سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایس سی درجہ نہیں ملے گا

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد کسی شخص کو شیڈولڈ کاسٹ (SC) کا درجہ حاصل نہیں رہتا۔ عدالت نے 24 مارچ کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس اصول کی توثیق کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر 1950 کے مطابق صرف ہندو، سکھ اور بدھ مذہب کے ماننے والوں کو ہی شیڈولڈ کاسٹ کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مذہب کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ درجہ فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس قانون میں کوئی استثنا موجود نہیں ہے، اور جیسے ہی کوئی شخص مذہب تبدیل کرتا ہے، وہ ایس سی کے تحت ملنے والے ریزرویشن اور دیگر قانونی تحفظات سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا جس میں ایک شخص، جو عیسائی مذہب اختیار کر چکا تھا، نے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس درج کیا تھا۔ ملزمان نے اس کو عدالت میں چیلنج کیا، جس پر آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے پہلے ہی مقدمہ خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار طویل عرصے سے عیسائی مذہب پر عمل کر رہا تھا اور اس نے اپنے اصل مذہب میں واپسی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کیا، اس لیے وہ ایس سی کے فوائد حاصل کرنے کا اہل نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *