Breaking News
جمعیۃ علماء دہلی کی مثالی مساجد کے قیام کے لیے اہم مشاورتی نشست، 50 مساجد کا ہدف مقرر

مثالی مساجد کی تسکیل کے لیے جمعیۃ علماء دہلی کی اہم مشاورتی نشست۔بتاریخ 17 اپریل بروز جمعہ، بعد نمازِ عصر، جمعیۃ علماء ہند کے ہیڈ آفس آئی ٹی او، نئی دہلی کے بورڈ روم میں ایک اہم مشاورتی نشست زیرِ صدارت حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی) منعقد ہوئی۔ اس نشست میں صوبہ دہلی کے تمام اضلاع کے صدور و نظماء حضرات کو مدعو کیا گیا تھا۔مجلس کا مرکزی موضوع "مثالی اضلاع اور مثالی مساجد کے اہداف” تھا۔ واضح رہے کہ انڈمان میں منعقدہ مشاورتی مجلس میں صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی جانب سے 50 مثالی مساجد کے قیام کا عزم پیش کیا گیا تھا، اسی پس منظر میں اس نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔اس موقع پر خصوصی طور پر حضرت مولانا محمد عمر صاحب (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء بنگلور، کرناٹک) نے "مثالی مسجد” کے تصور پر نہایت جامع اور تفصیلی خطاب فرمایا۔ انہوں نے مثالی مسجد کے قیام کو تین مراحل میں تقسیم کیا:1. بنیادی مرحلہ (Basic Level)یہ مرحلہ ہر چھوٹی بڑی مسجد میں شروع کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے تحت درج ذیل 11 امور بیان کیے گئے:( 1) محلہ کا مکمل سروے( 2) منظم مکاتب کا قیام( 3) خواتین کے لیے مکتب( 4) دور دراز یا بیرون ملک بچوں کے لیے آن لائن مکاتب( 5) درسِ قرآن کا باقاعدہ نظام( 6) درسِ حدیث کا اہتمام( 7) جمعیۃ اسٹڈی سینٹر کا قیام( 8) مسجد کے لیے پی آر او (رابطہ کار)( 9) نکاح کونسلنگ( 10) آسک اسلامی اسکالر( 11) بیت المال کا قیامنمبر( 2) معیاری مرحلہ (Standard Level)یہ مرحلہ ان مساجد میں نافذ کیا جائے گا جہاں وسائل اور سہولیات میسر ہوں۔ اس میں 6 امور شامل ہیں:( 1) مکاتب کے ساتھ اسکول ٹیوشن کا نظام( 2) جمعیۃ یوتھ کلب کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت( 3) ابتدائی طبی امداد (First Aid) کیمپس( 4) لڑکیوں کے لیے ڈیولپمنٹ کورسز( 5) اسعد اسپورٹس اکیڈمی کا قیام(6) سیرت النبی ﷺ پر کورس، مسابقہ اور کوئز پروگرامنمبر ( 3 ) اختیاری مرحلہ (Advanced/Optional Level)یہ مرحلہ ان مساجد کے لیے ہے جہاں مزید وسعت اور گنجائش موجود ہو۔ اس کے تحت 6 امور بیان کیے گئے:( 1) غیر اقامتی شعبہ حفظ کا قیام( 2) جیم (Gym) کی سہولت( 3) علماء کو بزنس فورم سے جوڑنا( 4) دینی کتب پر مشتمل لائبریری( 5) سدبھاؤنا منچ (بین المذاہب ہم آہنگی)( 6) محلہ کلینک کا قیاماسی دوران مفتی محمد حرب راشد صاحب نے جمعیۃ علماء ہند کے شعبہ تجارت سے علماء کو جوڑنے کے حوالے سے مختصر مگر نہایت مؤثر گفتگو فرمائی، جس میں علماء کی معاشی خود کفالت پر زور دیا گیا۔اس اہم نشست میں مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی ، مولانا آفتاب عالم صدیقی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مفتی خلیل احمد قاسمی ، مفتی سلمان قاسمی، قاری عارف قاسمی، قاری عبد السمیع صاحب، مفتی محمد انصار الحق قاسمی، مولانا نعیم، مفتی افشاں قاسمی، مفتی حسان، مفتی محمود امینی، مولانا ساجد قاسمی، قاری ارشاد رحمانی، مفتی نعیم مہرولی حافظ نصر الدین صاحب، قاری دانش صاحب اور دیگر معزز حضرات شریک رہے ۔مفتی حشام الدین صاحب قاسمی کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

