ملک کے معروف عالمِ دین مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب انتقال کر گئے، علمی حلقوں میں غم کی لہر

میرٹھ | نیشنل اردو ٹائمز

انا للہ وانا الیہ راجعون ملکِ ہندوستان کے مشہور و معروف عالمِ دین، عاشقِ ملت حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب رحمہ اللہ(مہتمم جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ، ضلع میرٹھ، و رکنِ شوریٰ مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارن پور)کا آج بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء وصال ہو گیا۔حضرت والا کی وفات کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ میں گزاری، اور ہزاروں افراد کو اپنے علم و عمل سے فیضیاب کیا۔یقیناً حضرت والا کا انتقال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، جس کی تلافی آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

امریکہ–ایران جنگ بندی کوششوں کو دھچکا، ایران کا مذاکرات سے انکار: رپورٹ

عالمی ذرائع:
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا ہے جب ایران نے مبینہ طور پر مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی امریکی شرائط کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث ثالثی کی جاری کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔
یہ انکشاف معروف امریکی اخبار The Wall Street Journal کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
وضاحت:
یہ خبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

ایران کا امریکی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، سرکاری تصدیق کا انتظار

تہران:ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک امریکی ایف-15 جنگی طیارے کو نشانہ بنا کر گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، تاہم پائلٹ کی حالت کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے ایران کی فضائی حدود کے قریب ہیلی کاپٹر روانہ کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران ایک اور غیر مصدقہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں میں سے ایک تکنیکی خرابی یا ممکنہ واقعے کے باعث تباہ ہو گیا۔تاہم اس واقعے سے متعلق نہ تو امریکی حکام اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی واضح نہیں ہے اور مکمل تصویر سامنے آنے کے لیے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

وضاحت:یہ خبر ابتدائی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔

اتراکھنڈ و گجرات میں یونیفارم سول کوڈ پر اعتراضات، مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت ردِعمل

اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیں: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی:3/اپریل 2026گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو’’ یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو UCC کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراء طلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں UCC نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراء طلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراء کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں UCCکے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔🎙️پریس کو مخاطب کر نے والےمولانا محمد علی محسن تقوی، نائب صدر بورڈ ، امام وخطیب شیعہ جامع مسجد دہلیمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، نائب صدر بورڈ و صدرمرکزی جمیعت اہل حدیث ہندجناب ملک معتصم خان، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، رکن بورڈایڈوکیٹ طاہرایم حکیم، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں

نئی دہلی
دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک مقامی جلوس (شوبھا یاترا) کے دوران پیش آیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات اور پس منظر کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی بنیاد پر بعض افراد کی شناخت کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق علاقے میں فی الحال حالات معمول پر ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے تاکید کی گئی ہے کہ حساس معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔

مولانا عبداللہ سالم چترویدی گرفتار، 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا

بہرائچ / کشن گنج:مولانا عبداللہ سالم چترویدی کو اتر پردیش پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں بہار کے ضلع کشن گنج سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد اتر پردیش ایس ٹی ایف نے اس معاملے میں مزید کارروائی کی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق مولانا پر ایک مذہبی اجتماع کے دوران اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی والدہ کے حوالے سے مبینہ طور پر قابلِ اعتراض بیان دینے کا الزام ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل (جوڈیشل ریمانڈ) میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔تاحال اس معاملے میں مولانا عبداللہ سالم چترویدی یا ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ کیس کی مزید جانچ جاری ہے۔ نوٹ:یہ خبر دستیاب ابتدائی معلومات پر مبنی ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

اسرائیل کے شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ، ایران سے میزائل لانچ کی نشاندہی

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیل نے اپنے شمالی علاقوں میں ابتدائی وارننگ جاری کر دی ہے، جب ایران کی جانب سے میزائل لانچ ہونے کی نشاندہی ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے میزائل لانچ کا سراغ لگاتے ہی شہریوں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا، جبکہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر سائرن بجنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج چکے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے حملوں اور الرٹس میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

اسرائیل میں 24 گھنٹوں کے دوران 40 بار خطرے کے سائرن بج اٹھے

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیل میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 40 مرتبہ خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔اسرائیلی ریڈیو کے مطابق یہ سائرن ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر بجائے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ پناہ گاہوں کی طرف منتقل ہونے لگے۔رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران اور دیگر طاقتوں کے ساتھ تنازع، اس طرح کے واقعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

تل ابیب میں لاکھوں افراد سڑکوں پر، جنگ بندی کا مطالبہ

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):تل ابیب میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور جاری جنگ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے بنیامین نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل جنگ نے خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، لہٰذا فوری طور پر جنگ بند کی جائے۔رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی بھی عروج پر ہے۔

کوچی میں بحری مشق IMEX TTX 2026، بحرِ ہند خطے میں سیکیورٹی تعاون پر زور

(بین الاقوامی ڈیسک)

بھارتی بحریہ نے IONS Maritime Exercise (IMEX) TTX 2026

کا انعقاد میری ٹائم وارفیئر سینٹر، کوچی میں 27 مارچ 2026 کو کیا۔اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں Indian Ocean Naval Symposium (IONS) کے رکن ممالک کی بحری افواج، IOS SAGAR کے بین الاقوامی افسران اور بھارتی بحریہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں بحرِ ہند کے خطے میں درپیش غیر روایتی سمندری سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس مشق میں بنگلہ دیش، فرانس، انڈونیشیا، کینیا، مالدیپ، ماریشس، میانمار، سیشلز، سنگاپور، سری لنکا، تنزانیہ اور تیمور-لیستے سمیت متعدد ممالک نے شرکت کی۔ماہرین کے مطابق یہ کثیر الملکی شرکت خطے میں باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور مشترکہ بحری سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔واضح رہے کہ بھارت 2026 سے 2028 تک IONS کی صدارت سنبھال رہا ہے، جو 16 سال بعد اس کے لیے ایک اہم موقع ہے۔