انسانی تعلقات کی پر پیچ راہیں اور ہمارے اندازے۔ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

انسانی تعلقات کی اس پیچیدہ دنیا میں، جہاں مفادات کے دھاگے جذبات کے باریک ریشوں سے الجھ کر ایک نادیدہ جال بناتے ہیں، انسان عموماً اپنے گمان کو رہنما بنا لیتا ہے؛ وہی گمان جو کبھی تجربے کی دھوپ میں پگھل جاتا ہے اور کبھی حالات کی آندھی میں بکھر جاتا ہے، آدمی اپنی محدود عقل ودانائی کے ترازو میں لوگوں کو تولتا ہے، اپنے دل کے جھکاؤ کے مطابق کسی کو قریب کر لیتا ہے اور کسی کو دور، اس خیال پر کہ یہی شخص اس کے لیے زیادہ نفع بخش، زیادہ کارآمد اور زیادہ وفادار ثابت ہوگا، مگر زندگی، جو اپنے دامن میں حیرت واستعجاب کے لامتناہی سلسلے سمیٹے ہوتی ہے، بارہا یہ بتاتی ہے کہ انسان کے یہ اندازے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں؛ جس پر وہ بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی سہارا نہیں بنتا، اور جہاں سے امید نہیں ہوتی وہیں سے در رحمت کھول دیا جاتا ہے، اور ایک اجنبی شخص چارہ ساز اور غمگسار بن جاتا ہے۔اسلام سے پہلے مختلف معاشروں میں بھی یہی کیفیت تھی کہ لوگ اپنی جائیداد کی تقسیم میں ذاتی اندازوں اور ذاتی مفادات پر مبنی قیاس آرائیوں کو معیار بناتے تھے؛ جس سے فائدہ متوقع ہوتا، اسے زیادہ دیا جاتا، اور جس سے امید کم ہوتی، اسے محروم کر دیا جاتا، اس طرز فکر میں نہ کوئی توازن تھا نہ کوئی عدل، بلکہ یہ انسانی خواہشات اور وقتی مفادات کا کھیل تھا، قرآن مجید نے آ کر اس غیر منضبط نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور میراث کو ایسے اٹل اصولوں سے وابستہ کر دیا جو نہ زمانے کے ساتھ بدلتے ہیں اور نہ انسان کی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں؛ یعنی رشتۂ پدریت، نسبت فرزندی، زوجیت اور قرابت کے وہ مضبوط بندھن جو انسانی وجود کا حصہ ہیں، نہ کہ وقتی مفاد کی پیداوار۔اسی تناظر میں قرآن کی وہ مختصر مگر معنوی لحاظ سے بے انتہا گہری آیت غور وفکر کی دعوت دیتی ہے: ﴿ءَابَاۤؤُكُمۡ وَأَبۡنَاۤؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَیُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعࣰاۚ﴾ (النساء:11)۔ یہ الفاظ محض میراث کے ایک قانونی حکم کی توضیح نہیں، بلکہ انسانی شعور کو جھنجھوڑ دینے والا ایک اصول ہے، ایک ایسا اصول جو انسان کو اس کی علمی محدودیت کا آئینہ دکھاتا ہے، تم نہیں جانتے کہ تمہارے لیے زیادہ نفع بخش کون ہے—تمہارے باپ یا تمہاری اولاد—یہ اعلان دراصل اس خام خیالی کے طلسم کو توڑ دیتا ہے جس میں انسان اپنے فیصلوں کو قطعی اور اپنے اندازوں کو یقینی سمجھنے لگتا ہے۔معاصر مفسرین نے بھی اس حقیقت کو مختلف زاویوں سے واضح کیا ہے، سید قطب شہید اس انسانی کشمکش کو بڑی لطافت سے بیان کرتے ہیں کہ کبھی انسان اپنی فطری کمزوری کے باعث اولاد کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اس کے اندر ان کے لیے نرم گوشہ زیادہ ہوتا ہے؛ اور کبھی اخلاقی احساس اسے والدین کی طرف جھکا دیتا ہے؛ اور کبھی وہ ان دونوں کے درمیان معلق رہتا ہے، نہ ادھر کا ہوتا ہے نہ ادھر کا، اسی طرح معاشرتی روایات بھی انسان پر دباؤ ڈالتی ہیں اور اسے مخصوص سمت میں لے جاتی ہیں، ایسے میں اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں تسلیم ورضا کی وہ کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اسے اس حقیقت کا ادراک دے کہ علم کامل صرف اللہ کے پاس ہے، اور انسان کے تمام اندازے محض قیاس ہیں۔ابن عاشور اس آیت کے ذریعے جاہلی معیار کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں، وہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ ایک ہی قسم کی ضرورت پیش نہیں آتی؛ کبھی اسے والدین کی حاجت ہوتی ہے، کبھی اولاد کی، اور کبھی کسی کی نہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، ضروریات کا رخ بدلتا رہتا ہے، اور انسان کی زندگی ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھلتی، ایسے میں کسی ایک مفروضے پر اعتماد کر کے فیصلے کرنا گویا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، اس لیے شریعت نے میراث کو ایسے اصولوں سے وابستہ کیا جو تغیر سے ماورا ہیں، تاکہ انصاف قائم رہے اور انسانی خواہشات اس میں دخل نہ دے سکیں۔یہ آیت دراصل ایک ہمہ گیر حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو نہ اپنے مستقبل کا پورا علم ہے اور نہ اپنے تعلقات واختلاط کے انجام کا، جس بیٹے کو آج بے کار سمجھا جا رہا ہے، وہی کل بڑھاپے کا سہارا بن سکتا ہے؛ اور جس رشتہ دار سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، وہی وقت آنے پر ساتھ چھوڑ سکتا ہے، نفع کی صورتیں بھی یکساں نہیں ہوتیں؛ کبھی وہ مادی ہوتی ہیں، کبھی جذباتی، کبھی روحانی، اور کبھی محض ایک دعا کی شکل میں انسان کی زندگی بدل دیتی ہیں۔اسی حقیقت کا عکس ہمیں خاندانی اور سماجی زندگی میں بارہا نظر آتا ہے، انسان کبھی بیوی کو والدین پر ترجیح دیتا ہے یا والدین کو شریک حیات پر، اس خیال میں کہ یہی تعلق زیادہ پائیدار اور فائدہ مند ہے؛ مگر وقت کے ساتھ جب حالات کروٹ لیتے ہیں، تو وہی فیصلے سوال بن جاتے ہیں، کبھی ازدواجی تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے، کبھی جدائی کی نوبت آ جاتی ہے، اور تب احساس ہوتا ہے کہ جن رشتوں کو نظر انداز کیا گیا تھا وہی زیادہ مخلص، زیادہ قریب اور زیادہ نفع بخش تھے۔یہ معاملہ صرف خاندانی دائرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دوستی اور سماجی روابط تک پھیل جاتا ہے، انسان کبھی کسی دوست کو “رفیق جاں” سمجھ کر اس پر اعتماد کی انتہا کر دیتا ہے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو پس پشت ڈال دیتا ہے؛ اور کبھی اس کے برعکس، محض قرابت کی بنیاد پر کسی کو فوقیت دیتا ہے اور حقیقی مخلص لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن وقت، جو ہر حقیقت کو بے نقاب کرنے کی قدرت رکھتا ہے، بالآخر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ یہ ترجیحات اکثر ناقص اندازوں پر مبنی تھیں۔قرآن کا اسلوب یہاں نہایت حکیمانہ ہے؛ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تعلقات ختم کر دو یا کسی سے توقع نہ رکھو، بلکہ وہ معیار بدل دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ تعلقات کو مفاد کے پیمانے سے نہ ناپو، بلکہ حق اور ذمہ داری کے اصول پر قائم کرو، صلہ رحمی، حسن سلوک اور قرابت سے متعلق حقوق اس لیے ادا کرو کہ یہ تم پر لازم ہیں، نہ کہ اس لیے کہ تمہیں ان سے کوئی فوری فائدہ حاصل ہوگا، یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو انسان کو تعلقات کی تجارت سے نکال کر اسے عبادت کے درجے تک لے جاتا ہے۔