مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ کا سخت تبصرہ

اگر امن و امان برقرار نہیں رکھ سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں: عدالت

پریاگ راج، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ کو یہ خدشہ ہے کہ مسجد میں زیادہ نمازیوں کی آمد سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے تو متعلقہ افسران کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔یہ ریمارکس الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے ایک عرضی کی سماعت کے دوران دیے جس میں سنبھل میں واقع ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے صرف 20 افراد کو اجازت دینے کے انتظامی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ پابندی آئین ہند کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے۔عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ قانون و انتظام برقرار رکھنا ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس بنیاد پر عبادت کے حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ (DM) اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ نمازیوں کی موجودگی سے حالات سنبھالنا ممکن نہیں تو انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ یہ پابندی ممکنہ امن و امان کے خدشات کے پیش نظر عائد کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کا کام لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں محدود کرنا۔سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو مزید دستاویزات اور تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ تبصرہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم عدالتی موقف کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرنے کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

پس منظر

ضلع سنبھل میں حالیہ دنوں میں مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرنے کے انتظامی فیصلے کے بعد یہ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد آتے ہیں اور ایسی پابندیاں مذہبی آزادی کو متاثر کرتی ہیں۔

The Indian ExpressLive LawHindustan Times

نوجوان محمد اریب کے قتل کا دردناک واقعہ۔ ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند کی سربراہی میں ایک وفد کی اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت

نیشنل اردو ٹائمز | نئی دہلی

پرانی دہلی کے علاقہ کوچہ چیلان سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد اریب کے دلخراش قتل کے واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق محمد اریب اسکریپ کے کاروبار سے وابستہ تھے اور چند روز قبل لاپتہ ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ان کی لاش کے مختلف ٹکڑے فرید آباد کے جنگلات سے برآمد ہوئے، جس کے بعد اہلِ خانہ اور علاقے کے لوگوں میں شدید صدمہ اور غم کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس نے بعض ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔گزشتہ روز بعد نمازِ مغرب مولانا محمد حکیم الدین قاسمی مرحوم محمد اریب کی تدفین میں شریک ہوئے اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔ بعد ازاں نمازِ تراویح کے بعد ان کی قیادت میں ایک وفد مرحوم کے گھر پہنچا اور ان کے والد شکیل احمد سمیت دیگر اہلِ خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کی۔اس موقع پر وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام پہنچایا اور اہلِ خانہ کو صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، مگر ایسے حالات میں صبر اور حوصلہ ہی مومن کا سہارا ہوتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جمعیۃ علماء ہند متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔وفد میں جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ذمہ داران مولانا محمد قاسم نوری، مولانا قاری محمد عارف قاسمی، مولانا محمد یوسف اعظمی اور حاجی محمد اسعد میاں کے علاوہ مرکزی دفتر سے مفتی ذاکر حسین قاسمی اور حافظ ابوبکر بھی شامل تھے۔جمعیۃ علماء ہند نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین قتل کی غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار تحقیقات کر کے تمام قصورواروں کو سخت سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں امن و امان برقرار رہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

نیوز ایجنسی ، 11 مارچ2026 (نیشنل اردو ٹائمز ):

یورپی یونین کونسل کے صدر Antonio Costa نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف United States اور Israel کی جانب سے جاری جنگی صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ Russia کو ہو رہا ہے اور اس تنازع کا واحد بڑا ‘فاتح’ روس ہی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے روس کی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کی توجہ بھی بڑی حد تک Ukraine کے ساتھ روس کے تقریباً چار سال سے جاری تنازع سے ہٹ گئی ہے۔انتونیو کوسٹا کے مطابق یہ جنگ اب اپنے گیارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے میں بعض تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔یورپی یونین کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حوالہ:

UNI News Agency،

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس

(رپورٹ: نیشنل اردو ٹائمز – NUT)

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی میں ہولناک آتشزدگی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے وفد کا دورہ

