Breaking News
مسلمانوں کا پرامن طرزِ عمل اسلام کی حقیقی تصویر: مولانا عارف قاسمی

نئی دہلی (نمائندہ خصوصی):آل انڈیا امام فاؤنڈیشن کے صدر اور جمعیۃ علماءِ صوبۂ دہلی کے نائب صدر نے 23 مارچ 2026 کو اپنے ایک بیان میں ملک میں مسلمانوں کے پرامن طرزِ عمل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن، بھائی چارہ اور سلامتی کا مذہب ہے، جس کی عملی جھلک حالیہ عید الفطر کے موقع پر واضح طور پر دیکھنے کو ملی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے تہوار الگ الگ منائے جاتے ہیں، لیکن مسلمانوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ عید الفطر اور عید الاضحی جیسے اہم تہوار اجتماعی طور پر اور اتحاد کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس میں مسلکی اختلافات رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ سب ایک صف میں کھڑے ہو کر عبادت انجام دیتے ہیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً پچیس کروڑ مسلمان آباد ہیں، جنہوں نے چند روز قبل عید الفطر کی نماز ملک بھر میں اجتماعی طور پر ادا کی۔ اس موقع پر کہیں بھی کسی مندر یا دوسرے مذہبی مقام کے سامنے کوئی اشتعال انگیزی، نعرہ بازی یا بدامنی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان عید کے دن گھروں سے خوشی کے ساتھ نکلتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور پھر امن و سکون کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔ نہ کہیں کوئی فساد ہوتا ہے اور نہ ہی ہنگامہ آرائی۔ یہی دراصل اسلام کی اصل روح ہے، کیونکہ اسلام کے معنی ہی سلامتی اور امن کے ہیں۔مولانا محمد عارف قاسمی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے مذہب کے ماننے والے ہیں جو امن، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک میں تمام اسلامی عبادتگاہوں کی حفاظت فرمائے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھے۔

پی ایس ایل کے ابتدائی میچز بغیر تماشائیوں کے ہوں گے

لاہور/کراچی (اسپورٹس ڈیسک):پاکستان سپر لیگ

نیشنل اردو ٹائمز

کھیل کی خبریں

(PSL) کے ابتدائی میچز لاہور اور کراچی میں بغیر تماشائیوں کے کھیلے جائیں گے۔ یہ اعلان نے اتوار کے روز کیا۔چیئرمین کے مطابق یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی ایندھن کی قلت کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس نے انتظامی امور اور سکیورٹی انتظامات کو متاثر کیا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ شائقین کی حفاظت اور ایونٹ کے بہتر انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حالات بہتر ہونے کے بعد میچز میں تماشائیوں کی واپسی ممکن ہو سکے گی۔یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ دنیا کی مقبول ترین ٹی20 لیگز میں شمار ہوتی ہے، اور اس کے میچز میں شائقین کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر ابتدائی مرحلے میں اسٹیڈیمز کو خالی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سنجے نشاد کا بیان: “ہم بی جے پی کے ساتھ تھے اور رہیں گے”

سلطانپور، اتر پردیش (نمائندہ خصوصی)

اتر پردیش کے وزیر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت شروع سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ رہی ہے اور آئندہ بھی اتحاد برقرار رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ پہلے کے ساتھ تھے، لیکن وہاں انہیں نظر انداز کیا گیا اور ان کے لیے دروازے بند کر دیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریزرویشن کا مسئلہ ان کی پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہے اور اسی بنیاد پر وہ اپنی سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں۔سنجے نشاد نے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے عوام کے لیے اچھا کام کیا ہے، جبکہ وزیر اعظم پسماندہ طبقات کو عزت دینے اور انہیں ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت پہلے بھی اس وقت بی جے پی کے ساتھ کھڑی رہی جب دیگر جماعتیں الگ ہو گئی تھیں، اور 2019 سے مسلسل بی جے پی کی کامیابی میں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ اس وفاداری کو مدنظر رکھے

ایران اور حزب اللہ کے خلاف جنگ مزید کئی ہفتے جاری رہ سکتی ہے: اسرائیلی فوج

تل ابیب/بیروت (خصوصی نمائندہ)

نیشنل اردو ٹائمزبین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ آئندہ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہفتہ کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے کچھ میزائل اسرائیل کے جدید دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اگرچہ زیادہ تر میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم دو میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔فوجی ترجمان نے اس واقعے کو “تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ دفاعی نظام میں موجود ممکنہ خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں۔ادھر اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر اپنی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کے اشارے بھی دیے ہیں، جہاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کارروائیاں مزید بڑھتی ہیں تو پورا خطہ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور عالمی سلامتی کے معاملات پر اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

مامون الرشید کے دور کا ایک عجیب واقعہ — ایک رقعہ جس نے جان بچا دی

عباسی خلیفہ کا دور علم و حکمت، سیاست و تدبر اور فہم و فراست کے اعتبار سے اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ تاہم دربارِ خلافت کی پیچیدہ فضا اور اندرونی رقابتیں بعض اوقات ایسے حیران کن واقعات کو جنم دیتی تھیں جو آج بھی عبرت و نصیحت کا سامان فراہم کرتے ہیں۔انہی حالات میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مامون الرشید اپنے قابل، بااعتماد اور باصلاحیت رفیق سے کسی بات پر سخت ناراض ہو گئے۔ یہ ناراضی بتدریج اس حد تک بڑھ گئی کہ خلیفہ نے ایک خفیہ مجلس میں چند معتمد افراد کے ساتھ مل کر عبداللہ بن طاہر کو راستے سے ہٹانے یعنی قتل کروانے کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ معاملہ نہایت رازدارانہ تھا اور اس کی خبر باہر پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی خفیہ مجلس میں عبداللہ بن طاہر کا ایک مخلص اور خیرخواہ دوست بھی موجود تھا۔ اس نے نہایت باریکی سے حالات کا جائزہ لیا اور فوراً سمجھ گیا کہ اس کے دوست کی جان شدید خطرے میں ہے۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر عبداللہ بن طاہر کو خبردار کرنے کا فیصلہ کیا، مگر چونکہ معاملہ حساس تھا اس لیے کھلے الفاظ میں کچھ لکھنا ممکن نہ تھا۔چنانچہ اس نے ایک مختصر سا رقعہ تحریر کیا، جس میں نہ کوئی تفصیل تھی اور نہ کسی سازش کا صریح ذکر، بلکہ نہایت حکیمانہ اور رمز و کنایہ کے انداز میں صرف یہ الفاظ لکھے: “جو شخص اپنے انجام سے بے خبر ہو جائے، وہ دشمن کے وار سے نہیں بلکہ اپنی غفلت سے ہلاک ہوتا ہے۔” یہ رقعہ فوراً عبداللہ بن طاہر تک پہنچا دیا گیا۔عبداللہ بن طاہر چونکہ نہایت ذہین، دور اندیش اور معاملہ فہم انسان تھے، انہوں نے اس مختصر پیغام کی گہرائی کو فوراً سمجھ لیا۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ حالات معمولی نہیں بلکہ نہایت خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تاخیر کیے بغیر اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور نہایت عاجزی، انکساری اور اخلاص کے ساتھ مامون الرشید کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے نہ صرف اپنی وفاداری کا اظہار کیا بلکہ اس انداز میں گفتگو کی کہ ہر ممکن غلط فہمی دور ہو جائے اور دلوں میں پیدا ہونے والی کدورت ختم ہو جائے۔ ان کا یہ رویہ نہایت مؤثر ثابت ہوا۔مامون الرشید، جو خود بھی علم و دانش اور فہم و بصیرت کے حامل تھے، عبداللہ بن طاہر کے اس طرزِ عمل اور خلوص سے بے حد متاثر ہوئے۔ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور انہوں نے اپنے ارادے سے رجوع کر لیا۔ نہ صرف یہ کہ خطرہ ٹل گیا بلکہ عبداللہ بن طاہر کو پہلے سے زیادہ عزت و اعتماد بھی حاصل ہو گیا۔یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں عقل، حکمت، بروقت فیصلہ اور اخلاص کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر مگر معنی خیز بات انسان کی زندگی بچا دیتی ہے، اور سچی خیرخواہی و عاجزی بڑے سے بڑے خطرے کو بھی ٹال سکتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو ہر دور میں کامیابی اور سلامتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

— نیشنل اردو ٹائمز

عید الفطر کی پُرخلوص مبارکباد

نیشنل اردو ٹائمز اپنے تمام معزز قارئین، ناظرین اور محبانِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہے۔یہ بابرکت دن ہمیں صبر، شکر، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے بعد عید الفطر خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے مالا مال کرے۔یہ عید ہمیں باہمی محبت، رواداری اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرے، اور ہمارے ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھر دے۔✨ دعائیہ کلمات:تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ(اللہ ہم سے اور آپ سے نیک اعمال قبول فرمائے)

Wishing you a joyful and blessed Eid-ul-Fitr.May this Eid bring peace, happiness, and prosperity to your life.

أتم نگر میں عید اور رام نومی پرامن طور پر منانے کا حکم، دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت

نئی دہلی | نیشنل اردو ٹائمز

دہلی ہائی کورٹ نے اتم نگر میں عید الفطر اور رام نومی کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ دونوں تہواروں کے دوران مکمل سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ہائی کورٹ نے پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ مقامی سطح پر نگرانی بڑھائیں اور دونوں برادریوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔عدالت نے زور دیا کہ تہوار خوشی اور بھائی چارے کے ساتھ منائے جائیں اور کسی بھی اشتعال انگیز سرگرمی کو فوری طور پر روکا جائے۔ماہرین کے مطابق عدالت کی یہ ہدایت حساس علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

سعودی وزیرِ خارجہ کا سخت ردعمل: ایران کا حملہ “بلیک میلنگ” قرار

ریاض | نیشنل اردو ٹائمز
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران کی جانب سے توانائی تنصیبات پر کیے گئے حالیہ حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "کھلی بلیک میلنگ” قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس جاری تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش کارفرما ہے۔
سعودی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی برادری کو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اس بیان سے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مزید واضح ہو گئی ہے، جبکہ توانائی کی عالمی سپلائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

خلیج میں خطرہ بڑھ گیا: تہران کی وارننگ، توانائی کے مراکز خالی کرنے کا حکم

تہران | نیشنل اردو ٹائمز

ایران نے خلیجی ممالک میں قائم اہم توانائی تنصیبات کو فوری طور پر خالی کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کے گیس فیلڈز پر حالیہ حملوں کے بعد تہران نے خبردار کیا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کے طور پر خلیج میں موجود تیل و گیس کے اہم مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود متعدد توانائی تنصیبات کو ممکنہ ہدف قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد وہاں کام کرنے والے افراد اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی توانائی منڈی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ خلیجی خطہ دنیا کی تیل و گیس سپلائی کا اہم مرکز ہے۔ کشیدگی میں اضافے کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

خلیج میں کشیدگی: سعودی عرب کا بڑا بیان، حملے روکنا اولین ترجیح قرار

ریاض | نیشنل اردو ٹائمز
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران سے جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک پر حملوں کا خاتمہ مملکت کی اولین ترجیح ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن سیاسی، معاشی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے گا تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج میں جاری صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر رہی ہے، جس کے باعث بین الاقوامی برادری کو سنجیدگی سے کردار ادا کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق سعودی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