دہلی میں نمازِ عید الفطر کے اوقات کے اعلان کے لیے عوام سے معلومات طلب

نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

نیشنل اردو ٹائمز کی جانب سے دہلی اور اطرافِ دہلی کی بڑی و علاقائی جامع مساجد میں نمازِ عید الفطر کے اوقات کے اعلان کے لیے ایک خصوصی فہرست مرتب کی جا رہی ہے۔اس سلسلے میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کی جامع مساجد میں نمازِ عید کے طے شدہ اوقات سے متعلق معلومات فراہم کریں تاکہ انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے عوام تک آسانی کے ساتھ پہنچایا جا سکے۔ادارہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو بروقت اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ بغیر کسی دشواری کے نمازِ عید ادا کر سکیں۔نیشنل اردو ٹائمز نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ درج ذیل معلومات کمنٹ کے ذریعے فراہم کریں:📍 مسجد کا نام📍 علاقہ / لوکیشن📍 نمازِ عید کا وقتادارہ نے کہا کہ عوام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات ہزاروں لوگوں کے لیے آسانی اور رہنمائی کا سبب بن سکتی ہیں۔آمین

دہلی و اطراف میں موسلا دھار بارش، موسم خوشگوار ہوگیا

نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

دہلی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں زبردست موسلا دھار بارش کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا ہے، جس سے گرمی اور حبس سے پریشان عوام نے راحت کی سانس لی ہے۔بارش کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ ٹھنڈی ہواؤں نے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ کئی علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی رفتار متاثر ہوئی۔محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں تک مزید بارش کا امکان ہے، اور شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔دوسری جانب بارش سے جہاں موسم خوشگوار ہوا ہے وہیں نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کی وجہ سے معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں عید الفطر 20 مارچ کو، ہندوستان میں 21 مارچ کو متوقع

ریاض / نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

سعودی عرب میں شوال المکرم 1447 ہجری کا چاند آج بروز 18 مارچ 2026 کو نظر نہیں آیا۔ متعلقہ حکام کے مطابق ملک میں رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔اس اعلان کے بعد سعودی عرب میں عید الفطر بروز جمعہ، 20 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔دوسری جانب ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں عموماً رویت ہلال ایک دن بعد ہوتی ہے، جس کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں عید الفطر بروز ہفتہ، 21 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔ماہرینِ فلکیات اور علماء کرام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک کے سرکاری اعلان کی پیروی کریں اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔📌 اہم نکات:سعودی عرب: جمعہ، 20 مارچ 2026ہندوستان: ہفتہ، 21 مارچ 2026 (متوقع)

ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

*ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے**آئیے ہم اکابر کے کردار کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کرتے ہیں*محمد یاسین جہازی خارجہ پالیسی مذہبی عقائد پر نہیں؛بلکہ ہمیشہ انسانیت، عدل اور عالمی امن کے اصولوں پر بنائی جاتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ یہی اصول پیش نظر رکھا ہے ۔خود ایران کے تناظر میں بات کریں، تو مختلف ادوار میں جمعیت علمائے ہند کے نقطۂ نظر میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ۔ اور حمایت و مخالفت کے دونوں پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ ایران بمقابلہ برطانیہ و روس ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی۔ایران بمقابلہ امریکہ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ عراق، جمعیت علمائے ہند نے عراق کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ سعودی عرب، (سانحۂ حرم کے تناظر میں) جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔چوںکہ جمعیت علمائے ہند کا موقف عالمی سطح پر ہندستان کے مسلمانوں کے موقف و نظریات کے طور پر کوڈ کیا جاتا ہے، اس لیے آئیے ایک صدی کی تاریخ میں ایران کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کیخارجہ پالیسیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ایران کا پہلا تذکرہ پانچویں اجلاس عام منعقدہ: 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے خطبۂ صدارت میں ملتا ہے، جس میں انگلستان اور روس کے درمیان ایران کی تقسیم کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے شمالی ایران پر روس کے قابض و متصرف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔صدر محکمہ ٔ شرعیہ استانبول نے9؍جنوری 1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت علمائے ہند سے گذارش کی کہ وہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے متوجہ کرے۔جمعیت علمائے ہند کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بارھویں اجلاس عام منعقدہ: 7تا 9؍جون 1940ء کے خطبۂ صدارت میں فرمایا کہ ہندستان کی آزادی سے ایران بھی مصائب سے محفوظ رہیںگے۔اسی طرح تیرھویں اجلاس عام منعقدہ: 20تا22؍مارچ 1942ء کے خطبۂ صدارت میں، حضرت شیخ الاسلام نے ایران سمیت تمام ممالک اسلامیہ کے متعلق اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے برطانوی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا۔پھر اسی اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے تجویز منظور کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کاموقف طے کردیا۔11؍جون1945ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی صدارت ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں ایران پر روسی و برطانوی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ایرانی سفیر نے 27تا 29؍اپریل 1951ء کو منعقد سترھویں اجلاس عام کے اپنی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔ہندستان اور پاکستان کے باہمی تنازعات کے لیے دوستانہ تصفیے کے لیے کوشش کرنے والے ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام، 9؍اگست 1951ء کو بحری تار بھیج کر پاکستان کے پروپیگنڈا سے آگاہ کیا۔حضرت شیخ الاسلام نے 16؍نومبر1951ء کا دن ایران کی کامیابی کے لیے بطور دعا منانے کی اپیل کی۔11تا 13؍فروری 1955ء کو جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں ایران کے سفیر محترم علی اصغر حکمت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہندستان کے سیکولر نظام کو نعمت سے تعبیر کیا۔17؍فروری1956ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایران کے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی اور ان کی بیوی ثریا اسفند یاری بختیاری کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کی اور انھیں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔سفارت کی مدت پوری ہونے کے بعدایران واپس جانے کی مناسبت سے11؍جنوری 1958ء کو ایران کے سفیر جناب علی اصغر حکمت کو جمعیت علمائے ہند نے الوداعیہ پیش کیا۔15؍جولائی1959ء کو جدید و قدیم علوم کے ماہر ایرانی فوج کے مشہور جنرل آقای حسین علی رزم آرا کو قبلہ نما ایجاد کرنے پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے مبارک باد پیش کی۔20؍جنوری1960ء کو سابق وزیر خارجہ نے ایران جناب علی اصغر علی حکمت نے جمعیت علمائے ہند کو عید کی مبارک باد پیش کی۔6؍ستمبر1962ء کو مشرقی ایران کے علاقے میں آئے شدید زلزلے میں متأثرین سے، 8؍ستمبر1962ء کو صدرجمعیت علمائے ہندفخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحبؒ نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیااور لوگوں سے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔15تا17؍اپریل1966ء کومنعقد جمعیت علمائے ہندکے بائیسویں اجلاس عام کے لیے سفیر ایران ڈاکٹر جلال عبدوہ نے اپنی نیک خواہشات بھیجیں۔3؍ستمبر1968ء کو شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو ایک برقیہ بھیج کر زلزلہ سے ہوئی تباہی پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں 18-19؍اپریل1970ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں ایک تجویز منظور کرکے زلزلہ متأثرین سے یک جہتی کا اظہار کیا۔اسلامی انقلاب کے بعد 4؍نومبر1979ء کو، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے ہمنواؤں نے امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کرکے امریکی شہریوں کو یرغمال بنالیا۔ یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے 24؍اپریل1980ء کو ’’آپریشن ایگل کلا‘‘ شروع کیا۔ 27؍اپریل1980ء کو منعقد مجلس عاملہ ، بعد ازاں 28-29؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس منتظمہ نے ان دونوں واقعات: ایران میں امریکی طرز عمل اور ایرانیوں کے طرز عمل کی مذمت کی۔اسلامی انقلاب کو عراق نے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے، 22؍ستمبر1980ء کو ایران پر بلاوجہ حملہ کردیا، جس سے ایک طویل جنگ کی شروعات ہوگئی۔ اور تقریبا آٹھ سال تک جاری رہنے کے بعد 20؍اگست1988ء کو اقوام متحدہ کی قرار داد 598کے تحت اختتام پذیر ہوئی۔ اس ایران-عراق جنگ پر جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایران سے فوری طور پر جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ یکم اکتوبر1980ء کو مجلس عاملہ میں،بعد ازاں مجلس منتظمہ منعقدہ: 25-26؍نومبر1983ء میں،پھر تعلیمی و ملی کانفرنس منعقدہ: 6-7-8؍ اپریل 1984ء میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ایران-عراق جنگ کے دوران ڈیڑھ ہزار عراقی جنگی قیدیوں کے وحشیانہ قتل کی خبر موصول ہونے پر26؍دسمبر1981ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اور پھر 26-27؍ دسمبر 1981ء کو مجلس عاملہ نے اس واقعہ پر ایران کی مذمت کی۔ 22سے 25؍اپریل 1985ء کو عراق میں دوسری عالمی بغداد کانفرنس ہوئی، جس کا بنیادی مقصد عرب ازم اور پین اسلام ازم کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔جب 6-7؍مئی 1985ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، تو مجلس عاملہ نے بغداد کانفرنس کی تمام تجویزوں کی تائید کرتے ہوئے 24؍مئی 1985ء کو ایران- عراق جنگ بندی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔لیکن مکمل تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر یہ دن نہیں منایا جاسکا۔یکم نومبر1986ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں عراق کی طرف سے جنگ بندی کی پیش قدمی کے باوجود ایران کی طرف سے جنگ بند نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ملی اتحاد کا پر فریب نعرہ اور حرمین شریفین کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی آیت اللہ خمینی کی منصوبہ بند سازش کے تحت،ایران کے ایک لاکھ پچاس ہزار حاجیوںنے، 31؍جولائی 1987ء کو مکہ مکرمہ کے حرم محترم کے قریب عصر کے وقت خمینی کی تصویروں کے ساتھ احتجاجی نعرے بلند کرنا شروع کیے اور لاٹھی ڈنڈوں اور چاقوں کے ساتھ حرم میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور چار سو افراد جاں بحق ہوگئے ۔ اس پر2؍اگست 1987ء کو مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور 9؍اگست 1987ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اسے حرم محترم کی بے حرمتی قرار دیا۔اور 21؍ اگست 1987ء کو ’’یوم حرم‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔پھر 3؍ستمبر1987ء کو سعودی سفیر محترم فواد صادق مفتی صاحب سے ملاقات کرکے اس سانحہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کے موقف اور کاررائیوں سے مطلع کیا گیا۔3-4؍اکتوبر1987ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حرم محترم کی بے حرمتی کرنے پر ایرانیوں کی سخت مذمت کی گئی۔7؍نومبر1987ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی۔اور ساتھ ہی ایران -عراق جنگ بند کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔8؍نومبر1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ ہوئی، علمائے کرام کے خطاب اور قرارداد کے علاوہ ،مولانا معزالدین احمد گونڈویؒ کے استفسار پر دارالعلوم دیوبند کے اس فتویٰ کی تائید کی گئی، جس میں عقائد و نظریات کے تناظر میں آیت اللہ خمینی کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیاگیا تھا۔9-10؍اپریل1988ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تحفظ حرم کی بابت سعودی حکومت کو چند مفید تجاویز پیش کرتے ہوئے ایران-عراق جنگ کو فورا بند کرنے کی اپیل کی گئی۔2؍جولائی1988ء کو لندن میں ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے پر خمینیوں کی شدید مذمت کی۔19؍جولائی 1988ء کو جنگ بندی کی خبر آنے پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔پھر جب 20؍ اگست 1988ء کی تاریخ کو حتمی طور پر جنگ بندی کادن طے کردیا گیا، تو اس سے پہلے ہی 13-14؍ اگست 1988ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علما نے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ اور پھر اواخر اگست 1988ء کو باقاعدہ ایک تقریب جشن منعقد کرکے ایران-عراق جنگ بندی پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔ایران کے شمال مغربی حصے میں آئے بھیانک زلزلے پر 6؍جولائی 1990ء کو جمعیت علما نے ایک پریس بیان جاری کرکے ہمدردی کا اظہار کیا اور گراں قدر تعاون پیش کیا۔11؍اکتوبر1991ء کو ایرانی صدر کے مشیر خاص مولانا اسحاق مدنی صاحب کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لانے پر ان کا استقبال کیا گیا۔26؍مئی 1995ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے حج کے موقع پر ایرانیوں کی طرف سے سیاسی مظاہرہ کی مذمت کی۔ اور حرم محترم کے تقدس کو ہر حالت میں بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے جوہری ہتھیار کی غلط تشہیر پر 6؍دسمبر2004ء کو صدر جمعیت حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی صاحب نے سخت مذمت کی۔2002ئسے لے کر 2006ء تک کی مختلف تاریخوں میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی طرف سے ایران کو دھمکی دینے کے تناظر میں، یکم تا 3؍مارچ 2006ء کو امریکی صدر کے ہندستان دورے کی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سخت احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ یہ احتجاجی اجلاس ایران کی حمایت میں کیا گیا تھا۔امریکہ ایران تنازع پر 23؍مئی 2006ء کو صدر جمعیت نے ایک پریس بیان دیتے ہوئے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت کی۔14؍فروری 2007ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔28؍اپریل 2008ء کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کیا گیا۔اور اسے ایران -ہندستان کی ثقافتی، تجارتی اور تہذبی روابط کے لیے امید افزا قدم بتایاگیا۔19؍مئی 2024ء کو ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلی ٰ افسران کی حادثاتی موت پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔22؍جون2025ء کو جوہری ہتھیار کی ممکنہ تیاری کا بہانہ بناکر امریکہ کی طرف سے ایران پر کی گئی بم باری کی شدید مذمت کی گئی۔28؍فروری2026ء کو کسی جواز کے بغیر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جابرانہ حملے شروع کردیے، جن کے نتیجے میں پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے چند اہل خانہ کی موت واقع ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے 2؍مارچ 2026ء کو اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سپریم لیڈر و اہل خانہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ محمد یاسین جہازی 27/رمضان المبارک 1447۔مطابق 17/مارچ 2026

