Breaking News
مجلس عاملہ کا بڑا فیصلہ: یوسی سی کی مخالفت، مدارس کے تحفظ اور اتراکھنڈ کی شرائط واپس لینے کا مطالبہ

جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس مجلس عاملہ میں یوسی سی کے خلاف جد وجہد کا اعلانمدرسوں کو بند کرنے یا نظام میں مداخلت کی کوشش قابل قبول نہیں ، اتراکھنڈ حکومت سے اپنی شرائط واپس لینے کا مطالبہنئی دہلی، 17 اپریل:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا دوروزہ اجلاس، مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت نئی دہلی میں منعقدہواجس میں ملک و ملت کے اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ ٔ خیال ہوا۔ مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء ہند کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیےمجلس قائمہ کی سفارشات کے مطابق نئےشعبوں:شعبۂ تربیت، ماڈل ولیج (جن وکاس سیوا) ، شعبۂ تجارت و صنعت کاری ،شعبۂ مثالی مسجد،شعبۂ رفیق وغیرہ کے قیام کی منظوری دی ۔اجلاس میں مدارس کے تحفظ، یکساں سول کوڈ، اصلاحِ معاشرہ اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سے متعلق واضح اور دوٹوک موقف بھی اختیار کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں مدارسِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں واضح کیا کہ مدارس کی آزادی میں مداخلت دستورِ ہند کی دفعات 25، 26، 29 اور 30 کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس نے مدرسوں کو بند کرنے یا ان کے نظام میں مداخلت کی ہرکوشش کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میںہر سطح پر قانونی چارہ جوئی اور آئینی جدوجہد کی جائے گی۔ نیز ارباب مدارس سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنی دستاویزات اور حساب و کتاب کی مضبوط تیاری کریں تاکہ کسی بھی قانونی چیلنج کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدرسہ چلانے کے لیے عائدہ کردہ بعض شرائط کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ مجلسِ عاملہ نے واضح کیا کہ مدارس کو کسی تعلیمی بورڈ سے لازمی الحاق پر مجبور کرنااور اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔مجلسِ عاملہ نے اتراکھنڈ ، گجرات وغیرہ کے یکساں سول کوڈ کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئےپرامن اور جمہوری جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں اور اقلیتی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے، قومی سطح پر کنونشن منعقد کرنے، عدالتوں سے رجوع کرنے اور صدرِ جمہوریہ و دیگر ذمہ داران کو میمورنڈ م دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے بھی یہ اپیل کی گئی وہ شریعتِ اسلامیہ پر مضبوطی سے قائم رہیں خصوصاً خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل انصاف کو یقینی بنائیں۔وراثت کی تقسیم میں عورتوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کریں اور طلاق ، نان و نفقہ جیسے معاملات میں شرعی اُصولوں پر عمل پیرا ہوں ۔اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے مجلسِ عاملہ نے اپنی تجویز میں نئی نسل میں بڑھتی ہوئی دینی و اخلاقی کمزوریوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کی تجویز پیش کی۔ ان میں لازمی مکاتب کے قیام، زیادہ سے زیادہ معیاری اسکولوں کا قیام، لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی اداروں اور دینی ماحول سے آراستہ ہاسٹلز کی فراہمی، مسلمانوں کے زیرِ انتظام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں اسلامیات، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، عقائد، اخلاقیات اور معاشرتی تعلیم کی شمولیت، کوچنگ سینٹروں کا قیام، نیز سیرت کوئز اور مختلف تعلیمی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔مزید برآں والدین کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل بنانے کے لیے شادی سے قبل اور بعد میں کونسلنگ اور تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر زور دیا گیا۔ ہمدردانِ ملت سے پُرزور اپیل کی گئی کہ جو بچیاں تعلیم کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتی ہیں، ان کے ایمان و عقائد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور مؤثر تدبیر اختیار کی جائے۔مجلسِ عاملہ نے ایک اہم تجویز میں مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص فلسطین ، غزہ، لبنان ، ایران ، شام ، یمن اور خلیجی خطے کی سنگین انسانی صورتحال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔ تجویز میں کہا گیا کہ جاری جنگ کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین کی ہلاکت، وسیع پیمانے پر تباہی اور نقل مکانی نے پورے خطے کو ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ فوری اور پائیدار جنگ بندی کے ساتھ مسئلۂ فلسطین کا ایک منصفانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔تجویز میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں تعمیرِ نو کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک کی متعدد اہم شخصیات کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی، اور ان کی ملی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔نماز جمعہ سے قبل اجلاس مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند کی دعا ء پر مکمل ہوا۔اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند ، مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاری شوکت علی خازن جمعیۃ علماء ہند ، مولانا رحمت اللہ کشمیری صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند، نائب امیر الہندمولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری ، مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماءیوپی، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات ،مولانا عبدالقوی حیدر آباد صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ،مولانا عبداللہ معروفی دارالعلوم دیوبند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃعلماء ہند، حاجی محمد ہارون صدر جمعیۃعلماء ایم پی، مولانا محمد ابراہیم صدر جمعیۃعلماء کیرالہ، مولانا عبدالقادر نائب صدر جمعیۃ علماء آسام، مفتی محمد جاوید اقبال صدر جمعیۃ علماءبہار اور ناظم اعلی مولانا محمد ناظم ، مولانا یحییٰ کریمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب، مولانا رفیق احمدمظاہری،مولانامحمد عاقل جمعیۃ علماء مغربی زون یوپی، مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مفتی عبدالرزاق امروہوی استاذ دارالعلوم دیوبند،مولانا عبدالقدوس پالن پوری نائب صدر جمعیۃعلماءگجرات، مولانا کلیم اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی، حافظ عبید اللہ بنارس، حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماءمہاراشٹرا، مولانا سراج الدین چشتی اجمیر، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک و ناظم اعلی مولانا شمس الدین بجلی ، مولانا سید سعید حبیب احمد پونچھ، ڈاکٹر ولی اللہ صدیقی الہ آباد، مولانا اشفاق احمد قاضی ممبئی شریک ہوئے ۔

