راگھو چڈھا کی راجیہ سبھا میں آواز: پری پیڈ ڈیٹا پلانز میں بڑی اصلاحات کا مطالبہ
نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)
عام آدمی پارٹی (آپ) کے رکنِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز راجیہ سبھا میں پری پیڈ موبائل ریچارج پلانز میں روزانہ ڈیٹا کی حد کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے صارفین کے حق میں اہم مطالبات پیش کیے۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیاں روزانہ 1.5GB، 2GB یا 3GB ڈیٹا والے پلان فراہم کرتی ہیں، جو ہر 24 گھنٹے بعد ری سیٹ ہو جاتے ہیں۔ اس نظام میں صارفین کی مکمل ادائیگی کے باوجود بچا ہوا ڈیٹا آدھی رات کو ختم ہو جاتا ہے، جو صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے۔راگھو چڈھا نے کہا:”کوئی ریفنڈ نہیں، کوئی ٹرانسفر نہیں، بس ڈیٹا ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک پالیسی ہے — یا تو ڈیٹا جلدی استعمال کریں، ورنہ آدھی رات تک ختم ہو جائے گا۔”انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچا ہوا ڈیٹا ضائع ہونے کے بجائے اگلے دن یا اگلے ریچارج سائیکل میں منتقل ہونا چاہیے۔
اہم مطالبات1. ڈیٹا رول اوور:تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو چاہیے کہ غیر استعمال شدہ ڈیٹا اگلے دن یا اگلے سائیکل میں شامل کریں۔2. رقم میں ایڈجسٹمنٹ:اگر صارف کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے تو اگلے ریچارج میں رعایت یا ایڈجسٹمنٹ دی جائے۔3. ڈیٹا ٹرانسفر کی سہولت:صارفین کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنا بچا ہوا ڈیٹا دوسروں کو منتقل کر سکیں، جیسے مالی لین دین میں ہوتا ہے۔راگھو چڈھا نے کہا کہ غیر استعمال شدہ ڈیٹا کو صارف کی ڈیجیٹل ملکیت تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس کا فائدہ بھی صارف کو ملنا چاہیے۔انہوں نے اس سے قبل 28 دن کے ریچارج سسٹم پر بھی اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طریقہ کار سے صارفین کو سال میں 12 کے بجائے 13 بار ریچارج کرنا پڑتا ہے، جو اضافی مالی بوجھ کا سبب بنتا ہے۔ مزید یہ کہ ریچارج ختم ہونے پر کال اور ایس ایم ایس سروس بند کرنا بھی صارفین کے لیے نقصان دہ ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو سادہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

