانش کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔ان کا یہ کارنامہ نوجوان طلبہ کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو ذمہ داریوں کے ساتھ بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ علمی و دینی حلقوں کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے علم میں مزید برکت عطا کرے اور انہیں امت کے لیے نافع بنائے۔

عید الفطر اتحاد، رواداری اور امن کا پیغام دیتی ہے: مولانا محمد قاسم نوری قاسمی

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے صدر نے اپنی پریس خطاب میں عالم اسلام کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عید کا اصل پیغام اتحاد و اتفاق، ہمدردی، ایثار و قربانی اور رواداری ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 20 اور 21 مارچ کو پوری دنیا میں عید الفطر منائی گئی، جس کے موقع پر عالم اسلام نے نہ صرف عبادات کا اہتمام کیا بلکہ دنیا بھر میں امن و امان، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اعلیٰ ظرفی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حالات اور چیلنجز کے باوجود مسلمانوں نے پرامن انداز میں عید منائی اور پورے ملک کو یہ پیغام دیا کہ اسلام اور اس کے ماننے والے نہ کسی کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور نہ ہی کسی کی عبادتگاہوں کے سامنے جا کر اشتعال انگیزی یا مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کے اتم نگر واقعہ کے بعد بعض فرقہ پرست عناصر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم دہلی پولیس کی مستعدی، بروقت کارروائی اور مسلسل کوششوں نے ایسے عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے اس موقع پر دہلی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے میں ان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