ملک کے معروف عالمِ دین مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب انتقال کر گئے، علمی حلقوں میں غم کی لہر

میرٹھ | نیشنل اردو ٹائمز

انا للہ وانا الیہ راجعون ملکِ ہندوستان کے مشہور و معروف عالمِ دین، عاشقِ ملت حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب رحمہ اللہ(مہتمم جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ، ضلع میرٹھ، و رکنِ شوریٰ مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارن پور)کا آج بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء وصال ہو گیا۔حضرت والا کی وفات کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ میں گزاری، اور ہزاروں افراد کو اپنے علم و عمل سے فیضیاب کیا۔یقیناً حضرت والا کا انتقال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، جس کی تلافی آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

راگھو چڈھا کا الزامات پر ردعمل، پارٹی لائن سے انحراف کے دعوے مسترد

نئی دہلی:

راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے عآپ آدمی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ پارٹی لائن پر نہیں چلتے، تاہم انہوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ پارٹی کے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔راگھو چڈھا کے مطابق ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ طور پر ان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔تاحال اس معاملے پر پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

آدھار کارڈ تاریخِ پیدائش کا نہیں بلکہ شناخت کا ثبوت ہے: UIDAI

نیشنل اردو ٹائمز | عوامی معلومات آدھار کارڈ تاریخِ پیدائش کا نہیں بلکہ شناخت کا ثبوت ہے: UIDAI📍 نئی دہلی:Unique Identification Authority of India کی جانب سے جاری ایک وضاحت میں کہا گیا ہے کہ آدھار کارڈ کو تاریخِ پیدائش (Date of Birth) کے مستند ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ صرف شناخت (Identity) کا ثبوت ہے۔ادارے کے مطابق آدھار بنیادی طور پر فرد کی شناخت کے لیے جاری کیا جاتا ہے، جبکہ تاریخِ پیدائش کے درست اور مستند ثبوت کے لیے دیگر دستاویزات استعمال کی جانی چاہئیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری کاموں میں آدھار کے استعمال کے حوالے سے درست معلومات رکھیں اور غلط فہمیوں سے بچیں۔

دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، بخاری شریف کے درس سے افتتاح

دیوبند:بحمد اللہ دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا باضابطہ آغاز آج حدیث شریف کی معروف کتاب بخاری شریف کے افتتاحی درس سے کیا گیا۔اس موقع پر ادارہ کے مہتمم و استاذ حدیث، حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے درسِ بخاری شریف کے ذریعے نئے تعلیمی سال کا آغاز فرمایا۔ درس کے دوران طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود رہی اور نہایت روحانی و علمی ماحول دیکھنے کو ملا۔اہلِ علم کے مطابق درسِ بخاری شریف سے تعلیمی سال کا آغاز ایک مبارک روایت ہے، جو طلبہ کے لیے علمی و روحانی برکت کا باعث بنتی ہے۔

مغربی بنگال انتخابات سے قبل بڑا فیصلہ، چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی عہدے سے ہٹائے گئے

کولکاتامغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن نے اہم انتظامی فیصلے کرتے ہوئے ریاست کے کئی سینئر افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جن افسران کو ہٹایا گیا ہے ان میں چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کو انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ریاستی انتظامیہ میں مزید تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں تاکہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہوں۔سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اتراکھنڈ و گجرات میں یونیفارم سول کوڈ پر اعتراضات، مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت ردِعمل

اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیں: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی:3/اپریل 2026گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو’’ یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو UCC کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراء طلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں UCC نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراء طلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراء کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں UCCکے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔🎙️پریس کو مخاطب کر نے والےمولانا محمد علی محسن تقوی، نائب صدر بورڈ ، امام وخطیب شیعہ جامع مسجد دہلیمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، نائب صدر بورڈ و صدرمرکزی جمیعت اہل حدیث ہندجناب ملک معتصم خان، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، رکن بورڈایڈوکیٹ طاہرایم حکیم، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں

نئی دہلی
دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک مقامی جلوس (شوبھا یاترا) کے دوران پیش آیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات اور پس منظر کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی بنیاد پر بعض افراد کی شناخت کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق علاقے میں فی الحال حالات معمول پر ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے تاکید کی گئی ہے کہ حساس معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔

مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی گرفتاری کے معاملے پر اخترالایمان کی جانب سے پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں مبینہ طور پر گرفتاری کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔

پٹنہ (نیشنل اردو ٹائمز): پٹنہ میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں، مختلف مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے مشہور عالم دین اور تعلیمی شخصیت مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی حالیہ گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانفرنس کے دوران، اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کے بہار کے ایم ایل اے اور ریاستی صدر اختر الایمان نے مولانا چترویدی کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کارروائی قرار دیا۔​اختر الایمان نے کہا کہ مولانا چترویدی کی گرفتاری کے پیچھے مبینہ طور پر سیاسی وجوہات اور مذہبی تعصب کارفرما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا نے ہمیشہ امن اور بھائی چارے کا درس دیا ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ان کی گرفتاری سے متعلق ذرائع کے مطابق متعدد شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔​AIMIM ایم ایل اے نے اس معاملے میں فوری مداخلت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اہم آئینی عہدیداروں اور اداروں کو مکتوب روانہ کیے ہیں۔ ان مکتوبات میں بہار کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ، انسانی حقوق کمیشن اور اقلیتی کمیشن شامل ہیں۔ ان خطوط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مولانا عبداللہ سالم چترویدی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے۔​پریس کانفرنس میں شامل تمام رہنماؤں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر مولانا بے قصور ثابت ہوں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مطالبہ کسی فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے معاملات پر عدالت کا اظہارِ تشویش، پولیس کو مستعدی کی ہدایت

نئی دہلی:قومی راجدھانی دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور پولیس کو اس معاملے میں زیادہ مستعدی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران معزز عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کرے گی تو ایسے معاملات کی سنگینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ لاپتہ بچوں کے کیسز میں سنجیدگی کے ساتھ فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اس نوعیت کے چند واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار اور تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

وضاحت:یہ خبر دستیاب عدالتی ریمارکس اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید مستند معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

رپورٹ: نیشنل اردو ٹائم

زمرہ: India / Court / Crime

راگھو چڈھا کو بڑا سیاسی جھٹکا، راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹائے گئے

نئی دہلی:راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کو بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، جہاں عام آدمی پارٹی نے انہیں ایوانِ بالا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ان کی جگہ اشوک متل کو نیا ڈپٹی لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو پارٹی کے اندرونی تنظیمی رد و بدل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔تاحال اس فیصلے پر راگھو چڈھا کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس تبدیلی پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