Breaking News
جمعیۃ علماء دہلی کی مثالی مساجد کے قیام کے لیے اہم مشاورتی نشست، 50 مساجد کا ہدف مقرر

مثالی مساجد کی تسکیل کے لیے جمعیۃ علماء دہلی کی اہم مشاورتی نشست۔بتاریخ 17 اپریل بروز جمعہ، بعد نمازِ عصر، جمعیۃ علماء ہند کے ہیڈ آفس آئی ٹی او، نئی دہلی کے بورڈ روم میں ایک اہم مشاورتی نشست زیرِ صدارت حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی) منعقد ہوئی۔ اس نشست میں صوبہ دہلی کے تمام اضلاع کے صدور و نظماء حضرات کو مدعو کیا گیا تھا۔مجلس کا مرکزی موضوع "مثالی اضلاع اور مثالی مساجد کے اہداف” تھا۔ واضح رہے کہ انڈمان میں منعقدہ مشاورتی مجلس میں صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی جانب سے 50 مثالی مساجد کے قیام کا عزم پیش کیا گیا تھا، اسی پس منظر میں اس نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔اس موقع پر خصوصی طور پر حضرت مولانا محمد عمر صاحب (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء بنگلور، کرناٹک) نے "مثالی مسجد” کے تصور پر نہایت جامع اور تفصیلی خطاب فرمایا۔ انہوں نے مثالی مسجد کے قیام کو تین مراحل میں تقسیم کیا:1. بنیادی مرحلہ (Basic Level)یہ مرحلہ ہر چھوٹی بڑی مسجد میں شروع کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے تحت درج ذیل 11 امور بیان کیے گئے:( 1) محلہ کا مکمل سروے( 2) منظم مکاتب کا قیام( 3) خواتین کے لیے مکتب( 4) دور دراز یا بیرون ملک بچوں کے لیے آن لائن مکاتب( 5) درسِ قرآن کا باقاعدہ نظام( 6) درسِ حدیث کا اہتمام( 7) جمعیۃ اسٹڈی سینٹر کا قیام( 8) مسجد کے لیے پی آر او (رابطہ کار)( 9) نکاح کونسلنگ( 10) آسک اسلامی اسکالر( 11) بیت المال کا قیامنمبر( 2) معیاری مرحلہ (Standard Level)یہ مرحلہ ان مساجد میں نافذ کیا جائے گا جہاں وسائل اور سہولیات میسر ہوں۔ اس میں 6 امور شامل ہیں:( 1) مکاتب کے ساتھ اسکول ٹیوشن کا نظام( 2) جمعیۃ یوتھ کلب کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت( 3) ابتدائی طبی امداد (First Aid) کیمپس( 4) لڑکیوں کے لیے ڈیولپمنٹ کورسز( 5) اسعد اسپورٹس اکیڈمی کا قیام(6) سیرت النبی ﷺ پر کورس، مسابقہ اور کوئز پروگرامنمبر ( 3 ) اختیاری مرحلہ (Advanced/Optional Level)یہ مرحلہ ان مساجد کے لیے ہے جہاں مزید وسعت اور گنجائش موجود ہو۔ اس کے تحت 6 امور بیان کیے گئے:( 1) غیر اقامتی شعبہ حفظ کا قیام( 2) جیم (Gym) کی سہولت( 3) علماء کو بزنس فورم سے جوڑنا( 4) دینی کتب پر مشتمل لائبریری( 5) سدبھاؤنا منچ (بین المذاہب ہم آہنگی)( 6) محلہ کلینک کا قیاماسی دوران مفتی محمد حرب راشد صاحب نے جمعیۃ علماء ہند کے شعبہ تجارت سے علماء کو جوڑنے کے حوالے سے مختصر مگر نہایت مؤثر گفتگو فرمائی، جس میں علماء کی معاشی خود کفالت پر زور دیا گیا۔اس اہم نشست میں مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی ، مولانا آفتاب عالم صدیقی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مفتی خلیل احمد قاسمی ، مفتی سلمان قاسمی، قاری عارف قاسمی، قاری عبد السمیع صاحب، مفتی محمد انصار الحق قاسمی، مولانا نعیم، مفتی افشاں قاسمی، مفتی حسان، مفتی محمود امینی، مولانا ساجد قاسمی، قاری ارشاد رحمانی، مفتی نعیم مہرولی حافظ نصر الدین صاحب، قاری دانش صاحب اور دیگر معزز حضرات شریک رہے ۔مفتی حشام الدین صاحب قاسمی کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

مجلس عاملہ کا بڑا فیصلہ: یوسی سی کی مخالفت، مدارس کے تحفظ اور اتراکھنڈ کی شرائط واپس لینے کا مطالبہ

جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس مجلس عاملہ میں یوسی سی کے خلاف جد وجہد کا اعلانمدرسوں کو بند کرنے یا نظام میں مداخلت کی کوشش قابل قبول نہیں ، اتراکھنڈ حکومت سے اپنی شرائط واپس لینے کا مطالبہنئی دہلی، 17 اپریل:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا دوروزہ اجلاس، مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت نئی دہلی میں منعقدہواجس میں ملک و ملت کے اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ ٔ خیال ہوا۔ مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء ہند کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیےمجلس قائمہ کی سفارشات کے مطابق نئےشعبوں:شعبۂ تربیت، ماڈل ولیج (جن وکاس سیوا) ، شعبۂ تجارت و صنعت کاری ،شعبۂ مثالی مسجد،شعبۂ رفیق وغیرہ کے قیام کی منظوری دی ۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ، یکساں سول کوڈ، اصلاحِ معاشرہ اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سے متعلق واضح اور دوٹوک موقف بھی اختیار کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں مدارسِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں واضح کیا کہ مدارس کی آزادی میں مداخلت دستورِ ہند کی دفعات 25، 26، 29 اور 30 کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس نے مدرسوں کو بند کرنے یا ان کے نظام میں مداخلت کی ہرکوشش کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میںہر سطح پر قانونی چارہ جوئی اور آئینی جدوجہد کی جائے گی۔ نیز ارباب مدارس سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنی دستاویزات اور حساب و کتاب کی مضبوط تیاری کریں تاکہ کسی بھی قانونی چیلنج کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدرسہ چلانے کے لیے عائدہ کردہ بعض شرائط کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ مجلسِ عاملہ نے واضح کیا کہ مدارس کو کسی تعلیمی بورڈ سے لازمی الحاق پر مجبور کرنااور اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔مجلسِ عاملہ نے اتراکھنڈ ، گجرات وغیرہ کے یکساں سول کوڈ کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئےپرامن اور جمہوری جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں اور اقلیتی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے، قومی سطح پر کنونشن منعقد کرنے، عدالتوں سے رجوع کرنے اور صدرِ جمہوریہ و دیگر ذمہ داران کو میمورنڈ م دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے بھی یہ اپیل کی گئی وہ شریعتِ اسلامیہ پر مضبوطی سے قائم رہیں خصوصاً خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل انصاف کو یقینی بنائیں۔وراثت کی تقسیم میں عورتوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کریں اور طلاق ، نان و نفقہ جیسے معاملات میں شرعی اُصولوں پر عمل پیرا ہوں ۔اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے مجلسِ عاملہ نے اپنی تجویز میں نئی نسل میں بڑھتی ہوئی دینی و اخلاقی کمزوریوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کی تجویز پیش کی۔ ان میں لازمی مکاتب کے قیام، زیادہ سے زیادہ معیاری اسکولوں کا قیام، لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی اداروں اور دینی ماحول سے آراستہ ہاسٹلز کی فراہمی، مسلمانوں کے زیرِ انتظام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں اسلامیات، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، عقائد، اخلاقیات اور معاشرتی تعلیم کی شمولیت، کوچنگ سینٹروں کا قیام، نیز سیرت کوئز اور مختلف تعلیمی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔مزید برآں والدین کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل بنانے کے لیے شادی سے قبل اور بعد میں کونسلنگ اور تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر زور دیا گیا۔ ہمدردانِ ملت سے پُرزور اپیل کی گئی کہ جو بچیاں تعلیم کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتی ہیں، ان کے ایمان و عقائد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور مؤثر تدبیر اختیار کی جائے۔