دینِ جعفری بعنوان فقہ جعفری

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری

نیشنل اردو ٹائمز (نئی دہلی) 1447 شوال 03 ھ 23 مارچ 2026ء گذشتہ مضمون بعض فریب خوردہ برادران کو شاق گذرا، ان کو حیرت ہے کہ چار فقہ کا قائل پانچویں فقہ سے کیوں متوحش ہوا، یہ سنگین غلط فہمی ہے یا دانستہ مغالطہ، پانچویں فقہ کے نام پر آپ جداگانہ دین رائج کر رہے ہیں، ایک اور فقہ پر اشکال کے معنی نہیں، ہم تو غیر مقلدین سے کہتے ہیں کہ آپ ایک رائے قائم کر لیں، فقہ غیر مقلدیت پر ہمیں اعتراض نہیں ہوگا، یہ منہ مارنا خطرناک ہے، ہر جائیت میں مذہبی انتظام کا خون ہے، انارکی پھیلتی ہے، آٹو ڈرائیور بھی اجتہاد کی بات کرتا ہے۔فقہ در اصل قرآن وحدیث سے ماخوذ ہوتا ہے، بخاری اور مسلم آپ کے نزدیک غیر معتبر تھیں، ناچار کتبِ احادیث وضع ہوئیں، بخاری و مسلم کو سامنے رکھ کر مطلب کا مواد چنا گیا اور ائمۂ اہل بیت کے ناموں پر تیار سندیں پہنا دی گئیں، اضافی ضروریاتِ شیعیت میں متن اور سند دونوں سطح پر محنت ہوئی، دیانت سے فرمائیں کہ یہ فقہ ہے یا دین؟ اگر یہ فقہ ہے تو دین کیا ہے؟ اخلاقیات وغیرہ مشترکہ مضامین کی یکسانیت کوئی دلیل نہیں، یہ خوبیاں ادیان باطلہ میں بھی ہیں۔فقہ جعفری کے نام پر آپ دینِ جعفری رکھتے ہیں اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ کی تاریخ تک الگ ہے، غیر جانبدار مورخ پہلے تاریخ بیان کرتا ہے، جسے مسلمانوں سمیت پوری دنیا جانتی اور مانتی ہے، پھر شیعی تاریخ کے نام پر خرافات نقل کرتا ہے، یہ ایران اور اسلام میں فرق کی حد ہے، ہمارے یہاں شیعوں کے تعلق سے یہ بحث ہوتی ہے کہ وہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں یا نہیں، دیوبندی فتاوی کفر کے فتوے میں جو تین چار شرائط رکھتے ہیں ان میں تحریف قرآن شامل ہے، کفر کے فتوے میں قانونی اور معاشرتی مسائل ہیں؛ اس لیے بھی دیوبندی قلم احتیاط برتتا ہے۔غالی شیعہ جذباتی ہیں، تحریف قرآن کے عقیدتی مضمرات کو سمجھنے کے اہل نہیں، دانشور شیعہ جانتے ہیں کہ تحریف والی بات بہت بڑی سرخ لکیر ہو جائے گی، انھوں نے مطلب برآری کے لیے نئی راہ دریافت کی، جب معنوی تحریف کافی ہو جاتی ہے تو تحریف کا الزام کیوں ڈھوئیں؟ اب قرآن بھر میں نور، ہدایت، رحمت، نعمت؛ غرض جو بھی ذکر خیر ہے سب کا مصداق حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو گئے، قرآن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی مرکزیت سے نکال کر اہل بیت بیسڈ بنا دیا گیا، جذباتی شیعہ جو اضافی پارے لیے پھرتے تھے عیار شیعوں نے وہ پارے تشریح کے راستے سے داخل کردیے، اب یہی سنیوں والا قرآن اہل بیت محدود ورژن ہو گیا۔غزہ قتلِ عام کے دوران میں نے ایران کے حق میں کئی طاقت ور مضامین لکھے، جو اپنے حلقے میں ناگوار تھے؛ مگر ان میں یہ وضاحت تھی کہ سیاسی اتحاد مقصود ہے، غزہ تنظیم کی صواب دید وجہِ تقویت تھی؛ لیکن ایران نے غزہ میں وفا نہیں کی، میرا خیال تھا کہ ایران نے وسعت بھر تعاون کیا، جاری جنگ نے بتایا کہ وہ تقیہ کر رہے تھے، موجودہ ایرانی کارروائیاں کہتی ہیں کہ ایران واقعی علاقائی سپر پاور تھا، اس نے غزہ تعاون اپنے مقاصد کی حد تک محدود رکھا، ایران اسی وقت منہ توڑ جواب دے سکتا تھا۔اگر آپ کو دامن چھڑانا یا بچانا تھا تو ان کو امیدیں کیوں دلائیں؟ غزہ خاکستر ہو گیا اور آپ اسرائیل کو جلانے کا سامان بدستور دبائے رہے، اقصی کشتی میں ہم سواری کے دعوے وقتِ ثبوت کاغذی نکلے، ڈوبنے کے لیے ان کو تنہا چھوڑ دیا گیا، غزہ آر پار آپ کے لیے عز وشرف کا موقع تھا، آپ کے ساتھ آج بھی وہی ہوگا، امریکائیل آپ کو زندہ رہنے نہیں دیکھیں گے، آپ نے جو راستہ چنا ہے اس میں فیصلہ ہی ہوتا ہے، آج شام کو اڑتالیس گھنٹوں کی ٹرمپ مہلت پوری ہو رہی ہے، وہ نئے پلان میں نیوکلیئر کی طرف بھی جاسکتا ہے۔اگر آپ کا چراغ سحر کو نہیں پہنچا ہے، آپ تنکوں سے معلق نہیں ہیں اور مہینوں استقامت کے دعوے درست ہیں تو پھر نیوکلیئر استعمال حتمی سمجھیں، آپ کے لیے لیٹ گو کا آپشن نہیں ہے؛ لیکن غزہ کے ٹائم دو ارب مسلمان آپ کے شریک حال ہوتے اور کوئی معجزہ بھی ہو سکتا تھا، اب تو ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ آپ اقصی کے پاسداران میں نہیں تھے، آپ امت مسلمہ کے پیالے کے تین یا چار مدعیان میں سے ایک ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دور آخر میں اقوام عالم مسلمانوں پر اس طرح ہجوم کریں گی، جیسے بھوکے لوگ کھانے کے پیالے پر جھپٹتے ہیں، افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں نے ثابت کردیا کہ وہ مسلم وجود اور مشرق وسطی پیالے پر حملہ آور اقوام میں سے ایک ہے۔

