راگھو چڈھا کا الزامات پر ردعمل، پارٹی لائن سے انحراف کے دعوے مسترد
India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 20 hours ago
آدھار کارڈ تاریخِ پیدائش کا نہیں بلکہ شناخت کا ثبوت ہے: UIDAI
Articles – مضامین India – بھارت- Est 1 min
- 0 Views
- 20 hours ago
اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہے
Writers – اہل قلم Education – تعلیم- Est 0 min
- 0 Views
- 1 day ago
امریکہ–ایران جنگ بندی کوششوں کو دھچکا، ایران کا مذاکرات سے انکار: رپورٹ
World – بین الاقوامی Politics – سیاست- Est 1 min
- 0 Views
- 1 day ago
مغربی بنگال انتخابات سے قبل بڑا فیصلہ، چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی عہدے سے ہٹائے گئے
India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 days ago
ایران کا امریکی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، سرکاری تصدیق کا انتظار
World – بین الاقوامی Politics – سیاست- Est 1 min
- 0 Views
- 2 days ago
Top 10 News
ملک کے معروف عالمِ دین مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب انتقال کر گئے، علمی حلقوں میں غم کی لہر
راگھو چڈھا کا الزامات پر ردعمل، پارٹی لائن سے انحراف کے دعوے مسترد
آدھار کارڈ تاریخِ پیدائش کا نہیں بلکہ شناخت کا ثبوت ہے: UIDAI
دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، بخاری شریف کے درس سے افتتاح
مغربی بنگال انتخابات سے قبل بڑا فیصلہ، چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی عہدے سے ہٹائے گئے
اتراکھنڈ و گجرات میں یونیفارم سول کوڈ پر اعتراضات، مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت ردِعمل
دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے معاملات پر عدالت کا اظہارِ تشویش، پولیس کو مستعدی کی ہدایت
راگھو چڈھا کو بڑا سیاسی جھٹکا، راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹائے گئے
Sport
News
قطر کا امریکی افواج سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ، میڈیا رپورٹس میں دعویٰ
Videos – ویڈیوز Politics – سیاست- Est 1 min
- 0 Views
- 3 hours ago
راگھو چڈھا کا الزامات پر ردعمل، پارٹی لائن سے انحراف کے دعوے مسترد
India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 20 hours ago
آدھار کارڈ تاریخِ پیدائش کا نہیں بلکہ شناخت کا ثبوت ہے: UIDAI
Articles – مضامین India – بھارت- Est 1 min
- 0 Views
- 20 hours ago
اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہے
Writers – اہل قلم Education – تعلیم- Est 0 min
- 0 Views
- 1 day ago
امریکہ–ایران جنگ بندی کوششوں کو دھچکا، ایران کا مذاکرات سے انکار: رپورٹ
World – بین الاقوامی Politics – سیاست- Est 1 min
- 0 Views
- 1 day ago
مغربی بنگال انتخابات سے قبل بڑا فیصلہ، چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی عہدے سے ہٹائے گئے
India – بھارت Politics – سیاست- Est 0 min
- 0 Views
- 2 days ago
ایران کا امریکی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، سرکاری تصدیق کا انتظار
World – بین الاقوامی Politics – سیاست- Est 1 min
- 0 Views
- 2 days ago
Recent
Posts
قطر کا امریکی افواج سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ، میڈیا رپورٹس میں دعویٰ
دوحہ:مشرقِ وسطیٰ سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ قطر نے اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوجی موجودگی کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق قطری وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملک نے غیر ملکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی ایک بھاری قیمت ادا کی ہے، اور مستقبل میں ایسے فیصلوں پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ قطر کے تعلقات کو “برادرانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطری سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا عزم کیا گیا ہے۔ تاہم ان بیانات کی باضابطہ سرکاری تفصیلات اور مکمل سیاق و سباق ابھی واضح نہیں ہے۔کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور قطر کے تعلقات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم اس سلسلے میں کسی واضح پالیسی تبدیلی یا امریکی افواج کے مکمل انخلاء کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں فوجی و سفارتی معاملات نہایت حساس ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی بڑی پیش رفت کی تصدیق مستند سرکاری ذرائع سے ہونا ضروری ہے۔