مجلسِ عاملہ نے ایک اہم تجویز میں مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص فلسطین ، غزہ، لبنان ، ایران ، شام ، یمن اور خلیجی خطے کی سنگین انسانی صورتحال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔ تجویز میں کہا گیا کہ جاری جنگ کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین کی ہلاکت، وسیع پیمانے پر تباہی اور نقل مکانی نے پورے خطے کو ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ فوری اور پائیدار جنگ بندی کے ساتھ مسئلۂ فلسطین کا ایک منصفانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔تجویز میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں تعمیرِ نو کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کی متعدد اہم شخصیات کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی، اور ان کی ملی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔نماز جمعہ سے قبل اجلاس مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند کی دعا ء پر مکمل ہوا۔اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند ، مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاری شوکت علی خازن جمعیۃ علماء ہند ، مولانا رحمت اللہ کشمیری صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند، نائب امیر الہندمولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری ، مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماءیوپی، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات ،مولانا عبدالقوی حیدر آباد صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ،مولانا عبداللہ معروفی دارالعلوم دیوبند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃعلماء ہند، حاجی محمد ہارون صدر جمعیۃعلماء ایم پی، مولانا محمد ابراہیم صدر جمعیۃعلماء کیرالہ، مولانا عبدالقادر نائب صدر جمعیۃ علماء آسام، مفتی محمد جاوید اقبال صدر جمعیۃ علماءبہار اور ناظم اعلی مولانا محمد ناظم ، مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب، مولانا رفیق احمدمظاہری،مولانامحمد عاقل جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی، مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مفتی عبدالرزاق امروہوی استاذ دارالعلوم دیوبند،مولانا عبدالقدوس پالن پوری نائب صدر جمعیۃعلماءگجرات، مولانا کلیم اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی، حافظ عبید اللہ بنارس، حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماءمہاراشٹرا، مولانا سراج الدین چشتی اجمیر، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک و ناظم اعلی مولانا شمس الدین بجلی ، مولانا سید سعید حبیب احمد پونچھ، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی الہ آباد، مولانا اشفاق احمد قاضی ممبئی شریک ہوئے ۔

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا 2 روزہ اجلاس شروع، تحفظِ مدارس اور یکساں سول کوڈ سمیت اہم امور زیر غور

نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا 2 روزہ اہم اجلاس آج سہ پہر مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کے زیر صدارت شروع ہوا، جس میں ملک و ملت کو درپیش اہم قومی، ملی اور تنظیمی مسائل پر تفصیلی غور و خوض جاری ہے۔اجلاس کے آغاز میں ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کرائی۔ توثیق کے بعد مختلف اہم ایجنڈوں پر مرحلہ وار بحث کا سلسلہ شروع ہوا۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ کے لیے مؤثر تدابیر، یکساں سول کوڈ کے نام پر دستوری حقوق سلب کرنے کی کوششوں، فتنۂ ارتداد کے انسداد، اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری اقدامات اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کی حمایت اور ان کے ساتھ مشارکت کے مسئلے پر جمعیۃ علماء ہند کی دیرینہ اور اصولی پالیسی کی روشنی میں تنظیم کا واضح اور مؤثر موقف سامنے لایا جائے گا تاکہ جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ کارکنان کو رہنمائی مل سکے۔اجلاس کی پہلی نشستاجلاس کی پہلی نشست میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، خازن جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری شوکت علی، صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ کشمیری، نائب امیر الہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری، مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری (صدر جمعیۃ علماء یوپی)، مولانا عبدالقوی (حیدرآباد، صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ)، مولانا عبداللہ معروفی (دارالعلوم دیوبند)، مولانا نیاز احمد فاروقی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، حاجی محمد ہارون (صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش)، مولانا محمد ابراہیم (صدر جمعیۃ علماء کیرالہ)، مولانا عبدالقادر (نائب صدر جمعیۃ علماء آسام)، مفتی محمد جاوید اقبال (صدر جمعیۃ علماء بہار) اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد ناظم، مولانا یحییٰ کریمی (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب)، مولانا رفیق احمد مظاہری، مولانا محمد عاقل (جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی)، مفتی محمد راشد اعظمی (نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مفتی عبدالرزاق امروہوی (استاذ دارالعلوم دیوبند)، مولانا عبدالقدوس پالَن پوری (نائب صدر جمعیۃ علماء گجرات)، مولانا کلیم اللہ قاسمی (نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی)، حافظ عبید اللہ (بنارس)، حافظ ندیم صدیقی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا)، مولانا سراج الدین چشتی (اجمیر)، مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) و ناظم اعلیٰ مولانا شمس الدین بجلی، مولانا سید سعید حبیب احمد (پونچھ)، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی (الہ آباد) اور مولانا اشفاق احمد قاضی (ممبئی) شریک ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کا سہ روزہ آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ اختتام پذیر30 ہزار سے زائد کارکنوں و نوجوانوں کی تربیت کا منصوبہ پیش، آئندہ 6 ماہ میں 1500 مساجد کو مثالی بنانے کا عزم، سالانہ کیلنڈر اور شعبہ رفیق پر زور

انڈمان و نکوبار:جمعیۃ علماء ہند کا 2 روزہ آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ ہوٹل اے آر پرائیڈ، ریزیڈنسی، جنگلی گھاٹ، وجے پورم، ضلع جنوبی انڈمان میں مختلف نشستوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کی صدارت بالترتیب مفتی شرف الدین قاسمی انڈمان، مولانا سعید احمد منی پور، مفتی احمد دیولہ گجرات، ڈاکٹر قاضی عبدالماجد آندھرا پردیش اور مولانا رحمت اللہ میر کشمیر نے کی، جبکہ ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سبھی نشستوں کی نظامت کی۔اجلاس میں تنظیمی استحکام، شعبہ تربیت اور رفیق سازی کو آئندہ 6 ماہ کی ترجیحات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، نیز سالانہ کیلنڈر، مثالی مسجد، مثالی اضلاع کے اہداف اور مرکز سے ضلع سطح تک تربیتی پروگراموں کے نئے خاکے کی منظوری دی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیۃ کے تعمیری پروگراموں کو زمینی سطح پر مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔کلیدی خطاباپنے کلیدی خطاب میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے نہایت مؤثر انداز میں کہا کہ جمعیۃ کی اصل قوت اس کے تربیت یافتہ، مخلص، باصلاحیت اور منظم کارکنان ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض افراد کو تنظیم سے وابستہ کر دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی فکری، عملی اور تنظیمی تربیت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ سماجی، فکری اور قومی چیلنجز کا مقابلہ صرف منظم اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔مولانا مدنی نے نوجوان نسل کو درپیش سنگین مسائل کی طرف خصوصی توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آج نشہ، بین المذاہب شادیوں کے بڑھتے رجحانات اور عقائد میں شکوک و شبہات ہمارے معاشرے کے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو بروقت سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ سے جوڑ دیا جائے تو ان فتنوں کا مؤثر تدارک ممکن ہے۔