الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم ریمارک: شادی شدہ مرد کا لیو اِن ریلیشن جرم نہیں

پریاگ راج (نمائندہ خصوصی)

الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے لیو اِن ریلیشن (ہم باشی) سے متعلق ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ خاتون کے ساتھ اس کی رضامندی سے لیو اِن ریلیشن میں رہ رہا ہے تو یہ بذاتِ خود کوئی مجرمانہ عمل نہیں ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کسی عمل کو جرم قرار دینے کے لیے مخصوص قانونی بنیاد ضروری ہوتی ہے، اور محض سماجی یا اخلاقی بنیادوں پر کسی تعلق کو مجرمانہ نہیں کہا جا سکتا۔عدالتی بنچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر دونوں فریق بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے ساتھ رہ رہے ہوں تو اسے فوجداری جرم کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا، البتہ ایسے معاملات میں دیگر قانونی پہلو جیسے ازدواجی حقوق یا خاندانی تنازعات الگ سے زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ماہرین قانون کے مطابق یہ ریمارک موجودہ قانونی تشریح کو واضح کرتا ہے، جس میں لیو اِن ریلیشن کو بذاتِ خود جرم نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس میں زبردستی یا غیر قانونی عناصر شامل نہ ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *