آبنائے ہرمز اور پیٹرو ڈالر نظام پر نئی بحث، ایران اور چین کی تیل تجارت پر عالمی توجہ

تہران / بیجنگ / واشنگٹن (نیشنل اردو ٹائمز)مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور عالمی تیل تجارت کے نظام پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون عالمی مالیاتی نظام، خصوصاً پیٹرو ڈالر سسٹم کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیتآبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ امریکی Energy Information Administration (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 17 سے 20 ملین بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔ایران اور چین کی توانائی تجارتبین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ایران اور چین کے درمیان تیل کی تجارت گزشتہ چند برسوں میں بڑھتی رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تجارت میں ادائیگی کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں مقامی کرنسیوں اور متبادل مالیاتی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔چین نے اپنے Cross-Border Interbank Payment System (CIPS) کو بھی وسعت دی ہے، جسے بعض ماہرین مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔پیٹرو ڈالر نظام کیا ہے؟1970 کی دہائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے کے بعد عالمی تیل تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہونے لگی۔ اسی نظام کو عموماً پیٹرو ڈالر سسٹم کہا جاتا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق اس نظام کی وجہ سے ڈالر عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر مضبوط رہا ہے کیونکہ تیل خریدنے والے ممالک کو ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔برکس ممالک اور متبادل نظامحالیہ برسوں میں BRICS ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تجارت میں متبادل کرنسیوں کا استعمال بڑھتا ہے تو اس سے عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ماہرین کی رائےبین الاقوامی اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اب بھی ڈالر میں ہی ہوتا ہے، تاہم عالمی سیاست اور معاشی اتحادوں میں تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں مختلف کرنسیوں کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔

اہم حوالہ جات:

Energy Information Administration (EIA)ReutersBloombergInternational Energy Agency (IEA)

شمالی کوریا نے 10 بیلسٹک میزائل فائر کر دیے، امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کے بعد خطے میں کشیدگی

سیول / پیانگ یانگ، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز)شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد تقریباً 10 بیلسٹک میزائل فائر کر دیے، جس کے بعد مشرقی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔جنوبی کوریا کی فوج اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں (Reuters، Associated Press اور Yonhap News) کے مطابق شمالی کوریا نے یہ میزائل جاپان کے سمندر (Sea of Japan / East Sea) کی سمت داغے۔رپورٹس کے مطابق تمام میزائل سمندر میں جا کر گرے اور کسی ملک یا شہری علاقے کو براہِ راست نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیںماہرین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور جنوبی کوریا بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔ شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنی سلامتی کے خلاف خطرہ قرار دیتا ہے اور اسے اشتعال انگیزی سمجھتا ہے۔پیانگ یانگ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر ایسی فوجی سرگرمیاں جاری رہیں تو وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرتی رہے گی۔عالمی برادری کی تشویشجنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے بھی کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، تاہم اس کے باوجود پیانگ یانگ مسلسل نئے تجربات کرتا رہا ہے۔ماہرین کی رائےدفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات عموماً امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی اور عسکری پیغام دینے کے لیے کیے جاتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں جاری رہیں تو جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

چین نے ایران میں اسکول حملے میں جاں بحق بچوں کے خاندانوں کے لیے دو لاکھ ڈالر انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امداد ریڈ کراس کے ذریعے ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو دی جائے گی۔

china-aid-iran-school-attack

بیجنگ / تہران، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):چین نے ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے دو لاکھ ڈالر کی انسانی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ امداد چین کی ریڈ کراس سوسائٹی کے ذریعے ایران کی ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) سوسائٹی کو فراہم کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی اور انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔چین کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں اور بچوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق بے گناہ شہریوں خصوصاً بچوں پر حملے انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور عالمی برادری کو اس طرح کے واقعات کی واضح مذمت کرنی چاہیے۔چینی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ چین مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا۔ حکام کے مطابق امدادی رقم ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ذریعے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی تاکہ انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ادھر ایرانی حکام کے مطابق اسکول پر ہونے والے حملے میں متعدد بچے جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔چین کی جانب سے اعلان کردہ امداد کو انسانی ہمدردی کے جذبے کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق اس اقدام سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا ملے گا۔

📌 حوالہ جات (Sources)

چین کی وزارت خارجہ کا بیان

چین کی ریڈ کراس سوسائٹی

ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیاں (رائٹرز / شنہوا)

اٹلی کا اہم اعلان: ایران کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے — وزیر اعظم جارجیا میلونی

نیشنل اردو ٹائمز | روم

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شریک ہوگا۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اٹلی کی حکومت موجودہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کسی ایسے فوجی اتحاد یا کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی جس کا مقصد ایران کے خلاف جنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔جارجیا میلونی کے اس بیان کو عالمی سیاست میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

#Italy #Iran #MiddleEast #BreakingNews

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

نیوز ایجنسی ، 11 مارچ2026 (نیشنل اردو ٹائمز ):

یورپی یونین کونسل کے صدر Antonio Costa نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف United States اور Israel کی جانب سے جاری جنگی صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ Russia کو ہو رہا ہے اور اس تنازع کا واحد بڑا ‘فاتح’ روس ہی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے روس کی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کی توجہ بھی بڑی حد تک Ukraine کے ساتھ روس کے تقریباً چار سال سے جاری تنازع سے ہٹ گئی ہے۔انتونیو کوسٹا کے مطابق یہ جنگ اب اپنے گیارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے میں بعض تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔یورپی یونین کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حوالہ:

