ملک کے معروف عالمِ دین مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب انتقال کر گئے، علمی حلقوں میں غم کی لہر

میرٹھ | نیشنل اردو ٹائمز

انا للہ وانا الیہ راجعون ملکِ ہندوستان کے مشہور و معروف عالمِ دین، عاشقِ ملت حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب رحمہ اللہ(مہتمم جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ، ضلع میرٹھ، و رکنِ شوریٰ مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارن پور)کا آج بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء وصال ہو گیا۔حضرت والا کی وفات کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ میں گزاری، اور ہزاروں افراد کو اپنے علم و عمل سے فیضیاب کیا۔یقیناً حضرت والا کا انتقال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، جس کی تلافی آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، بخاری شریف کے درس سے افتتاح

دیوبند:بحمد اللہ دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا باضابطہ آغاز آج حدیث شریف کی معروف کتاب بخاری شریف کے افتتاحی درس سے کیا گیا۔اس موقع پر ادارہ کے مہتمم و استاذ حدیث، حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے درسِ بخاری شریف کے ذریعے نئے تعلیمی سال کا آغاز فرمایا۔ درس کے دوران طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود رہی اور نہایت روحانی و علمی ماحول دیکھنے کو ملا۔اہلِ علم کے مطابق درسِ بخاری شریف سے تعلیمی سال کا آغاز ایک مبارک روایت ہے، جو طلبہ کے لیے علمی و روحانی برکت کا باعث بنتی ہے۔

مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

مسلم طالب علم کو دہشت گرد کہنے والے پروفیسر کا ردِعمل، یو نیورسٹی کی کارروائی

بنگلورو (اسٹاف رپورٹر):
بنگلورو کی ایک یونیورسٹی میں پیش آئے ایک واقعے نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ایک پروفیسر کی جانب سے مسلم طالب علم کو مبینہ طور پر “دہشت گرد” کہنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پروفیسر کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر پروفیسر کو معطل کر دیا گیا، جبکہ انہوں نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کلاس روم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں پروفیسر ایک مسلم طالب علم سے نامناسب انداز میں گفتگو کرتے نظر آئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پروفیسر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پروفیسر کے خلاف بھارتی تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ طالب علم کی جانب سے بھی شکایت درج کرائی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات نہ صرف ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ طلبہ کے درمیان خوف اور عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں فوری اور منصفانہ کارروائی ضروری ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی شاہی امام سے ملاقات، والدہ کے انتقال پر تعزیت

نئی دہلی (اسٹاف رپورٹر):جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی سربراہی میں جامع مسجد دہلی پہنچا، جہاں وفد نے مولانا سید احمد بخاری سے ملاقات کر کے ان کی والدہ محترمہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور تعزیت پیش کی۔اس موقع پر وفد نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا پیغامِ تعزیت بھی پہنچایا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا:“والدین کا سایہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، ان کی جدائی ایک ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں مولانا سید احمد بخاری، سید طارق بخاری، سید یحییٰ بخاری اور سید حسن بخاری سمیت تمام اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، اور مرحومہ کے لیے مغفرت اور بلند درجات کی دعا کرتے ہیں۔ملاقات کے دوران شاہی امام نے بتایا کہ ان کی والدہ کی عمر 95 برس تھی اور وہ آخری وقت تک الحمدللہ صحت مند تھیں۔ وفد نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا۔اس موقع پر نائب امام مولانا شعبان سے بھی ملاقات کی گئی اور ان سے بھی تعزیت پیش کی گئی۔وفد میں مولانا محمد عظیم اللہ صدیقی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی، جناب اسد میاں اور مفتی حسان قاسمی سمیت دیگر ذمہ داران شامل تھے۔

شاہی امام جامع مسجد دہلی کی والدہ محترمہ کے انتقال پر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی تعزیت

دہلی (اسٹاف رپورٹر):جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے مولانا سید احمد بخاری کی والدہ محترمہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتِ مسنونہ پیش کی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ والدہ کا انتقال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور اس غم کی گھڑی میں وہ شاہی امام صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مرحومہ کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دعا کی، نیز پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔اس موقع پر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے دیگر ذمہ داران نے بھی مرحومہ کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

تعزیت کنندگان : مولانا محمد قاسم نوری قاسمی — صدر

مولانا عبدالغفار — نائب صدر

مفتی خلیل احمد قاسمی — نائب صدر

مولانا ارشاد حسین قاسمی — نائب صدر

مولانا قاری محمد عارف قاسمی — نائب صدر

قاری محمد سلیم صاحب — خازن

مولانا آفتاب عالم صدیقی — جنرل سکریٹری

قاری اظہارالحق جوہر قاسمی — ایڈیشنل سکریٹری

مفتی محمد انصار الحق قاسمی — ناظم تنظیم

دیگر اراکین:مفتی محمد حسان قاسمی، مفتی محمد سلمان قاسمی، مولانا محمد جاوید صدیقی، قاری ارشاد ربانی، مولانا عبدالسلام قاسمی، مفتی محمد قاسم قاسمی، محمد طاہر حسین ارشی، حافظ محمد یوسف اعظمی، مولانا محمد شمیم قاسمی (ناظم)مفتی نثار احمد قاسمی، مولانا محمد شمیم (نائب ناظم)

جامع مسجد دہلی کے شاہی امام کی والدہ کا انتقال، نمازِ جنازہ آج مغرب کے بعد

دہلی (اسٹاف رپورٹر)

مولانا سید احمد بخاری کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔خاندانی ذرائع کے مطابق نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ مغرب جامع مسجد دہلی میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین جامع مسجد کمپلیکس کے قدیم قبرستان، گیٹ نمبر 4 میں عمل میں آئے گی۔اہلِ خانہ، علما اور عقیدت مندوں سے نمازِ جنازہ میں شرکت اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی گئی ہے۔

عید الفطر اتحاد، رواداری اور امن کا پیغام دیتی ہے: مولانا محمد قاسم نوری قاسمی

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے صدر نے اپنی پریس خطاب میں عالم اسلام کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عید کا اصل پیغام اتحاد و اتفاق، ہمدردی، ایثار و قربانی اور رواداری ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 20 اور 21 مارچ کو پوری دنیا میں عید الفطر منائی گئی، جس کے موقع پر عالم اسلام نے نہ صرف عبادات کا اہتمام کیا بلکہ دنیا بھر میں امن و امان، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اعلیٰ ظرفی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حالات اور چیلنجز کے باوجود مسلمانوں نے پرامن انداز میں عید منائی اور پورے ملک کو یہ پیغام دیا کہ اسلام اور اس کے ماننے والے نہ کسی کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور نہ ہی کسی کی عبادتگاہوں کے سامنے جا کر اشتعال انگیزی یا مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کے اتم نگر واقعہ کے بعد بعض فرقہ پرست عناصر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم دہلی پولیس کی مستعدی، بروقت کارروائی اور مسلسل کوششوں نے ایسے عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے اس موقع پر دہلی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے میں ان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔

مسلمانوں کا پرامن طرزِ عمل اسلام کی حقیقی تصویر: مولانا عارف قاسمی

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):آل انڈیا امام فاؤنڈیشن کے صدر اور جمعیۃ علماءِ صوبۂ دہلی کے نائب صدر نے 23 مارچ 2026 کو اپنے ایک بیان میں ملک میں مسلمانوں کے پرامن طرزِ عمل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن، بھائی چارہ اور سلامتی کا مذہب ہے، جس کی عملی جھلک حالیہ عید الفطر کے موقع پر واضح طور پر دیکھنے کو ملی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے تہوار الگ الگ منائے جاتے ہیں، لیکن مسلمانوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ عید الفطر اور عید الاضحی جیسے اہم تہوار اجتماعی طور پر اور اتحاد کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس میں مسلکی اختلافات رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ سب ایک صف میں کھڑے ہو کر عبادت انجام دیتے ہیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً پچیس کروڑ مسلمان آباد ہیں، جنہوں نے چند روز قبل عید الفطر کی نماز ملک بھر میں اجتماعی طور پر ادا کی۔ اس موقع پر کہیں بھی کسی مندر یا دوسرے مذہبی مقام کے سامنے کوئی اشتعال انگیزی، نعرہ بازی یا بدامنی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان عید کے دن گھروں سے خوشی کے ساتھ نکلتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور پھر امن و سکون کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ نہ کہیں کوئی فساد ہوتا ہے اور نہ ہی ہنگامہ آرائی۔ یہی دراصل اسلام کی اصل روح ہے، کیونکہ اسلام کے معنی ہی سلامتی اور امن کے ہیں۔مولانا محمد عارف قاسمی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے مذہب کے ماننے والے ہیں جو امن، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک میں تمام اسلامی عبادتگاہوں کی حفاظت فرمائے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھے۔

