Breaking News
این سی ای آر ٹی تنازع: سپریم کورٹ کی کارروائی اور نصاب میں مداخلت پر بحث تیز

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی)

سپریم کورٹ آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کی درسی کتابوں سے متعلق تنازع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں عدالت کی جانب سے سخت اقدامات کے بعد نصاب اور عدلیہ کے تعلق پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کے مصنفین کو بلیک لسٹ کر دیا۔ اس سے قبل عدالت نے 26 فروری کو اس کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، کیونکہ اس میں عدلیہ میں بدعنوانی اور مقدمات کے بوجھ جیسے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس باب پر اعتراض کیا۔ بعد ازاں این سی ای آر ٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے عدلیہ کے لیے اپنے "اعلیٰ احترام” کا اظہار کیا اور باب کو دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔عدالت نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈی پی ساکلانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور بعد میں مصنفین کی نشاندہی ہونے پر سرکاری و عوامی اداروں کو ہدایت دی کہ ان افراد کو ملازمت نہ دی جائے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کتاب میں عدلیہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر اداروں جیسے پارلیمنٹ اور انتخابی نظام پر محدود یا نرم تنقید کی گئی۔ عدالت نے اسے حقائق کی "جان بوجھ کر غلط پیشکش” قرار دیا۔ پس منظر اور اہم سوالاتماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک کتاب تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ نصاب کی تیاری میں حکومت یا عدلیہ کی مداخلت کہاں تک درست ہے۔ این سی ای آر ٹی، اگرچہ ایک خود مختار ادارہ ہے، لیکن اس پر پہلے بھی حکومتی اثر و رسوخ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں درسی کتابوں سے ارتقاء (Darwin Theory)، 2002 گجرات فسادات اور بابری مسجد جیسے موضوعات کو ہٹانے پر بھی بحث ہوئی تھی، جسے "ریشنیلائزیشن” قرار دیا گیا تھا۔ تجزیہماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی مواد کا ہونا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہو، تاہم اداروں کی ساکھ اور آئینی حدود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں مختلف اداروں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

مامون الرشید کے دور کا ایک عجیب واقعہ — ایک رقعہ جس نے جان بچا دی

عباسی خلیفہ کا دور علم و حکمت، سیاست و تدبر اور فہم و فراست کے اعتبار سے اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ تاہم دربارِ خلافت کی پیچیدہ فضا اور اندرونی رقابتیں بعض اوقات ایسے حیران کن واقعات کو جنم دیتی تھیں جو آج بھی عبرت و نصیحت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔انہی حالات میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مامون الرشید اپنے قابل، بااعتماد اور باصلاحیت رفیق سے کسی بات پر سخت ناراض ہو گئے۔ یہ ناراضی بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ خلیفہ نے ایک خفیہ مجلس میں چند معتمد افراد کے ساتھ مل کر عبداللہ بن طاہر کو راستے سے ہٹانے یعنی قتل کروانے کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ معاملہ نہایت رازدارانہ تھا اور اس کی خبر باہر پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی خفیہ مجلس میں عبداللہ بن طاہر کا ایک مخلص اور خیرخواہ دوست بھی موجود تھا۔ اس نے نہایت باریکی سے حالات کا جائزہ لیا اور فوراً سمجھ گیا کہ اس کے دوست کی جان شدید خطرے میں ہے۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر عبداللہ بن طاہر کو خبردار کرنے کا فیصلہ کیا، مگر چونکہ معاملہ حساس تھا اس لیے کھلے الفاظ میں کچھ لکھنا ممکن نہ تھا۔چنانچہ اس نے ایک مختصر سا رقعہ تحریر کیا، جس میں نہ کوئی تفصیل تھی اور نہ کسی سازش کا صریح ذکر، بلکہ نہایت حکیمانہ اور رمز و کنایہ کے انداز میں صرف یہ الفاظ لکھے: “جو شخص اپنے انجام سے بے خبر ہو جائے، وہ دشمن کے وار سے نہیں بلکہ اپنی غفلت سے ہلاک ہوتا ہے۔” یہ رقعہ فوراً عبداللہ بن طاہر تک پہنچا دیا گیا۔عبداللہ بن طاہر چونکہ نہایت ذہین، دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے، انہوں نے اس مختصر پیغام کی گہرائی کو فوراً سمجھ لیا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ حالات معمولی نہیں بلکہ نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تاخیر کیے بغیر اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور نہایت عاجزی، انکساری اور اخلاص کے ساتھ مامون الرشید کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے نہ صرف اپنی وفاداری کا اظہار کیا بلکہ اس انداز میں گفتگو کی کہ ہر ممکن غلط فہمی دور ہو جائے اور دلوں میں پیدا ہونے والی کدورت ختم ہو جائے۔ ان کا یہ رویہ نہایت مؤثر ثابت ہوا۔مامون الرشید، جو خود بھی علم و دانش اور فہم و بصیرت کے حامل تھے، عبداللہ بن طاہر کے اس طرزِ عمل اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور انہوں نے اپنے ارادے سے رجوع کر لیا۔ نہ صرف یہ کہ خطرہ ٹل گیا بلکہ عبداللہ بن طاہر کو پہلے سے زیادہ عزت و اعتماد بھی حاصل ہو گیا۔یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں عقل، حکمت، بروقت فیصلہ اور اخلاص کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر مگر معنی خیز بات انسان کی زندگی بچا دیتی ہے، اور سچی خیرخواہی و عاجزی بڑے سے بڑے خطرے کو بھی ٹال سکتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ہر دور میں کامیابی اور سلامتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