مامون الرشید کے دور کا ایک عجیب واقعہ — ایک رقعہ جس نے جان بچا دی

عباسی خلیفہ کا دور علم و حکمت، سیاست و تدبر اور فہم و فراست کے اعتبار سے اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ تاہم دربارِ خلافت کی پیچیدہ فضا اور اندرونی رقابتیں بعض اوقات ایسے حیران کن واقعات کو جنم دیتی تھیں جو آج بھی عبرت و نصیحت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔انہی حالات میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مامون الرشید اپنے قابل، بااعتماد اور باصلاحیت رفیق سے کسی بات پر سخت ناراض ہو گئے۔ یہ ناراضی بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ خلیفہ نے ایک خفیہ مجلس میں چند معتمد افراد کے ساتھ مل کر عبداللہ بن طاہر کو راستے سے ہٹانے یعنی قتل کروانے کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ معاملہ نہایت رازدارانہ تھا اور اس کی خبر باہر پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی خفیہ مجلس میں عبداللہ بن طاہر کا ایک مخلص اور خیرخواہ دوست بھی موجود تھا۔ اس نے نہایت باریکی سے حالات کا جائزہ لیا اور فوراً سمجھ گیا کہ اس کے دوست کی جان شدید خطرے میں ہے۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر عبداللہ بن طاہر کو خبردار کرنے کا فیصلہ کیا، مگر چونکہ معاملہ حساس تھا اس لیے کھلے الفاظ میں کچھ لکھنا ممکن نہ تھا۔چنانچہ اس نے ایک مختصر سا رقعہ تحریر کیا، جس میں نہ کوئی تفصیل تھی اور نہ کسی سازش کا صریح ذکر، بلکہ نہایت حکیمانہ اور رمز و کنایہ کے انداز میں صرف یہ الفاظ لکھے: “جو شخص اپنے انجام سے بے خبر ہو جائے، وہ دشمن کے وار سے نہیں بلکہ اپنی غفلت سے ہلاک ہوتا ہے۔” یہ رقعہ فوراً عبداللہ بن طاہر تک پہنچا دیا گیا۔عبداللہ بن طاہر چونکہ نہایت ذہین، دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے، انہوں نے اس مختصر پیغام کی گہرائی کو فوراً سمجھ لیا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ حالات معمولی نہیں بلکہ نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تاخیر کیے بغیر اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور نہایت عاجزی، انکساری اور اخلاص کے ساتھ مامون الرشید کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے نہ صرف اپنی وفاداری کا اظہار کیا بلکہ اس انداز میں گفتگو کی کہ ہر ممکن غلط فہمی دور ہو جائے اور دلوں میں پیدا ہونے والی کدورت ختم ہو جائے۔ ان کا یہ رویہ نہایت مؤثر ثابت ہوا۔مامون الرشید، جو خود بھی علم و دانش اور فہم و بصیرت کے حامل تھے، عبداللہ بن طاہر کے اس طرزِ عمل اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور انہوں نے اپنے ارادے سے رجوع کر لیا۔ نہ صرف یہ کہ خطرہ ٹل گیا بلکہ عبداللہ بن طاہر کو پہلے سے زیادہ عزت و اعتماد بھی حاصل ہو گیا۔یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں عقل، حکمت، بروقت فیصلہ اور اخلاص کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر مگر معنی خیز بات انسان کی زندگی بچا دیتی ہے، اور سچی خیرخواہی و عاجزی بڑے سے بڑے خطرے کو بھی ٹال سکتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ہر دور میں کامیابی اور سلامتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

— نیشنل اردو ٹائمز

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.

دہلی میں نمازِ عید الفطر کے اوقات کے اعلان کے لیے عوام سے معلومات طلب

نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

نیشنل اردو ٹائمز کی جانب سے دہلی اور اطرافِ دہلی کی بڑی و علاقائی جامع مساجد میں نمازِ عید الفطر کے اوقات کے اعلان کے لیے ایک خصوصی فہرست مرتب کی جا رہی ہے۔اس سلسلے میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کی جامع مساجد میں نمازِ عید کے طے شدہ اوقات سے متعلق معلومات فراہم کریں تاکہ انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے عوام تک آسانی کے ساتھ پہنچایا جا سکے۔ادارہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو بروقت اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ بغیر کسی دشواری کے نمازِ عید ادا کر سکیں۔نیشنل اردو ٹائمز نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ درج ذیل معلومات کمنٹ کے ذریعے فراہم کریں:📍 مسجد کا نام📍 علاقہ / لوکیشن📍 نمازِ عید کا وقتادارہ نے کہا کہ عوام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات ہزاروں لوگوں کے لیے آسانی اور رہنمائی کا سبب بن سکتی ہیں۔آمین

ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

*ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے**آئیے ہم اکابر کے کردار کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کرتے ہیں*محمد یاسین جہازی خارجہ پالیسی مذہبی عقائد پر نہیں؛بلکہ ہمیشہ انسانیت، عدل اور عالمی امن کے اصولوں پر بنائی جاتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ یہی اصول پیش نظر رکھا ہے ۔خود ایران کے تناظر میں بات کریں، تو مختلف ادوار میں جمعیت علمائے ہند کے نقطۂ نظر میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ۔ اور حمایت و مخالفت کے دونوں پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ ایران بمقابلہ برطانیہ و روس ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی۔ایران بمقابلہ امریکہ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ عراق، جمعیت علمائے ہند نے عراق کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ سعودی عرب، (سانحۂ حرم کے تناظر میں) جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔چوںکہ جمعیت علمائے ہند کا موقف عالمی سطح پر ہندستان کے مسلمانوں کے موقف و نظریات کے طور پر کوڈ کیا جاتا ہے، اس لیے آئیے ایک صدی کی تاریخ میں ایران کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کیخارجہ پالیسیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ایران کا پہلا تذکرہ پانچویں اجلاس عام منعقدہ: 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے خطبۂ صدارت میں ملتا ہے، جس میں انگلستان اور روس کے درمیان ایران کی تقسیم کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے شمالی ایران پر روس کے قابض و متصرف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔صدر محکمہ ٔ شرعیہ استانبول نے9؍جنوری 1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت علمائے ہند سے گذارش کی کہ وہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے متوجہ کرے۔جمعیت علمائے ہند کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بارھویں اجلاس عام منعقدہ: 7تا 9؍جون 1940ء کے خطبۂ صدارت میں فرمایا کہ ہندستان کی آزادی سے ایران بھی مصائب سے محفوظ رہیںگے۔اسی طرح تیرھویں اجلاس عام منعقدہ: 20تا22؍مارچ 1942ء کے خطبۂ صدارت میں، حضرت شیخ الاسلام نے ایران سمیت تمام ممالک اسلامیہ کے متعلق اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے برطانوی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا۔پھر اسی اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے تجویز منظور کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کاموقف طے کردیا۔11؍جون1945ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی صدارت ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں ایران پر روسی و برطانوی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ایرانی سفیر نے 27تا 29؍اپریل 1951ء کو منعقد سترھویں اجلاس عام کے اپنی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔ہندستان اور پاکستان کے باہمی تنازعات کے لیے دوستانہ تصفیے کے لیے کوشش کرنے والے ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام، 9؍اگست 1951ء کو بحری تار بھیج کر پاکستان کے پروپیگنڈا سے آگاہ کیا۔حضرت شیخ الاسلام نے 16؍نومبر1951ء کا دن ایران کی کامیابی کے لیے بطور دعا منانے کی اپیل کی۔11تا 13؍فروری 1955ء کو جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں ایران کے سفیر محترم علی اصغر حکمت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہندستان کے سیکولر نظام کو نعمت سے تعبیر کیا۔17؍فروری1956ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایران کے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی اور ان کی بیوی ثریا اسفند یاری بختیاری کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کی اور انھیں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔سفارت کی مدت پوری ہونے کے بعدایران واپس جانے کی مناسبت سے11؍جنوری 1958ء کو ایران کے سفیر جناب علی اصغر حکمت کو جمعیت علمائے ہند نے الوداعیہ پیش کیا۔15؍جولائی1959ء کو جدید و قدیم علوم کے ماہر ایرانی فوج کے مشہور جنرل آقای حسین علی رزم آرا کو قبلہ نما ایجاد کرنے پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے مبارک باد پیش کی۔20؍جنوری1960ء کو سابق وزیر خارجہ نے ایران جناب علی اصغر علی حکمت نے جمعیت علمائے ہند کو عید کی مبارک باد پیش کی۔6؍ستمبر1962ء کو مشرقی ایران کے علاقے میں آئے شدید زلزلے میں متأثرین سے، 8؍ستمبر1962ء کو صدرجمعیت علمائے ہندفخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحبؒ نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیااور لوگوں سے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔15تا17؍اپریل1966ء کومنعقد جمعیت علمائے ہندکے بائیسویں اجلاس عام کے لیے سفیر ایران ڈاکٹر جلال عبدوہ نے اپنی نیک خواہشات بھیجیں۔3؍ستمبر1968ء کو شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو ایک برقیہ بھیج کر زلزلہ سے ہوئی تباہی پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں 18-19؍اپریل1970ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں ایک تجویز منظور کرکے زلزلہ متأثرین سے یک جہتی کا اظہار کیا۔اسلامی انقلاب کے بعد 4؍نومبر1979ء کو، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے ہمنواؤں نے امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کرکے امریکی شہریوں کو یرغمال بنالیا۔ یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے 24؍اپریل1980ء کو ’’آپریشن ایگل کلا‘‘ شروع کیا۔ 27؍اپریل1980ء کو منعقد مجلس عاملہ ، بعد ازاں 28-29؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس منتظمہ نے ان دونوں واقعات: ایران میں امریکی طرز عمل اور ایرانیوں کے طرز عمل کی مذمت کی۔اسلامی انقلاب کو عراق نے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے، 22؍ستمبر1980ء کو ایران پر بلاوجہ حملہ کردیا، جس سے ایک طویل جنگ کی شروعات ہوگئی۔ اور تقریبا آٹھ سال تک جاری رہنے کے بعد 20؍اگست1988ء کو اقوام متحدہ کی قرار داد 598کے تحت اختتام پذیر ہوئی۔ اس ایران-عراق جنگ پر جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایران سے فوری طور پر جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ یکم اکتوبر1980ء کو مجلس عاملہ میں،بعد ازاں مجلس منتظمہ منعقدہ: 25-26؍نومبر1983ء میں،پھر تعلیمی و ملی کانفرنس منعقدہ: 6-7-8؍ اپریل 1984ء میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ایران-عراق جنگ کے دوران ڈیڑھ ہزار عراقی جنگی قیدیوں کے وحشیانہ قتل کی خبر موصول ہونے پر26؍دسمبر1981ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اور پھر 26-27؍ دسمبر 1981ء کو مجلس عاملہ نے اس واقعہ پر ایران کی مذمت کی۔ 22سے 25؍اپریل 1985ء کو عراق میں دوسری عالمی بغداد کانفرنس ہوئی، جس کا بنیادی مقصد عرب ازم اور پین اسلام ازم کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔جب 6-7؍مئی 1985ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، تو مجلس عاملہ نے بغداد کانفرنس کی تمام تجویزوں کی تائید کرتے ہوئے 24؍مئی 1985ء کو ایران- عراق جنگ بندی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔لیکن مکمل تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر یہ دن نہیں منایا جاسکا۔یکم نومبر1986ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں عراق کی طرف سے جنگ بندی کی پیش قدمی کے باوجود ایران کی طرف سے جنگ بند نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ملی اتحاد کا پر فریب نعرہ اور حرمین شریفین کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی آیت اللہ خمینی کی منصوبہ بند سازش کے تحت،ایران کے ایک لاکھ پچاس ہزار حاجیوںنے، 31؍جولائی 1987ء کو مکہ مکرمہ کے حرم محترم کے قریب عصر کے وقت خمینی کی تصویروں کے ساتھ احتجاجی نعرے بلند کرنا شروع کیے اور لاٹھی ڈنڈوں اور چاقوں کے ساتھ حرم میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور چار سو افراد جاں بحق ہوگئے ۔ اس پر2؍اگست 1987ء کو مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور 9؍اگست 1987ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اسے حرم محترم کی بے حرمتی قرار دیا۔اور 21؍ اگست 1987ء کو ’’یوم حرم‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔پھر 3؍ستمبر1987ء کو سعودی سفیر محترم فواد صادق مفتی صاحب سے ملاقات کرکے اس سانحہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کے موقف اور کاررائیوں سے مطلع کیا گیا۔3-4؍اکتوبر1987ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حرم محترم کی بے حرمتی کرنے پر ایرانیوں کی سخت مذمت کی گئی۔7؍نومبر1987ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی۔اور ساتھ ہی ایران -عراق جنگ بند کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔8؍نومبر1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ ہوئی، علمائے کرام کے خطاب اور قرارداد کے علاوہ ،مولانا معزالدین احمد گونڈویؒ کے استفسار پر دارالعلوم دیوبند کے اس فتویٰ کی تائید کی گئی، جس میں عقائد و نظریات کے تناظر میں آیت اللہ خمینی کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیاگیا تھا۔9-10؍اپریل1988ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تحفظ حرم کی بابت سعودی حکومت کو چند مفید تجاویز پیش کرتے ہوئے ایران-عراق جنگ کو فورا بند کرنے کی اپیل کی گئی۔2؍جولائی1988ء کو لندن میں ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے پر خمینیوں کی شدید مذمت کی۔19؍جولائی 1988ء کو جنگ بندی کی خبر آنے پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔پھر جب 20؍ اگست 1988ء کی تاریخ کو حتمی طور پر جنگ بندی کادن طے کردیا گیا، تو اس سے پہلے ہی 13-14؍ اگست 1988ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علما نے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ اور پھر اواخر اگست 1988ء کو باقاعدہ ایک تقریب جشن منعقد کرکے ایران-عراق جنگ بندی پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔ایران کے شمال مغربی حصے میں آئے بھیانک زلزلے پر 6؍جولائی 1990ء کو جمعیت علما نے ایک پریس بیان جاری کرکے ہمدردی کا اظہار کیا اور گراں قدر تعاون پیش کیا۔11؍اکتوبر1991ء کو ایرانی صدر کے مشیر خاص مولانا اسحاق مدنی صاحب کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لانے پر ان کا استقبال کیا گیا۔26؍مئی 1995ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے حج کے موقع پر ایرانیوں کی طرف سے سیاسی مظاہرہ کی مذمت کی۔ اور حرم محترم کے تقدس کو ہر حالت میں بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے جوہری ہتھیار کی غلط تشہیر پر 6؍دسمبر2004ء کو صدر جمعیت حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی صاحب نے سخت مذمت کی۔2002ئسے لے کر 2006ء تک کی مختلف تاریخوں میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی طرف سے ایران کو دھمکی دینے کے تناظر میں، یکم تا 3؍مارچ 2006ء کو امریکی صدر کے ہندستان دورے کی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سخت احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ یہ احتجاجی اجلاس ایران کی حمایت میں کیا گیا تھا۔امریکہ ایران تنازع پر 23؍مئی 2006ء کو صدر جمعیت نے ایک پریس بیان دیتے ہوئے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت کی۔14؍فروری 2007ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔28؍اپریل 2008ء کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کیا گیا۔اور اسے ایران -ہندستان کی ثقافتی، تجارتی اور تہذبی روابط کے لیے امید افزا قدم بتایاگیا۔19؍مئی 2024ء کو ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلی ٰ افسران کی حادثاتی موت پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔22؍جون2025ء کو جوہری ہتھیار کی ممکنہ تیاری کا بہانہ بناکر امریکہ کی طرف سے ایران پر کی گئی بم باری کی شدید مذمت کی گئی۔28؍فروری2026ء کو کسی جواز کے بغیر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جابرانہ حملے شروع کردیے، جن کے نتیجے میں پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے چند اہل خانہ کی موت واقع ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے 2؍مارچ 2026ء کو اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سپریم لیڈر و اہل خانہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ محمد یاسین جہازی 27/رمضان المبارک 1447۔مطابق 17/مارچ 2026

