ایران جنگ کے اثرات: بھارت میں ایل پی جی کی کھپت میں نمایاں کمی، سپلائی متاثر
نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز):
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے اثرات اب بھارت کی توانائی سپلائی پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت میں ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو گیس کی کھپت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے پہلے نصف میں بھارت میں سرکاری ایندھن فروخت کرنے والی کمپنیوں کی ایل پی جی فروخت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں گیس کی فروخت تقریباً 1.15 ملین میٹرک ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ یہی راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ بھارت اپنی ایل پی جی کی تقریباً 90 فیصد درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیے خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہِ راست اثر بھارت کی توانائی سپلائی اور گیس کی دستیابی پر پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے پیشِ نظر حکام گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے صنعتی اور تجارتی شعبے میں گیس کی فراہمی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

