سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، ٹریبونل سے کلیئر ووٹرز کو ووٹنگ کی اجازت – بنگال الیکشن
India – بھارت Politics – سیاست- Est 1 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
عام آدمی پارٹی کے رکنِ راجیہ سبھا اشوک متل کے گھر ای ڈی کی چھاپہ کارروائی
Book Review – کتب کا تعارف- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
سپریم کورٹ نے پون کھیڑا کی ٹرانزٹ پیشگی ضمانت پر روک لگا دی
Articles – مضامین India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
نتیش کمار کا استعفیٰ، بہار کی سیاست میں بڑی تبدیلی
India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
یوپی حکومت کی وضاحت: مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار کرنے کی خبر جھوٹی قرار
India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
بڑی رقم کی ڈیجیٹل ادائیگی میں تاخیر ممکن، سیکیورٹی جانچ سخت
World – بین الاقوامی Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
بڑی رقم کی ڈیجیٹل ادائیگی میں تاخیر ممکن، سیکیورٹی جانچ سخت
India – بھارت Technology – ٹکنالوجی- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
Top 10 News
جمعیۃ علماء دہلی کی مثالی مساجد کے قیام کے لیے اہم مشاورتی نشست، 50 مساجد کا ہدف مقرر
مجلس عاملہ کا بڑا فیصلہ: یوسی سی کی مخالفت، مدارس کے تحفظ اور اتراکھنڈ کی شرائط واپس لینے کا مطالبہ
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، ٹریبونل سے کلیئر ووٹرز کو ووٹنگ کی اجازت – بنگال الیکشن
سپریم کورٹ نے پون کھیڑا کی ٹرانزٹ پیشگی ضمانت پر روک لگا دی
نتیش کمار کا استعفیٰ، بہار کی سیاست میں بڑی تبدیلی
یوپی حکومت کی وضاحت: مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار کرنے کی خبر جھوٹی قرار
Sport
News
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، ٹریبونل سے کلیئر ووٹرز کو ووٹنگ کی اجازت – بنگال الیکشن
India – بھارت Politics – سیاست- Est 1 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
عام آدمی پارٹی کے رکنِ راجیہ سبھا اشوک متل کے گھر ای ڈی کی چھاپہ کارروائی
Book Review – کتب کا تعارف- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
سپریم کورٹ نے پون کھیڑا کی ٹرانزٹ پیشگی ضمانت پر روک لگا دی
Articles – مضامین India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
نتیش کمار کا استعفیٰ، بہار کی سیاست میں بڑی تبدیلی
India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
ترکی میں فلسطینی ڈاکٹر کے حق میں علامتی احتجاج، ویڈیو وائرل
World – بین الاقوامی- Est 0 min
- 0 Views
- 2 مہینے ago
Recent
Posts
جمعیۃ علماء دہلی کی مثالی مساجد کے قیام کے لیے اہم مشاورتی نشست، 50 مساجد کا ہدف مقرر
مثالی مساجد کی تسکیل کے لیے جمعیۃ علماء دہلی کی اہم مشاورتی نشست۔بتاریخ 17 اپریل بروز جمعہ، بعد نمازِ عصر، جمعیۃ علماء ہند کے ہیڈ آفس آئی ٹی او، نئی دہلی کے بورڈ روم میں ایک اہم مشاورتی نشست زیرِ صدارت حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی) منعقد ہوئی۔ اس نشست میں صوبہ دہلی کے تمام اضلاع کے صدور و نظماء حضرات کو مدعو کیا گیا تھا۔مجلس کا مرکزی موضوع "مثالی اضلاع اور مثالی مساجد کے اہداف” تھا۔ واضح رہے کہ انڈمان میں منعقدہ مشاورتی مجلس میں صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی جانب سے 50 مثالی مساجد کے قیام کا عزم پیش کیا گیا تھا، اسی پس منظر میں اس نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔اس موقع پر خصوصی طور پر حضرت مولانا محمد عمر صاحب (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء بنگلور، کرناٹک) نے "مثالی مسجد” کے تصور پر نہایت جامع اور تفصیلی خطاب فرمایا۔ انہوں نے مثالی مسجد کے قیام کو تین مراحل میں تقسیم کیا:1. بنیادی مرحلہ (Basic Level)یہ مرحلہ ہر چھوٹی بڑی مسجد میں شروع کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے تحت درج ذیل 11 امور بیان کیے گئے:( 1) محلہ کا مکمل سروے( 2) منظم مکاتب کا قیام( 3) خواتین کے لیے مکتب( 4) دور دراز یا بیرون ملک بچوں کے لیے آن لائن مکاتب( 5) درسِ قرآن کا باقاعدہ نظام( 6) درسِ حدیث کا اہتمام( 7) جمعیۃ اسٹڈی سینٹر کا قیام( 8) مسجد کے لیے پی آر او (رابطہ کار)( 9) نکاح کونسلنگ( 10) آسک اسلامی اسکالر( 11) بیت المال کا قیامنمبر( 2) معیاری مرحلہ (Standard Level)یہ مرحلہ ان مساجد میں نافذ کیا جائے گا جہاں وسائل اور سہولیات میسر ہوں۔ اس میں 6 امور شامل ہیں:( 1) مکاتب کے ساتھ اسکول ٹیوشن کا نظام( 2) جمعیۃ یوتھ کلب کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت( 3) ابتدائی طبی امداد (First Aid) کیمپس( 4) لڑکیوں کے لیے ڈیولپمنٹ کورسز( 5) اسعد اسپورٹس اکیڈمی کا قیام(6) سیرت النبی ﷺ پر کورس، مسابقہ اور کوئز پروگرامنمبر ( 3 ) اختیاری مرحلہ (Advanced/Optional Level)یہ مرحلہ ان مساجد کے لیے ہے جہاں مزید وسعت اور گنجائش موجود ہو۔ اس کے تحت 6 امور بیان کیے گئے:( 1) غیر اقامتی شعبہ حفظ کا قیام( 2) جیم (Gym) کی سہولت( 3) علماء کو بزنس فورم سے جوڑنا( 4) دینی کتب پر مشتمل لائبریری( 5) سدبھاؤنا منچ (بین المذاہب ہم آہنگی)( 6) محلہ کلینک کا قیاماسی دوران مفتی محمد حرب راشد صاحب نے جمعیۃ علماء ہند کے شعبہ تجارت سے علماء کو جوڑنے کے حوالے سے مختصر مگر نہایت مؤثر گفتگو فرمائی، جس میں علماء کی معاشی خود کفالت پر زور دیا گیا۔اس اہم نشست میں مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی ، مولانا آفتاب عالم صدیقی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مفتی خلیل احمد قاسمی ، مفتی سلمان قاسمی، قاری عارف قاسمی، قاری عبد السمیع صاحب، مفتی محمد انصار الحق قاسمی، مولانا نعیم، مفتی افشاں قاسمی، مفتی حسان، مفتی محمود امینی، مولانا ساجد قاسمی، قاری ارشاد رحمانی، مفتی نعیم مہرولی حافظ نصر الدین صاحب، قاری دانش صاحب اور دیگر معزز حضرات شریک رہے ۔مفتی حشام الدین صاحب قاسمی کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
مجلس عاملہ کا بڑا فیصلہ: یوسی سی کی مخالفت، مدارس کے تحفظ اور اتراکھنڈ کی شرائط واپس لینے کا مطالبہ
جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس مجلس عاملہ میں یوسی سی کے خلاف جد وجہد کا اعلانمدرسوں کو بند کرنے یا نظام میں مداخلت کی کوشش قابل قبول نہیں ، اتراکھنڈ حکومت سے اپنی شرائط واپس لینے کا مطالبہنئی دہلی، 17 اپریل:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا دوروزہ اجلاس، مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت نئی دہلی میں منعقدہواجس میں ملک و ملت کے اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ ٔ خیال ہوا۔ مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء ہند کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیےمجلس قائمہ کی سفارشات کے مطابق نئےشعبوں:شعبۂ تربیت، ماڈل ولیج (جن وکاس سیوا) ، شعبۂ تجارت و صنعت کاری ،شعبۂ مثالی مسجد،شعبۂ رفیق وغیرہ کے قیام کی منظوری دی ۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ، یکساں سول کوڈ، اصلاحِ معاشرہ اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سے متعلق واضح اور دوٹوک موقف بھی اختیار کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں مدارسِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں واضح کیا کہ مدارس کی آزادی میں مداخلت دستورِ ہند کی دفعات 25، 26، 29 اور 30 کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس نے مدرسوں کو بند کرنے یا ان کے نظام میں مداخلت کی ہرکوشش کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میںہر سطح پر قانونی چارہ جوئی اور آئینی جدوجہد کی جائے گی۔ نیز ارباب مدارس سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنی دستاویزات اور حساب و کتاب کی مضبوط تیاری کریں تاکہ کسی بھی قانونی چیلنج کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدرسہ چلانے کے لیے عائدہ کردہ بعض شرائط کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ مجلسِ عاملہ نے واضح کیا کہ مدارس کو کسی تعلیمی بورڈ سے لازمی الحاق پر مجبور کرنااور اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔مجلسِ عاملہ نے اتراکھنڈ ، گجرات وغیرہ کے یکساں سول کوڈ کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئےپرامن اور جمہوری جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں اور اقلیتی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے، قومی سطح پر کنونشن منعقد کرنے، عدالتوں سے رجوع کرنے اور صدرِ جمہوریہ و دیگر ذمہ داران کو میمورنڈ م دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے بھی یہ اپیل کی گئی وہ شریعتِ اسلامیہ پر مضبوطی سے قائم رہیں خصوصاً خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل انصاف کو یقینی بنائیں۔وراثت کی تقسیم میں عورتوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کریں اور طلاق ، نان و نفقہ جیسے معاملات میں شرعی اُصولوں پر عمل پیرا ہوں ۔اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے مجلسِ عاملہ نے اپنی تجویز میں نئی نسل میں بڑھتی ہوئی دینی و اخلاقی کمزوریوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کی تجویز پیش کی۔ ان میں لازمی مکاتب کے قیام، زیادہ سے زیادہ معیاری اسکولوں کا قیام، لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی اداروں اور دینی ماحول سے آراستہ ہاسٹلز کی فراہمی، مسلمانوں کے زیرِ انتظام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں اسلامیات، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، عقائد، اخلاقیات اور معاشرتی تعلیم کی شمولیت، کوچنگ سینٹروں کا قیام، نیز سیرت کوئز اور مختلف تعلیمی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔مزید برآں والدین کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل بنانے کے لیے شادی سے قبل اور بعد میں کونسلنگ اور تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر زور دیا گیا۔ ہمدردانِ ملت سے پُرزور اپیل کی گئی کہ جو بچیاں تعلیم کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتی ہیں، ان کے ایمان و عقائد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور مؤثر تدبیر اختیار کی جائے۔مجلسِ عاملہ نے ایک اہم تجویز میں مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص فلسطین ، غزہ، لبنان ، ایران ، شام ، یمن اور خلیجی خطے کی سنگین انسانی صورتحال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔ تجویز میں کہا گیا کہ جاری جنگ کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین کی ہلاکت، وسیع پیمانے پر تباہی اور نقل مکانی نے پورے خطے کو ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ فوری اور پائیدار جنگ بندی کے ساتھ مسئلۂ فلسطین کا ایک منصفانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔تجویز میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں تعمیرِ نو کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کی متعدد اہم شخصیات کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی، اور ان کی ملی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔نماز جمعہ سے قبل اجلاس مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند کی دعا ء پر مکمل ہوا۔اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند ، مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاری شوکت علی خازن جمعیۃ علماء ہند ، مولانا رحمت اللہ کشمیری صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند، نائب امیر الہندمولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری ، مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماءیوپی، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات ،مولانا عبدالقوی حیدر آباد صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ،مولانا عبداللہ معروفی دارالعلوم دیوبند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃعلماء ہند، حاجی محمد ہارون صدر جمعیۃعلماء ایم پی، مولانا محمد ابراہیم صدر جمعیۃعلماء کیرالہ، مولانا عبدالقادر نائب صدر جمعیۃ علماء آسام، مفتی محمد جاوید اقبال صدر جمعیۃ علماءبہار اور ناظم اعلی مولانا محمد ناظم ، مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب، مولانا رفیق احمدمظاہری،مولانامحمد عاقل جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی، مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مفتی عبدالرزاق امروہوی استاذ دارالعلوم دیوبند،مولانا عبدالقدوس پالن پوری نائب صدر جمعیۃعلماءگجرات، مولانا کلیم اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی، حافظ عبید اللہ بنارس، حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماءمہاراشٹرا، مولانا سراج الدین چشتی اجمیر، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک و ناظم اعلی مولانا شمس الدین بجلی ، مولانا سید سعید حبیب احمد پونچھ، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی الہ آباد، مولانا اشفاق احمد قاضی ممبئی شریک ہوئے ۔
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا 2 روزہ اجلاس شروع، تحفظِ مدارس اور یکساں سول کوڈ سمیت اہم امور زیر غور
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا 2 روزہ اہم اجلاس آج سہ پہر مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کے زیر صدارت شروع ہوا، جس میں ملک و ملت کو درپیش اہم قومی، ملی اور تنظیمی مسائل پر تفصیلی غور و خوض جاری ہے۔اجلاس کے آغاز میں ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کرائی۔ توثیق کے بعد مختلف اہم ایجنڈوں پر مرحلہ وار بحث کا سلسلہ شروع ہوا۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ کے لیے مؤثر تدابیر، یکساں سول کوڈ کے نام پر دستوری حقوق سلب کرنے کی کوششوں، فتنۂ ارتداد کے انسداد، اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری اقدامات اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کی حمایت اور ان کے ساتھ مشارکت کے مسئلے پر جمعیۃ علماء ہند کی دیرینہ اور اصولی پالیسی کی روشنی میں تنظیم کا واضح اور مؤثر موقف سامنے لایا جائے گا تاکہ جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ کارکنان کو رہنمائی مل سکے۔