انسانی تعلقات کی پر پیچ راہیں اور ہمارے اندازے۔ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

انسانی تعلقات کی اس پیچیدہ دنیا میں، جہاں مفادات کے دھاگے جذبات کے باریک ریشوں سے الجھ کر ایک نادیدہ جال بناتے ہیں، انسان عموماً اپنے گمان کو رہنما بنا لیتا ہے؛ وہی گمان جو کبھی تجربے کی دھوپ میں پگھل جاتا ہے اور کبھی حالات کی آندھی میں بکھر جاتا ہے، آدمی اپنی محدود عقل ودانائی کے ترازو میں لوگوں کو تولتا ہے، اپنے دل کے جھکاؤ کے مطابق کسی کو قریب کر لیتا ہے اور کسی کو دور، اس خیال پر کہ یہی شخص اس کے لیے زیادہ نفع بخش، زیادہ کارآمد اور زیادہ وفادار ثابت ہوگا، مگر زندگی، جو اپنے دامن میں حیرت واستعجاب کے لامتناہی سلسلے سمیٹے ہوتی ہے، بارہا یہ بتاتی ہے کہ انسان کے یہ اندازے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں؛ جس پر وہ بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی سہارا نہیں بنتا، اور جہاں سے امید نہیں ہوتی وہیں سے در رحمت کھول دیا جاتا ہے، اور ایک اجنبی شخص چارہ ساز اور غمگسار بن جاتا ہے۔اسلام سے پہلے مختلف معاشروں میں بھی یہی کیفیت تھی کہ لوگ اپنی جائیداد کی تقسیم میں ذاتی اندازوں اور ذاتی مفادات پر مبنی قیاس آرائیوں کو معیار بناتے تھے؛ جس سے فائدہ متوقع ہوتا، اسے زیادہ دیا جاتا، اور جس سے امید کم ہوتی، اسے محروم کر دیا جاتا، اس طرز فکر میں نہ کوئی توازن تھا نہ کوئی عدل، بلکہ یہ انسانی خواہشات اور وقتی مفادات کا کھیل تھا، قرآن مجید نے آ کر اس غیر منضبط نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور میراث کو ایسے اٹل اصولوں سے وابستہ کر دیا جو نہ زمانے کے ساتھ بدلتے ہیں اور نہ انسان کی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں؛ یعنی رشتۂ پدریت، نسبت فرزندی، زوجیت اور قرابت کے وہ مضبوط بندھن جو انسانی وجود کا حصہ ہیں، نہ کہ وقتی مفاد کی پیداوار۔اسی تناظر میں قرآن کی وہ مختصر مگر معنوی لحاظ سے بے انتہا گہری آیت غور وفکر کی دعوت دیتی ہے: ﴿ءَابَاۤؤُكُمۡ وَأَبۡنَاۤؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَیُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعࣰاۚ﴾ (النساء:11)۔ یہ الفاظ محض میراث کے ایک قانونی حکم کی توضیح نہیں، بلکہ انسانی شعور کو جھنجھوڑ دینے والا ایک اصول ہے، ایک ایسا اصول جو انسان کو اس کی علمی محدودیت کا آئینہ دکھاتا ہے، تم نہیں جانتے کہ تمہارے لیے زیادہ نفع بخش کون ہے—تمہارے باپ یا تمہاری اولاد—یہ اعلان دراصل اس خام خیالی کے طلسم کو توڑ دیتا ہے جس میں انسان اپنے فیصلوں کو قطعی اور اپنے اندازوں کو یقینی سمجھنے لگتا ہے۔معاصر مفسرین نے بھی اس حقیقت کو مختلف زاویوں سے واضح کیا ہے، سید قطب شہید اس انسانی کشمکش کو بڑی لطافت سے بیان کرتے ہیں کہ کبھی انسان اپنی فطری کمزوری کے باعث اولاد کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اس کے اندر ان کے لیے نرم گوشہ زیادہ ہوتا ہے؛ اور کبھی اخلاقی احساس اسے والدین کی طرف جھکا دیتا ہے؛ اور کبھی وہ ان دونوں کے درمیان معلق رہتا ہے، نہ ادھر کا ہوتا ہے نہ ادھر کا، اسی طرح معاشرتی روایات بھی انسان پر دباؤ ڈالتی ہیں اور اسے مخصوص سمت میں لے جاتی ہیں، ایسے میں اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں تسلیم ورضا کی وہ کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اسے اس حقیقت کا ادراک دے کہ علم کامل صرف اللہ کے پاس ہے، اور انسان کے تمام اندازے محض قیاس ہیں۔ابن عاشور اس آیت کے ذریعے جاہلی معیار کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں، وہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ ایک ہی قسم کی ضرورت پیش نہیں آتی؛ کبھی اسے والدین کی حاجت ہوتی ہے، کبھی اولاد کی، اور کبھی کسی کی نہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، ضروریات کا رخ بدلتا رہتا ہے، اور انسان کی زندگی ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھلتی، ایسے میں کسی ایک مفروضے پر اعتماد کر کے فیصلے کرنا گویا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، اس لیے شریعت نے میراث کو ایسے اصولوں سے وابستہ کیا جو تغیر سے ماورا ہیں، تاکہ انصاف قائم رہے اور انسانی خواہشات اس میں دخل نہ دے سکیں۔