بھوپال میں فتویٰ پر تنازع، عید کی نماز سے پہلے امام کی امامت پر بحث

بھوپال | نیشنل اردو ٹائمز

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں عید کے موقع سے قبل ایک مذہبی معاملہ تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ شہر میں جاری ایک فتویٰ کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ عید کی نماز کی امامت کون کرے گا۔رپورٹس کے مطابق مقامی دارالافتاء کی جانب سے جاری کیے گئے ایک فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو ایسی بیماری ہو جس کے باعث پیشاب پر مکمل قابو نہ رہے تو اسے نماز کی امامت نہیں کرنی چاہیے۔ اس فتویٰ کے بعد شہر قاضی کی امامت کے معاملے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔اس معاملے کے بعد بھوپال کے معروف اور ایشیا کی بڑی مساجد میں شمار ہونے والی Taj-ul-Masajid میں عید کی نماز کی امامت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم برادری کے مختلف حلقوں میں اس مسئلے پر الگ الگ آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ فتویٰ شرعی اصولوں کے مطابق ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے اسے غیر ضروری تنازع قرار دیا ہے۔مقامی مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ معاملے کو باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عید کی نماز پر کوئی اثر نہ پڑے اور شہر میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے۔

اڈیشہ راجیہ سبھا انتخابات: کانگریس کو جھٹکا، صوفیہ فردوس کی بی جے پی کے حق میں کراس ووٹنگ

بھونیشور | نیشنل اردو ٹائمزاڈیشہ میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران کانگریس کو اس وقت بڑا سیاسی جھٹکا لگا جب بارابتی–کٹک سے کانگریس کی رکنِ اسمبلی صوفیہ فردوس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں کراس ووٹنگ کر دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صوفیہ فردوس کے علاوہ کانگریس کے دو دیگر ارکانِ اسمبلی نے بھی بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔صوفیہ فردوس کو 2024 کے اسمبلی انتخابات میں پہلی مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب کیا گیا تھا۔ انہیں اڈیشہ کی پہلی مسلم خاتون ایم ایل اے بھی مانا جاتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس کراس ووٹنگ نے کانگریس کی ریاستی قیادت کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں، جبکہ بی جے پی کو اس معاملے سے سیاسی فائدہ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔دوسری جانب بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صوفیہ فردوس کے والد محمد مقیم نے بی جے پی کے خلاف عدالت میں ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا ہے، جس کے باعث اس معاملے نے مزید سیاسی اور قانونی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ریاستی سیاست میں اس واقعے کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کو سفارتی دھچکا، اتحادی ممالک نے فوجی حمایت سے انکار کر دیا

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمزآبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت سفارتی دھچکا لگا جب کئی اہم اتحادی ممالک نے خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے واشنگٹن کی درخواست کی حمایت سے انکار کر دیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے خلیج میں بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اپنے اتحادی ممالک سے بحری تعاون اور فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم متعدد ممالک نے اس آپریشن میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔ذرائع کے مطابق یہ درخواست ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی صورتحال کے خدشات کے بعد کی گئی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا خام تیل گزرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اتحادی ممالک کی جانب سے فوجی تعاون سے انکار امریکہ کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں واشنگٹن کی حکمت عملی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران جنگ کے اثرات: بھارت میں ایل پی جی کی کھپت میں نمایاں کمی، سپلائی متاثر

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز):

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے اثرات اب بھارت کی توانائی سپلائی پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت میں ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو گیس کی کھپت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے پہلے نصف میں بھارت میں سرکاری ایندھن فروخت کرنے والی کمپنیوں کی ایل پی جی فروخت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں گیس کی فروخت تقریباً 1.15 ملین میٹرک ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ یہی راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ بھارت اپنی ایل پی جی کی تقریباً 90 فیصد درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیے خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہِ راست اثر بھارت کی توانائی سپلائی اور گیس کی دستیابی پر پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے پیشِ نظر حکام گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے صنعتی اور تجارتی شعبے میں گیس کی فراہمی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

