Breaking News
کوچی میں بحری مشق IMEX TTX 2026، بحرِ ہند خطے میں سیکیورٹی تعاون پر زور

(بین الاقوامی ڈیسک)

بھارتی بحریہ نے IONS Maritime Exercise (IMEX) TTX 2026

کا انعقاد میری ٹائم وارفیئر سینٹر، کوچی میں 27 مارچ 2026 کو کیا۔اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں Indian Ocean Naval Symposium (IONS) کے رکن ممالک کی بحری افواج، IOS SAGAR کے بین الاقوامی افسران اور بھارتی بحریہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں بحرِ ہند کے خطے میں درپیش غیر روایتی سمندری سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس مشق میں بنگلہ دیش، فرانس، انڈونیشیا، کینیا، مالدیپ، ماریشس، میانمار، سیشلز، سنگاپور، سری لنکا، تنزانیہ اور تیمور-لیستے سمیت متعدد ممالک نے شرکت کی۔ماہرین کے مطابق یہ کثیر الملکی شرکت خطے میں باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور مشترکہ بحری سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔واضح رہے کہ بھارت 2026 سے 2028 تک IONS کی صدارت سنبھال رہا ہے، جو 16 سال بعد اس کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

لبنان میں صحافیوں کی ہلاکت پر ایران کا شدید ردعمل، اسرائیل کی مذمت

بیروت (بین الاقوامی ڈیسک):عباس عراقچی نے لبنان میں تین صحافیوں کی ہلاکت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں تین صحافی جاں بحق ہو گئے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔Reuters +1ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں معروف میڈیا اداروں سے وابستہ صحافی شامل تھے، جبکہ لبنان کی حکومت نے بھی اس واقعے کو “جنگی جرم” قرار دیا ہے۔ The Guardianماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران صحافیوں کے لیے حالات انتہائی خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، اور اس طرح کے واقعات عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کا بیان، سعودی ولی عہد سے متعلق تبصرہ زیرِ بحث

واشنگٹن (بین الاقوامی ڈیسک)

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران محمد بن سلمان سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ:“انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ انہیں میری خوشامد کرنی پڑے گی، اور اب انہیں میرے ساتھ نرمی اور اچھا برتاؤ کرنا ہوگا۔”یہ بیان سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے تناظر میں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، بالخصوص ایران اور اسرائیل سے جڑی کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے بیانات مزید سفارتی پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔

نیپال کے سابق وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ گرفتار

کھٹمنڈو (بین الاقوامی ڈیسک)

نیپال میں بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق وزیرِاعظم اور سابق وزیرِداخلہ کو ان کے مبینہ پرانے کرتوتوں اور بدعنوانی کے معاملات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی احتسابی اداروں کی جانب سے کی گئی، جس میں کئی پرانے مقدمات کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ذرائع کے مطابق تحقیقات کافی عرصے سے جاری تھیں اور شواہد سامنے آنے کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں نیپال کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات بھی متوقع ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران روس کا بڑا فیصلہ: پیٹرول برآمدات عارضی طور پر بند

ماسکو (بین الاقوامی ڈیسک)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ-ایران کشیدگی کے پس منظر میں روس نے یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارتِ توانائی کو اس سلسلے میں باضابطہ تجویز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ قدم ملک کے اندر ایندھن کی فراہمی کو برقرار رکھنے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ روس یومیہ تقریباً 1.2 سے 1.7 لاکھ بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے، اور اس فیصلے کے اثرات چین، ترکی، برازیل، افریقہ کے کئی ممالک اور سنگاپور سمیت دیگر خطوں پر پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں مزید بے یقینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

جے پور میں پرنٹنگ انڈسٹری نمائش، راجستھان میں ترقی کے نئے مواقع: دیا کماری

جے پور (نمائندہ خصوصی)

راجستھان کی نائب وزیر اعلیٰ نے جے پور میں منعقدہ پرنٹنگ انڈسٹری نمائش کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے پروگرامز صنعت کے فروغ اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں سیکھنے اور دیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے، جو اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ راجستھان میں اس نمائش کا دوسری بار انعقاد خوش آئند ہے اور اسے آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔دیا کماری نے مزید کہا کہ راجستھان ہر شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس طرح کے صنعتی پروگرامز نہ صرف نئے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو اس صنعت کی جانب راغب بھی کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے ایونٹس ریاست میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دارالعلوم وقف دیوبند میں داخلہ امتحانات شروع، ہزاروں طلبہ شریک

دیوبند (نمائندہ خصوصی)

میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلہ امتحانات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے آئے ہزاروں طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔امتحانات کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ نظم و ضبط کے ساتھ ہال میں بیٹھ کر امتحان دے رہے ہیں۔ ادارے کی جانب سے امتحانی نظام کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے خصوصی نگرانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق داخلہ امتحانات مختلف درجات کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو آئندہ تعلیمی سال میں داخلہ دیا جائے گا۔ اس موقع پر طلبہ میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ادارہ کے ذمہ داران نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک کے مختلف علاقوں سے طلبہ بڑی تعداد میں یہاں پہنچے ہیں، جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس تاریخی ادارے کا انتخاب کرتے ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم ریمارک: شادی شدہ مرد کا لیو اِن ریلیشن جرم نہیں

پریاگ راج (نمائندہ خصوصی)

الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے لیو اِن ریلیشن (ہم باشی) سے متعلق ایک اہم ریمارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ خاتون کے ساتھ اس کی رضامندی سے لیو اِن ریلیشن میں رہ رہا ہے تو یہ بذاتِ خود کوئی مجرمانہ عمل نہیں ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کسی عمل کو جرم قرار دینے کے لیے مخصوص قانونی بنیاد ضروری ہوتی ہے، اور محض سماجی یا اخلاقی بنیادوں پر کسی تعلق کو مجرمانہ نہیں کہا جا سکتا۔عدالتی بنچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر دونوں فریق بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے ساتھ رہ رہے ہوں تو اسے فوجداری جرم کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا، البتہ ایسے معاملات میں دیگر قانونی پہلو جیسے ازدواجی حقوق یا خاندانی تنازعات الگ سے زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ماہرین قانون کے مطابق یہ ریمارک موجودہ قانونی تشریح کو واضح کرتا ہے، جس میں لیو اِن ریلیشن کو بذاتِ خود جرم نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس میں زبردستی یا غیر قانونی عناصر شامل نہ ہوں۔

این سی ای آر ٹی تنازع: سپریم کورٹ کی کارروائی اور نصاب میں مداخلت پر بحث تیز

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کی درسی کتابوں سے متعلق تنازع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں عدالت کی جانب سے سخت اقدامات کے بعد نصاب اور عدلیہ کے تعلق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کے مصنفین کو بلیک لسٹ کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے 26 فروری کو اس کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، کیونکہ اس میں عدلیہ میں بدعنوانی اور مقدمات کے بوجھ جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس باب پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں این سی ای آر ٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے عدلیہ کے لیے اپنے "اعلیٰ احترام” کا اظہار کیا اور باب کو دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔عدالت نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈی پی ساکلانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور بعد میں مصنفین کی نشاندہی ہونے پر سرکاری و عوامی اداروں کو ہدایت دی کہ ان افراد کو ملازمت نہ دی جائے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کتاب میں عدلیہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر اداروں جیسے پارلیمنٹ اور انتخابی نظام پر محدود یا نرم تنقید کی گئی۔ عدالت نے اسے حقائق کی "جان بوجھ کر غلط پیشکش” قرار دیا۔ پس منظر اور اہم سوالاتماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک کتاب تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ نصاب کی تیاری میں حکومت یا عدلیہ کی مداخلت کہاں تک درست ہے۔ این سی ای آر ٹی، اگرچہ ایک خود مختار ادارہ ہے، لیکن اس پر پہلے بھی حکومتی اثر و رسوخ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں درسی کتابوں سے ارتقاء (Darwin Theory)، 2002 گجرات فسادات اور بابری مسجد جیسے موضوعات کو ہٹانے پر بھی بحث ہوئی تھی، جسے "ریشنیلائزیشن” قرار دیا گیا تھا۔ تجزیہماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی مواد کا ہونا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہو، تاہم اداروں کی ساکھ اور آئینی حدود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں مختلف اداروں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

اسرائیلی فوج تھک چکی ہے، الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی بھرتی کا مطالبہ

تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک)

اسرائیل کے اپوزیشن رہنما نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج طویل عرصے سے جاری تنازعات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے اور اب ریزرو فوجی تھک چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریزرو فورسز سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں، جس کے پیش نظر فوجی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔یائر لیپڈ نے مطالبہ کیا کہ الٹرا آرتھوڈوکس (حریدی) یہودیوں کو بھی لازمی طور پر فوج میں شامل کیا جائے تاکہ فوجی بوجھ کو تقسیم کیا جا سکے اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو مختلف محاذوں پر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور فوج پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس تجویز پر عمل ہوتا ہے تو یہ اسرائیل کے اندر ایک بڑی سماجی اور سیاسی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