اسی سلسلے میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ سیرت کوئز مقابلہ کو جدید اور مؤثر انداز میں اسکولوں، کالجوں اور نوجوان طبقہ تک وسیع پیمانے پر پہنچایا جائے، تاکہ نئی نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی مضبوط بنیادوں پر ہو سکے۔انہوں نے تنظیمی استحکام، باہمی مشاورت اور اتفاق رائے کو فروغ دینے کے لیے سالانہ کیلنڈر کے مطابق باقاعدہ اجلاس کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی یونٹ ہفتہ وار، ضلعی یونٹ ماہانہ، اور صوبائی یونٹ ہر 3 ماہ میں ایک مرتبہ میٹنگ منعقد کریں۔مولانا مدنی نے مثالی مسجد کے نظام کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسجد کو ہماری تمام سماجی، تربیتی اور تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا جائے تو ملت کو اس کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اسی عزم کے تحت مختلف ریاستی یونٹوں نے اگلے 6 ماہ میں مجموعی طور پر 1450 مساجد کو مثالی بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اصلاحِ معاشرہ پر گفتگواجلاس میں نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند نے اصلاحِ معاشرہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی اصلاح صرف تقاریر سے ممکن نہیں بلکہ ہر محلہ اور ہر علاقے میں فعال کمیٹیاں قائم کرنا ہوں گی۔انہوں نے شادی بیاہ میں بے جا اخراجات، غیر ضروری رسومات اور سماجی خرابیوں کے خاتمے کے لیے مستقل عوامی مہم چلانے پر زور دیا اور ائمہ مساجد کی تربیت کے لیے مستقل ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔دیگر اہم خطاباتصدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی اضطراب کے ماحول میں اکابر کی اعتدال، حکمت اور اتحاد کی تعلیمات کو مضبوطی سے اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مدارس، مساجد اور مکاتب کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور نوجوان نسل کو دین و سیرت سے جوڑنے پر زور دیا۔اس اجلاس میں نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری امین پوکرن، حاجی محمد ہارون (صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش)، مولانا قاضی عبدالماجد (صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش)، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری (صدر جمعیۃ علماء یوپی)، مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مفتی احمد دیولہ (صدر جمعیۃ علماء گجرات)، مولانا شمس الدین بجلی (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا سعید (صدر جمعیۃ علماء منی پور) سمیت مختلف ریاستی صدور اور ذمہ داران نے بھی اپنے خیالات اور مشوروں کا اظہار کیا۔متعدد عنوانات پر پریزنٹیشن مولانا محمد عمر قاسمی (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند برائے جنوب ہند)، مولانا محمد عظیم اللہ قاسمی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، ڈاکٹر شبیر مشتاق مع پی ایم او ٹیم نے پیش کی۔شرکاء کی تفصیلاس اجلاس میں مختلف صوبوں کے ذمہ داران نے شرکت کی، جن میں مولانا سید محمد عفان منصورپوری، مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی، مولانا محمد عاقل قاسمی، قاری محمد یامین، مولانا محمد قاسم نوری، مولانا آفتاب عالم قاسمی، مولانا عبدالحیی مفتاحی، مفتی جمیل الرحمن قاسمی، مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی، مفتی ظفر احمد قاسمی، مولانا علی حسن مظاہری، مولانا محمد یحییٰ کریمی، مولانا عبداللہ خالد قاسمی، مولانا حبیب اللہ قاسمی، مولانا عبدالواحد کھتری، مولانا الیاس قاسمی، حاجی محمد ہارون، مفتی احمد دیولہ، پروفیسر نثار احمد انصاری، محمد اسلم قریشی، مولانا مفتی جاوید اقبال، مولانا محمد ناظم قاسمی، مولانا شمس تبریز قاسمی، مولانا محمد اکرم تقی قاسمی، مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی، مولانا مفتی شمس الدین بجلی، حافظ سید عاصم عبداللہ، مولانا محمد ابراہیم، مولانا منصور کاشفی، ڈاکٹر قاضی عبدالماجد، مولانا سمیع احمد مظاہری، مولانا عمر فاروق، مفتی شرف الدین قاسمی، مولانا فضل الکریم قاسمی، مولانا عبدالقادر قاسمی، مولانا سعید احمد، مفتی شفیع اللہ قاسمی، مفتی عبدالمومن قاسمی، ماسٹر قمرالزماں شامل ہیں۔