یہ آیت انسان کے اندر ایک تربیتی انقلاب بھی برپا کرتی ہے، وہ اسے سکھاتی ہے کہ اپنے علم پر غرور نہ کرے، اپنے اندازوں کو حتمی نہ سمجھے، اور اپنی ترجیحات کو مطلق نہ جانے، زندگی کے فیصلے کرتے وقت عاجزی اختیار کرے، اور یہ مان لے کہ حقیقت کے تمام پہلو اس کی نگاہ میں نہیں آ سکتے، بہت سی بھلائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں نقصان دہ محسوس ہوتی ہیں، اور بہت سے فائدے ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں نقصان میں بدل جاتے ہیں۔اسی لیے آیت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ﴿إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا حَكِیمࣰا﴾—گویا یہ اعلان کہ علم کامل بھی اسی کے پاس ہے اور حکمت بالغہ بھی اسی کی صفت ہے، انسان کے لیے اطمینان کا اصل سرچشمہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے فیصلوں پر اعتماد کرے، اس کے مقرر کردہ نظام کو قبول کرے، اور اپنے محدود علم کے باوجود اس کی حکمت پر یقین رکھے۔بالآخر یہی حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان کا کام حساب لگانا نہیں، بلکہ حق ادا کرنا ہے؛ اس کا فریضہ یہ نہیں کہ وہ ہر تعلق کو نفع کے ترازو میں تولے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر رشتے کے ساتھ انصاف کرے؛ کیونکہ جو نفع انسان اپنے ذہن میں تراشتا ہے وہ اکثر سراب ثابت ہوتا ہے، اور جو خیر اللہ اس کے لیے مقدر کرتا ہے وہی حقیقی اور پائیدار ہوتا ہے، چنانچہ دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنے گمان کے بجائے اللہ کے علم پر بھروسہ کرے، اپنی ترجیحات کو خواہش کے بجائے شریعت کے تابع کرے، اور یہ یقین رکھے کہ خیر کا اصل منبع وہی انتخاب ہے جو اللہ انسان کے لیے کرتا ہے، نہ کہ وہ راستہ جو انسان اپنی محدود بصیرت سے چن لیتا ہے۔

اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہے

اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہےایک بادشاہ نے درویش سے کہا:”مجھے بھی وہ ورد سکھا دو جو تم پڑھتے ہو۔”درویش نے انکار کر دیا۔ بادشاہ نے کسی اور سے وہ ورد سیکھ لیا، مگر جب پڑھا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ بادشاہ نے درویش کو دربار میں بلا کر کہا:”میں نے ورد سیکھ تو لیا ہے لیکن اثر نہیں ہوا، بتاؤ غلطی کہاں ہے؟”درویش مسکرایا اور بادشاہ کے سپاہی کو حکم دیا کہ بادشاہ کو گرفتار کرے۔ سپاہی خاموش رہا۔ پھر بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:”اس درویش کو گرفتار کرو!”فوراً پورا دربار حرکت میں آ گیا اور درویش کو گھیر لیا۔درویش نے کہا:”دیکھ! الفاظ تو ایک جیسے تھے، حکم بھی ایک ہی تھا، لیکن فرق صرف ہماری حیثیت کا ہے۔تیرا حکم سب پر اثر کر گیا اور میرا حکم کسی پر نہ ہوا۔اسی طرح تیرے ورد میں اثر اس لیے نہیں کہ روحانی دنیا میں تیری کوئی حیثیت نہیں۔”الفاظ نہیں، بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی ہی اعمال کو اثر بخشتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ قرآن میں شفا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ پڑھنے والا کس ایمان، کس نیت اور کس کردار کے ساتھ پڑھتا ہے۔قرآن تو شفا ہی شفا ہے۔”عمل کی طاقت الفاظ میں نہیں بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی میں ہے۔قرآن اور اذکار شفا ہیں، مگر اثر صرف نیک نیت اور مخلص دل کو ملتا ہے۔”

مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.

ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

*ایران، اسرائیل ،امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے**آئیے ہم اکابر کے کردار کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کرتے ہیں*محمد یاسین جہازی خارجہ پالیسی مذہبی عقائد پر نہیں؛بلکہ ہمیشہ انسانیت، عدل اور عالمی امن کے اصولوں پر بنائی جاتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ یہی اصول پیش نظر رکھا ہے ۔خود ایران کے تناظر میں بات کریں، تو مختلف ادوار میں جمعیت علمائے ہند کے نقطۂ نظر میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ۔ اور حمایت و مخالفت کے دونوں پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ ایران بمقابلہ برطانیہ و روس ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی۔ایران بمقابلہ امریکہ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ عراق، جمعیت علمائے ہند نے عراق کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ سعودی عرب، (سانحۂ حرم کے تناظر میں) جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔چوںکہ جمعیت علمائے ہند کا موقف عالمی سطح پر ہندستان کے مسلمانوں کے موقف و نظریات کے طور پر کوڈ کیا جاتا ہے، اس لیے آئیے ایک صدی کی تاریخ میں ایران کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کیخارجہ پالیسیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ایران کا پہلا تذکرہ پانچویں اجلاس عام منعقدہ: 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے خطبۂ صدارت میں ملتا ہے، جس میں انگلستان اور روس کے درمیان ایران کی تقسیم کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے شمالی ایران پر روس کے قابض و متصرف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔صدر محکمہ ٔ شرعیہ استانبول نے9؍جنوری 1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت علمائے ہند سے گذارش کی کہ وہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے متوجہ کرے۔جمعیت علمائے ہند کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بارھویں اجلاس عام منعقدہ: 7تا 9؍جون 1940ء کے خطبۂ صدارت میں فرمایا کہ ہندستان کی آزادی سے ایران بھی مصائب سے محفوظ رہیںگے۔اسی طرح تیرھویں اجلاس عام منعقدہ: 20تا22؍مارچ 1942ء کے خطبۂ صدارت میں، حضرت شیخ الاسلام نے ایران سمیت تمام ممالک اسلامیہ کے متعلق اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے برطانوی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا۔پھر اسی اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے تجویز منظور کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کاموقف طے کردیا۔11؍جون1945ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی صدارت ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں ایران پر روسی و برطانوی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ایرانی سفیر نے 27تا 29؍اپریل 1951ء کو منعقد سترھویں اجلاس عام کے اپنی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔ہندستان اور پاکستان کے باہمی تنازعات کے لیے دوستانہ تصفیے کے لیے کوشش کرنے والے ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام، 9؍اگست 1951ء کو بحری تار بھیج کر پاکستان کے پروپیگنڈا سے آگاہ کیا۔حضرت شیخ الاسلام نے 16؍نومبر1951ء کا دن ایران کی کامیابی کے لیے بطور دعا منانے کی اپیل کی۔11تا 13؍فروری 1955ء کو جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں ایران کے سفیر محترم علی اصغر حکمت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہندستان کے سیکولر نظام کو نعمت سے تعبیر کیا۔17؍فروری1956ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایران کے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی اور ان کی بیوی ثریا اسفند یاری بختیاری کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کی اور انھیں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔سفارت کی مدت پوری ہونے کے بعدایران واپس جانے کی مناسبت سے11؍جنوری 1958ء کو ایران کے سفیر جناب علی اصغر حکمت کو جمعیت علمائے ہند نے الوداعیہ پیش کیا۔15؍جولائی1959ء کو جدید و قدیم علوم کے ماہر ایرانی فوج کے مشہور جنرل آقای حسین علی رزم آرا کو قبلہ نما ایجاد کرنے پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے مبارک باد پیش کی۔20؍جنوری1960ء کو سابق وزیر خارجہ نے ایران جناب علی اصغر علی حکمت نے جمعیت علمائے ہند کو عید کی مبارک باد پیش کی۔6؍ستمبر1962ء کو مشرقی ایران کے علاقے میں آئے شدید زلزلے میں متأثرین سے، 8؍ستمبر1962ء کو صدرجمعیت علمائے ہندفخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحبؒ نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیااور لوگوں سے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔15تا17؍اپریل1966ء کومنعقد جمعیت علمائے ہندکے بائیسویں اجلاس عام کے لیے سفیر ایران ڈاکٹر جلال عبدوہ نے اپنی نیک خواہشات بھیجیں۔3؍ستمبر1968ء کو شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو ایک برقیہ بھیج کر زلزلہ سے ہوئی تباہی پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں 18-19؍اپریل1970ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں ایک تجویز منظور کرکے زلزلہ متأثرین سے یک جہتی کا اظہار کیا۔اسلامی انقلاب کے بعد 4؍نومبر1979ء کو، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے ہمنواؤں نے امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کرکے امریکی شہریوں کو یرغمال بنالیا۔ یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے 24؍اپریل1980ء کو ’’آپریشن ایگل کلا‘‘ شروع کیا۔ 27؍اپریل1980ء کو منعقد مجلس عاملہ ، بعد ازاں 28-29؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس منتظمہ نے ان دونوں واقعات: ایران میں امریکی طرز عمل اور ایرانیوں کے طرز عمل کی مذمت کی۔اسلامی انقلاب کو عراق نے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے، 22؍ستمبر1980ء کو ایران پر بلاوجہ حملہ کردیا، جس سے ایک طویل جنگ کی شروعات ہوگئی۔ اور تقریبا آٹھ سال تک جاری رہنے کے بعد 20؍اگست1988ء کو اقوام متحدہ کی قرار داد 598کے تحت اختتام پذیر ہوئی۔ اس ایران-عراق جنگ پر جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایران سے فوری طور پر جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ یکم اکتوبر1980ء کو مجلس عاملہ میں،بعد ازاں مجلس منتظمہ منعقدہ: 25-26؍نومبر1983ء میں،پھر تعلیمی و ملی کانفرنس منعقدہ: 6-7-8؍ اپریل 1984ء میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ایران-عراق جنگ کے دوران ڈیڑھ ہزار عراقی جنگی قیدیوں کے وحشیانہ قتل کی خبر موصول ہونے پر26؍دسمبر1981ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اور پھر 26-27؍ دسمبر 1981ء کو مجلس عاملہ نے اس واقعہ پر ایران کی مذمت کی۔ 22سے 25؍اپریل 1985ء کو عراق میں دوسری عالمی بغداد کانفرنس ہوئی، جس کا بنیادی مقصد عرب ازم اور پین اسلام ازم کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔جب 6-7؍مئی 1985ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، تو مجلس عاملہ نے بغداد کانفرنس کی تمام تجویزوں کی تائید کرتے ہوئے 24؍مئی 1985ء کو ایران- عراق جنگ بندی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔لیکن مکمل تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر یہ دن نہیں منایا جاسکا۔یکم نومبر1986ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں عراق کی طرف سے جنگ بندی کی پیش قدمی کے باوجود ایران کی طرف سے جنگ بند نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ملی اتحاد کا پر فریب نعرہ اور حرمین شریفین کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی آیت اللہ خمینی کی منصوبہ بند سازش کے تحت،ایران کے ایک لاکھ پچاس ہزار حاجیوںنے، 31؍جولائی 1987ء کو مکہ مکرمہ کے حرم محترم کے قریب عصر کے وقت خمینی کی تصویروں کے ساتھ احتجاجی نعرے بلند کرنا شروع کیے اور لاٹھی ڈنڈوں اور چاقوں کے ساتھ حرم میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور چار سو افراد جاں بحق ہوگئے ۔ اس پر2؍اگست 1987ء کو مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور 9؍اگست 1987ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اسے حرم محترم کی بے حرمتی قرار دیا۔