وضاحت:یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس
(Euronews، Gulf Times، Al Watan) پر مبنی دعوؤں کا خلاصہ ہے، جس کی مکمل سرکاری تصدیق کا انتظار ہے
انسانی تعلقات کی پر پیچ راہیں اور ہمارے اندازے۔ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
انسانی تعلقات کی اس پیچیدہ دنیا میں، جہاں مفادات کے دھاگے جذبات کے باریک ریشوں سے الجھ کر ایک نادیدہ جال بناتے ہیں، انسان عموماً اپنے گمان کو رہنما بنا لیتا ہے؛ وہی گمان جو کبھی تجربے کی دھوپ میں پگھل جاتا ہے اور کبھی حالات کی آندھی میں بکھر جاتا ہے، آدمی اپنی محدود عقل ودانائی کے ترازو میں لوگوں کو تولتا ہے، اپنے دل کے جھکاؤ کے مطابق کسی کو قریب کر لیتا ہے اور کسی کو دور، اس خیال پر کہ یہی شخص اس کے لیے زیادہ نفع بخش، زیادہ کارآمد اور زیادہ وفادار ثابت ہوگا، مگر زندگی، جو اپنے دامن میں حیرت واستعجاب کے لامتناہی سلسلے سمیٹے ہوتی ہے، بارہا یہ بتاتی ہے کہ انسان کے یہ اندازے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں؛ جس پر وہ بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی سہارا نہیں بنتا، اور جہاں سے امید نہیں ہوتی وہیں سے در رحمت کھول دیا جاتا ہے، اور ایک اجنبی شخص چارہ ساز اور غمگسار بن جاتا ہے۔اسلام سے پہلے مختلف معاشروں میں بھی یہی کیفیت تھی کہ لوگ اپنی جائیداد کی تقسیم میں ذاتی اندازوں اور ذاتی مفادات پر مبنی قیاس آرائیوں کو معیار بناتے تھے؛ جس سے فائدہ متوقع ہوتا، اسے زیادہ دیا جاتا، اور جس سے امید کم ہوتی، اسے محروم کر دیا جاتا، اس طرز فکر میں نہ کوئی توازن تھا نہ کوئی عدل، بلکہ یہ انسانی خواہشات اور وقتی مفادات کا کھیل تھا، قرآن مجید نے آ کر اس غیر منضبط نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور میراث کو ایسے اٹل اصولوں سے وابستہ کر دیا جو نہ زمانے کے ساتھ بدلتے ہیں اور نہ انسان کی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں؛ یعنی رشتۂ پدریت، نسبت فرزندی، زوجیت اور قرابت کے وہ مضبوط بندھن جو انسانی وجود کا حصہ ہیں، نہ کہ وقتی مفاد کی پیداوار۔اسی تناظر میں قرآن کی وہ مختصر مگر معنوی لحاظ سے بے انتہا گہری آیت غور وفکر کی دعوت دیتی ہے: ﴿ءَابَاۤؤُكُمۡ وَأَبۡنَاۤؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَیُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعࣰاۚ﴾ (النساء:11)۔ یہ الفاظ محض میراث کے ایک قانونی حکم کی توضیح نہیں، بلکہ انسانی شعور کو جھنجھوڑ دینے والا ایک اصول ہے، ایک ایسا اصول جو انسان کو اس کی علمی محدودیت کا آئینہ دکھاتا ہے، تم نہیں جانتے کہ تمہارے لیے زیادہ نفع بخش کون ہے—تمہارے باپ یا تمہاری اولاد—یہ اعلان دراصل اس خام خیالی کے طلسم کو توڑ دیتا ہے جس میں انسان اپنے فیصلوں کو قطعی اور اپنے اندازوں کو یقینی سمجھنے لگتا ہے۔معاصر مفسرین نے بھی اس حقیقت کو مختلف زاویوں سے واضح کیا ہے، سید قطب شہید اس انسانی کشمکش کو بڑی لطافت سے بیان کرتے ہیں کہ کبھی انسان اپنی فطری کمزوری کے باعث اولاد کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اس کے اندر ان کے لیے نرم گوشہ زیادہ ہوتا ہے؛ اور کبھی اخلاقی احساس اسے والدین کی طرف جھکا دیتا ہے؛ اور کبھی وہ ان دونوں کے درمیان معلق رہتا ہے، نہ ادھر کا ہوتا ہے نہ ادھر کا، اسی طرح معاشرتی روایات بھی انسان پر دباؤ ڈالتی ہیں اور اسے مخصوص سمت میں لے جاتی ہیں، ایسے میں اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں تسلیم ورضا کی وہ کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اسے اس حقیقت کا ادراک دے کہ علم کامل صرف اللہ کے پاس ہے، اور انسان کے تمام اندازے محض قیاس ہیں۔