مجلس عاملہ کا بڑا فیصلہ: یوسی سی کی مخالفت، مدارس کے تحفظ اور اتراکھنڈ کی شرائط واپس لینے کا مطالبہ

جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس مجلس عاملہ میں یوسی سی کے خلاف جد وجہد کا اعلانمدرسوں کو بند کرنے یا نظام میں مداخلت کی کوشش قابل قبول نہیں ، اتراکھنڈ حکومت سے اپنی شرائط واپس لینے کا مطالبہنئی دہلی، 17 اپریل:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا دوروزہ اجلاس، مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت نئی دہلی میں منعقدہواجس میں ملک و ملت کے اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ ٔ خیال ہوا۔ مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء ہند کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیےمجلس قائمہ کی سفارشات کے مطابق نئےشعبوں:شعبۂ تربیت، ماڈل ولیج (جن وکاس سیوا) ، شعبۂ تجارت و صنعت کاری ،شعبۂ مثالی مسجد،شعبۂ رفیق وغیرہ کے قیام کی منظوری دی ۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ، یکساں سول کوڈ، اصلاحِ معاشرہ اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سے متعلق واضح اور دوٹوک موقف بھی اختیار کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں مدارسِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں واضح کیا کہ مدارس کی آزادی میں مداخلت دستورِ ہند کی دفعات 25، 26، 29 اور 30 کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس نے مدرسوں کو بند کرنے یا ان کے نظام میں مداخلت کی ہرکوشش کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میںہر سطح پر قانونی چارہ جوئی اور آئینی جدوجہد کی جائے گی۔ نیز ارباب مدارس سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنی دستاویزات اور حساب و کتاب کی مضبوط تیاری کریں تاکہ کسی بھی قانونی چیلنج کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدرسہ چلانے کے لیے عائدہ کردہ بعض شرائط کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ مجلسِ عاملہ نے واضح کیا کہ مدارس کو کسی تعلیمی بورڈ سے لازمی الحاق پر مجبور کرنااور اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔مجلسِ عاملہ نے اتراکھنڈ ، گجرات وغیرہ کے یکساں سول کوڈ کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئےپرامن اور جمہوری جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں اور اقلیتی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے، قومی سطح پر کنونشن منعقد کرنے، عدالتوں سے رجوع کرنے اور صدرِ جمہوریہ و دیگر ذمہ داران کو میمورنڈ م دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے بھی یہ اپیل کی گئی وہ شریعتِ اسلامیہ پر مضبوطی سے قائم رہیں خصوصاً خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل انصاف کو یقینی بنائیں۔وراثت کی تقسیم میں عورتوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کریں اور طلاق ، نان و نفقہ جیسے معاملات میں شرعی اُصولوں پر عمل پیرا ہوں ۔اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے مجلسِ عاملہ نے اپنی تجویز میں نئی نسل میں بڑھتی ہوئی دینی و اخلاقی کمزوریوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کی تجویز پیش کی۔ ان میں لازمی مکاتب کے قیام، زیادہ سے زیادہ معیاری اسکولوں کا قیام، لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی اداروں اور دینی ماحول سے آراستہ ہاسٹلز کی فراہمی، مسلمانوں کے زیرِ انتظام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں اسلامیات، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، عقائد، اخلاقیات اور معاشرتی تعلیم کی شمولیت، کوچنگ سینٹروں کا قیام، نیز سیرت کوئز اور مختلف تعلیمی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔مزید برآں والدین کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل بنانے کے لیے شادی سے قبل اور بعد میں کونسلنگ اور تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر زور دیا گیا۔ ہمدردانِ ملت سے پُرزور اپیل کی گئی کہ جو بچیاں تعلیم کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتی ہیں، ان کے ایمان و عقائد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور مؤثر تدبیر اختیار کی جائے۔مجلسِ عاملہ نے ایک اہم تجویز میں مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص فلسطین ، غزہ، لبنان ، ایران ، شام ، یمن اور خلیجی خطے کی سنگین انسانی صورتحال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔ تجویز میں کہا گیا کہ جاری جنگ کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین کی ہلاکت، وسیع پیمانے پر تباہی اور نقل مکانی نے پورے خطے کو ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ فوری اور پائیدار جنگ بندی کے ساتھ مسئلۂ فلسطین کا ایک منصفانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔تجویز میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں تعمیرِ نو کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کی متعدد اہم شخصیات کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی، اور ان کی ملی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔نماز جمعہ سے قبل اجلاس مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند کی دعا ء پر مکمل ہوا۔اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند ، مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاری شوکت علی خازن جمعیۃ علماء ہند ، مولانا رحمت اللہ کشمیری صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند، نائب امیر الہندمولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری ، مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماءیوپی، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات ،مولانا عبدالقوی حیدر آباد صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ،مولانا عبداللہ معروفی دارالعلوم دیوبند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃعلماء ہند، حاجی محمد ہارون صدر جمعیۃعلماء ایم پی، مولانا محمد ابراہیم صدر جمعیۃعلماء کیرالہ، مولانا عبدالقادر نائب صدر جمعیۃ علماء آسام، مفتی محمد جاوید اقبال صدر جمعیۃ علماءبہار اور ناظم اعلی مولانا محمد ناظم ، مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب، مولانا رفیق احمدمظاہری،مولانامحمد عاقل جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی، مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مفتی عبدالرزاق امروہوی استاذ دارالعلوم دیوبند،مولانا عبدالقدوس پالن پوری نائب صدر جمعیۃعلماءگجرات، مولانا کلیم اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی، حافظ عبید اللہ بنارس، حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماءمہاراشٹرا، مولانا سراج الدین چشتی اجمیر، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک و ناظم اعلی مولانا شمس الدین بجلی ، مولانا سید سعید حبیب احمد پونچھ، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی الہ آباد، مولانا اشفاق احمد قاضی ممبئی شریک ہوئے ۔

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا 2 روزہ اجلاس شروع، تحفظِ مدارس اور یکساں سول کوڈ سمیت اہم امور زیر غور

نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا 2 روزہ اہم اجلاس آج سہ پہر مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کے زیر صدارت شروع ہوا، جس میں ملک و ملت کو درپیش اہم قومی، ملی اور تنظیمی مسائل پر تفصیلی غور و خوض جاری ہے۔اجلاس کے آغاز میں ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کرائی۔ توثیق کے بعد مختلف اہم ایجنڈوں پر مرحلہ وار بحث کا سلسلہ شروع ہوا۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ کے لیے مؤثر تدابیر، یکساں سول کوڈ کے نام پر دستوری حقوق سلب کرنے کی کوششوں، فتنۂ ارتداد کے انسداد، اصلاحِ معاشرہ کے لیے ضروری اقدامات اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کی حمایت اور ان کے ساتھ مشارکت کے مسئلے پر جمعیۃ علماء ہند کی دیرینہ اور اصولی پالیسی کی روشنی میں تنظیم کا واضح اور مؤثر موقف سامنے لایا جائے گا تاکہ جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ کارکنان کو رہنمائی مل سکے۔اجلاس کی پہلی نشستاجلاس کی پہلی نشست میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، خازن جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری شوکت علی، صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند مولانا رحمت اللہ کشمیری، نائب امیر الہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری، مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری (صدر جمعیۃ علماء یوپی)، مولانا عبدالقوی (حیدرآباد، صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ)، مولانا عبداللہ معروفی (دارالعلوم دیوبند)، مولانا نیاز احمد فاروقی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، حاجی محمد ہارون (صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش)، مولانا محمد ابراہیم (صدر جمعیۃ علماء کیرالہ)، مولانا عبدالقادر (نائب صدر جمعیۃ علماء آسام)، مفتی محمد جاوید اقبال (صدر جمعیۃ علماء بہار) اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد ناظم، مولانا یحییٰ کریمی (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب)، مولانا رفیق احمد مظاہری، مولانا محمد عاقل (جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی)، مفتی محمد راشد اعظمی (نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مفتی عبدالرزاق امروہوی (استاذ دارالعلوم دیوبند)، مولانا عبدالقدوس پالَن پوری (نائب صدر جمعیۃ علماء گجرات)، مولانا کلیم اللہ قاسمی (نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی)، حافظ عبید اللہ (بنارس)، حافظ ندیم صدیقی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا)، مولانا سراج الدین چشتی (اجمیر)، مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) و ناظم اعلیٰ مولانا شمس الدین بجلی، مولانا سید سعید حبیب احمد (پونچھ)، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی (الہ آباد) اور مولانا اشفاق احمد قاضی (ممبئی) شریک ہیں۔

انسانی تعلقات کی پر پیچ راہیں اور ہمارے اندازے۔ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

انسانی تعلقات کی اس پیچیدہ دنیا میں، جہاں مفادات کے دھاگے جذبات کے باریک ریشوں سے الجھ کر ایک نادیدہ جال بناتے ہیں، انسان عموماً اپنے گمان کو رہنما بنا لیتا ہے؛ وہی گمان جو کبھی تجربے کی دھوپ میں پگھل جاتا ہے اور کبھی حالات کی آندھی میں بکھر جاتا ہے، آدمی اپنی محدود عقل ودانائی کے ترازو میں لوگوں کو تولتا ہے، اپنے دل کے جھکاؤ کے مطابق کسی کو قریب کر لیتا ہے اور کسی کو دور، اس خیال پر کہ یہی شخص اس کے لیے زیادہ نفع بخش، زیادہ کارآمد اور زیادہ وفادار ثابت ہوگا، مگر زندگی، جو اپنے دامن میں حیرت واستعجاب کے لامتناہی سلسلے سمیٹے ہوتی ہے، بارہا یہ بتاتی ہے کہ انسان کے یہ اندازے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں؛ جس پر وہ بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی سہارا نہیں بنتا، اور جہاں سے امید نہیں ہوتی وہیں سے در رحمت کھول دیا جاتا ہے، اور ایک اجنبی شخص چارہ ساز اور غمگسار بن جاتا ہے۔اسلام سے پہلے مختلف معاشروں میں بھی یہی کیفیت تھی کہ لوگ اپنی جائیداد کی تقسیم میں ذاتی اندازوں اور ذاتی مفادات پر مبنی قیاس آرائیوں کو معیار بناتے تھے؛ جس سے فائدہ متوقع ہوتا، اسے زیادہ دیا جاتا، اور جس سے امید کم ہوتی، اسے محروم کر دیا جاتا، اس طرز فکر میں نہ کوئی توازن تھا نہ کوئی عدل، بلکہ یہ انسانی خواہشات اور وقتی مفادات کا کھیل تھا، قرآن مجید نے آ کر اس غیر منضبط نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور میراث کو ایسے اٹل اصولوں سے وابستہ کر دیا جو نہ زمانے کے ساتھ بدلتے ہیں اور نہ انسان کی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں؛ یعنی رشتۂ پدریت، نسبت فرزندی، زوجیت اور قرابت کے وہ مضبوط بندھن جو انسانی وجود کا حصہ ہیں، نہ کہ وقتی مفاد کی پیداوار۔اسی تناظر میں قرآن کی وہ مختصر مگر معنوی لحاظ سے بے انتہا گہری آیت غور وفکر کی دعوت دیتی ہے: ﴿ءَابَاۤؤُكُمۡ وَأَبۡنَاۤؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَیُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعࣰاۚ﴾ (النساء:11)۔ یہ الفاظ محض میراث کے ایک قانونی حکم کی توضیح نہیں، بلکہ انسانی شعور کو جھنجھوڑ دینے والا ایک اصول ہے، ایک ایسا اصول جو انسان کو اس کی علمی محدودیت کا آئینہ دکھاتا ہے، تم نہیں جانتے کہ تمہارے لیے زیادہ نفع بخش کون ہے—تمہارے باپ یا تمہاری اولاد—یہ اعلان دراصل اس خام خیالی کے طلسم کو توڑ دیتا ہے جس میں انسان اپنے فیصلوں کو قطعی اور اپنے اندازوں کو یقینی سمجھنے لگتا ہے۔معاصر مفسرین نے بھی اس حقیقت کو مختلف زاویوں سے واضح کیا ہے، سید قطب شہید اس انسانی کشمکش کو بڑی لطافت سے بیان کرتے ہیں کہ کبھی انسان اپنی فطری کمزوری کے باعث اولاد کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ اس کے اندر ان کے لیے نرم گوشہ زیادہ ہوتا ہے؛ اور کبھی اخلاقی احساس اسے والدین کی طرف جھکا دیتا ہے؛ اور کبھی وہ ان دونوں کے درمیان معلق رہتا ہے، نہ ادھر کا ہوتا ہے نہ ادھر کا، اسی طرح معاشرتی روایات بھی انسان پر دباؤ ڈالتی ہیں اور اسے مخصوص سمت میں لے جاتی ہیں، ایسے میں اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں تسلیم ورضا کی وہ کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اسے اس حقیقت کا ادراک دے کہ علم کامل صرف اللہ کے پاس ہے، اور انسان کے تمام اندازے محض قیاس ہیں۔ابن عاشور اس آیت کے ذریعے جاہلی معیار کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں، وہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ ایک ہی قسم کی ضرورت پیش نہیں آتی؛ کبھی اسے والدین کی حاجت ہوتی ہے، کبھی اولاد کی، اور کبھی کسی کی نہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، ضروریات کا رخ بدلتا رہتا ہے، اور انسان کی زندگی ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھلتی، ایسے میں کسی ایک مفروضے پر اعتماد کر کے فیصلے کرنا گویا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، اس لیے شریعت نے میراث کو ایسے اصولوں سے وابستہ کیا جو تغیر سے ماورا ہیں، تاکہ انصاف قائم رہے اور انسانی خواہشات اس میں دخل نہ دے سکیں۔یہ آیت دراصل ایک ہمہ گیر حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو نہ اپنے مستقبل کا پورا علم ہے اور نہ اپنے تعلقات واختلاط کے انجام کا، جس بیٹے کو آج بے کار سمجھا جا رہا ہے، وہی کل بڑھاپے کا سہارا بن سکتا ہے؛ اور جس رشتہ دار سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں، وہی وقت آنے پر ساتھ چھوڑ سکتا ہے، نفع کی صورتیں بھی یکساں نہیں ہوتیں؛ کبھی وہ مادی ہوتی ہیں، کبھی جذباتی، کبھی روحانی، اور کبھی محض ایک دعا کی شکل میں انسان کی زندگی بدل دیتی ہیں۔اسی حقیقت کا عکس ہمیں خاندانی اور سماجی زندگی میں بارہا نظر آتا ہے، انسان کبھی بیوی کو والدین پر ترجیح دیتا ہے یا والدین کو شریک حیات پر، اس خیال میں کہ یہی تعلق زیادہ پائیدار اور فائدہ مند ہے؛ مگر وقت کے ساتھ جب حالات کروٹ لیتے ہیں، تو وہی فیصلے سوال بن جاتے ہیں، کبھی ازدواجی تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے، کبھی جدائی کی نوبت آ جاتی ہے، اور تب احساس ہوتا ہے کہ جن رشتوں کو نظر انداز کیا گیا تھا وہی زیادہ مخلص، زیادہ قریب اور زیادہ نفع بخش تھے۔یہ معاملہ صرف خاندانی دائرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دوستی اور سماجی روابط تک پھیل جاتا ہے، انسان کبھی کسی دوست کو "رفیق جاں” سمجھ کر اس پر اعتماد کی انتہا کر دیتا ہے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو پس پشت ڈال دیتا ہے؛ اور کبھی اس کے برعکس، محض قرابت کی بنیاد پر کسی کو فوقیت دیتا ہے اور حقیقی مخلص لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن وقت، جو ہر حقیقت کو بے نقاب کرنے کی قدرت رکھتا ہے، بالآخر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ یہ ترجیحات اکثر ناقص اندازوں پر مبنی تھیں۔قرآن کا اسلوب یہاں نہایت حکیمانہ ہے؛ وہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تعلقات ختم کر دو یا کسی سے توقع نہ رکھو، بلکہ وہ معیار بدل دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ تعلقات کو مفاد کے پیمانے سے نہ ناپو، بلکہ حق اور ذمہ داری کے اصول پر قائم کرو، صلہ رحمی، حسن سلوک اور قرابت سے متعلق حقوق اس لیے ادا کرو کہ یہ تم پر لازم ہیں، نہ کہ اس لیے کہ تمہیں ان سے کوئی فوری فائدہ حاصل ہوگا، یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو انسان کو تعلقات کی تجارت سے نکال کر اسے عبادت کے درجے تک لے جاتا ہے۔یہ آیت انسان کے اندر ایک تربیتی انقلاب بھی برپا کرتی ہے، وہ اسے سکھاتی ہے کہ اپنے علم پر غرور نہ کرے، اپنے اندازوں کو حتمی نہ سمجھے، اور اپنی ترجیحات کو مطلق نہ جانے، زندگی کے فیصلے کرتے وقت عاجزی اختیار کرے، اور یہ مان لے کہ حقیقت کے تمام پہلو اس کی نگاہ میں نہیں آ سکتے، بہت سی بھلائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ابتدا میں نقصان دہ محسوس ہوتی ہیں، اور بہت سے فائدے ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں نقصان میں بدل جاتے ہیں۔اسی لیے آیت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ﴿إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا حَكِیمࣰا﴾—گویا یہ اعلان کہ علم کامل بھی اسی کے پاس ہے اور حکمت بالغہ بھی اسی کی صفت ہے، انسان کے لیے اطمینان کا اصل سرچشمہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے فیصلوں پر اعتماد کرے، اس کے مقرر کردہ نظام کو قبول کرے، اور اپنے محدود علم کے باوجود اس کی حکمت پر یقین رکھے۔بالآخر یہی حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان کا کام حساب لگانا نہیں، بلکہ حق ادا کرنا ہے؛ اس کا فریضہ یہ نہیں کہ وہ ہر تعلق کو نفع کے ترازو میں تولے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر رشتے کے ساتھ انصاف کرے؛ کیونکہ جو نفع انسان اپنے ذہن میں تراشتا ہے وہ اکثر سراب ثابت ہوتا ہے، اور جو خیر اللہ اس کے لیے مقدر کرتا ہے وہی حقیقی اور پائیدار ہوتا ہے، چنانچہ دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنے گمان کے بجائے اللہ کے علم پر بھروسہ کرے، اپنی ترجیحات کو خواہش کے بجائے شریعت کے تابع کرے، اور یہ یقین رکھے کہ خیر کا اصل منبع وہی انتخاب ہے جو اللہ انسان کے لیے کرتا ہے، نہ کہ وہ راستہ جو انسان اپنی محدود بصیرت سے چن لیتا ہے۔

اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہے

اثر الفاظ میں نہیں، کردار میں ہوتا ہےایک بادشاہ نے درویش سے کہا:”مجھے بھی وہ ورد سکھا دو جو تم پڑھتے ہو۔”درویش نے انکار کر دیا۔ بادشاہ نے کسی اور سے وہ ورد سیکھ لیا، مگر جب پڑھا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ بادشاہ نے درویش کو دربار میں بلا کر کہا:”میں نے ورد سیکھ تو لیا ہے لیکن اثر نہیں ہوا، بتاؤ غلطی کہاں ہے؟”درویش مسکرایا اور بادشاہ کے سپاہی کو حکم دیا کہ بادشاہ کو گرفتار کرے۔ سپاہی خاموش رہا۔ پھر بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:”اس درویش کو گرفتار کرو!”فوراً پورا دربار حرکت میں آ گیا اور درویش کو گھیر لیا۔درویش نے کہا:”دیکھ! الفاظ تو ایک جیسے تھے، حکم بھی ایک ہی تھا، لیکن فرق صرف ہماری حیثیت کا ہے۔تیرا حکم سب پر اثر کر گیا اور میرا حکم کسی پر نہ ہوا۔اسی طرح تیرے ورد میں اثر اس لیے نہیں کہ روحانی دنیا میں تیری کوئی حیثیت نہیں۔”الفاظ نہیں، بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی ہی اعمال کو اثر بخشتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ قرآن میں شفا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ پڑھنے والا کس ایمان، کس نیت اور کس کردار کے ساتھ پڑھتا ہے۔قرآن تو شفا ہی شفا ہے۔”عمل کی طاقت الفاظ میں نہیں بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی میں ہے۔قرآن اور اذکار شفا ہیں، مگر اثر صرف نیک نیت اور مخلص دل کو ملتا ہے۔”

دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، بخاری شریف کے درس سے افتتاح

دیوبند:بحمد اللہ دارالعلوم وقف دیوبند میں نئے تعلیمی سال کا باضابطہ آغاز آج حدیث شریف کی معروف کتاب بخاری شریف کے افتتاحی درس سے کیا گیا۔اس موقع پر ادارہ کے مہتمم و استاذ حدیث، حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے درسِ بخاری شریف کے ذریعے نئے تعلیمی سال کا آغاز فرمایا۔ درس کے دوران طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود رہی اور نہایت روحانی و علمی ماحول دیکھنے کو ملا۔اہلِ علم کے مطابق درسِ بخاری شریف سے تعلیمی سال کا آغاز ایک مبارک روایت ہے، جو طلبہ کے لیے علمی و روحانی برکت کا باعث بنتی ہے۔

مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

مسلم طالب علم کو دہشت گرد کہنے والے پروفیسر کا ردِعمل، یو نیورسٹی کی کارروائی

بنگلورو (اسٹاف رپورٹر):
بنگلورو کی ایک یونیورسٹی میں پیش آئے ایک واقعے نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ایک پروفیسر کی جانب سے مسلم طالب علم کو مبینہ طور پر "دہشت گرد” کہنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پروفیسر کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر پروفیسر کو معطل کر دیا گیا، جبکہ انہوں نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کلاس روم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں پروفیسر ایک مسلم طالب علم سے نامناسب انداز میں گفتگو کرتے نظر آئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پروفیسر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پروفیسر کے خلاف بھارتی تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ طالب علم کی جانب سے بھی شکایت درج کرائی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات نہ صرف ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ طلبہ کے درمیان خوف اور عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں فوری اور منصفانہ کارروائی ضروری ہے۔

جے پور میں پرنٹنگ انڈسٹری نمائش، راجستھان میں ترقی کے نئے مواقع: دیا کماری

جے پور (نمائندہ خصوصی)

راجستھان کی نائب وزیر اعلیٰ نے جے پور میں منعقدہ پرنٹنگ انڈسٹری نمائش کے موقع پر کہا کہ اس طرح کے پروگرامز صنعت کے فروغ اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں سیکھنے اور دیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے، جو اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ راجستھان میں اس نمائش کا دوسری بار انعقاد خوش آئند ہے اور اسے آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔دیا کماری نے مزید کہا کہ راجستھان ہر شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس طرح کے صنعتی پروگرامز نہ صرف نئے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو اس صنعت کی جانب راغب بھی کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے ایونٹس ریاست میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دارالعلوم وقف دیوبند میں داخلہ امتحانات شروع، ہزاروں طلبہ شریک

دیوبند (نمائندہ خصوصی)

میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلہ امتحانات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے آئے ہزاروں طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔امتحانات کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ نظم و ضبط کے ساتھ ہال میں بیٹھ کر امتحان دے رہے ہیں۔ ادارے کی جانب سے امتحانی نظام کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے خصوصی نگرانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق داخلہ امتحانات مختلف درجات کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو آئندہ تعلیمی سال میں داخلہ دیا جائے گا۔ اس موقع پر طلبہ میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ادارہ کے ذمہ داران نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک کے مختلف علاقوں سے طلبہ بڑی تعداد میں یہاں پہنچے ہیں، جو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس تاریخی ادارے کا انتخاب کرتے ہیں۔