مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

شاہی امام جامع مسجد دہلی کی والدہ محترمہ کے انتقال پر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی تعزیت

دہلی (اسٹاف رپورٹر):جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے مولانا سید احمد بخاری کی والدہ محترمہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتِ مسنونہ پیش کی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ والدہ کا انتقال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور اس غم کی گھڑی میں وہ شاہی امام صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مرحومہ کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دعا کی، نیز پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔اس موقع پر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے دیگر ذمہ داران نے بھی مرحومہ کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

تعزیت کنندگان : مولانا محمد قاسم نوری قاسمی — صدر

مولانا عبدالغفار — نائب صدر

مفتی خلیل احمد قاسمی — نائب صدر

مولانا ارشاد حسین قاسمی — نائب صدر

مولانا قاری محمد عارف قاسمی — نائب صدر

قاری محمد سلیم صاحب — خازن

مولانا آفتاب عالم صدیقی — جنرل سکریٹری

قاری اظہارالحق جوہر قاسمی — ایڈیشنل سکریٹری

مفتی محمد انصار الحق قاسمی — ناظم تنظیم

دیگر اراکین:مفتی محمد حسان قاسمی، مفتی محمد سلمان قاسمی، مولانا محمد جاوید صدیقی، قاری ارشاد ربانی، مولانا عبدالسلام قاسمی، مفتی محمد قاسم قاسمی، محمد طاہر حسین ارشی، حافظ محمد یوسف اعظمی، مولانا محمد شمیم قاسمی (ناظم)مفتی نثار احمد قاسمی، مولانا محمد شمیم (نائب ناظم)

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.

مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ کا سخت تبصرہ

اگر امن و امان برقرار نہیں رکھ سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں: عدالت

پریاگ راج، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ کو یہ خدشہ ہے کہ مسجد میں زیادہ نمازیوں کی آمد سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے تو متعلقہ افسران کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔یہ ریمارکس الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے ایک عرضی کی سماعت کے دوران دیے جس میں سنبھل میں واقع ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے صرف 20 افراد کو اجازت دینے کے انتظامی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ پابندی آئین ہند کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے۔عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ قانون و انتظام برقرار رکھنا ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس بنیاد پر عبادت کے حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ (DM) اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ نمازیوں کی موجودگی سے حالات سنبھالنا ممکن نہیں تو انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ یہ پابندی ممکنہ امن و امان کے خدشات کے پیش نظر عائد کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کا کام لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں محدود کرنا۔سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو مزید دستاویزات اور تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ تبصرہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم عدالتی موقف کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرنے کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

پس منظر

ضلع سنبھل میں حالیہ دنوں میں مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرنے کے انتظامی فیصلے کے بعد یہ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد آتے ہیں اور ایسی پابندیاں مذہبی آزادی کو متاثر کرتی ہیں۔

The Indian ExpressLive LawHindustan Times