لبنان میں صحافیوں کی ہلاکت پر ایران کا شدید ردعمل، اسرائیل کی مذمت

بیروت (بین الاقوامی ڈیسک):عباس عراقچی نے لبنان میں تین صحافیوں کی ہلاکت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں تین صحافی جاں بحق ہو گئے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔Reuters +1ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں معروف میڈیا اداروں سے وابستہ صحافی شامل تھے، جبکہ لبنان کی حکومت نے بھی اس واقعے کو “جنگی جرم” قرار دیا ہے۔ The Guardianماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران صحافیوں کے لیے حالات انتہائی خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، اور اس طرح کے واقعات عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کا بیان، سعودی ولی عہد سے متعلق تبصرہ زیرِ بحث

واشنگٹن (بین الاقوامی ڈیسک)

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران محمد بن سلمان سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ:“انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ انہیں میری خوشامد کرنی پڑے گی، اور اب انہیں میرے ساتھ نرمی اور اچھا برتاؤ کرنا ہوگا۔”یہ بیان سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے تناظر میں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، بالخصوص ایران اور اسرائیل سے جڑی کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے بیانات مزید سفارتی پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔

نیپال کے سابق وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ گرفتار

کھٹمنڈو (بین الاقوامی ڈیسک)

نیپال میں بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق وزیرِاعظم اور سابق وزیرِداخلہ کو ان کے مبینہ پرانے کرتوتوں اور بدعنوانی کے معاملات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی احتسابی اداروں کی جانب سے کی گئی، جس میں کئی پرانے مقدمات کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ذرائع کے مطابق تحقیقات کافی عرصے سے جاری تھیں اور شواہد سامنے آنے کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں نیپال کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات بھی متوقع ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران روس کا بڑا فیصلہ: پیٹرول برآمدات عارضی طور پر بند

ماسکو (بین الاقوامی ڈیسک)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ-ایران کشیدگی کے پس منظر میں روس نے یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارتِ توانائی کو اس سلسلے میں باضابطہ تجویز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ قدم ملک کے اندر ایندھن کی فراہمی کو برقرار رکھنے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ روس یومیہ تقریباً 1.2 سے 1.7 لاکھ بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے، اور اس فیصلے کے اثرات چین، ترکی، برازیل، افریقہ کے کئی ممالک اور سنگاپور سمیت دیگر خطوں پر پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں مزید بے یقینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اسرائیلی فوج تھک چکی ہے، الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی بھرتی کا مطالبہ

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک)

اسرائیل کے اپوزیشن رہنما نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج طویل عرصے سے جاری تنازعات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے اور اب ریزرو فوجی تھک چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریزرو فورسز سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں، جس کے پیش نظر فوجی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔یائر لیپڈ نے مطالبہ کیا کہ الٹرا آرتھوڈوکس (حریدی) یہودیوں کو بھی لازمی طور پر فوج میں شامل کیا جائے تاکہ فوجی بوجھ کو تقسیم کیا جا سکے اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو مختلف محاذوں پر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور فوج پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس تجویز پر عمل ہوتا ہے تو یہ اسرائیل کے اندر ایک بڑی سماجی اور سیاسی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے اثرات: خوراک اور ادویات سمیت کئی اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ

لندن (بین الاقوامی ڈیسک)

بین الاقوامی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث نہ صرف تیل اور گیس بلکہ خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس راستے میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مختلف مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ خاص طور پر خوراک اور ادویات جیسے ضروری شعبے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مہنگائی میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

سعودی قیادت کی جانب سے بنگلہ دیش کو یومِ آزادی پر مبارکباد

ریاض/ڈھاکہ (بین الاقوامی ڈیسک)

سعودی قیادت نے بنگلہ دیش کے یومِ آزادی کے موقع پر صدر کو مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت نے اپنے پیغام میں بنگلہ دیش کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی امید بھی ظاہر کی گئی۔سعودی قیادت نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام نے مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے مواقع موجود ہیں۔

بنگلہ دیش میں افسوسناک حادثہ: بس دریا میں گرنے سے 24 افراد ہلاک

ڈھاکہ (بین الاقوامی ڈیسک):بنگلہ دیش میں ایک دلخراش حادثے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے، جب ایک مسافر بس فیری پر سوار ہوتے وقت بے قابو ہو کر دریا میں جا گری۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس فیری پر چڑھ رہی تھی، تاہم اچانک توازن بگڑنے کے باعث وہ سیدھا دریا میں جا گری۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور متعدد افراد کو نکال لیا گیا، جبکہ لاشوں کی تلاش کا عمل بھی جاری رہا۔حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ ابتدائی طور پر ڈرائیور کی غلطی یا تکنیکی خرابی کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثہ انتہائی تیزی سے پیش آیا اور لوگوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ کئی مسافر بس میں پھنس گئے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نیوی کمانڈر ہلاک

تل ابیب/تہران (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیلی مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ (IRGC) کے بحریہ کے کمانڈر کو ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر علی رضا تنگسیری کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر اس خبر کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا عسکری دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ خلیج فارس میں اہم اسٹریٹجک کردار ادا کرتی ہے۔دوسری جانب، اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ایران کے وزیرِ صنعت کا بیان: پیداوار جاری رکھنے کے لیے بحالی منصوبہ تیار

تہران (بین الاقوامی ڈیسک):ایران کے وزیرِ صنعت نے جاری کشیدگی کے درمیان ملک کی صنعتی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے بحالی (Reconstruction) کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں اور تنازع کے باعث صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود حکومت نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ پیداوار کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ وزیرِ صنعت نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ فیکٹریاں اور پیداواری یونٹس جلد از جلد مکمل فعالیت کے ساتھ کام جاری رکھ سکیں۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران پہلے بھی جنگی حالات میں صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے اور پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی پیکجز اور سپورٹ پروگرام متعارف کرا چکا ہے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ماہرین کے مطابق، حالیہ تنازع میں ایران کی دفاعی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد اس کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرنا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بحالی منصوبوں کے ذریعے ملک کی معیشت اور صنعتی نظام کو مستحکم رکھا جائے گا۔