سعودی عرب میں عید الفطر 20 مارچ کو، ہندوستان میں 21 مارچ کو متوقع

ریاض / نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

سعودی عرب میں شوال المکرم 1447 ہجری کا چاند آج بروز 18 مارچ 2026 کو نظر نہیں آیا۔ متعلقہ حکام کے مطابق ملک میں رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔اس اعلان کے بعد سعودی عرب میں عید الفطر بروز جمعہ، 20 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔دوسری جانب ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں عموماً رویت ہلال ایک دن بعد ہوتی ہے، جس کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں عید الفطر بروز ہفتہ، 21 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔ماہرینِ فلکیات اور علماء کرام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک کے سرکاری اعلان کی پیروی کریں اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔📌 اہم نکات:سعودی عرب: جمعہ، 20 مارچ 2026ہندوستان: ہفتہ، 21 مارچ 2026 (متوقع)

ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

*ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے**آئیے ہم اکابر کے کردار کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کرتے ہیں*محمد یاسین جہازی خارجہ پالیسی مذہبی عقائد پر نہیں؛بلکہ ہمیشہ انسانیت، عدل اور عالمی امن کے اصولوں پر بنائی جاتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ یہی اصول پیش نظر رکھا ہے ۔خود ایران کے تناظر میں بات کریں، تو مختلف ادوار میں جمعیت علمائے ہند کے نقطۂ نظر میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ۔ اور حمایت و مخالفت کے دونوں پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ ایران بمقابلہ برطانیہ و روس ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی۔ایران بمقابلہ امریکہ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ عراق، جمعیت علمائے ہند نے عراق کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ سعودی عرب، (سانحۂ حرم کے تناظر میں) جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔چوںکہ جمعیت علمائے ہند کا موقف عالمی سطح پر ہندستان کے مسلمانوں کے موقف و نظریات کے طور پر کوڈ کیا جاتا ہے، اس لیے آئیے ایک صدی کی تاریخ میں ایران کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کیخارجہ پالیسیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ایران کا پہلا تذکرہ پانچویں اجلاس عام منعقدہ: 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے خطبۂ صدارت میں ملتا ہے، جس میں انگلستان اور روس کے درمیان ایران کی تقسیم کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے شمالی ایران پر روس کے قابض و متصرف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔صدر محکمہ ٔ شرعیہ استانبول نے9؍جنوری 1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت علمائے ہند سے گذارش کی کہ وہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے متوجہ کرے۔جمعیت علمائے ہند کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بارھویں اجلاس عام منعقدہ: 7تا 9؍جون 1940ء کے خطبۂ صدارت میں فرمایا کہ ہندستان کی آزادی سے ایران بھی مصائب سے محفوظ رہیںگے۔اسی طرح تیرھویں اجلاس عام منعقدہ: 20تا22؍مارچ 1942ء کے خطبۂ صدارت میں، حضرت شیخ الاسلام نے ایران سمیت تمام ممالک اسلامیہ کے متعلق اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے برطانوی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا۔پھر اسی اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے تجویز منظور کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کاموقف طے کردیا۔11؍جون1945ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی صدارت ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں ایران پر روسی و برطانوی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ایرانی سفیر نے 27تا 29؍اپریل 1951ء کو منعقد سترھویں اجلاس عام کے اپنی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔ہندستان اور پاکستان کے باہمی تنازعات کے لیے دوستانہ تصفیے کے لیے کوشش کرنے والے ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام، 9؍اگست 1951ء کو بحری تار بھیج کر پاکستان کے پروپیگنڈا سے آگاہ کیا۔حضرت شیخ الاسلام نے 16؍نومبر1951ء کا دن ایران کی کامیابی کے لیے بطور دعا منانے کی اپیل کی۔11تا 13؍فروری 1955ء کو جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں ایران کے سفیر محترم علی اصغر حکمت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہندستان کے سیکولر نظام کو نعمت سے تعبیر کیا۔17؍فروری1956ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایران کے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی اور ان کی بیوی ثریا اسفند یاری بختیاری کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کی اور انھیں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔سفارت کی مدت پوری ہونے کے بعدایران واپس جانے کی مناسبت سے11؍جنوری 1958ء کو ایران کے سفیر جناب علی اصغر حکمت کو جمعیت علمائے ہند نے الوداعیہ پیش کیا۔15؍جولائی1959ء کو جدید و قدیم علوم کے ماہر ایرانی فوج کے مشہور جنرل آقای حسین علی رزم آرا کو قبلہ نما ایجاد کرنے پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے مبارک باد پیش کی۔20؍جنوری1960ء کو سابق وزیر خارجہ نے ایران جناب علی اصغر علی حکمت نے جمعیت علمائے ہند کو عید کی مبارک باد پیش کی۔6؍ستمبر1962ء کو مشرقی ایران کے علاقے میں آئے شدید زلزلے میں متأثرین سے، 8؍ستمبر1962ء کو صدرجمعیت علمائے ہندفخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحبؒ نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیااور لوگوں سے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔15تا17؍اپریل1966ء کومنعقد جمعیت علمائے ہندکے بائیسویں اجلاس عام کے لیے سفیر ایران ڈاکٹر جلال عبدوہ نے اپنی نیک خواہشات بھیجیں۔3؍ستمبر1968ء کو شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو ایک برقیہ بھیج کر زلزلہ سے ہوئی تباہی پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں 18-19؍اپریل1970ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں ایک تجویز منظور کرکے زلزلہ متأثرین سے یک جہتی کا اظہار کیا۔اسلامی انقلاب کے بعد 4؍نومبر1979ء کو، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے ہمنواؤں نے امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کرکے امریکی شہریوں کو یرغمال بنالیا۔ یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے 24؍اپریل1980ء کو ’’آپریشن ایگل کلا‘‘ شروع کیا۔ 27؍اپریل1980ء کو منعقد مجلس عاملہ ، بعد ازاں 28-29؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس منتظمہ نے ان دونوں واقعات: ایران میں امریکی طرز عمل اور ایرانیوں کے طرز عمل کی مذمت کی۔اسلامی انقلاب کو عراق نے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے، 22؍ستمبر1980ء کو ایران پر بلاوجہ حملہ کردیا، جس سے ایک طویل جنگ کی شروعات ہوگئی۔ اور تقریبا آٹھ سال تک جاری رہنے کے بعد 20؍اگست1988ء کو اقوام متحدہ کی قرار داد 598کے تحت اختتام پذیر ہوئی۔ اس ایران-عراق جنگ پر جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایران سے فوری طور پر جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ یکم اکتوبر1980ء کو مجلس عاملہ میں،بعد ازاں مجلس منتظمہ منعقدہ: 25-26؍نومبر1983ء میں،پھر تعلیمی و ملی کانفرنس منعقدہ: 6-7-8؍ اپریل 1984ء میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ایران-عراق جنگ کے دوران ڈیڑھ ہزار عراقی جنگی قیدیوں کے وحشیانہ قتل کی خبر موصول ہونے پر26؍دسمبر1981ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اور پھر 26-27؍ دسمبر 1981ء کو مجلس عاملہ نے اس واقعہ پر ایران کی مذمت کی۔ 22سے 25؍اپریل 1985ء کو عراق میں دوسری عالمی بغداد کانفرنس ہوئی، جس کا بنیادی مقصد عرب ازم اور پین اسلام ازم کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔جب 6-7؍مئی 1985ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، تو مجلس عاملہ نے بغداد کانفرنس کی تمام تجویزوں کی تائید کرتے ہوئے 24؍مئی 1985ء کو ایران- عراق جنگ بندی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔لیکن مکمل تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر یہ دن نہیں منایا جاسکا۔یکم نومبر1986ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں عراق کی طرف سے جنگ بندی کی پیش قدمی کے باوجود ایران کی طرف سے جنگ بند نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ملی اتحاد کا پر فریب نعرہ اور حرمین شریفین کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی آیت اللہ خمینی کی منصوبہ بند سازش کے تحت،ایران کے ایک لاکھ پچاس ہزار حاجیوںنے، 31؍جولائی 1987ء کو مکہ مکرمہ کے حرم محترم کے قریب عصر کے وقت خمینی کی تصویروں کے ساتھ احتجاجی نعرے بلند کرنا شروع کیے اور لاٹھی ڈنڈوں اور چاقوں کے ساتھ حرم میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور چار سو افراد جاں بحق ہوگئے ۔ اس پر2؍اگست 1987ء کو مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور 9؍اگست 1987ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اسے حرم محترم کی بے حرمتی قرار دیا۔اور 21؍ اگست 1987ء کو ’’یوم حرم‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔پھر 3؍ستمبر1987ء کو سعودی سفیر محترم فواد صادق مفتی صاحب سے ملاقات کرکے اس سانحہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کے موقف اور کاررائیوں سے مطلع کیا گیا۔3-4؍اکتوبر1987ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حرم محترم کی بے حرمتی کرنے پر ایرانیوں کی سخت مذمت کی گئی۔7؍نومبر1987ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی۔اور ساتھ ہی ایران -عراق جنگ بند کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔8؍نومبر1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ ہوئی، علمائے کرام کے خطاب اور قرارداد کے علاوہ ،مولانا معزالدین احمد گونڈویؒ کے استفسار پر دارالعلوم دیوبند کے اس فتویٰ کی تائید کی گئی، جس میں عقائد و نظریات کے تناظر میں آیت اللہ خمینی کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیاگیا تھا۔9-10؍اپریل1988ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تحفظ حرم کی بابت سعودی حکومت کو چند مفید تجاویز پیش کرتے ہوئے ایران-عراق جنگ کو فورا بند کرنے کی اپیل کی گئی۔2؍جولائی1988ء کو لندن میں ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے پر خمینیوں کی شدید مذمت کی۔19؍جولائی 1988ء کو جنگ بندی کی خبر آنے پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔پھر جب 20؍ اگست 1988ء کی تاریخ کو حتمی طور پر جنگ بندی کادن طے کردیا گیا، تو اس سے پہلے ہی 13-14؍ اگست 1988ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علما نے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ اور پھر اواخر اگست 1988ء کو باقاعدہ ایک تقریب جشن منعقد کرکے ایران-عراق جنگ بندی پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔ایران کے شمال مغربی حصے میں آئے بھیانک زلزلے پر 6؍جولائی 1990ء کو جمعیت علما نے ایک پریس بیان جاری کرکے ہمدردی کا اظہار کیا اور گراں قدر تعاون پیش کیا۔11؍اکتوبر1991ء کو ایرانی صدر کے مشیر خاص مولانا اسحاق مدنی صاحب کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لانے پر ان کا استقبال کیا گیا۔26؍مئی 1995ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے حج کے موقع پر ایرانیوں کی طرف سے سیاسی مظاہرہ کی مذمت کی۔ اور حرم محترم کے تقدس کو ہر حالت میں بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے جوہری ہتھیار کی غلط تشہیر پر 6؍دسمبر2004ء کو صدر جمعیت حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی صاحب نے سخت مذمت کی۔2002ئسے لے کر 2006ء تک کی مختلف تاریخوں میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی طرف سے ایران کو دھمکی دینے کے تناظر میں، یکم تا 3؍مارچ 2006ء کو امریکی صدر کے ہندستان دورے کی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سخت احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ یہ احتجاجی اجلاس ایران کی حمایت میں کیا گیا تھا۔امریکہ ایران تنازع پر 23؍مئی 2006ء کو صدر جمعیت نے ایک پریس بیان دیتے ہوئے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت کی۔14؍فروری 2007ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔28؍اپریل 2008ء کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کیا گیا۔اور اسے ایران -ہندستان کی ثقافتی، تجارتی اور تہذبی روابط کے لیے امید افزا قدم بتایاگیا۔19؍مئی 2024ء کو ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلی ٰ افسران کی حادثاتی موت پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔22؍جون2025ء کو جوہری ہتھیار کی ممکنہ تیاری کا بہانہ بناکر امریکہ کی طرف سے ایران پر کی گئی بم باری کی شدید مذمت کی گئی۔28؍فروری2026ء کو کسی جواز کے بغیر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جابرانہ حملے شروع کردیے، جن کے نتیجے میں پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے چند اہل خانہ کی موت واقع ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے 2؍مارچ 2026ء کو اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سپریم لیڈر و اہل خانہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ محمد یاسین جہازی 27/رمضان المبارک 1447۔مطابق 17/مارچ 2026

آبنائے ہرمز کی بندش سے خلیجی درآمد کنندگان پریشان، سپلائی چین متاثر

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمز

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث Strait of Hormuz کی ممکنہ بندش نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق خلیجی ممالک کے درآمد کنندگان تیزی سے متبادل راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں تاکہ تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی رکاوٹ کے باعث نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی چین میں پیدا ہونے والی اس غیر یقینی صورتحال کے باعث خلیجی درآمد کنندگان متبادل بندرگاہوں اور سمندری راستوں کی تلاش میں ہیں۔ بعض کمپنیوں نے اپنے سامان کی ترسیل کے لیے نئے روٹس اختیار کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔اقتصادی مبصرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور خوراک کی سپلائی تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر عالمی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں

ایران میں بھارتی شہریوں کے لیے اہم ہدایت جاری، زمینی سرحد پار کرنے سے گریز کی تلقین

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمز

ایران میں موجود بھارتی شہریوں کے لیے Embassy of India in Tehran نے ایک نئی سفری ہدایت جاری کی ہے جس میں انہیں ایران کی زمینی سرحدوں کے قریب جانے یا سرحد عبور کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔جاری کردہ ہدایت کے مطابق ایران میں مقیم تمام بھارتی شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی زمینی سرحد کے ذریعے ایران سے باہر سفر کرنے کی کوشش نہ کریں جب تک کہ اس بارے میں تہران میں موجود بھارتی سفارت خانے سے پیشگی اور واضح اجازت حاصل نہ کر لی جائے۔سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں موجود بھارتی کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر مناسب انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بغیر کسی ہم آہنگی کے زمینی سرحدوں کی طرف جانا مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ہدایت میں مزید کہا گیا ہے کہ جو بھارتی شہری سفارت خانے کی رہنمائی کے بغیر ایران سے زمینی سرحد کے ذریعے نکلنے کی کوشش کریں گے انہیں امیگریشن اور سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سفارت خانہ ایران کی حدود سے باہر ہونے کے بعد مدد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔سفارت خانے نے ایران میں موجود تمام بھارتی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی سفر سے پہلے سفارت خانے کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ایمرجنسی یا سفری معلومات کے لیے سفارت خانے نے خصوصی ہیلپ لائن نمبرز اور ای میل بھی جاری کیے ہیں تاکہ ضرورت کے وقت بھارتی شہریوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

اسرائیل لبنان میں کارروائی مزید تیز کرنے کے لیے پرعزم: اسرائیلی فوجی سربراہ

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمز

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں جاری فوجی کارروائی کو مزید وسعت دینے اور اسے گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج خطے میں اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر انہیں مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ لبنان میں جاری آپریشن کا مقصد سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات کو ختم کرنا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف عسکری حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب لبنان کی صورتحال پر خطے میں تشویش پائی جا رہی ہے اور کئی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کارروائیاں مزید بڑھتی ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ادھر عالمی برادری بھی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا جا رہا ہے۔

ایران کے صدر کا بیان: “ہم نے جنگ شروع نہیں کی، دفاع ہمارا حق ہے”

تہران | انٹرنیشنل ڈیسک — نیشنل اردو ٹائمز

ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے کہا ہے کہ ایران نے کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ملک پر ہونے والے حملوں کے خلاف دفاع کرنا اس کا فطری حق ہے۔ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق صدر نے Emmanuel Macron سے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران پر ہونے والی کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ایرانی صدر کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کی کوششیں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا، اس وقت تک خطے میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔صدر کے مطابق ایران دھونس اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور ملک اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر توجہ دے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جوابدہ بنائے۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کسی ملک کے خلاف جنگ شروع کرنا جدید دور میں قابلِ قبول نہیں اور ایسے اقدامات عالمی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کی بات اس وقت تک معنی نہیں رکھتی جب تک یہ یقین دہانی نہ ہو کہ مستقبل میں ایران کی سرزمین پر دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کو سفارتی دھچکا، اتحادی ممالک نے فوجی حمایت سے انکار کر دیا

