ویسٹ ایشیا بحران پر آل پارٹی میٹنگ، سفارتکاری اور توانائی تیاریوں پر غور

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):

بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ حالیہ آل پارٹی میٹنگ میں ویسٹ ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی اور توانائی کے شعبے میں تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں دو اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں پہلا جغرافیائی سیاست اور سفارتکاری جبکہ دوسرا توانائی سے متعلق امور تھا۔ حکومت نے اس موقع پر مختلف ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا۔سسمت پاترا کے مطابق توانائی کے شعبے میں ایل پی جی، تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور ملک کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے سوالات اٹھائے اور وضاحتیں طلب کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ ویسٹ ایشیا کے موجودہ تنازع میں بھارت کہاں کھڑا ہے اور اس کی تیاری کس سطح پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ بھارت کو آئندہ بھی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ میں خارجہ امور، توانائی، تعلیم اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں سمیت مختلف پہلوؤں پر بات ہوئی، اور تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ مشترکہ رائے سامنے آئی کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونی چاہیے اور معمولات زندگی بحال ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایس سی درجہ نہیں ملے گا

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد کسی شخص کو شیڈولڈ کاسٹ (SC) کا درجہ حاصل نہیں رہتا۔ عدالت نے 24 مارچ کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس اصول کی توثیق کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کے مطابق صرف ہندو، سکھ اور بدھ مذہب کے ماننے والوں کو ہی شیڈولڈ کاسٹ کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مذہب کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ درجہ فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس قانون میں کوئی استثنا موجود نہیں ہے، اور جیسے ہی کوئی شخص مذہب تبدیل کرتا ہے، وہ ایس سی کے تحت ملنے والے ریزرویشن اور دیگر قانونی تحفظات سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا جس میں ایک شخص، جو عیسائی مذہب اختیار کر چکا تھا، نے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس درج کیا تھا۔ ملزمان نے اس کو عدالت میں چیلنج کیا، جس پر آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے پہلے ہی مقدمہ خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار طویل عرصے سے عیسائی مذہب پر عمل کر رہا تھا اور اس نے اپنے اصل مذہب میں واپسی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کیا، اس لیے وہ ایس سی کے فوائد حاصل کرنے کا اہل نہیں ہے۔

راگھو چڈھا کی راجیہ سبھا میں آواز: پری پیڈ ڈیٹا پلانز میں بڑی اصلاحات کا مطالبہ

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

عام آدمی پارٹی (آپ) کے رکنِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز راجیہ سبھا میں پری پیڈ موبائل ریچارج پلانز میں روزانہ ڈیٹا کی حد کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے صارفین کے حق میں اہم مطالبات پیش کیے۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیاں روزانہ 1.5GB، 2GB یا 3GB ڈیٹا والے پلان فراہم کرتی ہیں، جو ہر 24 گھنٹے بعد ری سیٹ ہو جاتے ہیں۔ اس نظام میں صارفین کی مکمل ادائیگی کے باوجود بچا ہوا ڈیٹا آدھی رات کو ختم ہو جاتا ہے، جو صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے۔راگھو چڈھا نے کہا:”کوئی ریفنڈ نہیں، کوئی ٹرانسفر نہیں، بس ڈیٹا ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک پالیسی ہے — یا تو ڈیٹا جلدی استعمال کریں، ورنہ آدھی رات تک ختم ہو جائے گا۔”انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچا ہوا ڈیٹا ضائع ہونے کے بجائے اگلے دن یا اگلے ریچارج سائیکل میں منتقل ہونا چاہیے۔

اہم مطالبات1. ڈیٹا رول اوور:تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو چاہیے کہ غیر استعمال شدہ ڈیٹا اگلے دن یا اگلے سائیکل میں شامل کریں۔2. رقم میں ایڈجسٹمنٹ:اگر صارف کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے تو اگلے ریچارج میں رعایت یا ایڈجسٹمنٹ دی جائے۔3. ڈیٹا ٹرانسفر کی سہولت:صارفین کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنا بچا ہوا ڈیٹا دوسروں کو منتقل کر سکیں، جیسے مالی لین دین میں ہوتا ہے۔راگھو چڈھا نے کہا کہ غیر استعمال شدہ ڈیٹا کو صارف کی ڈیجیٹل ملکیت تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس کا فائدہ بھی صارف کو ملنا چاہیے۔انہوں نے اس سے قبل 28 دن کے ریچارج سسٹم پر بھی اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طریقہ کار سے صارفین کو سال میں 12 کے بجائے 13 بار ریچارج کرنا پڑتا ہے، جو اضافی مالی بوجھ کا سبب بنتا ہے۔ مزید یہ کہ ریچارج ختم ہونے پر کال اور ایس ایم ایس سروس بند کرنا بھی صارفین کے لیے نقصان دہ ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو سادہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

یکم اپریل 2026 سے PAN کارڈ کے قواعد میں بڑی تبدیلی، آدھار پر مبنی عمل ختم

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)
بھارت میں یکم اپریل 2026 سے PAN (Permanent Account Number) کارڈ سے متعلق نئے قواعد نافذ کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت صرف آدھار پر مبنی درخواست کا عمل ختم کر دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے اصولوں کے تحت PAN کارڈ کے لیے درخواست دینے یا اس میں ترمیم کروانے کے عمل میں مزید دستاویزات درکار ہوں گی، جس سے پورا نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور جامع ہو جائے گا۔
یہ تبدیلیاں کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے بعد سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق درخواست کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کی PAN سے متعلق کوئی درخواست زیر التوا ہے تو وہ مقررہ وقت سے پہلے اسے مکمل کر لیں، تاکہ نئے قواعد کے تحت اضافی دستاویزی تقاضوں سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد PAN نظام کو مزید شفاف، محفوظ اور منظم بنانا ہے، تاکہ مالیاتی امور میں درستگی اور نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کا پارلیمنٹ میں خطاب، عالمی کشیدگی پر تشویش کا اظہار

