قطر کا امریکی افواج سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ، میڈیا رپورٹس میں دعویٰ

دوحہ:مشرقِ وسطیٰ سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ قطر نے اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوجی موجودگی کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق قطری وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملک نے غیر ملکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی ایک بھاری قیمت ادا کی ہے، اور مستقبل میں ایسے فیصلوں پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ قطر کے تعلقات کو “برادرانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطری سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا عزم کیا گیا ہے۔ تاہم ان بیانات کی باضابطہ سرکاری تفصیلات اور مکمل سیاق و سباق ابھی واضح نہیں ہے۔کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور قطر کے تعلقات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم اس سلسلے میں کسی واضح پالیسی تبدیلی یا امریکی افواج کے مکمل انخلاء کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں فوجی و سفارتی معاملات نہایت حساس ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی بڑی پیش رفت کی تصدیق مستند سرکاری ذرائع سے ہونا ضروری ہے۔

وضاحت:یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس

(Euronews، Gulf Times، Al Watan) پر مبنی دعوؤں کا خلاصہ ہے، جس کی مکمل سرکاری تصدیق کا انتظار ہے

راگھو چڈھا کا الزامات پر ردعمل، پارٹی لائن سے انحراف کے دعوے مسترد

نئی دہلی:

راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے عآپ آدمی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ پارٹی لائن پر نہیں چلتے، تاہم انہوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ پارٹی کے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔راگھو چڈھا کے مطابق ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ طور پر ان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔تاحال اس معاملے پر پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکہ–ایران جنگ بندی کوششوں کو دھچکا، ایران کا مذاکرات سے انکار: رپورٹ

عالمی ذرائع:
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا ہے جب ایران نے مبینہ طور پر مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی امریکی شرائط کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث ثالثی کی جاری کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔
یہ انکشاف معروف امریکی اخبار The Wall Street Journal کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
وضاحت:
یہ خبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

مغربی بنگال انتخابات سے قبل بڑا فیصلہ، چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی عہدے سے ہٹائے گئے

کولکاتامغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن نے اہم انتظامی فیصلے کرتے ہوئے ریاست کے کئی سینئر افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جن افسران کو ہٹایا گیا ہے ان میں چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کو انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ریاستی انتظامیہ میں مزید تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں تاکہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہوں۔سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ایران کا امریکی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، سرکاری تصدیق کا انتظار

تہران:ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک امریکی ایف-15 جنگی طیارے کو نشانہ بنا کر گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، تاہم پائلٹ کی حالت کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے ایران کی فضائی حدود کے قریب ہیلی کاپٹر روانہ کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران ایک اور غیر مصدقہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں میں سے ایک تکنیکی خرابی یا ممکنہ واقعے کے باعث تباہ ہو گیا۔تاہم اس واقعے سے متعلق نہ تو امریکی حکام اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی واضح نہیں ہے اور مکمل تصویر سامنے آنے کے لیے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

وضاحت:یہ خبر ابتدائی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔

اتراکھنڈ و گجرات میں یونیفارم سول کوڈ پر اعتراضات، مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت ردِعمل

اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیں: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی:3/اپریل 2026گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو’’ یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو UCC کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراء طلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں UCC نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراء طلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراء کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں UCCکے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔🎙️پریس کو مخاطب کر نے والےمولانا محمد علی محسن تقوی، نائب صدر بورڈ ، امام وخطیب شیعہ جامع مسجد دہلیمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، نائب صدر بورڈ و صدرمرکزی جمیعت اہل حدیث ہندجناب ملک معتصم خان، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، رکن بورڈایڈوکیٹ طاہرایم حکیم، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی گرفتاری کے معاملے پر اخترالایمان کی جانب سے پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں مبینہ طور پر گرفتاری کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔

پٹنہ (نیشنل اردو ٹائمز): پٹنہ میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں، مختلف مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے مشہور عالم دین اور تعلیمی شخصیت مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی حالیہ گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانفرنس کے دوران، اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کے بہار کے ایم ایل اے اور ریاستی صدر اختر الایمان نے مولانا چترویدی کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کارروائی قرار دیا۔​اختر الایمان نے کہا کہ مولانا چترویدی کی گرفتاری کے پیچھے مبینہ طور پر سیاسی وجوہات اور مذہبی تعصب کارفرما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا نے ہمیشہ امن اور بھائی چارے کا درس دیا ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ان کی گرفتاری سے متعلق ذرائع کے مطابق متعدد شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔​AIMIM ایم ایل اے نے اس معاملے میں فوری مداخلت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اہم آئینی عہدیداروں اور اداروں کو مکتوب روانہ کیے ہیں۔ ان مکتوبات میں بہار کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ، انسانی حقوق کمیشن اور اقلیتی کمیشن شامل ہیں۔ ان خطوط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مولانا عبداللہ سالم چترویدی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے۔​پریس کانفرنس میں شامل تمام رہنماؤں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر مولانا بے قصور ثابت ہوں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مطالبہ کسی فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

راگھو چڈھا کو بڑا سیاسی جھٹکا، راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹائے گئے

نئی دہلی:راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کو بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، جہاں عام آدمی پارٹی نے انہیں ایوانِ بالا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ان کی جگہ اشوک متل کو نیا ڈپٹی لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو پارٹی کے اندرونی تنظیمی رد و بدل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔تاحال اس فیصلے پر راگھو چڈھا کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس تبدیلی پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیل کے شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ، ایران سے میزائل لانچ کی نشاندہی

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیل نے اپنے شمالی علاقوں میں ابتدائی وارننگ جاری کر دی ہے، جب ایران کی جانب سے میزائل لانچ ہونے کی نشاندہی ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے میزائل لانچ کا سراغ لگاتے ہی شہریوں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا، جبکہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر سائرن بجنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج چکے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے حملوں اور الرٹس میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی کی گرفتاری، حلقوں میں تشویش

کشن کنج، بہار (اسٹاف رپورٹر):مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی کو آج حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد ان سے وابستہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرفتاری کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں، تاہم متعلقہ ادارے اس معاملے کی مزید جانچ میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق قانونی کارروائی جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔دوسری جانب ان کے چاہنے والوں اور متعلقین کی جانب سے ان کی سلامتی اور جلد رہائی کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں مصدقہ معلومات کا انتظار کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا افواہ سے بچا جا سکے۔