ابن عاشور اس آیت کے ذریعے جاہلی معیار کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں، وہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ ایک ہی قسم کی ضرورت پیش نہیں آتی؛ کبھی اسے والدین کی حاجت ہوتی ہے، کبھی اولاد کی، اور کبھی کسی کی نہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، ضروریات کا رخ بدلتا رہتا ہے، اور انسان کی زندگی ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھلتی، ایسے میں کسی ایک مفروضے پر اعتماد کر کے فیصلے کرنا گویا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، اس لیے شریعت نے میراث کو ایسے اصولوں سے وابستہ کیا جو تغیر سے ماورا ہیں، تاکہ انصاف قائم رہے اور انسانی خواہشات اس میں دخل نہ دے سکیں۔یہ آیت دراصل ایک ہمہ گیر حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو نہ اپنے مستقبل کا پورا علم ہے اور نہ اپنے تعلقات واختلاط کے انجام کا، جس بیٹے کو آج بے کار سمجھا جا رہا ہے، وہی کل بڑھاپے کا سہارا بن سکتا ہے؛ اور جس رشتہ دار سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، وہی وقت آنے پر ساتھ چھوڑ سکتا ہے، نفع کی صورتیں بھی یکساں نہیں ہوتیں؛ کبھی وہ مادی ہوتی ہیں، کبھی جذباتی، کبھی روحانی، اور کبھی محض ایک دعا کی شکل میں انسان کی زندگی بدل دیتی ہیں۔اسی حقیقت کا عکس ہمیں خاندانی اور سماجی زندگی میں بارہا نظر آتا ہے، انسان کبھی بیوی کو والدین پر ترجیح دیتا ہے یا والدین کو شریک حیات پر، اس خیال میں کہ یہی تعلق زیادہ پائیدار اور فائدہ مند ہے؛ مگر وقت کے ساتھ جب حالات کروٹ لیتے ہیں، تو وہی فیصلے سوال بن جاتے ہیں، کبھی ازدواجی تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے، کبھی جدائی کی نوبت آ جاتی ہے، اور تب احساس ہوتا ہے کہ جن رشتوں کو نظر انداز کیا گیا تھا وہی زیادہ مخلص، زیادہ قریب اور زیادہ نفع بخش تھے۔یہ معاملہ صرف خاندانی دائرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دوستی اور سماجی روابط تک پھیل جاتا ہے، انسان کبھی کسی دوست کو “رفیق جاں” سمجھ کر اس پر اعتماد کی انتہا کر دیتا ہے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو پس پشت ڈال دیتا ہے؛ اور کبھی اس کے برعکس، محض قرابت کی بنیاد پر کسی کو فوقیت دیتا ہے اور حقیقی مخلص لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن وقت، جو ہر حقیقت کو بے نقاب کرنے کی قدرت رکھتا ہے، بالآخر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ یہ ترجیحات اکثر ناقص اندازوں پر مبنی تھیں۔قرآن کا اسلوب یہاں نہایت حکیمانہ ہے؛ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تعلقات ختم کر دو یا کسی سے توقع نہ رکھو، بلکہ وہ معیار بدل دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ تعلقات کو مفاد کے پیمانے سے نہ ناپو، بلکہ حق اور ذمہ داری کے اصول پر قائم کرو، صلہ رحمی، حسن سلوک اور قرابت سے متعلق حقوق اس لیے ادا کرو کہ یہ تم پر لازم ہیں، نہ کہ اس لیے کہ تمہیں ان سے کوئی فوری فائدہ حاصل ہوگا، یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو انسان کو تعلقات کی تجارت سے نکال کر اسے عبادت کے درجے تک لے جاتا ہے۔یہ آیت انسان کے اندر ایک تربیتی انقلاب بھی برپا کرتی ہے، وہ اسے سکھاتی ہے کہ اپنے علم پر غرور نہ کرے، اپنے اندازوں کو حتمی نہ سمجھے، اور اپنی ترجیحات کو مطلق نہ جانے، زندگی کے فیصلے کرتے وقت عاجزی اختیار کرے، اور یہ مان لے کہ حقیقت کے تمام پہلو اس کی نگاہ میں نہیں آ سکتے، بہت سی بھلائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں نقصان دہ محسوس ہوتی ہیں، اور بہت سے فائدے ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں نقصان میں بدل جاتے ہیں۔اسی لیے آیت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ﴿إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا حَكِیمࣰا﴾—گویا یہ اعلان کہ علم کامل بھی اسی کے پاس ہے اور حکمت بالغہ بھی اسی کی صفت ہے، انسان کے لیے اطمینان کا اصل سرچشمہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے فیصلوں پر اعتماد کرے، اس کے مقرر کردہ نظام کو قبول کرے، اور اپنے محدود علم کے باوجود اس کی حکمت پر یقین رکھے۔