UNI News Agency،

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس

(رپورٹ: نیشنل اردو ٹائمز – NUT)

متحدہ عرب امارات: فضائی دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون حملے ناکام بنا دیے، 4 افراد ہلاک، 117 زخمی

ابوظہبی، (نیوز ایجنسی) — متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے ملک پر ہونے والے 12 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون حملوں کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنا دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملے حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کے طور پر کیے گئے تھے۔اماراتی حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، تاہم حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک جبکہ 117 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔سرکاری بیان کے مطابق حملوں کے بعد متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایسے حملوں کی سختی سے مذمت کی جائے۔ذرائع: بین الاقوامی میڈیا رپورٹس۔

ایران میں نئی قیادت: مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر منتخب

تہران | نیشنل اردو ٹائمز

09- March 2026

Monday

ایران میں ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مرحوم سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق قیادت کے انتخاب کی ذمہ دار اعلیٰ مذہبی و آئینی مجلس Assembly of Experts نے پیر کے روز مجتبیٰ خامنہ ای کے نام کی باضابطہ منظوری دے دی۔
کونسل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو مضبوط قیادت کی ضرورت تھی، اس لیے تمام آئینی مراحل مکمل کرنے کے بعد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اعلان کر دیا گیا۔
سرکاری بیان
اسمبلی آف ایکسپرٹس کے بیان میں کہا گیا:
“جنگ کے انتہائی سنگین حالات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کا عمل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا۔”
مجتبیٰ خامنہ ای کا تعارف
Mojtaba Khamenei کی پیدائش 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شہر Mashhad میں ہوئی۔
وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور کئی برسوں سے ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو طویل عرصے سے اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا تھا۔
سپریم لیڈر کا عہدہ
ایران میں سپریم لیڈر ریاست کا سب سے طاقتور منصب ہے جو:
مسلح افواج کا سربراہ ہوتا ہے
عدلیہ اور اہم ریاستی اداروں پر اثر رکھتا ہے
ملکی اور دفاعی پالیسی کے اہم فیصلے کرتا ہے
نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد ایران کی داخلی سیاست اور خطے کی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ مسترد، ایران کے واٹر پلانٹ پر حملے میں ملوث نہیں: یو اے ای

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ مسترد، ایران کے واٹر پلانٹ پر حملے میں ملوث نہیں: یو اے ایابوظہبی | 8 مارچ 2026متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اسرائیلی میڈیا کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یو اے ای ایران کے ایک واٹر ڈیسالینیشن (پانی صاف کرنے) پلانٹ پر ہونے والے مبینہ حملے میں ملوث ہے۔اماراتی حکام کے مطابق یہ دعویٰ بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہے اور متحدہ عرب امارات کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ یو اے ای ایک خودمختار ریاست ہے جو اپنی خارجہ پالیسی اور سلامتی سے متعلق فیصلے آزادانہ طور پر کرتا ہے۔اماراتی عہدیدار نے کہا کہ اس قسم کی غلط یا غیر مصدقہ خبریں خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ابوظہبی کی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو۔واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے متضاد رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، جن پر متعلقہ ممالک کی جانب سے وضاحتیں اور تردیدیں بھی جاری کی جا رہی ہیں۔مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خطے کے کئی ممالک محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں تاکہ تنازع مزید نہ پھیل سکے۔

ذرائع (Sources):

Al Jazeera

Reuters

Bloomberg

The National (UAE)

Middle East Eye

سعودی عرب کا ایران کو انتباہ، حملے جاری رہے تو امریکی فوج کو اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور_Saudi Arabia Warns Iran, May Allow US Forces to Use Military Bases if Attacks Continue

سعودی عرب کا ایران کو انتباہ، حملے جاری رہے تو امریکی فوج کو اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور📅 8 March 2026📍 ریاض / مشرقِ وسطیٰمشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ایران کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین یا توانائی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو ریاض سخت ردعمل دے سکتا ہے اور امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کر سکتا ہے۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق سعودی حکام نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ وہ سعودی عرب یا اس کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے فوری طور پر بند کرے۔ سعودی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ بحران کا حل سفارتی ذرائع سے چاہتی ہے، تاہم اگر صورتحال برقرار رہی تو دفاعی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔سعودی حکام کے مطابق مملکت اپنی سرزمین، شہریوں اور تیل و گیس کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

Sources

ReutersBloomberg

Al Jazeera

The National UAE

Middle East Eye

Israeli Airstrikes Hit 65 Villages in Southern Lebanonجنوبی لبنان کے 65 دیہات پر اسرائیلی فضائی حملے، درجنوں افراد جاں بحق

جنوبی لبنان پر اسرائیلی بمباری میں شدت، متعدد گاؤں نشانہ، درجنوں افراد جاں بحق


8 March 2026
بیروت / جنوبی لبنان
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔ مقامی ذرائع اور صحافتی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات اور آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنانی صحافی سارا صحافی کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے تقریباً 65 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 70 افراد جاں بحق ہو گئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پورے پورے خاندان، خواتین اور حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ حملوں کے بعد متعدد علاقوں میں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے سے متاثرین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے باعث لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔


Source
Sara Sahafi – Lebanese Journalist
مزید معلومات مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