Breaking News
اڈیشہ راجیہ سبھا انتخابات: کانگریس کو جھٹکا، صوفیہ فردوس کی بی جے پی کے حق میں کراس ووٹنگ

بھونیشور | نیشنل اردو ٹائمزاڈیشہ میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران کانگریس کو اس وقت بڑا سیاسی جھٹکا لگا جب بارابتی–کٹک سے کانگریس کی رکنِ اسمبلی صوفیہ فردوس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں کراس ووٹنگ کر دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صوفیہ فردوس کے علاوہ کانگریس کے دو دیگر ارکانِ اسمبلی نے بھی بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔صوفیہ فردوس کو 2024 کے اسمبلی انتخابات میں پہلی مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب کیا گیا تھا۔ انہیں اڈیشہ کی پہلی مسلم خاتون ایم ایل اے بھی مانا جاتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس کراس ووٹنگ نے کانگریس کی ریاستی قیادت کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں، جبکہ بی جے پی کو اس معاملے سے سیاسی فائدہ ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔دوسری جانب بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صوفیہ فردوس کے والد محمد مقیم نے بی جے پی کے خلاف عدالت میں ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا ہے، جس کے باعث اس معاملے نے مزید سیاسی اور قانونی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ریاستی سیاست میں اس واقعے کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ کو سفارتی دھچکا، اتحادی ممالک نے فوجی حمایت سے انکار کر دیا

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمزآبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت سفارتی دھچکا لگا جب کئی اہم اتحادی ممالک نے خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے واشنگٹن کی درخواست کی حمایت سے انکار کر دیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے خلیج میں بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اپنے اتحادی ممالک سے بحری تعاون اور فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم متعدد ممالک نے اس آپریشن میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔ذرائع کے مطابق یہ درخواست ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی صورتحال کے خدشات کے بعد کی گئی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا خام تیل گزرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اتحادی ممالک کی جانب سے فوجی تعاون سے انکار امریکہ کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں واشنگٹن کی حکمت عملی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران جنگ کے اثرات: بھارت میں ایل پی جی کی کھپت میں نمایاں کمی، سپلائی متاثر

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز):

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے اثرات اب بھارت کی توانائی سپلائی پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت میں ایل پی جی (LPG) یعنی گھریلو گیس کی کھپت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے پہلے نصف میں بھارت میں سرکاری ایندھن فروخت کرنے والی کمپنیوں کی ایل پی جی فروخت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں گیس کی فروخت تقریباً 1.15 ملین میٹرک ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ یہی راستہ خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ بھارت اپنی ایل پی جی کی تقریباً 90 فیصد درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیے خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہِ راست اثر بھارت کی توانائی سپلائی اور گیس کی دستیابی پر پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے پیشِ نظر حکام گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے صنعتی اور تجارتی شعبے میں گیس کی فراہمی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

شاہ رخ پٹھان کے والد کا انتقال، اہلِ خانہ میں غم کی لہر

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

:انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شاہ رخ پٹھان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، جس کے بعد اہلِ خانہ اور قریبی عزیز و اقارب میں غم کا ماحول پایا جا رہا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق مرحوم کی وفات پر گھر میں سوگ کی فضا ہے۔واضح رہے کہ چند دن قبل ہی شاہ رخ پٹھان کی ضمانت کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی تھی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی تعزیت اور افسوس کے پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

رمضان المبارک کے موقع پر منعقدہ مجلسِ افطار میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران، علماء کرام اور معزز احباب کی بڑی تعداد شریک ہوئی، میزبان نے اسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل قرار دیا۔

