علم و تحقیق کی ایک روشن مثال: مولانا نعیم قاسمی کی ڈاکٹریٹ تک کا علمی سفر

علم کی دنیا میں وہی نام زندہ رہتے ہیں جو محنت، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہیں، مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی جو امام و خطیب ڈبیا والی مسجد اندھیریا موڑ اور صدر جمعیۃ علماء جنوبی دہلی کی حیثیت سے اپنی دینی و سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ علمی میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے (DU) سے ڈاکٹریٹ (PhD) کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کی، جو ان کی علمی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ بعنوان “عماد الدین خلیل: حیاتہ و اعمالہ” نہ صرف ایک علمی کاوش ہے بلکہ اسلامی فکر و ادب کے ایک اہم مفکر کی زندگی اور خدمات کو اجاگر کرنے کی سنجیدہ اور بامقصد کوشش بھی ہے۔یہ تحقیقی سفر سن 2019 میں شروع ہوا، جب انہوں نے باقاعدہ طور پر داخلہ لیا۔ کئی برسوں کی مسلسل محنت، مطالعہ، تحقیق اور علمی جستجو کے بعد 2025 میں مقالہ مکمل ہوا، جبکہ 2026 میں انہیں باضابطہ طور پر ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا گیا۔ اس پورے سفر میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر محمود صاحب نے ان کی رہنمائی کی، جن کی علمی سرپرستی نے اس تحقیق کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔مولانا ڈاکٹر نعیم قاسمی کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دینی اور عصری علوم کا امتزاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ انتہائی مفید بھی۔ ایک طرف وہ مسجد کے منبر سے دین کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف علمی تحقیق کے ذریعے فکر و دانش کی نئی راہیں کھولتے ہیں۔ان کا یہ کارنامہ نوجوان طلبہ کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو ذمہ داریوں کے ساتھ بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ علمی و دینی حلقوں کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے علم میں مزید برکت عطا کرے اور انہیں امت کے لیے نافع بنائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *