ایران سے متعلق بیان پر تنازع: سنبھل کے سرکل آفیسر سے وضاحت طلب، کئی سیاسی رہنماؤں کا ردعمل
لکھنؤ / سنبھل، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک پولیس افسر کے متنازع بیان کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) نے سرکل آفیسر کلدیپ کمار سے وضاحت طلب کی ہے، جنہوں نے ایک امن کمیٹی کی میٹنگ کے دوران ایران سے متعلق بیان دیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ میٹنگ رمضان المبارک کے آخری جمعہ (الوداع جمعہ) اور عید الفطر کی نماز کے انتظامات کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی۔ اس اجلاس میں مقامی علما، سماجی رہنما اور پولیس حکام شریک تھے تاکہ مذہبی تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات کی جا سکے۔رپورٹس کے مطابق میٹنگ کے دوران سرکل آفیسر کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر کسی کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کی اتنی فکر ہے تو وہ اس جہاز میں بیٹھ کر ایران چلا جائے جو وہاں پھنسے بھارتی شہریوں کو واپس لانے جا رہا ہے، اور وہاں جا کر ایران کی طرف سے لڑے۔افسر نے مزید کہا کہ اگر بیرونی ممالک کے درمیان ہونے والے تنازعات کا اثر بھارت کے امن و امان پر پڑا تو پولیس سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے لوگوں کو یہ بھی تنبیہ کی کہ جمعہ یا عید کی نماز کے دوران کسی دوسرے ملک کے حق میں نعرے بازی یا پوسٹر نہ لگائے جائیں کیونکہ اس سے مقامی ماحول خراب ہو سکتا ہے۔اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔اس معاملے پر کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ Iqra Hasan، Imran Pratapgarhi اور Ziauddin Bukhari سمیت متعدد رہنماؤں نے اس بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری افسر کو اس طرح کے سیاسی یا اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے اور انتظامیہ کو اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرنی چاہیے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر Asaduddin Owaisi نے بھی اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری ملک میں شہریوں کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی پولیس افسر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ وہ اپنے خیالات کس طرح ظاہر کریں۔دوسری جانب سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سرکل آفیسر سے وضاحت طلب کی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ بیان کس تناظر میں دیا گیا تھا اور آیا اس میں کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔پولیس حکام کے مطابق رمضان اور عید کے موقع پر ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف امن کمیٹی میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ مذہبی تقریبات پرامن طریقے سے انجام دی جا سکیں۔
ذرائع:The Indian Expressدیگر میڈیا رپورٹس