اختتامی کلماتمرکزی دفتر سے جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی، ناظم دفتر مولانا نجیب اللہ قاسمی، ڈاکٹر شبیر مشتاق، اویس سلطان، مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی اور عادل نصیر بھی شریک ہوئے۔آخر میں مولانا محمود اسعد مدنی نے انڈمان و نکوبار یونٹ، منتظمین اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ یہ مشاورتی اجلاس ملت کے لیے خیر و برکت اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے۔مفتی شرف الدین قاسمی، صدر جمعیۃ علماء انڈمان و نکوبار نے تمام مہمانوں، اپنے رفقاء اور ہوٹل انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

انڈمان میں علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے مزار پر جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی حاضری، مولانا مدنی کا خراجِ عقیدت


جب تک ہندوستان ہے، علماء کی قربانیاں یاد رکھی جائیں گی: مولانا محمود اسعد مدنی
انڈمان میں مجاہدِ آزادی حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے مزار پر جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی حاضری، ایصالِ ثواب اور خراجِ عقیدت
نئی دہلی / انڈمان، 14 اپریل:
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر ایک وفد نے انڈمان میں عظیم مجاہدِ آزادی حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے مزار پر حاضری دی۔ وفد میں جمعیۃ علماء ہند کے صوبائی صدر اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔
اس موقع پر مرحوم کے لیے ایصالِ ثواب کیا گیا اور ان کی دینی، علمی اور ملی خدمات پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے پیغام میں فرمایا کہ حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ 1857 کی جنگِ آزادی کے نمایاں رہنما تھے۔ انہوں نے انگریز سامراج کے خلاف فتویٰ دے کر قوم میں آزادی کی روح بیدار کی اور وطن کی آزادی کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین کی قربانیاں ہماری تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آج کی نسل کو چاہیے کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دین و ملت کی خدمت کو اپنا شعار بنائے۔
آخر میں وفد نے حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور ان کی بے مثال خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مدیرِ عام پریس سے اشاعت کی درخواست ہے
نیاز احمد فاروقی
سیکرٹری، جمعیۃ علماء ہند

ملک بھر کے صوبائی صدور و نظمائے اعلیٰ کی شرکت، صدر جمعیۃ علما ء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں متعدد نئے پروجیکٹس کا روڈ میپ پیش ہوگا


جزائر انڈمان میں جمعیۃ علماء ہند کا مرکزی مشورہ شروع؛ نوجوانوں کی تربیت، مثالی مسجد اور سالانہ کیلنڈر پر زور
ملک بھر کے صوبائی صدور و نظمائے اعلیٰ کی شرکت، صدر جمعیۃ علما ء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں متعدد نئے پروجیکٹس کا روڈ میپ پیش ہوگا