شاہ رخ پٹھان کے والد کا انتقال، اہلِ خانہ میں غم کی لہر

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

:انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شاہ رخ پٹھان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، جس کے بعد اہلِ خانہ اور قریبی عزیز و اقارب میں غم کا ماحول پایا جا رہا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق مرحوم کی وفات پر گھر میں سوگ کی فضا ہے۔واضح رہے کہ چند دن قبل ہی شاہ رخ پٹھان کی ضمانت کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی تھی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی تعزیت اور افسوس کے پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

رمضان المبارک کے موقع پر منعقدہ مجلسِ افطار میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران، علماء کرام اور معزز احباب کی بڑی تعداد شریک ہوئی، میزبان نے اسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل قرار دیا۔

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدایِ بخشندہ
یہ ہمارے لیے انتہائی سعادت، فرحت اور مسرت کا مقام ہے کہ اللہ ربّ العالمین کے فضل و کرم سے گزشتہ کل میرے غریب خانے پر ایک بابرکت اور باوقار مجلسِ افطار منعقد ہوئی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے معزز ذمہ داران اور اکابرین کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ فخر و اعزاز بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی بابرکت مجالس اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور اس کی عنایت کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں، اس لیے ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔
بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب، صدر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی قیادت میں ایک معزز وفد کی شرکت نے اس مجلس کی رونق کو دوبالا کردیا۔ مزید برآں جنوبی دہلی کے صدر محترم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد نعیم قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی آمد بھی ہمارے لیے باعثِ مسرت و افتخار رہی۔
اس بابرکت مجلس میں دیگر معزز علماء و احباب بھی شریک رہے۔ ان میں بالخصوص مولانا کلیم الدین قاسمی صاحب، مولانا عظیم اللہ قاسمی صاحب، مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی صاحب، مولانا نجیب اللہ قاسمی صاحب، مفتی ذاکر حسین قاسمی صاحب، مولانا ہارون الرشید قاسمی صاحب، مولانا مفتی خلیل صاحب، قاری عبد الشکور صاحب، قاری ہارون صاحب، مولانا عتیق الرحمن قاسمی صاحب شامل ہیں۔
نیز حضرت ناظمِ عمومی صاحب کے صاحبزادگان حافظ ابو بکر سلمہ، حافظ محمود سلمہ، مامو جناب جلال الدین صاحب، مولانا عمیر احمد قاسمی، قاری محمد آصف قاسمی اور قاری رفیع الدین کے علاوہ دیگر معزز حضرات بھی شریک رہے۔ اسی طرح ہمارے مخلص کرم فرماں بھائی مشبر صاحب اور برادرم محمد افضل صاحب بہرائچی کی شرکت بھی اس مجلس کے حسن میں اضافہ کا سبب بنی۔ ان تمام معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لیے اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔
اس موقع پر میں بالخصوص اپنے مشفق و مربی اور مجھ پر ہمیشہ ایک والد کی طرح شفقت فرمانے والے اس بزرگ کا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں جو میری زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر میری رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ ان کی محنتوں، کاوشوں اور خلوص کے نتیجے میں آج یہ بابرکت محفل سجی ہے۔
میں اپنے ماموں محترم الحاج زبیر احمد صاحب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مجلس کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی لی اور اپنی کوششوں سے اس محفل کو ممکن بنایا۔
نیز اس موقع پر اپنے والدِ مرحوم کو یاد نہ کرنا میرے لیے یقیناً بد نصیبی کی بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کی بے شمار راحتوں اور خواہشات کو قربان کردیا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ میری تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا اور ہر ممکن کوشش کی کہ میں علم کے راستے پر آگے بڑھوں۔
آج اگر میں تعلیم کے کسی مرحلے تک پہنچ سکا ہوں اور کچھ حاصل کر سکا ہوں تو یہ دراصل انہی کی محنتوں، قربانیوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو بھی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ان کی دعاؤں اور تربیت کا ثمرہ ہے۔
اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ اس بابرکت مجلسِ افطار کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، تمام معزز مہمانوں کی آمد کو ہمارے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے اور ہم سب کو دینِ اسلام کی خدمت اور آپس میں محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسی کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے والدِ مرحوم کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ربّ العالمین ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