یہ آیت دراصل ایک ہمہ گیر حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو نہ اپنے مستقبل کا پورا علم ہے اور نہ اپنے تعلقات واختلاط کے انجام کا، جس بیٹے کو آج بے کار سمجھا جا رہا ہے، وہی کل بڑھاپے کا سہارا بن سکتا ہے؛ اور جس رشتہ دار سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، وہی وقت آنے پر ساتھ چھوڑ سکتا ہے، نفع کی صورتیں بھی یکساں نہیں ہوتیں؛ کبھی وہ مادی ہوتی ہیں، کبھی جذباتی، کبھی روحانی، اور کبھی محض ایک دعا کی شکل میں انسان کی زندگی بدل دیتی ہیں۔اسی حقیقت کا عکس ہمیں خاندانی اور سماجی زندگی میں بارہا نظر آتا ہے، انسان کبھی بیوی کو والدین پر ترجیح دیتا ہے یا والدین کو شریک حیات پر، اس خیال میں کہ یہی تعلق زیادہ پائیدار اور فائدہ مند ہے؛ مگر وقت کے ساتھ جب حالات کروٹ لیتے ہیں، تو وہی فیصلے سوال بن جاتے ہیں، کبھی ازدواجی تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے، کبھی جدائی کی نوبت آ جاتی ہے، اور تب احساس ہوتا ہے کہ جن رشتوں کو نظر انداز کیا گیا تھا وہی زیادہ مخلص، زیادہ قریب اور زیادہ نفع بخش تھے۔یہ معاملہ صرف خاندانی دائرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دوستی اور سماجی روابط تک پھیل جاتا ہے، انسان کبھی کسی دوست کو “رفیق جاں” سمجھ کر اس پر اعتماد کی انتہا کر دیتا ہے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو پس پشت ڈال دیتا ہے؛ اور کبھی اس کے برعکس، محض قرابت کی بنیاد پر کسی کو فوقیت دیتا ہے اور حقیقی مخلص لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن وقت، جو ہر حقیقت کو بے نقاب کرنے کی قدرت رکھتا ہے، بالآخر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ یہ ترجیحات اکثر ناقص اندازوں پر مبنی تھیں۔قرآن کا اسلوب یہاں نہایت حکیمانہ ہے؛ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تعلقات ختم کر دو یا کسی سے توقع نہ رکھو، بلکہ وہ معیار بدل دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ تعلقات کو مفاد کے پیمانے سے نہ ناپو، بلکہ حق اور ذمہ داری کے اصول پر قائم کرو، صلہ رحمی، حسن سلوک اور قرابت سے متعلق حقوق اس لیے ادا کرو کہ یہ تم پر لازم ہیں، نہ کہ اس لیے کہ تمہیں ان سے کوئی فوری فائدہ حاصل ہوگا، یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو انسان کو تعلقات کی تجارت سے نکال کر اسے عبادت کے درجے تک لے جاتا ہے۔یہ آیت انسان کے اندر ایک تربیتی انقلاب بھی برپا کرتی ہے، وہ اسے سکھاتی ہے کہ اپنے علم پر غرور نہ کرے، اپنے اندازوں کو حتمی نہ سمجھے، اور اپنی ترجیحات کو مطلق نہ جانے، زندگی کے فیصلے کرتے وقت عاجزی اختیار کرے، اور یہ مان لے کہ حقیقت کے تمام پہلو اس کی نگاہ میں نہیں آ سکتے، بہت سی بھلائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں نقصان دہ محسوس ہوتی ہیں، اور بہت سے فائدے ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں نقصان میں بدل جاتے ہیں۔اسی لیے آیت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ﴿إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا حَكِیمࣰا﴾—گویا یہ اعلان کہ علم کامل بھی اسی کے پاس ہے اور حکمت بالغہ بھی اسی کی صفت ہے، انسان کے لیے اطمینان کا اصل سرچشمہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے فیصلوں پر اعتماد کرے، اس کے مقرر کردہ نظام کو قبول کرے، اور اپنے محدود علم کے باوجود اس کی حکمت پر یقین رکھے۔بالآخر یہی حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان کا کام حساب لگانا نہیں، بلکہ حق ادا کرنا ہے؛ اس کا فریضہ یہ نہیں کہ وہ ہر تعلق کو نفع کے ترازو میں تولے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر رشتے کے ساتھ انصاف کرے؛ کیونکہ جو نفع انسان اپنے ذہن میں تراشتا ہے وہ اکثر سراب ثابت ہوتا ہے، اور جو خیر اللہ اس کے لیے مقدر کرتا ہے وہی حقیقی اور پائیدار ہوتا ہے، چنانچہ دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنے گمان کے بجائے اللہ کے علم پر بھروسہ کرے، اپنی ترجیحات کو خواہش کے بجائے شریعت کے تابع کرے، اور یہ یقین رکھے کہ خیر کا اصل منبع وہی انتخاب ہے جو اللہ انسان کے لیے کرتا ہے، نہ کہ وہ راستہ جو انسان اپنی محدود بصیرت سے چن لیتا ہے۔

اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہے

اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہےایک بادشاہ نے درویش سے کہا:”مجھے بھی وہ ورد سکھا دو جو تم پڑھتے ہو۔”درویش نے انکار کر دیا۔ بادشاہ نے کسی اور سے وہ ورد سیکھ لیا، مگر جب پڑھا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ بادشاہ نے درویش کو دربار میں بلا کر کہا:”میں نے ورد سیکھ تو لیا ہے لیکن اثر نہیں ہوا، بتاؤ غلطی کہاں ہے؟”درویش مسکرایا اور بادشاہ کے سپاہی کو حکم دیا کہ بادشاہ کو گرفتار کرے۔ سپاہی خاموش رہا۔ پھر بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:”اس درویش کو گرفتار کرو!”فوراً پورا دربار حرکت میں آ گیا اور درویش کو گھیر لیا۔درویش نے کہا:”دیکھ! الفاظ تو ایک جیسے تھے، حکم بھی ایک ہی تھا، لیکن فرق صرف ہماری حیثیت کا ہے۔تیرا حکم سب پر اثر کر گیا اور میرا حکم کسی پر نہ ہوا۔اسی طرح تیرے ورد میں اثر اس لیے نہیں کہ روحانی دنیا میں تیری کوئی حیثیت نہیں۔”الفاظ نہیں، بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی ہی اعمال کو اثر بخشتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ قرآن میں شفا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ پڑھنے والا کس ایمان، کس نیت اور کس کردار کے ساتھ پڑھتا ہے۔قرآن تو شفا ہی شفا ہے۔”عمل کی طاقت الفاظ میں نہیں بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی میں ہے۔قرآن اور اذکار شفا ہیں، مگر اثر صرف نیک نیت اور مخلص دل کو ملتا ہے۔”

دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، بخاری شریف کے درس سے افتتاح

دیوبند:بحمد اللہ دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا باضابطہ آغاز آج حدیث شریف کی معروف کتاب بخاری شریف کے افتتاحی درس سے کیا گیا۔اس موقع پر ادارہ کے مہتمم و استاذ حدیث، حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے درسِ بخاری شریف کے ذریعے نئے تعلیمی سال کا آغاز فرمایا۔ درس کے دوران طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود رہی اور نہایت روحانی و علمی ماحول دیکھنے کو ملا۔اہلِ علم کے مطابق درسِ بخاری شریف سے تعلیمی سال کا آغاز ایک مبارک روایت ہے، جو طلبہ کے لیے علمی و روحانی برکت کا باعث بنتی ہے۔

مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

مسلم طالب علم کو دہشت گرد کہنے والے پروفیسر کا ردِعمل، یو نیورسٹی کی کارروائی

بنگلورو (اسٹاف رپورٹر):
بنگلورو کی ایک یونیورسٹی میں پیش آئے ایک واقعے نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ایک پروفیسر کی جانب سے مسلم طالب علم کو مبینہ طور پر “دہشت گرد” کہنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پروفیسر کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر پروفیسر کو معطل کر دیا گیا، جبکہ انہوں نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کلاس روم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں پروفیسر ایک مسلم طالب علم سے نامناسب انداز میں گفتگو کرتے نظر آئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پروفیسر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پروفیسر کے خلاف بھارتی تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ طالب علم کی جانب سے بھی شکایت درج کرائی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات نہ صرف ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ طلبہ کے درمیان خوف اور عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں فوری اور منصفانہ کارروائی ضروری ہے۔

جے پور میں پرنٹنگ انڈسٹری نمائش، راجستھان میں ترقی کے نئے مواقع: دیا کماری

جے پور (نمائندہ خصوصی)

راجستھان کی نائب وزیر اعلیٰ نے جے پور میں منعقدہ پرنٹنگ انڈسٹری نمائش کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے پروگرامز صنعت کے فروغ اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں سیکھنے اور دیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے، جو اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ راجستھان میں اس نمائش کا دوسری بار انعقاد خوش آئند ہے اور اسے آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔دیا کماری نے مزید کہا کہ راجستھان ہر شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس طرح کے صنعتی پروگرامز نہ صرف نئے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو اس صنعت کی جانب راغب بھی کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے ایونٹس ریاست میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دارالعلوم وقف دیوبند میں داخلہ امتحانات شروع، ہزاروں طلبہ شریک

دیوبند (نمائندہ خصوصی)

میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلہ امتحانات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے آئے ہزاروں طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔امتحانات کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ نظم و ضبط کے ساتھ ہال میں بیٹھ کر امتحان دے رہے ہیں۔ ادارے کی جانب سے امتحانی نظام کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے خصوصی نگرانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق داخلہ امتحانات مختلف درجات کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو آئندہ تعلیمی سال میں داخلہ دیا جائے گا۔ اس موقع پر طلبہ میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ادارہ کے ذمہ داران نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک کے مختلف علاقوں سے طلبہ بڑی تعداد میں یہاں پہنچے ہیں، جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس تاریخی ادارے کا انتخاب کرتے ہیں۔

این سی ای آر ٹی تنازع: سپریم کورٹ کی کارروائی اور نصاب میں مداخلت پر بحث تیز

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کی درسی کتابوں سے متعلق تنازع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں عدالت کی جانب سے سخت اقدامات کے بعد نصاب اور عدلیہ کے تعلق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کے مصنفین کو بلیک لسٹ کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے 26 فروری کو اس کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، کیونکہ اس میں عدلیہ میں بدعنوانی اور مقدمات کے بوجھ جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس باب پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں این سی ای آر ٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے عدلیہ کے لیے اپنے “اعلیٰ احترام” کا اظہار کیا اور باب کو دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔عدالت نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈی پی ساکلانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور بعد میں مصنفین کی نشاندہی ہونے پر سرکاری و عوامی اداروں کو ہدایت دی کہ ان افراد کو ملازمت نہ دی جائے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کتاب میں عدلیہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر اداروں جیسے پارلیمنٹ اور انتخابی نظام پر محدود یا نرم تنقید کی گئی۔ عدالت نے اسے حقائق کی “جان بوجھ کر غلط پیشکش” قرار دیا۔ پس منظر اور اہم سوالاتماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک کتاب تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ نصاب کی تیاری میں حکومت یا عدلیہ کی مداخلت کہاں تک درست ہے۔ این سی ای آر ٹی، اگرچہ ایک خود مختار ادارہ ہے، لیکن اس پر پہلے بھی حکومتی اثر و رسوخ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں درسی کتابوں سے ارتقاء (Darwin Theory)، 2002 گجرات فسادات اور بابری مسجد جیسے موضوعات کو ہٹانے پر بھی بحث ہوئی تھی، جسے “ریشنیلائزیشن” قرار دیا گیا تھا۔ تجزیہماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی مواد کا ہونا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہو، تاہم اداروں کی ساکھ اور آئینی حدود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں مختلف اداروں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