مامون الرشید کے دور کا ایک عجیب واقعہ — ایک رقعہ جس نے جان بچا دی

عباسی خلیفہ کا دور علم و حکمت، سیاست و تدبر اور فہم و فراست کے اعتبار سے اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ تاہم دربارِ خلافت کی پیچیدہ فضا اور اندرونی رقابتیں بعض اوقات ایسے حیران کن واقعات کو جنم دیتی تھیں جو آج بھی عبرت و نصیحت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔انہی حالات میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مامون الرشید اپنے قابل، بااعتماد اور باصلاحیت رفیق سے کسی بات پر سخت ناراض ہو گئے۔ یہ ناراضی بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ خلیفہ نے ایک خفیہ مجلس میں چند معتمد افراد کے ساتھ مل کر عبداللہ بن طاہر کو راستے سے ہٹانے یعنی قتل کروانے کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ معاملہ نہایت رازدارانہ تھا اور اس کی خبر باہر پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی خفیہ مجلس میں عبداللہ بن طاہر کا ایک مخلص اور خیرخواہ دوست بھی موجود تھا۔ اس نے نہایت باریکی سے حالات کا جائزہ لیا اور فوراً سمجھ گیا کہ اس کے دوست کی جان شدید خطرے میں ہے۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر عبداللہ بن طاہر کو خبردار کرنے کا فیصلہ کیا، مگر چونکہ معاملہ حساس تھا اس لیے کھلے الفاظ میں کچھ لکھنا ممکن نہ تھا۔چنانچہ اس نے ایک مختصر سا رقعہ تحریر کیا، جس میں نہ کوئی تفصیل تھی اور نہ کسی سازش کا صریح ذکر، بلکہ نہایت حکیمانہ اور رمز و کنایہ کے انداز میں صرف یہ الفاظ لکھے: “جو شخص اپنے انجام سے بے خبر ہو جائے، وہ دشمن کے وار سے نہیں بلکہ اپنی غفلت سے ہلاک ہوتا ہے۔” یہ رقعہ فوراً عبداللہ بن طاہر تک پہنچا دیا گیا۔عبداللہ بن طاہر چونکہ نہایت ذہین، دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے، انہوں نے اس مختصر پیغام کی گہرائی کو فوراً سمجھ لیا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ حالات معمولی نہیں بلکہ نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تاخیر کیے بغیر اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور نہایت عاجزی، انکساری اور اخلاص کے ساتھ مامون الرشید کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے نہ صرف اپنی وفاداری کا اظہار کیا بلکہ اس انداز میں گفتگو کی کہ ہر ممکن غلط فہمی دور ہو جائے اور دلوں میں پیدا ہونے والی کدورت ختم ہو جائے۔ ان کا یہ رویہ نہایت مؤثر ثابت ہوا۔مامون الرشید، جو خود بھی علم و دانش اور فہم و بصیرت کے حامل تھے، عبداللہ بن طاہر کے اس طرزِ عمل اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور انہوں نے اپنے ارادے سے رجوع کر لیا۔ نہ صرف یہ کہ خطرہ ٹل گیا بلکہ عبداللہ بن طاہر کو پہلے سے زیادہ عزت و اعتماد بھی حاصل ہو گیا۔یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں عقل، حکمت، بروقت فیصلہ اور اخلاص کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر مگر معنی خیز بات انسان کی زندگی بچا دیتی ہے، اور سچی خیرخواہی و عاجزی بڑے سے بڑے خطرے کو بھی ٹال سکتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ہر دور میں کامیابی اور سلامتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

— نیشنل اردو ٹائمز