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی میں ہولناک آتشزدگی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے وفد کا دورہ نئی دہلی، 11 مارچ:2026

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی، نزد رٹھالا میٹرو اسٹیشن میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں پوری جھگی بستی جل کر راکھ ہو گئی۔ اس افسوسناک حادثے میں ایک کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ سینکڑوں جھگیاں اور گھروں کا سامان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں انتہائی افسوسناک اور تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں خاندان بے گھر اور بے سہارا ہو گئے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس سانحے کے بعد جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر حضرت مولانا محمد قاسم نوری کی ہدایت پر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کا ایک وفد جنرل سکریٹری مولانا آفتابِ عالم صدیقی کی قیادت میں جائے حادثہ پر پہنچا اور متاثرہ علاقے کا معائنہ کیا۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے ان کی دلجوئی کی اور حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔وفد میں مولانا عبدالملک (نائب امام مسجد ابوبکر صدیق، بی بلاک جے جے کالونی بوانہ، دہلی)، قاری ابو بشر (امام و خطیب مسجد بلال، ایف بلاک بوانہ)، قربان انصاری، عالم بھائی، مولانا مامون رشید اور دیگر حضرات شامل تھے۔اس موقع پر مولانا آفتابِ عالم صدیقی نے بتایا کہ آگ کی اس تباہ کن واردات کے بعد متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا تمام سامان جل کر خاک ہو چکا ہے اور لوگ اس وقت بے یار و مددگار حالت میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر بھی قریب ہے اور زیادہ تر متاثرہ آبادی غریب اور ضرورت مند مسلمانوں پر مشتمل ہے، اس لیے فوری امداد اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں اور ایسے خاندانوں کی فہرست بھی تیار کی جا رہی ہے جنہیں فوری مدد درکار ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر ان بے سہارا لوگوں کی مدد کریں تاکہ اس مشکل گھڑی میں انہیں سہارا مل سکے۔(رپورٹ: نیشنل اردو نیوز)

أتم نگر واقعہ: جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، سخت نوٹس لینے اور مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ

أتم نگر واقعہ: جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، سخت نوٹس لینے اور مسلم اقلیت تحفظ سمیت پانچ مطالبات پیش

نیشنل اردو نیوز | نئی دہلی 10- مارچ

2026نئی دہلی کے علاقہ أتم نگر میں پیش آئے حالیہ واقعہ کے سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی نے کی کی ہدایت پر جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات کی اور واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد کی قیادت، جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کی۔وفد نے جوائنٹ پولیس کمشنر کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہا کہ أتم نگر میں 26 سالہ نوجوان ترون کمار کی ہلاکت نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔جمعیۃ علماء ہند نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ بعض شرپسند عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواد پھیلا کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

*اعلانِ تعطیلات برائے تعلیمی سال 2025-2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام طلباء و طالبات اور معزز سرپرستان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کی سالانہ تعطیلات برائے تعلیمی سال 2025–26 حسبِ ذیل ہوں گی:*21 رمضان المبارک 1447ھ بمطابق 11 مارچ 2026تا6 شوال المکرم 1447ھ بمطابق 26 مارچ 2026تمام نئے اور سابقہ تعلیمی بیچز کی کلاسوں کا باضابطہ آغاز*27 مارچ 2026 بروز جمعہ، ان شاء اللہ سے ہوگا۔*تمام طلباء و طالبات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ:• عشرۂ اخیر میں انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔*• تعطیلات سے قبل اپنی تمام سابقہ ماہانہ فیس جمع کروادیں۔*اللہ تعالیٰ تمام طلباء کو علمِ نافع، اخلاص اور کامیابی عطا فرمائے۔جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء مہدی حسن عینی قاسمیبانی و ڈائریکٹرانڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبندخدیجہ حسن مؤمناتیشریک بانیانڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند🌐 ویب سائٹ: www.iiadeoband.com📞 رابطہ نمبر: 9557113167