جمعیۃ علماء ہند کا سہ روزہ آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ اختتام پذیر30 ہزار سے زائد کارکنوں و نوجوانوں کی تربیت کا منصوبہ پیش، آئندہ 6 ماہ میں 1500 مساجد کو مثالی بنانے کا عزم، سالانہ کیلنڈر اور شعبہ رفیق پر زور
انڈمان و نکوبار:جمعیۃ علماء ہند کا 2 روزہ آٹھواں مرکزی ششماہی مشورہ ہوٹل اے آر پرائیڈ، ریزیڈنسی، جنگلی گھاٹ، وجے پورم، ضلع جنوبی انڈمان میں مختلف نشستوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کی صدارت بالترتیب مفتی شرف الدین قاسمی انڈمان، مولانا سعید احمد منی پور، مفتی احمد دیولہ گجرات، ڈاکٹر قاضی عبدالماجد آندھرا پردیش اور مولانا رحمت اللہ میر کشمیر نے کی، جبکہ ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سبھی نشستوں کی نظامت کی۔اجلاس میں تنظیمی استحکام، شعبہ تربیت اور رفیق سازی کو آئندہ 6 ماہ کی ترجیحات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، نیز سالانہ کیلنڈر، مثالی مسجد، مثالی اضلاع کے اہداف اور مرکز سے ضلع سطح تک تربیتی پروگراموں کے نئے خاکے کی منظوری دی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیۃ کے تعمیری پروگراموں کو زمینی سطح پر مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔کلیدی خطاباپنے کلیدی خطاب میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے نہایت مؤثر انداز میں کہا کہ جمعیۃ کی اصل قوت اس کے تربیت یافتہ، مخلص، باصلاحیت اور منظم کارکنان ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض افراد کو تنظیم سے وابستہ کر دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی فکری، عملی اور تنظیمی تربیت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ سماجی، فکری اور قومی چیلنجز کا مقابلہ صرف منظم اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔مولانا مدنی نے نوجوان نسل کو درپیش سنگین مسائل کی طرف خصوصی توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آج نشہ، بین المذاہب شادیوں کے بڑھتے رجحانات اور عقائد میں شکوک و شبہات ہمارے معاشرے کے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو بروقت سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ سے جوڑ دیا جائے تو ان فتنوں کا مؤثر تدارک ممکن ہے۔اسی سلسلے میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ سیرت کوئز مقابلہ کو جدید اور مؤثر انداز میں اسکولوں، کالجوں اور نوجوان طبقہ تک وسیع پیمانے پر پہنچایا جائے، تاکہ نئی نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی مضبوط بنیادوں پر ہو سکے۔انہوں نے تنظیمی استحکام، باہمی مشاورت اور اتفاق رائے کو فروغ دینے کے لیے سالانہ کیلنڈر کے مطابق باقاعدہ اجلاس کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی یونٹ ہفتہ وار، ضلعی یونٹ ماہانہ، اور صوبائی یونٹ ہر 3 ماہ میں ایک مرتبہ میٹنگ منعقد کریں۔مولانا مدنی نے مثالی مسجد کے نظام کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسجد کو ہماری تمام سماجی، تربیتی اور تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا جائے تو ملت کو اس کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اسی عزم کے تحت مختلف ریاستی یونٹوں نے اگلے 6 ماہ میں مجموعی طور پر 1450 مساجد کو مثالی بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اصلاحِ معاشرہ پر گفتگواجلاس میں نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سلمان بجنوری استاذ دارالعلوم دیوبند نے اصلاحِ معاشرہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی اصلاح صرف تقاریر سے ممکن نہیں بلکہ ہر محلہ اور ہر علاقے میں فعال کمیٹیاں قائم کرنا ہوں گی۔انہوں نے شادی بیاہ میں بے جا اخراجات، غیر ضروری رسومات اور سماجی خرابیوں کے خاتمے کے لیے مستقل عوامی مہم چلانے پر زور دیا اور ائمہ مساجد کی تربیت کے لیے مستقل ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔دیگر اہم خطاباتصدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی اضطراب کے ماحول میں اکابر کی اعتدال، حکمت اور اتحاد کی تعلیمات کو مضبوطی سے اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مدارس، مساجد اور مکاتب کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور نوجوان نسل کو دین و سیرت سے جوڑنے پر زور دیا۔اس اجلاس میں نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری امین پوکرن، حاجی محمد ہارون (صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش)، مولانا قاضی عبدالماجد (صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش)، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری (صدر جمعیۃ علماء یوپی)، مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مفتی احمد دیولہ (صدر جمعیۃ علماء گجرات)، مولانا شمس الدین بجلی (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا سعید (صدر جمعیۃ علماء منی پور) سمیت مختلف ریاستی صدور اور ذمہ داران نے بھی اپنے خیالات اور مشوروں کا اظہار کیا۔متعدد عنوانات پر پریزنٹیشن مولانا محمد عمر قاسمی (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند برائے جنوب ہند)، مولانا محمد عظیم اللہ قاسمی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، ڈاکٹر شبیر مشتاق مع پی ایم او ٹیم نے پیش کی۔شرکاء کی تفصیلاس اجلاس میں مختلف صوبوں کے ذمہ داران نے شرکت کی، جن میں مولانا سید محمد عفان منصورپوری، مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی، مولانا محمد عاقل قاسمی، قاری محمد یامین، مولانا محمد قاسم نوری، مولانا آفتاب عالم قاسمی، مولانا عبدالحیی مفتاحی، مفتی جمیل الرحمن قاسمی، مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی، مفتی ظفر احمد قاسمی، مولانا علی حسن مظاہری، مولانا محمد یحییٰ کریمی، مولانا عبداللہ خالد قاسمی، مولانا حبیب اللہ قاسمی، مولانا عبدالواحد کھتری، مولانا الیاس قاسمی، حاجی محمد ہارون، مفتی احمد دیولہ، پروفیسر نثار احمد انصاری، محمد اسلم قریشی، مولانا مفتی جاوید اقبال، مولانا محمد ناظم قاسمی، مولانا شمس تبریز قاسمی، مولانا محمد اکرم تقی قاسمی، مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی، مولانا مفتی شمس الدین بجلی، حافظ سید عاصم عبداللہ، مولانا محمد ابراہیم، مولانا منصور کاشفی، ڈاکٹر قاضی عبدالماجد، مولانا سمیع احمد مظاہری، مولانا عمر فاروق، مفتی شرف الدین قاسمی، مولانا فضل الکریم قاسمی، مولانا عبدالقادر قاسمی، مولانا سعید احمد، مفتی شفیع اللہ قاسمی، مفتی عبدالمومن قاسمی، ماسٹر قمرالزماں شامل ہیں۔اختتامی کلماتمرکزی دفتر سے جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی، ناظم دفتر مولانا نجیب اللہ قاسمی، ڈاکٹر شبیر مشتاق، اویس سلطان، مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی اور عادل نصیر بھی شریک ہوئے۔آخر میں مولانا محمود اسعد مدنی نے انڈمان و نکوبار یونٹ، منتظمین اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ یہ مشاورتی اجلاس ملت کے لیے خیر و برکت اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے۔مفتی شرف الدین قاسمی، صدر جمعیۃ علماء انڈمان و نکوبار نے تمام مہمانوں، اپنے رفقاء اور ہوٹل انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