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے عالمی حالات خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے ممکنہ اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، اس لیے ملک کو ہر سطح پر پیشگی تیاری کرنی ہوگی۔وزیرِ اعظم نے کورونا وبا کے دوران درپیش چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ملک نے اس مشکل وقت میں متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر بھی سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بدلتے ہوئے عالمی حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

عید الفطر اتحاد، رواداری اور امن کا پیغام دیتی ہے: مولانا محمد قاسم نوری قاسمی

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے صدر نے اپنی پریس خطاب میں عالم اسلام کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عید کا اصل پیغام اتحاد و اتفاق، ہمدردی، ایثار و قربانی اور رواداری ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 20 اور 21 مارچ کو پوری دنیا میں عید الفطر منائی گئی، جس کے موقع پر عالم اسلام نے نہ صرف عبادات کا اہتمام کیا بلکہ دنیا بھر میں امن و امان، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اعلیٰ ظرفی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حالات اور چیلنجز کے باوجود مسلمانوں نے پرامن انداز میں عید منائی اور پورے ملک کو یہ پیغام دیا کہ اسلام اور اس کے ماننے والے نہ کسی کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور نہ ہی کسی کی عبادتگاہوں کے سامنے جا کر اشتعال انگیزی یا مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کے اتم نگر واقعہ کے بعد بعض فرقہ پرست عناصر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم دہلی پولیس کی مستعدی، بروقت کارروائی اور مسلسل کوششوں نے ایسے عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے اس موقع پر دہلی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے میں ان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔

مسلمانوں کا پرامن طرزِ عمل اسلام کی حقیقی تصویر: مولانا عارف قاسمی

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):آل انڈیا امام فاؤنڈیشن کے صدر اور جمعیۃ علماءِ صوبۂ دہلی کے نائب صدر نے 23 مارچ 2026 کو اپنے ایک بیان میں ملک میں مسلمانوں کے پرامن طرزِ عمل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن، بھائی چارہ اور سلامتی کا مذہب ہے، جس کی عملی جھلک حالیہ عید الفطر کے موقع پر واضح طور پر دیکھنے کو ملی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے تہوار الگ الگ منائے جاتے ہیں، لیکن مسلمانوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ عید الفطر اور عید الاضحی جیسے اہم تہوار اجتماعی طور پر اور اتحاد کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس میں مسلکی اختلافات رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ سب ایک صف میں کھڑے ہو کر عبادت انجام دیتے ہیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً پچیس کروڑ مسلمان آباد ہیں، جنہوں نے چند روز قبل عید الفطر کی نماز ملک بھر میں اجتماعی طور پر ادا کی۔ اس موقع پر کہیں بھی کسی مندر یا دوسرے مذہبی مقام کے سامنے کوئی اشتعال انگیزی، نعرہ بازی یا بدامنی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان عید کے دن گھروں سے خوشی کے ساتھ نکلتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور پھر امن و سکون کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ نہ کہیں کوئی فساد ہوتا ہے اور نہ ہی ہنگامہ آرائی۔ یہی دراصل اسلام کی اصل روح ہے، کیونکہ اسلام کے معنی ہی سلامتی اور امن کے ہیں۔مولانا محمد عارف قاسمی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے مذہب کے ماننے والے ہیں جو امن، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک میں تمام اسلامی عبادتگاہوں کی حفاظت فرمائے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھے۔

سنجے نشاد کا بیان: “ہم بی جے پی کے ساتھ تھے اور رہیں گے”

سلطانپور، اتر پردیش (نمائندہ خصوصی)

اتر پردیش کے وزیر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت شروع سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ رہی ہے اور آئندہ بھی اتحاد برقرار رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ پہلے کے ساتھ تھے، لیکن وہاں انہیں نظر انداز کیا گیا اور ان کے لیے دروازے بند کر دیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریزرویشن کا مسئلہ ان کی پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہے اور اسی بنیاد پر وہ اپنی سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں۔سنجے نشاد نے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے عوام کے لیے اچھا کام کیا ہے، جبکہ وزیر اعظم پسماندہ طبقات کو عزت دینے اور انہیں ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت پہلے بھی اس وقت بی جے پی کے ساتھ کھڑی رہی جب دیگر جماعتیں الگ ہو گئی تھیں، اور 2019 سے مسلسل بی جے پی کی کامیابی میں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ اس وفاداری کو مدنظر رکھے

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.

أتم نگر میں عید اور رام نومی پرامن طور پر منانے کا حکم، دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت

نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

دہلی ہائی کورٹ نے اتم نگر میں عید الفطر اور رام نومی کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ دونوں تہواروں کے دوران مکمل سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ہائی کورٹ نے پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ مقامی سطح پر نگرانی بڑھائیں اور دونوں برادریوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔عدالت نے زور دیا کہ تہوار خوشی اور بھائی چارے کے ساتھ منائے جائیں اور کسی بھی اشتعال انگیز سرگرمی کو فوری طور پر روکا جائے۔ماہرین کے مطابق عدالت کی یہ ہدایت حساس علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