بالآخر یہی حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان کا کام حساب لگانا نہیں، بلکہ حق ادا کرنا ہے؛ اس کا فریضہ یہ نہیں کہ وہ ہر تعلق کو نفع کے ترازو میں تولے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر رشتے کے ساتھ انصاف کرے؛ کیونکہ جو نفع انسان اپنے ذہن میں تراشتا ہے وہ اکثر سراب ثابت ہوتا ہے، اور جو خیر اللہ اس کے لیے مقدر کرتا ہے وہی حقیقی اور پائیدار ہوتا ہے، چنانچہ دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنے گمان کے بجائے اللہ کے علم پر بھروسہ کرے، اپنی ترجیحات کو خواہش کے بجائے شریعت کے تابع کرے، اور یہ یقین رکھے کہ خیر کا اصل منبع وہی انتخاب ہے جو اللہ انسان کے لیے کرتا ہے، نہ کہ وہ راستہ جو انسان اپنی محدود بصیرت سے چن لیتا ہے۔
راگھو چڈھا کا الزامات پر ردعمل، پارٹی لائن سے انحراف کے دعوے مسترد
نئی دہلی:
راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے عآپ آدمی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ پارٹی لائن پر نہیں چلتے، تاہم انہوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ پارٹی کے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔راگھو چڈھا کے مطابق ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ طور پر ان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔تاحال اس معاملے پر پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہے
اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہےایک بادشاہ نے درویش سے کہا:”مجھے بھی وہ ورد سکھا دو جو تم پڑھتے ہو۔”درویش نے انکار کر دیا۔ بادشاہ نے کسی اور سے وہ ورد سیکھ لیا، مگر جب پڑھا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ بادشاہ نے درویش کو دربار میں بلا کر کہا:”میں نے ورد سیکھ تو لیا ہے لیکن اثر نہیں ہوا، بتاؤ غلطی کہاں ہے؟”درویش مسکرایا اور بادشاہ کے سپاہی کو حکم دیا کہ بادشاہ کو گرفتار کرے۔ سپاہی خاموش رہا۔ پھر بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:”اس درویش کو گرفتار کرو!”فوراً پورا دربار حرکت میں آ گیا اور درویش کو گھیر لیا۔درویش نے کہا:”دیکھ! الفاظ تو ایک جیسے تھے، حکم بھی ایک ہی تھا، لیکن فرق صرف ہماری حیثیت کا ہے۔تیرا حکم سب پر اثر کر گیا اور میرا حکم کسی پر نہ ہوا۔اسی طرح تیرے ورد میں اثر اس لیے نہیں کہ روحانی دنیا میں تیری کوئی حیثیت نہیں۔”الفاظ نہیں، بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی ہی اعمال کو اثر بخشتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ قرآن میں شفا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ پڑھنے والا کس ایمان، کس نیت اور کس کردار کے ساتھ پڑھتا ہے۔قرآن تو شفا ہی شفا ہے۔”عمل کی طاقت الفاظ میں نہیں بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی میں ہے۔قرآن اور اذکار شفا ہیں، مگر اثر صرف نیک نیت اور مخلص دل کو ملتا ہے۔”
امریکہ–ایران جنگ بندی کوششوں کو دھچکا، ایران کا مذاکرات سے انکار: رپورٹ
عالمی ذرائع:
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا ہے جب ایران نے مبینہ طور پر مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی امریکی شرائط کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث ثالثی کی جاری کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔
یہ انکشاف معروف امریکی اخبار The Wall Street Journal کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
وضاحت:
یہ خبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔
دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، بخاری شریف کے درس سے افتتاح
دیوبند:بحمد اللہ دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا باضابطہ آغاز آج حدیث شریف کی معروف کتاب بخاری شریف کے افتتاحی درس سے کیا گیا۔اس موقع پر ادارہ کے مہتمم و استاذ حدیث، حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے درسِ بخاری شریف کے ذریعے نئے تعلیمی سال کا آغاز فرمایا۔ درس کے دوران طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود رہی اور نہایت روحانی و علمی ماحول دیکھنے کو ملا۔اہلِ علم کے مطابق درسِ بخاری شریف سے تعلیمی سال کا آغاز ایک مبارک روایت ہے، جو طلبہ کے لیے علمی و روحانی برکت کا باعث بنتی ہے۔

