Breaking News
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا 2 روزہ اجلاس شروع، تحفظِ مدارس اور یکساں سول کوڈ سمیت اہم امور زیر غور

نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا 2 روزہ اہم اجلاس آج سہ پہر مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کے زیر صدارت شروع ہوا، جس میں ملک و ملت کو درپیش اہم قومی، ملی اور تنظیمی مسائل پر تفصیلی غور و خوض جاری ہے۔اجلاس کے آغاز میں ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کرائی۔ توثیق کے بعد مختلف اہم ایجنڈوں پر مرحلہ وار بحث کا سلسلہ شروع ہوا۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ کے لیے مؤثر تدابیر، یکساں سول کوڈ کے نام پر دستوری حقوق سلب کرنے کی کوششوں، فتنۂ ارتداد کے انسداد، اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری اقدامات اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کی حمایت اور ان کے ساتھ مشارکت کے مسئلے پر جمعیۃ علماء ہند کی دیرینہ اور اصولی پالیسی کی روشنی میں تنظیم کا واضح اور مؤثر موقف سامنے لایا جائے گا تاکہ جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ کارکنان کو رہنمائی مل سکے۔اجلاس کی پہلی نشستاجلاس کی پہلی نشست میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، خازن جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری شوکت علی، صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ کشمیری، نائب امیر الہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری، مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری (صدر جمعیۃ علماء یوپی)، مولانا عبدالقوی (حیدرآباد، صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ)، مولانا عبداللہ معروفی (دارالعلوم دیوبند)، مولانا نیاز احمد فاروقی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، حاجی محمد ہارون (صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش)، مولانا محمد ابراہیم (صدر جمعیۃ علماء کیرالہ)، مولانا عبدالقادر (نائب صدر جمعیۃ علماء آسام)، مفتی محمد جاوید اقبال (صدر جمعیۃ علماء بہار) اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد ناظم، مولانا یحییٰ کریمی (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب)، مولانا رفیق احمد مظاہری، مولانا محمد عاقل (جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی)، مفتی محمد راشد اعظمی (نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مفتی عبدالرزاق امروہوی (استاذ دارالعلوم دیوبند)، مولانا عبدالقدوس پالَن پوری (نائب صدر جمعیۃ علماء گجرات)، مولانا کلیم اللہ قاسمی (نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی)، حافظ عبید اللہ (بنارس)، حافظ ندیم صدیقی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا)، مولانا سراج الدین چشتی (اجمیر)، مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) و ناظم اعلیٰ مولانا شمس الدین بجلی، مولانا سید سعید حبیب احمد (پونچھ)، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی (الہ آباد) اور مولانا اشفاق احمد قاضی (ممبئی) شریک ہیں۔

ترکی میں فلسطینی ڈاکٹر کے حق میں علامتی احتجاج، ویڈیو وائرل

ریزا (ترکی):ترکی کے صوبہ ریزا میں ایک ترک ڈاکٹر نے فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک انوکھا علامتی احتجاج کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر نے عوامی مقام پر اپنے ہاتھوں اور گردن کے گرد رسیاں باندھ کر وہ منظر پیش کیا، جو مبینہ طور پر غزہ میں گرفتار کیے گئے فلسطینی ڈاکٹر کی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔یاد رہے کہ فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہیں 2024 کے آخر میں غزہ کے ایک اسپتال میں خدمات انجام دینے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے مختلف ذرائع میں تفصیلات مختلف انداز میں بیان کی جا رہی ہیں۔ترک ڈاکٹر کے اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں بعض صارفین اسے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

وضاحت:یہ خبر میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی مکمل تصدیق مختلف ذرائع سے مختلف انداز میں سامنے آ رہی ہے۔

بڑی رقم کی ڈیجیٹل ادائیگی میں تاخیر ممکن، سیکیورٹی جانچ سخت

نئی دہلی:
ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں نئی ہدایات کے تحت اب 10 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم کی منتقلی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بالخصوص یو پی آئی کے ذریعے کی جانے والی بڑی رقم کی منتقلی پر اضافی سیکیورٹی جانچ کی جا رہی ہے، جس کے باعث بعض اوقات لین دین مکمل ہونے میں ایک گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات کو روکنا اور صارفین کے پیسے کو محفوظ بنانا ہے۔
ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی رقم کی منتقلی کے دوران پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور ممکنہ تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر سے کام لیں۔
ڈیجیٹل ادائیگیاں اگرچہ سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ احتیاط اور آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔

: وضاحت
یہ ہدایات سیکیورٹی اقدامات کے تحت بتائی جا رہی ہیں، تفصیلی سرکاری اعلان کی صورت میں مزید اپڈیٹ کیا جائے گا۔

ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ، آبنائے ہرمز میں مبینہ فیس وصولی فوری روکنے کا مطالبہ

واشنگٹن:امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ایران کی مبینہ سرگرمیوں اور تیل بردار جہازوں سے فیس وصولی کی خبروں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس طرح کی سرگرمیوں کو بند کرے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات عالمی تجارت اور سمندری آمدورفت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔تاہم ایران کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

مسجد اقصیٰ میں اذان کی آواز دوبارہ بلند ہونے کی رپورٹس، صورتحال پر نظر

القدس:مسجد اقصیٰ میں تقریباً 40 دن بعد اذان کی آواز بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع میں نمایاں طور پر شیئر کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق فروری کے اواخر سے مسجد اقصیٰ میں نماز اور عبادات سے متعلق بعض پابندیوں کا ذکر کیا جا رہا تھا، تاہم ان تفصیلات کی مکمل اور باضابطہ تصدیق مختلف ذرائع سے مختلف انداز میں سامنے آ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت کو بعض حلقے معمولات کی جزوی بحالی سے تعبیر کر رہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے زمینی صورتحال اور سرکاری موقف کی مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے متعلق خبریں نہایت حساس نوعیت کی ہوتی ہیں، اس لیے مستند معلومات اور سرکاری بیانات کا انتظار ضروری ہے۔

ملک کے معروف عالمِ دین مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب انتقال کر گئے، علمی حلقوں میں غم کی لہر

میرٹھ | نیشنل اردو ٹائمز

انا للہ وانا الیہ راجعون ملکِ ہندوستان کے مشہور و معروف عالمِ دین، عاشقِ ملت حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب رحمہ اللہ(مہتمم جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ، ضلع میرٹھ، و رکنِ شوریٰ مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارن پور)کا آج بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء وصال ہو گیا۔حضرت والا کی وفات کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ میں گزاری، اور ہزاروں افراد کو اپنے علم و عمل سے فیضیاب کیا۔یقیناً حضرت والا کا انتقال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، جس کی تلافی آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

امریکہ–ایران جنگ بندی کوششوں کو دھچکا، ایران کا مذاکرات سے انکار: رپورٹ

عالمی ذرائع:
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا ہے جب ایران نے مبینہ طور پر مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی امریکی شرائط کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث ثالثی کی جاری کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔
یہ انکشاف معروف امریکی اخبار The Wall Street Journal کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
وضاحت:
یہ خبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

ایران کا امریکی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، سرکاری تصدیق کا انتظار

تہران:ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک امریکی ایف-15 جنگی طیارے کو نشانہ بنا کر گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، تاہم پائلٹ کی حالت کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے ایران کی فضائی حدود کے قریب ہیلی کاپٹر روانہ کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران ایک اور غیر مصدقہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں میں سے ایک تکنیکی خرابی یا ممکنہ واقعے کے باعث تباہ ہو گیا۔تاہم اس واقعے سے متعلق نہ تو امریکی حکام اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی واضح نہیں ہے اور مکمل تصویر سامنے آنے کے لیے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

وضاحت:یہ خبر ابتدائی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔

اتراکھنڈ و گجرات میں یونیفارم سول کوڈ پر اعتراضات، مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت ردِعمل

اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیں: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی:3/اپریل 2026گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو’’ یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو UCC کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراء طلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں UCC نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراء طلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراء کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں UCCکے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔🎙️پریس کو مخاطب کر نے والےمولانا محمد علی محسن تقوی، نائب صدر بورڈ ، امام وخطیب شیعہ جامع مسجد دہلیمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، نائب صدر بورڈ و صدرمرکزی جمیعت اہل حدیث ہندجناب ملک معتصم خان، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، رکن بورڈایڈوکیٹ طاہرایم حکیم، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں

نئی دہلی
دارالحکومت دہلی کے علاقے تغلق آباد میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر چند نوجوان ایک مذہبی مقام کی عمارت کی چھت پر چڑھ کر نازیبا حرکات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک مقامی جلوس (شوبھا یاترا) کے دوران پیش آیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات اور پس منظر کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی بنیاد پر بعض افراد کی شناخت کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق علاقے میں فی الحال حالات معمول پر ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہ دیں۔
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے تاکید کی گئی ہے کہ حساس معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