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدایِ بخشندہ
یہ ہمارے لیے انتہائی سعادت، فرحت اور مسرت کا مقام ہے کہ اللہ ربّ العالمین کے فضل و کرم سے گزشتہ کل میرے غریب خانے پر ایک بابرکت اور باوقار مجلسِ افطار منعقد ہوئی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے معزز ذمہ داران اور اکابرین کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ فخر و اعزاز بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی بابرکت مجالس اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل اور اس کی عنایت کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں، اس لیے ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔
بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی صاحب، صدر جمعیۃ علماء صوبۂ دہلی کی قیادت میں ایک معزز وفد کی شرکت نے اس مجلس کی رونق کو دوبالا کردیا۔ مزید برآں جنوبی دہلی کے صدر محترم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد نعیم قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی آمد بھی ہمارے لیے باعثِ مسرت و افتخار رہی۔
اس بابرکت مجلس میں دیگر معزز علماء و احباب بھی شریک رہے۔ ان میں بالخصوص مولانا کلیم الدین قاسمی صاحب، مولانا عظیم اللہ قاسمی صاحب، مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی صاحب، مولانا نجیب اللہ قاسمی صاحب، مفتی ذاکر حسین قاسمی صاحب، مولانا ہارون الرشید قاسمی صاحب، مولانا مفتی خلیل صاحب، قاری عبد الشکور صاحب، قاری ہارون صاحب، مولانا عتیق الرحمن قاسمی صاحب شامل ہیں۔
نیز حضرت ناظمِ عمومی صاحب کے صاحبزادگان حافظ ابو بکر سلمہ، حافظ محمود سلمہ، مامو جناب جلال الدین صاحب، مولانا عمیر احمد قاسمی، قاری محمد آصف قاسمی اور قاری رفیع الدین کے علاوہ دیگر معزز حضرات بھی شریک رہے۔ اسی طرح ہمارے مخلص کرم فرماں بھائی مشبر صاحب اور برادرم محمد افضل صاحب بہرائچی کی شرکت بھی اس مجلس کے حسن میں اضافہ کا سبب بنی۔ ان تمام معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لیے اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔
اس موقع پر میں بالخصوص اپنے مشفق و مربی اور مجھ پر ہمیشہ ایک والد کی طرح شفقت فرمانے والے اس بزرگ کا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں جو میری زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر میری رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔ ان کی محنتوں، کاوشوں اور خلوص کے نتیجے میں آج یہ بابرکت محفل سجی ہے۔
میں اپنے ماموں محترم الحاج زبیر احمد صاحب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مجلس کے انعقاد میں خصوصی دلچسپی لی اور اپنی کوششوں سے اس محفل کو ممکن بنایا۔
نیز اس موقع پر اپنے والدِ مرحوم کو یاد نہ کرنا میرے لیے یقیناً بد نصیبی کی بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کی بے شمار راحتوں اور خواہشات کو قربان کردیا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ میری تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا اور ہر ممکن کوشش کی کہ میں علم کے راستے پر آگے بڑھوں۔
آج اگر میں تعلیم کے کسی مرحلے تک پہنچ سکا ہوں اور کچھ حاصل کر سکا ہوں تو یہ دراصل انہی کی محنتوں، قربانیوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو بھی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ان کی دعاؤں اور تربیت کا ثمرہ ہے۔
اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ اس بابرکت مجلسِ افطار کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، تمام معزز مہمانوں کی آمد کو ہمارے لیے باعثِ خیر و برکت بنائے اور ہم سب کو دینِ اسلام کی خدمت اور آپس میں محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسی کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے والدِ مرحوم کے لیے بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ربّ العالمین ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

دہلی ہائی کورٹ: اروند کیجریوال کی درخواست مسترد، ایکسائز پالیسی کیس اسی جج کے پاس رہے گا

عدالتی ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمز

Delhi High Court کے چیف جسٹس نے Arvind Kejriwal کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے سی بی آئی کے زیرِ تفتیش ایکسائز پالیسی کیس کو جسٹس سوارنا کانتا شرما کی بنچ سے منتقل کرنے کی اپیل کی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کیجریوال کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ کیس کو کسی دوسری بنچ کو منتقل کیا جائے، تاہم چیف جسٹس نے اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اس فیصلے کے بعد اب سی بی آئی کا ایکسائز پالیسی کیس بدستور جسٹس سوارنا کانتا شرما کی عدالت میں ہی سنا جائے گا۔یہ مقدمہ دہلی کی سابق شراب پالیسی (Excise Policy) سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے زیرِ سماعت ہے، جس میں متعدد سیاسی رہنماؤں اور عہدیداروں کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں۔واضح رہے کہ یہ معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے ملکی سیاست اور عدالتی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

امریکی کمیشن کی رپورٹ: آر ایس ایس پر پابندی کی سفارش

انٹرنیشنل ڈیسک | نیشنل اردو ٹائمز

United States Commission on International Religious Freedom (USCIRF) نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ بعض بھارتی تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات پر غور کرے۔رپورٹ میں خاص طور پر Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی سے متعلق معاملات پر عالمی سطح پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کمیشن کے مطابق بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بعض واقعات اور پالیسیوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی حکومت کو بعض بھارتی شخصیات اور تنظیموں کے حوالے سے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم کمیشن کی سفارشات مشاورتی نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان پر عمل درآمد کا فیصلہ امریکی حکومت خود کرتی ہے۔دوسری جانب India کی حکومت اور متعدد سیاسی حلقوں نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ بھارتی حکام اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کا آئین تمام مذاہب کو برابر کی آزادی فراہم کرتا ہے اور بھارت ایک کثیر المذاہب اور جمہوری معاشرہ ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے اس موضوع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔یاد رہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد آباد ہیں۔

کیا اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہوگئے؟ سوشل میڈیا دعوے کی حقیقت

فیکٹ چیک (نیشنل اردو ٹائمز)

:سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں یا کسی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس دعوے کے ساتھ مختلف اسکرین شاٹس اور پوسٹس بھی شیئر کی جا رہی ہیں جس کے بعد صارفین میں تشویش اور الجھن پیدا ہو گئی ہے۔تاہم دستیاب معلومات اور معتبر عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبر درست نہیں ہے۔ کسی بھی مستند بین الاقوامی خبر رساں ادارے، اسرائیلی حکومت یا سرکاری ذرائع نے ایسی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی۔وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں ایک سوشل میڈیا صارف نے نیتن یاہو کی شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں اسرائیلی عوام کا دشمن قرار دیا ہے، مگر اس پوسٹ میں کہیں بھی ان کی موت یا ہلاکت کا دعویٰ موجود نہیں ہے۔ماہرین کے مطابق بعض صارفین نے اسی تنقیدی پوسٹ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس طرح شیئر کیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید نیتن یاہو کے ساتھ کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔فیکٹ چیک کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی اور عالمی میڈیا میں بھی نیتن یاہو کی موت یا ہلاکت کی کوئی خبر موجود نہیں ہے۔نتیجہ:فیکٹ چیک کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ کہ بنیامین نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں، مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔

PNG اور LPG کنکشن رکھنے والوں کے لیے نیا حکم، حکومت نے گیس قوانین میں بڑی تبدیلی کردی

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

:مرکزی حکومت نے گھریلو گیس سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایل پی جی (LPG) اور پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کے قوانین میں ترمیم کر دی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد اب وہ صارفین جن کے پاس پہلے سے PNG کنکشن موجود ہے وہ گھریلو LPG سلنڈر رکھنے یا اس کا ریفل حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔یہ فیصلہ وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے The Gazette of India میں شائع کیا گیا ہے، جو Essential Commodities Act, 1955 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی صارف کے پاس PNG اور LPG دونوں کنکشن موجود ہیں تو اسے فوری طور پر اپنا LPG کنکشن واپس کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ایسے صارفین کو آئندہ LPG سلنڈر ریفل لینے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد گیس کی فراہمی کے نظام کو منظم کرنا اور وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ نئی ترمیم Liquefied Petroleum Gas (Regulation of Supply and Distribution) Amendment Order, 2026 کے تحت کی گئی ہے اور یہ حکم سرکاری گزٹ میں اشاعت کے ساتھ ہی نافذ العمل ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان علاقوں میں جہاں PNG نیٹ ورک موجود ہے وہاں گھریلو گیس کے استعمال کا نظام مزید منظم ہو سکتا ہے، تاہم ایسے صارفین کو اپنے کنکشن کے انتخاب کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔حکومت کی جانب سے جاری اس حکم کے بعد اب ملک بھر میں لاکھوں صارفین کو اپنے گیس کنکشن کے بارے میں نئی پالیسی کے مطابق اقدامات کرنے ہوں گے۔

ماہواری کی چھٹی کے معاملے پر بھارت میں نئی بحث، سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد سوالات اٹھنے لگے

نئی دہلی (نیشنل اردو ٹائمز)

بھارت میں خواتین کو ماہواری کے دوران چھٹی دینے کے معاملے پر ایک بار پھر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سپریم کورٹ نے اس موضوع سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیتے ہوئے ملک بھر میں ماہواری کی لازمی چھٹی کے قانون کے امکان پر سوال اٹھائے۔سپریم کورٹ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر خواتین کے لیے ماہواری کی چھٹی کو قانون کے ذریعے لازمی قرار دیا گیا تو اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس طرح کے قانون سے یہ خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ بعض آجر خواتین کو ملازمت دینے سے گریز کریں، جس کے نتیجے میں خواتین کے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔عدالت میں دائر عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت خواتین ملازمین اور طالبات کو ماہواری کے دوران چند دن کی بامعاوضہ چھٹی دینے کے لیے ملک گیر پالیسی یا قانون بنائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ماہواری کے دوران بعض خواتین کو شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے انہیں آرام کا حق دیا جانا چاہیے۔تاہم عدالت نے اس معاملے کو قانون سازی کے بجائے پالیسی کے طور پر دیکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس موضوع پر حکومت اور متعلقہ اداروں کو غور کرنا چاہیے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی پالیسی کو بناتے وقت صنفی مساوات اور روزگار کے مواقع پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ماہرین اور سماجی کارکنان کے درمیان اس مسئلے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ حلقے ماہواری کی چھٹی کو خواتین کی صحت اور وقار کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لازمی چھٹی کا قانون خواتین کے خلاف امتیاز کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اس وقت بھارت میں ماہواری کی چھٹی سے متعلق کوئی قومی قانون موجود نہیں ہے، تاہم چند ریاستوں، تعلیمی اداروں اور نجی کمپنیوں نے اپنی سطح پر ایسی سہولتیں فراہم کی ہیں۔سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے بعد یہ سوال ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے کہ کیا ماہواری کی چھٹی خواتین کے لیے سہولت ثابت ہوگی یا اس سے ان کے روزگار کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