مامون الرشید کے دور کا ایک عجیب واقعہ — ایک رقعہ جس نے جان بچا دی

عباسی خلیفہ کا دور علم و حکمت، سیاست و تدبر اور فہم و فراست کے اعتبار سے اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ تاہم دربارِ خلافت کی پیچیدہ فضا اور اندرونی رقابتیں بعض اوقات ایسے حیران کن واقعات کو جنم دیتی تھیں جو آج بھی عبرت و نصیحت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔انہی حالات میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مامون الرشید اپنے قابل، بااعتماد اور باصلاحیت رفیق سے کسی بات پر سخت ناراض ہو گئے۔ یہ ناراضی بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ خلیفہ نے ایک خفیہ مجلس میں چند معتمد افراد کے ساتھ مل کر عبداللہ بن طاہر کو راستے سے ہٹانے یعنی قتل کروانے کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ معاملہ نہایت رازدارانہ تھا اور اس کی خبر باہر پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی خفیہ مجلس میں عبداللہ بن طاہر کا ایک مخلص اور خیرخواہ دوست بھی موجود تھا۔ اس نے نہایت باریکی سے حالات کا جائزہ لیا اور فوراً سمجھ گیا کہ اس کے دوست کی جان شدید خطرے میں ہے۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر عبداللہ بن طاہر کو خبردار کرنے کا فیصلہ کیا، مگر چونکہ معاملہ حساس تھا اس لیے کھلے الفاظ میں کچھ لکھنا ممکن نہ تھا۔چنانچہ اس نے ایک مختصر سا رقعہ تحریر کیا، جس میں نہ کوئی تفصیل تھی اور نہ کسی سازش کا صریح ذکر، بلکہ نہایت حکیمانہ اور رمز و کنایہ کے انداز میں صرف یہ الفاظ لکھے: “جو شخص اپنے انجام سے بے خبر ہو جائے، وہ دشمن کے وار سے نہیں بلکہ اپنی غفلت سے ہلاک ہوتا ہے۔” یہ رقعہ فوراً عبداللہ بن طاہر تک پہنچا دیا گیا۔عبداللہ بن طاہر چونکہ نہایت ذہین، دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے، انہوں نے اس مختصر پیغام کی گہرائی کو فوراً سمجھ لیا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ حالات معمولی نہیں بلکہ نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تاخیر کیے بغیر اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور نہایت عاجزی، انکساری اور اخلاص کے ساتھ مامون الرشید کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے نہ صرف اپنی وفاداری کا اظہار کیا بلکہ اس انداز میں گفتگو کی کہ ہر ممکن غلط فہمی دور ہو جائے اور دلوں میں پیدا ہونے والی کدورت ختم ہو جائے۔ ان کا یہ رویہ نہایت مؤثر ثابت ہوا۔مامون الرشید، جو خود بھی علم و دانش اور فہم و بصیرت کے حامل تھے، عبداللہ بن طاہر کے اس طرزِ عمل اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور انہوں نے اپنے ارادے سے رجوع کر لیا۔ نہ صرف یہ کہ خطرہ ٹل گیا بلکہ عبداللہ بن طاہر کو پہلے سے زیادہ عزت و اعتماد بھی حاصل ہو گیا۔یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں عقل، حکمت، بروقت فیصلہ اور اخلاص کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر مگر معنی خیز بات انسان کی زندگی بچا دیتی ہے، اور سچی خیرخواہی و عاجزی بڑے سے بڑے خطرے کو بھی ٹال سکتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ہر دور میں کامیابی اور سلامتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

— نیشنل اردو ٹائمز

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.