Breaking News
بڑی رقم کی ڈیجیٹل ادائیگی میں تاخیر ممکن، سیکیورٹی جانچ سخت

نئی دہلی:ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں نئی ہدایات کے تحت اب 10 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم کی منتقلی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق بالخصوص یو پی آئی کے ذریعے کی جانے والی بڑی رقم کی منتقلی پر اضافی سیکیورٹی جانچ کی جا رہی ہے، جس کے باعث بعض اوقات لین دین مکمل ہونے میں ایک گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات کو روکنا اور صارفین کے پیسے کو محفوظ بنانا ہے۔ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی رقم کی منتقلی کے دوران پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور ممکنہ تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر سے کام لیں۔ڈیجیٹل ادائیگیاں اگرچہ سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ احتیاط اور آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔

وضاحت:یہ ہدایات سیکیورٹی اقدامات کے تحت بتائی جا رہی ہیں، تفصیلی سرکاری اعلان کی صورت میں مزید اپڈیٹ کیا جائے گا۔

مبینہ الزامات کے بعد ایم آئی ایم نے اتحاد ختم کیا، بنگال میں تنہا انتخاب لڑنے کا اعلان

کولکاتا:ہمایوں کبیر سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور مبینہ خفیہ معاہدے کے الزامات کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ایم آئی ایم نے مغربی بنگال میں آئندہ انتخابات تنہا لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو حالیہ تنازع اور الزامات کے تناظر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ ہمایوں کبیر سے متعلق ایک وائرل ویڈیو میں ایک ہزار کروڑ روپے کے مبینہ معاہدے اور خفیہ سیاسی روابط کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ اور باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے بنگال کی سیاست میں نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

وضاحت:یہ خبر وائرل ویڈیوز اور سیاسی بیانات پر مبنی ہے، جن کی مکمل تصدیق ہونا باقی ہے۔

ہمایوں کبیر کی مبینہ ویڈیو وائرل، خفیہ سیاسی ڈیل کے دعووں پر ہلچل

کولکاتا:سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ہمایوں کبیر نامی شخص کو ایک مبینہ سیاسی گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔وائرل ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں ہمایوں کبیر نے ایک سیاسی جماعت کے نمائندے کے ساتھ مبینہ طور پر کسی خفیہ ڈیل اور انتخابی حکمتِ عملی پر گفتگو کی ہے۔ ویڈیو میں بعض حساس اور سنگین نوعیت کے بیانات بھی منسوب کیے جا رہے ہیں، جن میں ووٹروں کو متاثر کرنے اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے حوالے سے دعوے شامل ہیں۔تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی متعلقہ افراد یا سیاسی جماعت کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری کیا گیا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے مکمل تحقیق اور مستند معلومات کا انتظار ضروری ہے، کیونکہ انتخابی ماحول میں اس طرح کی ویڈیوز اور دعوے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔

وضاحت:یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور اس سے متعلق دعوؤں پر مبنی ہے، جس کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

سنجے سنگھ کا بیان، آسام کے وزیر اعلیٰ پر تنقید

نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما کے حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سنجے سنگھ نے کہا کہ آسام میں جاری انتخابی ماحول کے دوران بعض ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو سماجی ہم آہنگی کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک خاص طبقے کے خلاف اس طرح کی اپیلیں قابلِ تشویش ہیں۔سنجے سنگھ نے اپنے بیان میں عوام سے سوال کیا کہ اگر کسی طبقے کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ اختیار کیا جائے تو اس کے اثرات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔تاہم اس معاملے پر وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما یا ان کے دفتر کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

وضاحت:یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس اور بیانات پر مبنی ہے، جن پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔

آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں آج ووٹنگ جاری، عوام میں جوش و خروش

نئی دہلی:بھارت کی ریاستوں آسام، کیرالہ اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے پڈوچیری میں آج انتخابات کے تحت ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جہاں عوام بڑی تعداد میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق پولنگ صبح سے پرامن انداز میں جاری ہے اور تمام مراکز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق حساس علاقوں میں اضافی فورس تعینات کی گئی ہے، جبکہ کئی مقامات پر ووٹروں کی لمبی قطاریں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ خواتین، بزرگ اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہوگا، جبکہ نتائج کا اعلان مقررہ وقت پر کیا جائے گا۔

نوٹ:ووٹنگ کی شرح اور دیگر تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

دہلی میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری، محکمہ موسمیات نے مزید بارش کی پیشگوئی کی

نئی دہلی:قومی راجدھانی دہلی میں گزشتہ دو دن سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا ہے تاہم بعض علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ٹریفک کی رفتار متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔محکمہ موسمیات ہند کے مطابق دہلی اور اس کے نواحی علاقوں میں آئندہ دنوں کے دوران بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ کے مطابق بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے پیش نظر محتاط رہیں۔حکام کے مطابق مسلسل بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی آئی ہے جس سے گرمی کی شدت میں واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

حوالہ:محکمہ موسمیات ہند

(IMD) کی تازہ موسمی اپڈیٹ

مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ نظرثانی پر تنازع، اپوزیشن کا شدید احتجاج

کولکاتا:

مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر) کے بعد جاری ہونے والی فائنل ووٹر لسٹ نے سیاسی اور سماجی سطح پر بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نظرثانی کے بعد 90 لاکھ سے زائد افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جن میں مبینہ طور پر بڑی تعداد مسلمانوں کی بتائی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر حذف کاری سے ایک مخصوص طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً Mamata Banerjee اور ان کی جماعت Trinamool Congress نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے شفافیت اور وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی طبقے کو غیر منصفانہ طور پر ووٹ کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے تو یہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا۔بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس پیش رفت کے ممکنہ سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کی طرف سے اس عمل کو انتخابی فہرستوں کی معمول کی نظرثانی قرار دیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ مکمل اور باضابطہ وضاحت کا انتظار ہے۔

وضاحت:یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس اور سیاسی بیانات پر مبنی ہے، جن کی مکمل سرکاری تصدیق اور تفصیلات کا انتظار ہے۔

آسام پولیس دہلی میں پوان کھیڑا کی رہائش گاہ پہنچی، مبینہ بیان پر کارروائی

نئی دہلی:آسام پولیس کی ایک ٹیم کانگریس رہنما پوان کھیڑا کی دہلی واقع رہائش گاہ پر پہنچی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حالیہ بیان کے تناظر میں کی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق پوان کھیڑا نے دو روز قبل آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما کی اہلیہ رنیکی بھوئیاں سرما سے متعلق مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ایک سے زائد پاسپورٹ ہیں۔اس بیان کے بعد وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کی جانب سے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی گئی، جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی شروع کی ہے۔تاحال پوان کھیڑا کی جانب سے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ملک کے معروف عالمِ دین مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب انتقال کر گئے، علمی حلقوں میں غم کی لہر

میرٹھ | نیشنل اردو ٹائمز

انا للہ وانا الیہ راجعون ملکِ ہندوستان کے مشہور و معروف عالمِ دین، عاشقِ ملت حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہ مغیثی صاحب رحمہ اللہ(مہتمم جامعہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ، ضلع میرٹھ، و رکنِ شوریٰ مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارن پور)کا آج بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء وصال ہو گیا۔حضرت والا کی وفات کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ میں گزاری، اور ہزاروں افراد کو اپنے علم و عمل سے فیضیاب کیا۔یقیناً حضرت والا کا انتقال ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، جس کی تلافی آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

راگھو چڈھا کا الزامات پر ردعمل، پارٹی لائن سے انحراف کے دعوے مسترد

نئی دہلی:

راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے عآپ آدمی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ پارٹی لائن پر نہیں چلتے، تاہم انہوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ پارٹی کے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔راگھو چڈھا کے مطابق ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ طور پر ان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔تاحال اس معاملے پر پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