— نیشنل اردو ٹائمز

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.

مدینہ مسجد گووند پوری دہلی میں تکمیلِ قرآن کی روح پرور تقریب منعقد

نئی دہلی، 25 رمضان المبارک (نیشنل اردو ٹائمز)

ماہِ مقدس رمضان المبارک کی بابرکت اور روحانی فضاؤں میں مدینہ مسجد، گووند پوری نئی دہلی میں پچیسویں شبِ رمضان المبارک کو نمازِ تراویح کے دوران قرآنِ مجید کی تکمیل کی بابرکت سعادت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر مسجد میں ایک روح پرور اور باوقار تقریب منعقد ہوئی جس میں علماء کرام، حفاظِ کرام اور مقامی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر قاری محمد آصف قاسمی نے نمازِ تراویح میں قرآنِ مجید کی تکمیل کرائی، جبکہ سماعت کے فرائض قاری رفیع الدین سلمہ نے انجام دیے۔تکمیلِ قرآن کے بعد منعقدہ مجلس میں قرآنِ کریم کی عظمت، اس کے پیغام اور مسلمانوں کی زندگی میں اس کی اہمیت پر علماء کرام نے تفصیلی روشنی ڈالی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی حضرت مولانا قاری عبد اللہ ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کی عظمت اور حافظِ قرآن کے مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ حافظِ قرآن کو خصوصی فضیلت عطا فرماتا ہے اور حافظِ قرآن کی بدولت اس کے والدین اور دیگر افراد کو بھی عظیم اجر و ثواب نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن کریم سے مضبوط تعلق قائم رکھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی۔اس کے بعد مفتی محمد اسامہ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ قرآن کریم محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں۔اس موقع پر راقم الحروف کی جانب سے حضرت مولانا مفتی محمود احمد قاسمی بستوی کو امسال تکمیلِ افتاء پر مبارکباد پیش کی گئی، جس پر حاضرین نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتامی خطاب میں حضرت مولانا محمود احمد قاسمی (امام و خطیب مدینہ مسجد گووند پوری) نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی ضرور دلائیں، کیونکہ دین کی صحیح تعلیم ہی انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر حضرت امام صاحب نے اجتماعی دعا کرائی جس میں امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود، ملک میں امن و سلامتی اور قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کی توفیق کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

*اعلانِ تعطیلات برائے تعلیمی سال 2025-2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام طلباء و طالبات اور معزز سرپرستان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کی سالانہ تعطیلات برائے تعلیمی سال 2025–26 حسبِ ذیل ہوں گی:*21 رمضان المبارک 1447ھ بمطابق 11 مارچ 2026تا6 شوال المکرم 1447ھ بمطابق 26 مارچ 2026تمام نئے اور سابقہ تعلیمی بیچز کی کلاسوں کا باضابطہ آغاز*27 مارچ 2026 بروز جمعہ، ان شاء اللہ سے ہوگا۔*تمام طلباء و طالبات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ:• عشرۂ اخیر میں انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔*• تعطیلات سے قبل اپنی تمام سابقہ ماہانہ فیس جمع کروادیں۔*اللہ تعالیٰ تمام طلباء کو علمِ نافع، اخلاص اور کامیابی عطا فرمائے۔جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء مہدی حسن عینی قاسمیبانی و ڈائریکٹرانڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبندخدیجہ حسن مؤمناتیشریک بانیانڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند🌐 ویب سائٹ: www.iiadeoband.com📞 رابطہ نمبر: 9557113167