رمضان المبارک کے موقع پر منعقدہ مجلسِ افطار میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران، علماء کرام اور معزز احباب کی بڑی تعداد شریک ہوئی، میزبان نے اسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل قرار دیا۔

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدایِ بخشندہ
یہ ہمارے لیے انتہائی سعادت، فرحت اور مسرت کا مقام ہے کہ اللہ ربّ العالمین کے فضل و کرم سے گزشتہ کل میرے غریب خانے پر ایک بابرکت اور باوقار مجلسِ افطار منعقد ہوئی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے معزز ذمہ داران اور اکابرین کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ فخر و اعزاز بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی بابرکت مجالس اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور اس کی عنایت کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں، اس لیے ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔
بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب، صدر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی قیادت میں ایک معزز وفد کی شرکت نے اس مجلس کی رونق کو دوبالا کردیا۔ مزید برآں جنوبی دہلی کے صدر محترم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد نعیم قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی آمد بھی ہمارے لیے باعثِ مسرت و افتخار رہی۔
اس بابرکت مجلس میں دیگر معزز علماء و احباب بھی شریک رہے۔ ان میں بالخصوص مولانا کلیم الدین قاسمی صاحب، مولانا عظیم اللہ قاسمی صاحب، مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی صاحب، مولانا نجیب اللہ قاسمی صاحب، مفتی ذاکر حسین قاسمی صاحب، مولانا ہارون الرشید قاسمی صاحب، مولانا مفتی خلیل صاحب، قاری عبد الشکور صاحب، قاری ہارون صاحب، مولانا عتیق الرحمن قاسمی صاحب شامل ہیں۔
نیز حضرت ناظمِ عمومی صاحب کے صاحبزادگان حافظ ابو بکر سلمہ، حافظ محمود سلمہ، مامو جناب جلال الدین صاحب، مولانا عمیر احمد قاسمی، قاری محمد آصف قاسمی اور قاری رفیع الدین کے علاوہ دیگر معزز حضرات بھی شریک رہے۔ اسی طرح ہمارے مخلص کرم فرماں بھائی مشبر صاحب اور برادرم محمد افضل صاحب بہرائچی کی شرکت بھی اس مجلس کے حسن میں اضافہ کا سبب بنی۔ ان تمام معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لیے اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔
اس موقع پر میں بالخصوص اپنے مشفق و مربی اور مجھ پر ہمیشہ ایک والد کی طرح شفقت فرمانے والے اس بزرگ کا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں جو میری زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر میری رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ ان کی محنتوں، کاوشوں اور خلوص کے نتیجے میں آج یہ بابرکت محفل سجی ہے۔
میں اپنے ماموں محترم الحاج زبیر احمد صاحب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مجلس کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی لی اور اپنی کوششوں سے اس محفل کو ممکن بنایا۔
نیز اس موقع پر اپنے والدِ مرحوم کو یاد نہ کرنا میرے لیے یقیناً بد نصیبی کی بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کی بے شمار راحتوں اور خواہشات کو قربان کردیا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ میری تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا اور ہر ممکن کوشش کی کہ میں علم کے راستے پر آگے بڑھوں۔
آج اگر میں تعلیم کے کسی مرحلے تک پہنچ سکا ہوں اور کچھ حاصل کر سکا ہوں تو یہ دراصل انہی کی محنتوں، قربانیوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو بھی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ان کی دعاؤں اور تربیت کا ثمرہ ہے۔
اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ اس بابرکت مجلسِ افطار کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، تمام معزز مہمانوں کی آمد کو ہمارے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے اور ہم سب کو دینِ اسلام کی خدمت اور آپس میں محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسی کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے والدِ مرحوم کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ربّ العالمین ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

ماہواری کی چھٹی کے معاملے پر بھارت میں نئی بحث، سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد سوالات اٹھنے لگے

