Breaking News
مولانا عبداللہ سالم چترویدی گرفتار، 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا

بہرائچ / کشن گنج:مولانا عبداللہ سالم چترویدی کو اتر پردیش پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں بہار کے ضلع کشن گنج سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد اتر پردیش ایس ٹی ایف نے اس معاملے میں مزید کارروائی کی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق مولانا پر ایک مذہبی اجتماع کے دوران اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی والدہ کے حوالے سے مبینہ طور پر قابلِ اعتراض بیان دینے کا الزام ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل (جوڈیشل ریمانڈ) میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔تاحال اس معاملے میں مولانا عبداللہ سالم چترویدی یا ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ کیس کی مزید جانچ جاری ہے۔ نوٹ:یہ خبر دستیاب ابتدائی معلومات پر مبنی ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

اسرائیل کے شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ، ایران سے میزائل لانچ کی نشاندہی

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیل نے اپنے شمالی علاقوں میں ابتدائی وارننگ جاری کر دی ہے، جب ایران کی جانب سے میزائل لانچ ہونے کی نشاندہی ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے میزائل لانچ کا سراغ لگاتے ہی شہریوں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا، جبکہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر سائرن بجنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج چکے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے حملوں اور الرٹس میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

کمال مولا مسجد معاملہ: ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج

بھوپال (اسٹاف رپورٹر):کمال مولا مسجد سے متعلق جاری تنازع میں مسلم فریق نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ پر مکمل طور پر اعتراضات پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا سپریم کورٹ میں جانا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں تمام فریقین کے دلائل اور شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔یہ تنازع پہلے ہی ملک میں مذہبی اور قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور اب سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد اس کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

مسلم طالب علم کو دہشت گرد کہنے والے پروفیسر کا ردِعمل، یو نیورسٹی کی کارروائی

بنگلورو (اسٹاف رپورٹر):
بنگلورو کی ایک یونیورسٹی میں پیش آئے ایک واقعے نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ایک پروفیسر کی جانب سے مسلم طالب علم کو مبینہ طور پر "دہشت گرد” کہنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پروفیسر کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر پروفیسر کو معطل کر دیا گیا، جبکہ انہوں نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کلاس روم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں پروفیسر ایک مسلم طالب علم سے نامناسب انداز میں گفتگو کرتے نظر آئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پروفیسر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پروفیسر کے خلاف بھارتی تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ طالب علم کی جانب سے بھی شکایت درج کرائی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات نہ صرف ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ طلبہ کے درمیان خوف اور عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں فوری اور منصفانہ کارروائی ضروری ہے۔

مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی کی گرفتاری، حلقوں میں تشویش

کشن کنج، بہار (اسٹاف رپورٹر):مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی کو آج حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد ان سے وابستہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرفتاری کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں، تاہم متعلقہ ادارے اس معاملے کی مزید جانچ میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق قانونی کارروائی جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔دوسری جانب ان کے چاہنے والوں اور متعلقین کی جانب سے ان کی سلامتی اور جلد رہائی کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں مصدقہ معلومات کا انتظار کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا افواہ سے بچا جا سکے۔

جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی شاہی امام سے ملاقات، والدہ کے انتقال پر تعزیت

نئی دہلی (اسٹاف رپورٹر):جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی سربراہی میں جامع مسجد دہلی پہنچا، جہاں وفد نے مولانا سید احمد بخاری سے ملاقات کر کے ان کی والدہ محترمہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور تعزیت پیش کی۔اس موقع پر وفد نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا پیغامِ تعزیت بھی پہنچایا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا:“والدین کا سایہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، ان کی جدائی ایک ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس غم کی گھڑی میں مولانا سید احمد بخاری، سید طارق بخاری، سید یحییٰ بخاری اور سید حسن بخاری سمیت تمام اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، اور مرحومہ کے لیے مغفرت اور بلند درجات کی دعا کرتے ہیں۔ملاقات کے دوران شاہی امام نے بتایا کہ ان کی والدہ کی عمر 95 برس تھی اور وہ آخری وقت تک الحمدللہ صحت مند تھیں۔ وفد نے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا۔اس موقع پر نائب امام مولانا شعبان سے بھی ملاقات کی گئی اور ان سے بھی تعزیت پیش کی گئی۔وفد میں مولانا محمد عظیم اللہ صدیقی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی، جناب اسد میاں اور مفتی حسان قاسمی سمیت دیگر ذمہ داران شامل تھے۔

شاہی امام جامع مسجد دہلی کی والدہ محترمہ کے انتقال پر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی تعزیت

دہلی (اسٹاف رپورٹر):جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے مولانا سید احمد بخاری کی والدہ محترمہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتِ مسنونہ پیش کی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ والدہ کا انتقال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور اس غم کی گھڑی میں وہ شاہی امام صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مرحومہ کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دعا کی، نیز پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔اس موقع پر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کے دیگر ذمہ داران نے بھی مرحومہ کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

تعزیت کنندگان : مولانا محمد قاسم نوری قاسمی — صدر

مولانا عبدالغفار — نائب صدر

مفتی خلیل احمد قاسمی — نائب صدر

مولانا ارشاد حسین قاسمی — نائب صدر

مولانا قاری محمد عارف قاسمی — نائب صدر

قاری محمد سلیم صاحب — خازن

مولانا آفتاب عالم صدیقی — جنرل سکریٹری

قاری اظہارالحق جوہر قاسمی — ایڈیشنل سکریٹری

مفتی محمد انصار الحق قاسمی — ناظم تنظیم

دیگر اراکین:مفتی محمد حسان قاسمی، مفتی محمد سلمان قاسمی، مولانا محمد جاوید صدیقی، قاری ارشاد ربانی، مولانا عبدالسلام قاسمی، مفتی محمد قاسم قاسمی، محمد طاہر حسین ارشی، حافظ محمد یوسف اعظمی، مولانا محمد شمیم قاسمی (ناظم)مفتی نثار احمد قاسمی، مولانا محمد شمیم (نائب ناظم)

اسرائیل میں 24 گھنٹوں کے دوران 40 بار خطرے کے سائرن بج اٹھے

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):اسرائیل میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 40 مرتبہ خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔اسرائیلی ریڈیو کے مطابق یہ سائرن ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر بجائے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ پناہ گاہوں کی طرف منتقل ہونے لگے۔رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران اور دیگر طاقتوں کے ساتھ تنازع، اس طرح کے واقعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

تل ابیب میں لاکھوں افراد سڑکوں پر، جنگ بندی کا مطالبہ

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک):تل ابیب میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور جاری جنگ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے بنیامین نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل جنگ نے خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، لہٰذا فوری طور پر جنگ بند کی جائے۔رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی بھی عروج پر ہے۔

جامع مسجد دہلی کے شاہی امام کی والدہ کا انتقال، نمازِ جنازہ آج مغرب کے بعد

دہلی (اسٹاف رپورٹر)

مولانا سید احمد بخاری کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔خاندانی ذرائع کے مطابق نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ مغرب جامع مسجد دہلی میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین جامع مسجد کمپلیکس کے قدیم قبرستان، گیٹ نمبر 4 میں عمل میں آئے گی۔اہلِ خانہ، علما اور عقیدت مندوں سے نمازِ جنازہ میں شرکت اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی گئی ہے۔