مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی گرفتاری کے معاملے پر اخترالایمان کی جانب سے پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں مبینہ طور پر گرفتاری کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔

پٹنہ (نیشنل اردو ٹائمز): پٹنہ میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں، مختلف مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے مشہور عالم دین اور تعلیمی شخصیت مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی حالیہ گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانفرنس کے دوران، اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کے بہار کے ایم ایل اے اور ریاستی صدر اختر الایمان نے مولانا چترویدی کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کارروائی قرار دیا۔​اختر الایمان نے کہا کہ مولانا چترویدی کی گرفتاری کے پیچھے مبینہ طور پر سیاسی وجوہات اور مذہبی تعصب کارفرما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا نے ہمیشہ امن اور بھائی چارے کا درس دیا ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ان کی گرفتاری سے متعلق ذرائع کے مطابق متعدد شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔​AIMIM ایم ایل اے نے اس معاملے میں فوری مداخلت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اہم آئینی عہدیداروں اور اداروں کو مکتوب روانہ کیے ہیں۔ ان مکتوبات میں بہار کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ، انسانی حقوق کمیشن اور اقلیتی کمیشن شامل ہیں۔ ان خطوط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مولانا عبداللہ سالم چترویدی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے۔​پریس کانفرنس میں شامل تمام رہنماؤں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر مولانا بے قصور ثابت ہوں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مطالبہ کسی فرد واحد کے لیے نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *