آبنائے ہرمز اور پیٹرو ڈالر نظام پر نئی بحث، ایران اور چین کی تیل تجارت پر عالمی توجہ

تہران / بیجنگ / واشنگٹن (نیشنل اردو ٹائمز)مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور عالمی تیل تجارت کے نظام پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون عالمی مالیاتی نظام، خصوصاً پیٹرو ڈالر سسٹم کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیتآبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ امریکی Energy Information Administration (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 17 سے 20 ملین بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔ایران اور چین کی توانائی تجارتبین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ایران اور چین کے درمیان تیل کی تجارت گزشتہ چند برسوں میں بڑھتی رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تجارت میں ادائیگی کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں مقامی کرنسیوں اور متبادل مالیاتی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔چین نے اپنے Cross-Border Interbank Payment System (CIPS) کو بھی وسعت دی ہے، جسے بعض ماہرین مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔پیٹرو ڈالر نظام کیا ہے؟1970 کی دہائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے کے بعد عالمی تیل تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہونے لگی۔ اسی نظام کو عموماً پیٹرو ڈالر سسٹم کہا جاتا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق اس نظام کی وجہ سے ڈالر عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر مضبوط رہا ہے کیونکہ تیل خریدنے والے ممالک کو ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔برکس ممالک اور متبادل نظامحالیہ برسوں میں BRICS ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تجارت میں متبادل کرنسیوں کا استعمال بڑھتا ہے تو اس سے عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ماہرین کی رائےبین الاقوامی اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اب بھی ڈالر میں ہی ہوتا ہے، تاہم عالمی سیاست اور معاشی اتحادوں میں تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں مختلف کرنسیوں کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔

اہم حوالہ جات:

Energy Information Administration (EIA)ReutersBloombergInternational Energy Agency (IEA)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *