Breaking News
مدینہ مسجد گووند پوری دہلی میں تکمیلِ قرآن کی روح پرور تقریب منعقد

نئی دہلی، 25 رمضان المبارک (نیشنل اردو ٹائمز)

ماہِ مقدس رمضان المبارک کی بابرکت اور روحانی فضاؤں میں مدینہ مسجد، گووند پوری نئی دہلی میں پچیسویں شبِ رمضان المبارک کو نمازِ تراویح کے دوران قرآنِ مجید کی تکمیل کی بابرکت سعادت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر مسجد میں ایک روح پرور اور باوقار تقریب منعقد ہوئی جس میں علماء کرام، حفاظِ کرام اور مقامی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر قاری محمد آصف قاسمی نے نمازِ تراویح میں قرآنِ مجید کی تکمیل کرائی، جبکہ سماعت کے فرائض قاری رفیع الدین سلمہ نے انجام دیے۔تکمیلِ قرآن کے بعد منعقدہ مجلس میں قرآنِ کریم کی عظمت، اس کے پیغام اور مسلمانوں کی زندگی میں اس کی اہمیت پر علماء کرام نے تفصیلی روشنی ڈالی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی حضرت مولانا قاری عبد اللہ ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کی عظمت اور حافظِ قرآن کے مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ حافظِ قرآن کو خصوصی فضیلت عطا فرماتا ہے اور حافظِ قرآن کی بدولت اس کے والدین اور دیگر افراد کو بھی عظیم اجر و ثواب نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن کریم سے مضبوط تعلق قائم رکھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی۔اس کے بعد مفتی محمد اسامہ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ قرآن کریم محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں۔اس موقع پر راقم الحروف کی جانب سے حضرت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کو امسال تکمیلِ افتاء پر مبارکباد پیش کی گئی، جس پر حاضرین نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتامی خطاب میں حضرت مولانا محمود احمد قاسمی (امام و خطیب مدینہ مسجد گووند پوری) نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی ضرور دلائیں، کیونکہ دین کی صحیح تعلیم ہی انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر حضرت امام صاحب نے اجتماعی دعا کرائی جس میں امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود، ملک میں امن و سلامتی اور قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کی توفیق کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

آبنائے ہرمز اور پیٹرو ڈالر نظام پر نئی بحث، ایران اور چین کی تیل تجارت پر عالمی توجہ

تہران / بیجنگ / واشنگٹن (نیشنل اردو ٹائمز)مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور عالمی تیل تجارت کے نظام پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون عالمی مالیاتی نظام، خصوصاً پیٹرو ڈالر سسٹم کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیتآبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ امریکی Energy Information Administration (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 17 سے 20 ملین بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔ایران اور چین کی توانائی تجارتبین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ایران اور چین کے درمیان تیل کی تجارت گزشتہ چند برسوں میں بڑھتی رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تجارت میں ادائیگی کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں مقامی کرنسیوں اور متبادل مالیاتی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔چین نے اپنے Cross-Border Interbank Payment System (CIPS) کو بھی وسعت دی ہے، جسے بعض ماہرین مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔پیٹرو ڈالر نظام کیا ہے؟1970 کی دہائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے کے بعد عالمی تیل تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہونے لگی۔ اسی نظام کو عموماً پیٹرو ڈالر سسٹم کہا جاتا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق اس نظام کی وجہ سے ڈالر عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر مضبوط رہا ہے کیونکہ تیل خریدنے والے ممالک کو ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔برکس ممالک اور متبادل نظامحالیہ برسوں میں BRICS ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تجارت میں متبادل کرنسیوں کا استعمال بڑھتا ہے تو اس سے عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ماہرین کی رائےبین الاقوامی اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اب بھی ڈالر میں ہی ہوتا ہے، تاہم عالمی سیاست اور معاشی اتحادوں میں تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں مختلف کرنسیوں کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔

اہم حوالہ جات:

Energy Information Administration (EIA)ReutersBloombergInternational Energy Agency (IEA)

شمالی کوریا نے 10 بیلسٹک میزائل فائر کر دیے، امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کے بعد خطے میں کشیدگی

سیول / پیانگ یانگ، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز)شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد تقریباً 10 بیلسٹک میزائل فائر کر دیے، جس کے بعد مشرقی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔جنوبی کوریا کی فوج اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں (Reuters، Associated Press اور Yonhap News) کے مطابق شمالی کوریا نے یہ میزائل جاپان کے سمندر (Sea of Japan / East Sea) کی سمت داغے۔رپورٹس کے مطابق تمام میزائل سمندر میں جا کر گرے اور کسی ملک یا شہری علاقے کو براہِ راست نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیںماہرین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور جنوبی کوریا بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔ شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنی سلامتی کے خلاف خطرہ قرار دیتا ہے اور اسے اشتعال انگیزی سمجھتا ہے۔پیانگ یانگ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر ایسی فوجی سرگرمیاں جاری رہیں تو وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرتی رہے گی۔عالمی برادری کی تشویشجنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے بھی کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، تاہم اس کے باوجود پیانگ یانگ مسلسل نئے تجربات کرتا رہا ہے۔ماہرین کی رائےدفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات عموماً امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی اور عسکری پیغام دینے کے لیے کیے جاتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں جاری رہیں تو جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

حکومت کا دعویٰ: ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں؛ اپوزیشن اور عوام نے سوال اٹھا دیے

نئی دہلی، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز)

:حکومتِ ہند نے واضح کیا ہے کہ ملک میں خام تیل (Crude Oil) کی فراہمی مستحکم ہے اور پیٹرول و ڈیزل کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔ حکام کے مطابق ملک کی تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں جس کے باعث ایندھن کی سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خطرہ نہیں ہے۔وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی مکمل طور پر مستحکم ہے اور گھریلو طلب کو پورا کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ملک میں ایل پی جی (LPG) کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی اور کسی قسم کی قلت کی اطلاع نہیں ملی۔حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں احتیاط کے طور پر ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عام طور پر روزانہ تقریباً 75 سے 76 لاکھ بکنگ ہوتی ہے، جو بڑھ کر تقریباً 88 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔سجاتا شرما نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر سلنڈر بک نہ کریں اور صرف ضرورت کے وقت ہی بکنگ کریں تاکہ سپلائی کا نظام معمول کے مطابق برقرار رہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت تجارتی صارفین کو ایل پی جی کے بجائے PNG (Piped Natural Gas) استعمال کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے GAIL سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ صارفین کو متبادل توانائی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔حکام کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تجارتی ایل پی جی سلنڈروں کی تقسیم جاری ہے جبکہ ایل پی جی کی آن لائن بکنگ تقریباً 84 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ اسے مستقبل میں 100 فیصد تک بڑھایا جائے۔وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت1,01,469 پیٹرول پمپ (ریٹیل آؤٹ لیٹس)25,605 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرزموجود ہیں جو ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔اپوزیشن اور عوام کا موقفدوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض سماجی حلقوں نے حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی میں تاخیر اور مشکلات کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض شہروں میں گیس کی دستیابی کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے ہیں اور عوام کو سلنڈر حاصل کرنے کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور کسی بڑے بحران کی صورتحال نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اس لیے حکومت اور توانائی کے ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

:Press Information BureauMinistry of Petroleum and Natural Gas

ایران سے متعلق بیان پر تنازع: سنبھل کے سرکل آفیسر سے وضاحت طلب، کئی سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

لکھنؤ / سنبھل، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک پولیس افسر کے متنازع بیان کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) نے سرکل آفیسر کلدیپ کمار سے وضاحت طلب کی ہے، جنہوں نے ایک امن کمیٹی کی میٹنگ کے دوران ایران سے متعلق بیان دیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ میٹنگ رمضان المبارک کے آخری جمعہ (الوداع جمعہ) اور عید الفطر کی نماز کے انتظامات کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی۔ اس اجلاس میں مقامی علما، سماجی رہنما اور پولیس حکام شریک تھے تاکہ مذہبی تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات کی جا سکے۔رپورٹس کے مطابق میٹنگ کے دوران سرکل آفیسر کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر کسی کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کی اتنی فکر ہے تو وہ اس جہاز میں بیٹھ کر ایران چلا جائے جو وہاں پھنسے بھارتی شہریوں کو واپس لانے جا رہا ہے، اور وہاں جا کر ایران کی طرف سے لڑے۔افسر نے مزید کہا کہ اگر بیرونی ممالک کے درمیان ہونے والے تنازعات کا اثر بھارت کے امن و امان پر پڑا تو پولیس سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے لوگوں کو یہ بھی تنبیہ کی کہ جمعہ یا عید کی نماز کے دوران کسی دوسرے ملک کے حق میں نعرے بازی یا پوسٹر نہ لگائے جائیں کیونکہ اس سے مقامی ماحول خراب ہو سکتا ہے۔اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔اس معاملے پر کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ Iqra Hasan، Imran Pratapgarhi اور Ziauddin Bukhari سمیت متعدد رہنماؤں نے اس بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری افسر کو اس طرح کے سیاسی یا اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے اور انتظامیہ کو اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرنی چاہیے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر Asaduddin Owaisi نے بھی اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری ملک میں شہریوں کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی پولیس افسر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ وہ اپنے خیالات کس طرح ظاہر کریں۔دوسری جانب سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سرکل آفیسر سے وضاحت طلب کی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ بیان کس تناظر میں دیا گیا تھا اور آیا اس میں کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔پولیس حکام کے مطابق رمضان اور عید کے موقع پر ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف امن کمیٹی میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ مذہبی تقریبات پرامن طریقے سے انجام دی جا سکیں۔

ذرائع:The Indian Expressدیگر میڈیا رپورٹس

ایپسٹین فائل میں مہاتما گاندھی کا نام ہونے کے دعوے پر تنازع، سوشل میڈیا پر بحث تیز

نئی دہلی، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان سدھانشو ترویدی کے ایک بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس وقت بحث چھڑ گئی جب انہوں نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران مبینہ طور پر کہا کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں مہاتما گاندھی کا نام بھی موجود ہے۔اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے کو تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مہاتما گاندھی کی وفات 30 جنوری 1948 کو ہو گئی تھی جبکہ جیفری ایپسٹین کی پیدائش 20 جنوری 1953 میں ہوئی تھی، اس لیے دونوں کے درمیان کسی قسم کے تعلق یا ملاقات کا امکان نہیں بنتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور کئی افراد نے اسے تاریخی معلومات کے برخلاف قرار دیتے ہوئے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض صارفین نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے غیر ضروری سیاسی تنازع پیدا ہوتا ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے کچھ حامیوں کا کہنا ہے کہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے اور مکمل ویڈیو سامنے آنے کے بعد ہی اس کے اصل مطلب کو سمجھا جا سکتا ہے۔اب تک اس معاملے پر سدھانشو ترویدی کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم سوشل میڈیا پر یہ موضوع مسلسل زیر بحث ہے۔

ایپسٹین کون تھا؟جیفری ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھا جس پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ 2019 میں اس کی گرفتاری کے بعد اس کے روابط سے متعلق متعدد دستاویزات اور عدالتی ریکارڈ منظر عام پر آئے جس میں کئی عالمی شخصیات کے نام زیر بحث رہے۔

تاریخی حقیقت

مہاتما گاندھی کی وفات: 30 جنوری 1948جیفری ایپسٹین کی پیدائش: 20 جنوری 1953اس بنیاد پر ماہرین کے مطابق دونوں کے درمیان کسی حقیقی تعلق کا دعویٰ تاریخی طور پر درست ثابت نہیں ہوتا۔

Indian ExpressHindustan TimesReuters

(پس منظر معلومات)

مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ کا سخت تبصرہ

اگر امن و امان برقرار نہیں رکھ سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں: عدالت

پریاگ راج، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ کو یہ خدشہ ہے کہ مسجد میں زیادہ نمازیوں کی آمد سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے تو متعلقہ افسران کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔یہ ریمارکس الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے ایک عرضی کی سماعت کے دوران دیے جس میں سنبھل میں واقع ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے صرف 20 افراد کو اجازت دینے کے انتظامی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ پابندی آئین ہند کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے۔عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ قانون و انتظام برقرار رکھنا ریاست اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس بنیاد پر عبادت کے حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ (DM) اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ نمازیوں کی موجودگی سے حالات سنبھالنا ممکن نہیں تو انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ یہ پابندی ممکنہ امن و امان کے خدشات کے پیش نظر عائد کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کا کام لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں محدود کرنا۔سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو مزید دستاویزات اور تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ تبصرہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم عدالتی موقف کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرنے کی یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔

پس منظر

ضلع سنبھل میں حالیہ دنوں میں مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرنے کے انتظامی فیصلے کے بعد یہ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد آتے ہیں اور ایسی پابندیاں مذہبی آزادی کو متاثر کرتی ہیں۔

The Indian ExpressLive LawHindustan Times

چین نے ایران میں اسکول حملے میں جاں بحق بچوں کے خاندانوں کے لیے دو لاکھ ڈالر انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امداد ریڈ کراس کے ذریعے ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو دی جائے گی۔

china-aid-iran-school-attack

بیجنگ / تہران، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):چین نے ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے دو لاکھ ڈالر کی انسانی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ امداد چین کی ریڈ کراس سوسائٹی کے ذریعے ایران کی ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) سوسائٹی کو فراہم کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی اور انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔چین کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں اور بچوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق بے گناہ شہریوں خصوصاً بچوں پر حملے انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور عالمی برادری کو اس طرح کے واقعات کی واضح مذمت کرنی چاہیے۔چینی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ چین مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا۔ حکام کے مطابق امدادی رقم ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ذریعے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی تاکہ انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ادھر ایرانی حکام کے مطابق اسکول پر ہونے والے حملے میں متعدد بچے جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔چین کی جانب سے اعلان کردہ امداد کو انسانی ہمدردی کے جذبے کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق اس اقدام سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا ملے گا۔

📌 حوالہ جات (Sources)

چین کی وزارت خارجہ کا بیان

چین کی ریڈ کراس سوسائٹی

ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیاں (رائٹرز / شنہوا)

اٹلی کا اہم اعلان: ایران کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے — وزیر اعظم جارجیا میلونی

نیشنل اردو ٹائمز | روم

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شریک ہوگا۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اٹلی کی حکومت موجودہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کسی ایسے فوجی اتحاد یا کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی جس کا مقصد ایران کے خلاف جنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔جارجیا میلونی کے اس بیان کو عالمی سیاست میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

#Italy #Iran #MiddleEast #BreakingNews

نوجوان محمد اریب کے قتل کا دردناک واقعہ۔ ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند کی سربراہی میں ایک وفد کی اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت

نیشنل اردو ٹائمز | نئی دہلی

پرانی دہلی کے علاقہ کوچہ چیلان سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد اریب کے دلخراش قتل کے واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق محمد اریب اسکریپ کے کاروبار سے وابستہ تھے اور چند روز قبل لاپتہ ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ان کی لاش کے مختلف ٹکڑے فرید آباد کے جنگلات سے برآمد ہوئے، جس کے بعد اہلِ خانہ اور علاقے کے لوگوں میں شدید صدمہ اور غم کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس نے بعض ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔گزشتہ روز بعد نمازِ مغرب مولانا محمد حکیم الدین قاسمی مرحوم محمد اریب کی تدفین میں شریک ہوئے اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔ بعد ازاں نمازِ تراویح کے بعد ان کی قیادت میں ایک وفد مرحوم کے گھر پہنچا اور ان کے والد شکیل احمد سمیت دیگر اہلِ خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کی۔اس موقع پر وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام پہنچایا اور اہلِ خانہ کو صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، مگر ایسے حالات میں صبر اور حوصلہ ہی مومن کا سہارا ہوتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جمعیۃ علماء ہند متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔وفد میں جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ذمہ داران مولانا محمد قاسم نوری، مولانا قاری محمد عارف قاسمی، مولانا محمد یوسف اعظمی اور حاجی محمد اسعد میاں کے علاوہ مرکزی دفتر سے مفتی ذاکر حسین قاسمی اور حافظ ابوبکر بھی شامل تھے۔جمعیۃ علماء ہند نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین قتل کی غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار تحقیقات کر کے تمام قصورواروں کو سخت سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں امن و امان برقرار رہے۔