اور 21؍ اگست 1987ء کو ’’یوم حرم‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔پھر 3؍ستمبر1987ء کو سعودی سفیر محترم فواد صادق مفتی صاحب سے ملاقات کرکے اس سانحہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کے موقف اور کاررائیوں سے مطلع کیا گیا۔3-4؍اکتوبر1987ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حرم محترم کی بے حرمتی کرنے پر ایرانیوں کی سخت مذمت کی گئی۔7؍نومبر1987ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی۔اور ساتھ ہی ایران -عراق جنگ بند کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔8؍نومبر1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ ہوئی، علمائے کرام کے خطاب اور قرارداد کے علاوہ ،مولانا معزالدین احمد گونڈویؒ کے استفسار پر دارالعلوم دیوبند کے اس فتویٰ کی تائید کی گئی، جس میں عقائد و نظریات کے تناظر میں آیت اللہ خمینی کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیاگیا تھا۔9-10؍اپریل1988ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تحفظ حرم کی بابت سعودی حکومت کو چند مفید تجاویز پیش کرتے ہوئے ایران-عراق جنگ کو فورا بند کرنے کی اپیل کی گئی۔2؍جولائی1988ء کو لندن میں ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے پر خمینیوں کی شدید مذمت کی۔19؍جولائی 1988ء کو جنگ بندی کی خبر آنے پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔پھر جب 20؍ اگست 1988ء کی تاریخ کو حتمی طور پر جنگ بندی کادن طے کردیا گیا، تو اس سے پہلے ہی 13-14؍ اگست 1988ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علما نے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ اور پھر اواخر اگست 1988ء کو باقاعدہ ایک تقریب جشن منعقد کرکے ایران-عراق جنگ بندی پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔ایران کے شمال مغربی حصے میں آئے بھیانک زلزلے پر 6؍جولائی 1990ء کو جمعیت علما نے ایک پریس بیان جاری کرکے ہمدردی کا اظہار کیا اور گراں قدر تعاون پیش کیا۔11؍اکتوبر1991ء کو ایرانی صدر کے مشیر خاص مولانا اسحاق مدنی صاحب کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لانے پر ان کا استقبال کیا گیا۔26؍مئی 1995ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے حج کے موقع پر ایرانیوں کی طرف سے سیاسی مظاہرہ کی مذمت کی۔ اور حرم محترم کے تقدس کو ہر حالت میں بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے جوہری ہتھیار کی غلط تشہیر پر 6؍دسمبر2004ء کو صدر جمعیت حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی صاحب نے سخت مذمت کی۔2002ئسے لے کر 2006ء تک کی مختلف تاریخوں میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی طرف سے ایران کو دھمکی دینے کے تناظر میں، یکم تا 3؍مارچ 2006ء کو امریکی صدر کے ہندستان دورے کی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سخت احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ یہ احتجاجی اجلاس ایران کی حمایت میں کیا گیا تھا۔امریکہ ایران تنازع پر 23؍مئی 2006ء کو صدر جمعیت نے ایک پریس بیان دیتے ہوئے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت کی۔14؍فروری 2007ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔28؍اپریل 2008ء کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کیا گیا۔اور اسے ایران -ہندستان کی ثقافتی، تجارتی اور تہذبی روابط کے لیے امید افزا قدم بتایاگیا۔19؍مئی 2024ء کو ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلی ٰ افسران کی حادثاتی موت پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔22؍جون2025ء کو جوہری ہتھیار کی ممکنہ تیاری کا بہانہ بناکر امریکہ کی طرف سے ایران پر کی گئی بم باری کی شدید مذمت کی گئی۔28؍فروری2026ء کو کسی جواز کے بغیر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جابرانہ حملے شروع کردیے، جن کے نتیجے میں پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے چند اہل خانہ کی موت واقع ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے 2؍مارچ 2026ء کو اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سپریم لیڈر و اہل خانہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ محمد یاسین جہازی 27/رمضان المبارک 1447۔مطابق 17/مارچ 2026