بڑی رقم کی ڈیجیٹل ادائیگی میں تاخیر ممکن، سیکیورٹی جانچ سخت

نئی دہلی:ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں نئی ہدایات کے تحت اب 10 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم کی منتقلی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق بالخصوص یو پی آئی کے ذریعے کی جانے والی بڑی رقم کی منتقلی پر اضافی سیکیورٹی جانچ کی جا رہی ہے، جس کے باعث بعض اوقات لین دین مکمل ہونے میں ایک گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات کو روکنا اور صارفین کے پیسے کو محفوظ بنانا ہے۔ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی رقم کی منتقلی کے دوران پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور ممکنہ تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر سے کام لیں۔ڈیجیٹل ادائیگیاں اگرچہ سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ احتیاط اور آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔

وضاحت:یہ ہدایات سیکیورٹی اقدامات کے تحت بتائی جا رہی ہیں، تفصیلی سرکاری اعلان کی صورت میں مزید اپڈیٹ کیا جائے گا۔

مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کا آج اہم آن لائن خطاب

نئی دہلی:معروف دینی و علمی شخصیت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی دامت برکاتہم العالیہ آج شام 7 بجے ایک اہم عنوان پر آن لائن خطاب فرمائیں گے۔منتظمین کے مطابق یہ خطاب موجودہ حالات اور اہم دینی و سماجی مسائل پر مشتمل ہوگا، جس سے عام مسلمانوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔اس موقع پر تمام اہلِ علم اور عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس آن لائن پروگرام میں شرکت کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں

LIVE دیکھیں:👉 https://www.youtube.com/live/r8yIXsacahM?si=jkUVqfB-rt3vdrKX⁠�📌 نوٹ:خطاب براہِ راست لائیو یوٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا، مقررہ وقت پر شامل ہوں۔

۔

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.

سعودی عرب میں عید الفطر 20 مارچ کو، ہندوستان میں 21 مارچ کو متوقع

ریاض / نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

سعودی عرب میں شوال المکرم 1447 ہجری کا چاند آج بروز 18 مارچ 2026 کو نظر نہیں آیا۔ متعلقہ حکام کے مطابق ملک میں رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔اس اعلان کے بعد سعودی عرب میں عید الفطر بروز جمعہ، 20 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔دوسری جانب ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں عموماً رویت ہلال ایک دن بعد ہوتی ہے، جس کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں عید الفطر بروز ہفتہ، 21 مارچ 2026 کو منائی جائے گی۔ماہرینِ فلکیات اور علماء کرام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک کے سرکاری اعلان کی پیروی کریں اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔📌 اہم نکات:سعودی عرب: جمعہ، 20 مارچ 2026ہندوستان: ہفتہ، 21 مارچ 2026 (متوقع)