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

بھارت میں خواتین کو ماہواری کے دوران چھٹی دینے کے معاملے پر ایک بار پھر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سپریم کورٹ نے اس موضوع سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیتے ہوئے ملک بھر میں ماہواری کی لازمی چھٹی کے قانون کے امکان پر سوال اٹھائے۔سپریم کورٹ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر خواتین کے لیے ماہواری کی چھٹی کو قانون کے ذریعے لازمی قرار دیا گیا تو اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس طرح کے قانون سے یہ خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ بعض آجر خواتین کو ملازمت دینے سے گریز کریں، جس کے نتیجے میں خواتین کے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔عدالت میں دائر عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت خواتین ملازمین اور طالبات کو ماہواری کے دوران چند دن کی بامعاوضہ چھٹی دینے کے لیے ملک گیر پالیسی یا قانون بنائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ماہواری کے دوران بعض خواتین کو شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے انہیں آرام کا حق دیا جانا چاہیے۔تاہم عدالت نے اس معاملے کو قانون سازی کے بجائے پالیسی کے طور پر دیکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس موضوع پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو غور کرنا چاہیے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی پالیسی کو بناتے وقت صنفی مساوات اور روزگار کے مواقع پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ماہرین اور سماجی کارکنان کے درمیان اس مسئلے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ حلقے ماہواری کی چھٹی کو خواتین کی صحت اور وقار کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لازمی چھٹی کا قانون خواتین کے خلاف امتیاز کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اس وقت بھارت میں ماہواری کی چھٹی سے متعلق کوئی قومی قانون موجود نہیں ہے، تاہم چند ریاستوں، تعلیمی اداروں اور نجی کمپنیوں نے اپنی سطح پر ایسی سہولتیں فراہم کی ہیں۔سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے بعد یہ سوال ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے کہ کیا ماہواری کی چھٹی خواتین کے لیے سہولت ثابت ہوگی یا اس سے ان کے روزگار کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔

مدینہ مسجد گووند پوری دہلی میں تکمیلِ قرآن کی روح پرور تقریب منعقد

نئی دہلی، 25 رمضان المبارک (نیشنل اردو ٹائمز)

ماہِ مقدس رمضان المبارک کی بابرکت اور روحانی فضاؤں میں مدینہ مسجد، گووند پوری نئی دہلی میں پچیسویں شبِ رمضان المبارک کو نمازِ تراویح کے دوران قرآنِ مجید کی تکمیل کی بابرکت سعادت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر مسجد میں ایک روح پرور اور باوقار تقریب منعقد ہوئی جس میں علماء کرام، حفاظِ کرام اور مقامی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر قاری محمد آصف قاسمی نے نمازِ تراویح میں قرآنِ مجید کی تکمیل کرائی، جبکہ سماعت کے فرائض قاری رفیع الدین سلمہ نے انجام دیے۔تکمیلِ قرآن کے بعد منعقدہ مجلس میں قرآنِ کریم کی عظمت، اس کے پیغام اور مسلمانوں کی زندگی میں اس کی اہمیت پر علماء کرام نے تفصیلی روشنی ڈالی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی حضرت مولانا قاری عبد اللہ ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کی عظمت اور حافظِ قرآن کے مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ حافظِ قرآن کو خصوصی فضیلت عطا فرماتا ہے اور حافظِ قرآن کی بدولت اس کے والدین اور دیگر افراد کو بھی عظیم اجر و ثواب نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن کریم سے مضبوط تعلق قائم رکھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی۔اس کے بعد مفتی محمد اسامہ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ قرآن کریم محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں۔اس موقع پر راقم الحروف کی جانب سے حضرت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کو امسال تکمیلِ افتاء پر مبارکباد پیش کی گئی، جس پر حاضرین نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتامی خطاب میں حضرت مولانا محمود احمد قاسمی (امام و خطیب مدینہ مسجد گووند پوری) نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی ضرور دلائیں، کیونکہ دین کی صحیح تعلیم ہی انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر حضرت امام صاحب نے اجتماعی دعا کرائی جس میں امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود، ملک میں امن و سلامتی اور قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کی توفیق کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