پورٹ بلیئر، 13 اپریل:جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام ریاستی و علاقائی یونٹوں کے صدور و نظمائے اعلیٰ کا آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ آج جزائر انڈمان و نکوبار کے شہر سر وجے پورم، پورٹ بلیئر میں واقع ہوٹل اے آر پرائیڈ ریزیڈینسی میں باضابطہ طور پر شروع ہوگیا ہے۔ یہ سہ روزہ مرکزی اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم کی قیادت میں منعقد ہو رہا ہےجب کہ نظامت کے فرائض مولانا محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند انجام دے رہے ہیں۔ اس اہم موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا قاری محمد امین نائب صدر جمعیۃ علماء ہند سمیت کئی اہم مرکزی شحصیات بھی موجود ہیں ۔یہ مشورہ آئندہ مہینوں میں جمعیۃ علماء ہند کی تنظیمی سمت، سماجی کردار، نوجوانوں کی تربیت اور ملی خدمات کے عملی خاکے کو حتمی شکل دینے کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
چنانچہ آج شام 6 بجے پہلی نشست کا آغاز ہوا جس کی صدارت مفتی شرف الدین قاسمی صدر جمعیۃ علماء انڈمان و نکوبار نے کی، جب کہ دوسری نشست کی صدارت مولانا سعید احمد صدر جمعیۃ علماء منی پور نے کی۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں صدر جمعیۃ علماء جزائر انڈمان و نکوبار مفتی شرف الدین قاسمی نے کہا کہ جزائر انڈمان ہندستان کی آزادی، قربانی اور استقامت کی زندہ تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ سرزمین ہے جہاں کالا پانی کی صعوبتوں نے مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا روشن باب بنا دیا۔ انہوں نے اس تاریخی مقام پر مرکزی ششماہی مشورہ کے انعقاد کو نہایت بابرکت اور بامعنی قرار دیا اور آنے والوں مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ ملک کی دینی، ملی، تعلیمی، رفاہی اور آئینی خدمات میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور آج بھی تنظیم ملک بھر میں عوامی رہنمائی، سماجی اصلاح اور حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔
اس کے بعد مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی جس کے بعد مختلف ریاستی یونٹوں کی کارگزاریوں کی تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ صدور و نظمائے اعلیٰ حضرات نے اپنے اپنے صوبوں کی تنظیمی پیش رفت، تعلیمی سرگرمیوں، رفاہی منصوبوں اور ملی خدمات کی عددی رپورٹ پیش کی۔
دیر شام دوسری نشست میںصدر جمعیۃ علماء ہند نے جمعیۃ یوتھ کلب کی موجودہ صورت حال اور آئندہ کے اقدامات پر خصوصی گفتگو کی۔ اس موقع پر نوجوانوں کی فکری تربیت، قیادت سازی، سماجی خدمت اور جمعیۃ کے مشن سے مؤثر وابستگی پر زور دیا گیا۔
اسی نشست میں ’’مثالی مسجد‘‘ کے عنوان سے مولانا محمد عمر قاسمی ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند برائے جنوبی ہند نے رہنما پریزنٹیشن پیش کی جس میں مسجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، تعلیمی بیداری، اخلاقی تربیت اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز بنانے کے حوالے سے جامع نکات پیش کیے گئے۔
آئندہ کی نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کی مقامی و ضلعی یونٹوں سے لے کر صوبائی یونٹوں کے لیے میٹنگوں کا سالانہ کیلنڈر، نوجوانوں کے لیے تربیتی ورکشاپس، اصلاحِ معاشرہ پروگرام، بالخصوص ائمہ کی ٹریننگ، میرج کاؤنسلنگ، رفیق پروجیکٹ، خیر پروجیکٹ، سیرت کوئز پر تفصیلی گفتگو اور ممکنہ فیصلے متوقع ہیں، جس سے جمعیۃ علماء ہند کی آئندہ سرگرمیوں کی سمت واضح ہوگی۔
آج شام نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس کی سعادت مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری صدر جمعیۃ علماء یوپی اور ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کو حاصل ہوئی۔ ازیں قبل آج دوپہر کے وقت شرکاء کی آمد کے بعد نمازِ ظہر اور ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا، جس کے بعد معزز مندوبین کے لیے تاریخی راس جزیرہ (Ross Island) کی زیارت کا خصوصی پروگرام رکھا گیا۔ شرکاء نے اس موقع پر جزائر انڈمان کی تاریخی اہمیت، آزادی کی جدوجہد سے وابستہ یادگاروں اور قدرتی حسن کا مشاہدہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدیر محترم اس پر یس ریلیز کو شائع فرما کر شکر گزار کریں

نیاز احمد فارو قی
سکریٹری جمعیۃ علماء ہند