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمزآبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت سفارتی دھچکا لگا جب کئی اہم اتحادی ممالک نے خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے واشنگٹن کی درخواست کی حمایت سے انکار کر دیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے خلیج میں بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اپنے اتحادی ممالک سے بحری تعاون اور فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم متعدد ممالک نے اس آپریشن میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔ذرائع کے مطابق یہ درخواست ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی صورتحال کے خدشات کے بعد کی گئی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا خام تیل گزرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اتحادی ممالک کی جانب سے فوجی تعاون سے انکار امریکہ کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں واشنگٹن کی حکمت عملی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران جنگ کے اثرات: بھارت میں ایل پی جی کی کھپت میں نمایاں کمی، سپلائی متاثر

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز):

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے اثرات اب بھارت کی توانائی سپلائی پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت میں ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو گیس کی کھپت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے پہلے نصف میں بھارت میں سرکاری ایندھن فروخت کرنے والی کمپنیوں کی ایل پی جی فروخت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں گیس کی فروخت تقریباً 1.15 ملین میٹرک ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ یہی راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ بھارت اپنی ایل پی جی کی تقریباً 90 فیصد درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیے خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہِ راست اثر بھارت کی توانائی سپلائی اور گیس کی دستیابی پر پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے پیشِ نظر حکام گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے صنعتی اور تجارتی شعبے میں گیس کی فراہمی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

امریکی کمیشن کی رپورٹ: آر ایس ایس پر پابندی کی سفارش

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمز

United States Commission on International Religious Freedom (USCIRF) نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ بعض بھارتی تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات پر غور کرے۔رپورٹ میں خاص طور پر Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی سے متعلق معاملات پر عالمی سطح پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کمیشن کے مطابق بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بعض واقعات اور پالیسیوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی حکومت کو بعض بھارتی شخصیات اور تنظیموں کے حوالے سے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم کمیشن کی سفارشات مشاورتی نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان پر عمل درآمد کا فیصلہ امریکی حکومت خود کرتی ہے۔دوسری جانب India کی حکومت اور متعدد سیاسی حلقوں نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ بھارتی حکام اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کا آئین تمام مذاہب کو برابر کی آزادی فراہم کرتا ہے اور بھارت ایک کثیر المذاہب اور جمہوری معاشرہ ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے اس موضوع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔یاد رہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد آباد ہیں۔

کیا اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہوگئے؟ سوشل میڈیا دعوے کی حقیقت

فیکٹ چیک (نیشنل اردو ٹائمز)

:سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں یا کسی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس دعوے کے ساتھ مختلف اسکرین شاٹس اور پوسٹس بھی شیئر کی جا رہی ہیں جس کے بعد صارفین میں تشویش اور الجھن پیدا ہو گئی ہے۔تاہم دستیاب معلومات اور معتبر عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبر درست نہیں ہے۔ کسی بھی مستند بین الاقوامی خبر رساں ادارے، اسرائیلی حکومت یا سرکاری ذرائع نے ایسی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی۔وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں ایک سوشل میڈیا صارف نے نیتن یاہو کی شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں اسرائیلی عوام کا دشمن قرار دیا ہے، مگر اس پوسٹ میں کہیں بھی ان کی موت یا ہلاکت کا دعویٰ موجود نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق بعض صارفین نے اسی تنقیدی پوسٹ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس طرح شیئر کیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید نیتن یاہو کے ساتھ کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔فیکٹ چیک کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی اور عالمی میڈیا میں بھی نیتن یاہو کی موت یا ہلاکت کی کوئی خبر موجود نہیں ہے۔نتیجہ:فیکٹ چیک کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ کہ بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں، مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