Breaking News
ایران کے صدر کا بیان: “ہم نے جنگ شروع نہیں کی، دفاع ہمارا حق ہے”

تہران | انٹرنیشنل ڈیسک — نیشنل اردو ٹائمز

ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے کہا ہے کہ ایران نے کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ ملک پر ہونے والے حملوں کے خلاف دفاع کرنا اس کا فطری حق ہے۔ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق صدر نے Emmanuel Macron سے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران پر ہونے والی کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ایرانی صدر کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کی کوششیں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا، اس وقت تک خطے میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔صدر کے مطابق ایران دھونس اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور ملک اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر توجہ دے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جوابدہ بنائے۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کسی ملک کے خلاف جنگ شروع کرنا جدید دور میں قابلِ قبول نہیں اور ایسے اقدامات عالمی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کی بات اس وقت تک معنی نہیں رکھتی جب تک یہ یقین دہانی نہ ہو کہ مستقبل میں ایران کی سرزمین پر دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کو سفارتی دھچکا، اتحادی ممالک نے فوجی حمایت سے انکار کر دیا

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمزآبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت سفارتی دھچکا لگا جب کئی اہم اتحادی ممالک نے خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے واشنگٹن کی درخواست کی حمایت سے انکار کر دیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے خلیج میں بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اپنے اتحادی ممالک سے بحری تعاون اور فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم متعدد ممالک نے اس آپریشن میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔ذرائع کے مطابق یہ درخواست ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی صورتحال کے خدشات کے بعد کی گئی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا خام تیل گزرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اتحادی ممالک کی جانب سے فوجی تعاون سے انکار امریکہ کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں واشنگٹن کی حکمت عملی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران جنگ کے اثرات: بھارت میں ایل پی جی کی کھپت میں نمایاں کمی، سپلائی متاثر

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز):

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے اثرات اب بھارت کی توانائی سپلائی پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت میں ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو گیس کی کھپت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے پہلے نصف میں بھارت میں سرکاری ایندھن فروخت کرنے والی کمپنیوں کی ایل پی جی فروخت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں گیس کی فروخت تقریباً 1.15 ملین میٹرک ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ یہی راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ بھارت اپنی ایل پی جی کی تقریباً 90 فیصد درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیے خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہِ راست اثر بھارت کی توانائی سپلائی اور گیس کی دستیابی پر پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے پیشِ نظر حکام گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے صنعتی اور تجارتی شعبے میں گیس کی فراہمی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

امریکی کمیشن کی رپورٹ: آر ایس ایس پر پابندی کی سفارش

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمز

United States Commission on International Religious Freedom (USCIRF) نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ بعض بھارتی تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات پر غور کرے۔رپورٹ میں خاص طور پر Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی سے متعلق معاملات پر عالمی سطح پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کمیشن کے مطابق بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بعض واقعات اور پالیسیوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی حکومت کو بعض بھارتی شخصیات اور تنظیموں کے حوالے سے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم کمیشن کی سفارشات مشاورتی نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان پر عمل درآمد کا فیصلہ امریکی حکومت خود کرتی ہے۔دوسری جانب India کی حکومت اور متعدد سیاسی حلقوں نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ بھارتی حکام اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کا آئین تمام مذاہب کو برابر کی آزادی فراہم کرتا ہے اور بھارت ایک کثیر المذاہب اور جمہوری معاشرہ ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے اس موضوع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔یاد رہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد آباد ہیں۔

کیا اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہوگئے؟ سوشل میڈیا دعوے کی حقیقت

فیکٹ چیک (نیشنل اردو ٹائمز)

:سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں یا کسی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس دعوے کے ساتھ مختلف اسکرین شاٹس اور پوسٹس بھی شیئر کی جا رہی ہیں جس کے بعد صارفین میں تشویش اور الجھن پیدا ہو گئی ہے۔تاہم دستیاب معلومات اور معتبر عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبر درست نہیں ہے۔ کسی بھی مستند بین الاقوامی خبر رساں ادارے، اسرائیلی حکومت یا سرکاری ذرائع نے ایسی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی۔وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں ایک سوشل میڈیا صارف نے نیتن یاہو کی شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں اسرائیلی عوام کا دشمن قرار دیا ہے، مگر اس پوسٹ میں کہیں بھی ان کی موت یا ہلاکت کا دعویٰ موجود نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق بعض صارفین نے اسی تنقیدی پوسٹ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس طرح شیئر کیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید نیتن یاہو کے ساتھ کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔فیکٹ چیک کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی اور عالمی میڈیا میں بھی نیتن یاہو کی موت یا ہلاکت کی کوئی خبر موجود نہیں ہے۔نتیجہ:فیکٹ چیک کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ کہ بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں، مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔

آبنائے ہرمز اور پیٹرو ڈالر نظام پر نئی بحث، ایران اور چین کی تیل تجارت پر عالمی توجہ

