جے پور میں پرنٹنگ انڈسٹری نمائش، راجستھان میں ترقی کے نئے مواقع: دیا کماری

جے پور (نمائندہ خصوصی)

راجستھان کی نائب وزیر اعلیٰ نے جے پور میں منعقدہ پرنٹنگ انڈسٹری نمائش کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے پروگرامز صنعت کے فروغ اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں سیکھنے اور دیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے، جو اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ راجستھان میں اس نمائش کا دوسری بار انعقاد خوش آئند ہے اور اسے آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔دیا کماری نے مزید کہا کہ راجستھان ہر شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس طرح کے صنعتی پروگرامز نہ صرف نئے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو اس صنعت کی جانب راغب بھی کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے ایونٹس ریاست میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دارالعلوم وقف دیوبند میں داخلہ امتحانات شروع، ہزاروں طلبہ شریک

دیوبند (نمائندہ خصوصی)

میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلہ امتحانات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے آئے ہزاروں طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔امتحانات کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ نظم و ضبط کے ساتھ ہال میں بیٹھ کر امتحان دے رہے ہیں۔ ادارے کی جانب سے امتحانی نظام کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے خصوصی نگرانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق داخلہ امتحانات مختلف درجات کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو آئندہ تعلیمی سال میں داخلہ دیا جائے گا۔ اس موقع پر طلبہ میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ادارہ کے ذمہ داران نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک کے مختلف علاقوں سے طلبہ بڑی تعداد میں یہاں پہنچے ہیں، جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس تاریخی ادارے کا انتخاب کرتے ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم ریمارک: شادی شدہ مرد کا لیو اِن ریلیشن جرم نہیں

پریاگ راج (نمائندہ خصوصی)

الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے لیو اِن ریلیشن (ہم باشی) سے متعلق ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ خاتون کے ساتھ اس کی رضامندی سے لیو اِن ریلیشن میں رہ رہا ہے تو یہ بذاتِ خود کوئی مجرمانہ عمل نہیں ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کسی عمل کو جرم قرار دینے کے لیے مخصوص قانونی بنیاد ضروری ہوتی ہے، اور محض سماجی یا اخلاقی بنیادوں پر کسی تعلق کو مجرمانہ نہیں کہا جا سکتا۔عدالتی بنچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر دونوں فریق بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے ساتھ رہ رہے ہوں تو اسے فوجداری جرم کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا، البتہ ایسے معاملات میں دیگر قانونی پہلو جیسے ازدواجی حقوق یا خاندانی تنازعات الگ سے زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ماہرین قانون کے مطابق یہ ریمارک موجودہ قانونی تشریح کو واضح کرتا ہے، جس میں لیو اِن ریلیشن کو بذاتِ خود جرم نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس میں زبردستی یا غیر قانونی عناصر شامل نہ ہوں۔

این سی ای آر ٹی تنازع: سپریم کورٹ کی کارروائی اور نصاب میں مداخلت پر بحث تیز

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کی درسی کتابوں سے متعلق تنازع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں عدالت کی جانب سے سخت اقدامات کے بعد نصاب اور عدلیہ کے تعلق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کے مصنفین کو بلیک لسٹ کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے 26 فروری کو اس کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، کیونکہ اس میں عدلیہ میں بدعنوانی اور مقدمات کے بوجھ جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس باب پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں این سی ای آر ٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے عدلیہ کے لیے اپنے “اعلیٰ احترام” کا اظہار کیا اور باب کو دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔عدالت نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈی پی ساکلانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور بعد میں مصنفین کی نشاندہی ہونے پر سرکاری و عوامی اداروں کو ہدایت دی کہ ان افراد کو ملازمت نہ دی جائے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کتاب میں عدلیہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر اداروں جیسے پارلیمنٹ اور انتخابی نظام پر محدود یا نرم تنقید کی گئی۔ عدالت نے اسے حقائق کی “جان بوجھ کر غلط پیشکش” قرار دیا۔ پس منظر اور اہم سوالاتماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک کتاب تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ نصاب کی تیاری میں حکومت یا عدلیہ کی مداخلت کہاں تک درست ہے۔ این سی ای آر ٹی، اگرچہ ایک خود مختار ادارہ ہے، لیکن اس پر پہلے بھی حکومتی اثر و رسوخ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں درسی کتابوں سے ارتقاء (Darwin Theory)، 2002 گجرات فسادات اور بابری مسجد جیسے موضوعات کو ہٹانے پر بھی بحث ہوئی تھی، جسے “ریشنیلائزیشن” قرار دیا گیا تھا۔ تجزیہماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی مواد کا ہونا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہو، تاہم اداروں کی ساکھ اور آئینی حدود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں مختلف اداروں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

پنجاب میں منشیات کے خلاف سخت کارروائی، 15.49 کروڑ روپے کے اثاثے برآمد

چنڈی گڑھ (نمائندہ خصوصی)

پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی قیادت میں منشیات کے خلاف مہم کو مزید تیز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پولیس نے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دی ہیں۔حکام کے مطابق “وار آن ڈرگز” مہم کے تحت منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ اس دوران منشیات سے متعلق تقریباً 15.49 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے برآمد کیے گئے ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق اس مہم کا مقصد نہ صرف منشیات کی سپلائی چین کو توڑنا ہے بلکہ نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھنا اور پنجاب کو ایک محفوظ اور منشیات سے پاک ریاست بنانا بھی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکے اور ریاست میں قانون و نظم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ: وندے ماترم گانا لازمی نہیں، مولانا محمود مدنی کا ردِعمل

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے وندے ماترم گانے سے متعلق دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قومی نغمے کو گانا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی اسے نہ گانے پر کسی قسم کی سزا کا کوئی قانونی provision موجود ہے۔عدالت نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کے جاری کردہ سرکلر میں بھی وندے ماترم کو لازمی قرار نہیں دیا گیا، اس لیے کسی شہری کو اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ جمعیۃ کا واضح مؤقف ہے کہ “وندے ماترم” کا تصور ان کے عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی کو بھی اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ یا ضمیر کے خلاف کوئی عمل کرنے پر مجبور کرنا آئین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جس کا تحفظ ضروری ہے۔

دہلی ریلوے اسٹیشن واقعہ: طالب علم کا بیان سامنے آگیا، ہراسانی کا الزام

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آئے ایک واقعے میں دارالعلوم دیوبند کے امتحان کے لیے سفر کر رہے ایک طالب علم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں راستے میں ہراساں کرنے اور اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔متاثرہ طالب علم کے مطابق ایک شخص نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز جملے کہے، جن کا مقصد ردِعمل حاصل کرنا اور ماحول کو خراب کرنا تھا۔ تاہم طالب علموں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کی جھڑپ سے گریز کیا اور خاموشی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔طالب علم کے بیان کے مطابق ایسے واقعات کا مقصد نوجوانوں کو اشتعال دلانا اور انہیں قانونی مشکلات میں پھنسانا ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھالا۔واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں مبینہ طور پر گفتگو دیکھی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے پولیس یا ریلوے انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں عام شہریوں، خصوصاً طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور انتظامیہ کو ایسے معاملات کا نوٹس لے کر مناسب کارروائی کرنی چاہیے تاکہ سماجی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔

بہادر فوجیوں کے لیے بڑا اعلان: گیلنٹری ایوارڈ یافتگان کو ٹرین میں مفت سفر کی سہولت

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):مرکزی حکومت نے ملک کی حفاظت میں نمایاں خدمات انجام دینے والے بہادر فوجیوں کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے گیلنٹری ایوارڈ حاصل کرنے والے اہلکاروں کو خصوصی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری نئے احکامات کے مطابق اب فوج، بحریہ اور فضائیہ کے وہ اہلکار جنہیں بہادری کے اعزازات سے نوازا گیا ہے، انہیں بھارتی ریلوے کی 2AC کلاس میں تاحیات مفت سفر کی سہولت حاصل ہوگی۔حکام کے مطابق یہ اقدام صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ان جانبازوں کے لیے ایک اعزاز ہے، جنہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف فوجیوں کا حوصلہ بلند ہوگا بلکہ عوام میں بھی ان کے لیے مزید احترام اور قدردانی کا جذبہ پیدا ہوگا۔

علم و تحقیق کی ایک روشن مثال: مولانا نعیم قاسمی کی ڈاکٹریٹ تک کا علمی سفر

علم کی دنیا میں وہی نام زندہ رہتے ہیں جو محنت، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہیں، مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی جو امام و خطیب ڈبیا والی مسجد اندھیریا موڑ اور صدر جمعیۃ علماء جنوبی دہلی کی حیثیت سے اپنی دینی و سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے (DU) سے ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کی، جو ان کی علمی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ بعنوان “عماد الدین خلیل: حیاتہ و اعمالہ” نہ صرف ایک علمی کاوش ہے بلکہ اسلامی فکر و ادب کے ایک اہم مفکر کی زندگی اور خدمات کو اجاگر کرنے کی سنجیدہ اور بامقصد کوشش بھی ہے۔یہ تحقیقی سفر سن 2019 میں شروع ہوا، جب انہوں نے باقاعدہ طور پر داخلہ لیا۔ کئی برسوں کی مسلسل محنت، مطالعہ، تحقیق اور علمی جستجو کے بعد 2025 میں مقالہ مکمل ہوا، جبکہ 2026 میں انہیں باضابطہ طور پر ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس پورے سفر میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر محمود صاحب نے ان کی رہنمائی کی، جن کی علمی سرپرستی نے اس تحقیق کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دینی اور عصری علوم کا امتزاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ انتہائی مفید بھی۔ ایک طرف وہ مسجد کے منبر سے دین کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف علمی تحقیق کے ذریعے فکر و دانش کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔ان کا یہ کارنامہ نوجوان طلبہ کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو ذمہ داریوں کے ساتھ بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ علمی و دینی حلقوں کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے علم میں مزید برکت عطا کرے اور انہیں امت کے لیے نافع بنائے۔

تمل ناڈو میں بی جے پی کا دعویٰ: 200 سے زائد نشستوں کے ساتھ اقتدار میں آنے کی امید

چنئی (نمائندہ خصوصی)
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ونگ کے ریاستی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پارٹی تمل ناڈو میں 200 سے زائد نشستوں کے ساتھ اقتدار میں آنے کی پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اتحاد نے سب سے پہلے سیٹ شیئرنگ معاہدہ مکمل کیا، امیدواروں کا اعلان کیا اور اتحادی جماعتوں کے لیے حلقے بھی طے کر دیے، جس کے باعث وہ انتخابی دوڑ میں دوسروں سے آگے ہیں۔
ڈاکٹر سوریہ نے کہا کہ پارٹی جلد ہی بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کرے گی، جبکہ ان کے مطابق اتحاد ابھی تک اپنے اتحادیوں کے لیے نشستوں کی تقسیم کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔
انہوں نے ریاست میں قانون و نظم کی صورتحال پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 دنوں میں قتل، زیادتی اور اغوا جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جو حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کی حفاظت میں ناکام ہو چکی ہے اور اقتدار سے باہر ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