اجلاس کی پہلی نشستاجلاس کی پہلی نشست میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، خازن جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری شوکت علی، صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ کشمیری، نائب امیر الہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری، مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری (صدر جمعیۃ علماء یوپی)، مولانا عبدالقوی (حیدرآباد، صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ)، مولانا عبداللہ معروفی (دارالعلوم دیوبند)، مولانا نیاز احمد فاروقی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، حاجی محمد ہارون (صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش)، مولانا محمد ابراہیم (صدر جمعیۃ علماء کیرالہ)، مولانا عبدالقادر (نائب صدر جمعیۃ علماء آسام)، مفتی محمد جاوید اقبال (صدر جمعیۃ علماء بہار) اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد ناظم، مولانا یحییٰ کریمی (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب)، مولانا رفیق احمد مظاہری، مولانا محمد عاقل (جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی)، مفتی محمد راشد اعظمی (نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مفتی عبدالرزاق امروہوی (استاذ دارالعلوم دیوبند)، مولانا عبدالقدوس پالَن پوری (نائب صدر جمعیۃ علماء گجرات)، مولانا کلیم اللہ قاسمی (نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی)، حافظ عبید اللہ (بنارس)، حافظ ندیم صدیقی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا)، مولانا سراج الدین چشتی (اجمیر)، مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) و ناظم اعلیٰ مولانا شمس الدین بجلی، مولانا سید سعید حبیب احمد (پونچھ)، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی (الہ آباد) اور مولانا اشفاق احمد قاضی (ممبئی) شریک ہیں۔
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، ٹریبونل سے کلیئر ووٹرز کو ووٹنگ کی اجازت – بنگال الیکشن
نئی دہلی:سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وہ ووٹرز جنہیں متعلقہ ٹریبونل کی جانب سے کلیئر کر دیا گیا ہے، انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔عدالت نے ہدایت دی ہے کہ پہلے مرحلے کے لیے 21 اپریل جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے 27 اپریل کو کٹ آف تاریخ مقرر کی جائے، جس کے تحت اہل ووٹرز اپنی اہلیت کے مطابق ووٹنگ میں حصہ لے سکیں گے۔یہ فیصلہ خاص طور پر West Bengal میں ان ووٹرز کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے جن کے نام مبینہ طور پر ووٹر فہرست سے خارج کر دیے گئے تھے۔ماہرین کے مطابق عدالت کے اس فیصلے سے متاثرہ ووٹرز کو بڑی راحت مل سکتی ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ اور انتظامی پہلوؤں پر مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ وضاحت:یہ خبر عدالتی فیصلے سے متعلق ابتدائی معلومات پر مبنی ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر اپڈیٹ کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے پون کھیڑا کی ٹرانزٹ پیشگی ضمانت پر روک لگا دی
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما پون کھیڑا کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی ایک ہفتے کی ٹرانزٹ پیشگی ضمانت پر روک لگا دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر فی الحال عمل روک دیا ہے۔ذرائع کے مطابق کیس سے متعلق مزید سماعت متوقع ہے، جس میں عدالت آئندہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔تاحال پون کھیڑا یا ان کے وکلاء کی جانب سے اس فیصلے پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
نتیش کمار کا استعفیٰ، بہار کی سیاست میں بڑی تبدیلی
پٹنہ:بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نتیش کمار نے اپنے بیان میں کہا:”ہم نے بہار کے لوگوں کے لیے بہت کام کیا ہے اور مسلسل عوام کی خدمت کی ہے۔ ہم نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ اب وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں گے، اسی لیے آج اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔”ان کے استعفے کے بعد بہار میں نئی سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ اتحادوں پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ دنوں میں ریاست کی سیاست میں مزید اہم پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔تاحال نئے وزیر اعلیٰ کے نام یا آئندہ سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
وضاحت:یہ خبر میڈیا رپورٹس اور بیانات پر مبنی ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر اپڈیٹ کیا جائے گا۔