رمضان المبارک کے موقع پر منعقدہ مجلسِ افطار میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران، علماء کرام اور معزز احباب کی بڑی تعداد شریک ہوئی، میزبان نے اسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل قرار دیا۔

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدایِ بخشندہ
یہ ہمارے لیے انتہائی سعادت، فرحت اور مسرت کا مقام ہے کہ اللہ ربّ العالمین کے فضل و کرم سے گزشتہ کل میرے غریب خانے پر ایک بابرکت اور باوقار مجلسِ افطار منعقد ہوئی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے معزز ذمہ داران اور اکابرین کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ فخر و اعزاز بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی بابرکت مجالس اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور اس کی عنایت کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں، اس لیے ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔
بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب، صدر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی قیادت میں ایک معزز وفد کی شرکت نے اس مجلس کی رونق کو دوبالا کردیا۔ مزید برآں جنوبی دہلی کے صدر محترم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد نعیم قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی آمد بھی ہمارے لیے باعثِ مسرت و افتخار رہی۔
اس بابرکت مجلس میں دیگر معزز علماء و احباب بھی شریک رہے۔ ان میں بالخصوص مولانا کلیم الدین قاسمی صاحب، مولانا عظیم اللہ قاسمی صاحب، مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی صاحب، مولانا نجیب اللہ قاسمی صاحب، مفتی ذاکر حسین قاسمی صاحب، مولانا ہارون الرشید قاسمی صاحب، مولانا مفتی خلیل صاحب، قاری عبد الشکور صاحب، قاری ہارون صاحب، مولانا عتیق الرحمن قاسمی صاحب شامل ہیں۔
نیز حضرت ناظمِ عمومی صاحب کے صاحبزادگان حافظ ابو بکر سلمہ، حافظ محمود سلمہ، مامو جناب جلال الدین صاحب، مولانا عمیر احمد قاسمی، قاری محمد آصف قاسمی اور قاری رفیع الدین کے علاوہ دیگر معزز حضرات بھی شریک رہے۔ اسی طرح ہمارے مخلص کرم فرماں بھائی مشبر صاحب اور برادرم محمد افضل صاحب بہرائچی کی شرکت بھی اس مجلس کے حسن میں اضافہ کا سبب بنی۔ ان تمام معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لیے اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔
اس موقع پر میں بالخصوص اپنے مشفق و مربی اور مجھ پر ہمیشہ ایک والد کی طرح شفقت فرمانے والے اس بزرگ کا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں جو میری زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر میری رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ ان کی محنتوں، کاوشوں اور خلوص کے نتیجے میں آج یہ بابرکت محفل سجی ہے۔
میں اپنے ماموں محترم الحاج زبیر احمد صاحب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مجلس کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی لی اور اپنی کوششوں سے اس محفل کو ممکن بنایا۔
نیز اس موقع پر اپنے والدِ مرحوم کو یاد نہ کرنا میرے لیے یقیناً بد نصیبی کی بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کی بے شمار راحتوں اور خواہشات کو قربان کردیا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ میری تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا اور ہر ممکن کوشش کی کہ میں علم کے راستے پر آگے بڑھوں۔
آج اگر میں تعلیم کے کسی مرحلے تک پہنچ سکا ہوں اور کچھ حاصل کر سکا ہوں تو یہ دراصل انہی کی محنتوں، قربانیوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو بھی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ان کی دعاؤں اور تربیت کا ثمرہ ہے۔
اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ اس بابرکت مجلسِ افطار کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، تمام معزز مہمانوں کی آمد کو ہمارے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے اور ہم سب کو دینِ اسلام کی خدمت اور آپس میں محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسی کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے والدِ مرحوم کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ربّ العالمین ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