تہران / بیجنگ / واشنگٹن (نیشنل اردو ٹائمز)مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور عالمی تیل تجارت کے نظام پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون عالمی مالیاتی نظام، خصوصاً پیٹرو ڈالر سسٹم کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیتآبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ امریکی Energy Information Administration (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 17 سے 20 ملین بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔ایران اور چین کی توانائی تجارتبین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ایران اور چین کے درمیان تیل کی تجارت گزشتہ چند برسوں میں بڑھتی رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تجارت میں ادائیگی کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں مقامی کرنسیوں اور متبادل مالیاتی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔چین نے اپنے Cross-Border Interbank Payment System (CIPS) کو بھی وسعت دی ہے، جسے بعض ماہرین مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔پیٹرو ڈالر نظام کیا ہے؟1970 کی دہائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے کے بعد عالمی تیل تجارت زیادہ تر امریکی ڈالر میں ہونے لگی۔ اسی نظام کو عموماً پیٹرو ڈالر سسٹم کہا جاتا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق اس نظام کی وجہ سے ڈالر عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر مضبوط رہا ہے کیونکہ تیل خریدنے والے ممالک کو ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔برکس ممالک اور متبادل نظامحالیہ برسوں میں BRICS ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تجارت میں متبادل کرنسیوں کا استعمال بڑھتا ہے تو اس سے عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ماہرین کی رائےبین الاقوامی اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اب بھی ڈالر میں ہی ہوتا ہے، تاہم عالمی سیاست اور معاشی اتحادوں میں تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں مختلف کرنسیوں کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔

اہم حوالہ جات:

Energy Information Administration (EIA)ReutersBloombergInternational Energy Agency (IEA)

شمالی کوریا نے 10 بیلسٹک میزائل فائر کر دیے، امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کے بعد خطے میں کشیدگی

سیول / پیانگ یانگ، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز)شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد تقریباً 10 بیلسٹک میزائل فائر کر دیے، جس کے بعد مشرقی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔جنوبی کوریا کی فوج اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں (Reuters، Associated Press اور Yonhap News) کے مطابق شمالی کوریا نے یہ میزائل جاپان کے سمندر (Sea of Japan / East Sea) کی سمت داغے۔رپورٹس کے مطابق تمام میزائل سمندر میں جا کر گرے اور کسی ملک یا شہری علاقے کو براہِ راست نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیںماہرین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور جنوبی کوریا بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔ شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنی سلامتی کے خلاف خطرہ قرار دیتا ہے اور اسے اشتعال انگیزی سمجھتا ہے۔پیانگ یانگ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر ایسی فوجی سرگرمیاں جاری رہیں تو وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرتی رہے گی۔عالمی برادری کی تشویشجنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے بھی کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، تاہم اس کے باوجود پیانگ یانگ مسلسل نئے تجربات کرتا رہا ہے۔ماہرین کی رائےدفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات عموماً امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی اور عسکری پیغام دینے کے لیے کیے جاتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں جاری رہیں تو جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

چین نے ایران میں اسکول حملے میں جاں بحق بچوں کے خاندانوں کے لیے دو لاکھ ڈالر انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امداد ریڈ کراس کے ذریعے ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو دی جائے گی۔

china-aid-iran-school-attack

بیجنگ / تہران، 14 مارچ (نیشنل اردو ٹائمز):چین نے ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے دو لاکھ ڈالر کی انسانی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ امداد چین کی ریڈ کراس سوسائٹی کے ذریعے ایران کی ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) سوسائٹی کو فراہم کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی اور انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔چین کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں اور بچوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزارت کے ترجمان کے مطابق بے گناہ شہریوں خصوصاً بچوں پر حملے انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور عالمی برادری کو اس طرح کے واقعات کی واضح مذمت کرنی چاہیے۔چینی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ چین مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا۔ حکام کے مطابق امدادی رقم ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ذریعے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی تاکہ انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ادھر ایرانی حکام کے مطابق اسکول پر ہونے والے حملے میں متعدد بچے جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔چین کی جانب سے اعلان کردہ امداد کو انسانی ہمدردی کے جذبے کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق اس اقدام سے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی سہارا ملے گا۔

📌 حوالہ جات (Sources)

چین کی وزارت خارجہ کا بیان

چین کی ریڈ کراس سوسائٹی

ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیاں (رائٹرز / شنہوا)

اٹلی کا اہم اعلان: ایران کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے — وزیر اعظم جارجیا میلونی

نیشنل اردو ٹائمز | روم

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شریک ہوگا۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اٹلی کی حکومت موجودہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کسی ایسے فوجی اتحاد یا کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی جس کا مقصد ایران کے خلاف جنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔جارجیا میلونی کے اس بیان کو عالمی سیاست میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اٹلی مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

#Italy #Iran #MiddleEast #BreakingNews

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

نیوز ایجنسی ، 11 مارچ2026 (نیشنل اردو ٹائمز ):

یورپی یونین کونسل کے صدر Antonio Costa نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف United States اور Israel کی جانب سے جاری جنگی صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ Russia کو ہو رہا ہے اور اس تنازع کا واحد بڑا ‘فاتح’ روس ہی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے روس کی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کی توجہ بھی بڑی حد تک Ukraine کے ساتھ روس کے تقریباً چار سال سے جاری تنازع سے ہٹ گئی ہے۔انتونیو کوسٹا کے مطابق یہ جنگ اب اپنے گیارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے میں بعض تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔یورپی یونین کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حوالہ:

UNI News Agency،

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس

(رپورٹ: نیشنل اردو ٹائمز – NUT)