Breaking News
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا واحد فاتح روس: یورپی یونین کونسل کے صدر

نیوز ایجنسی ، 11 مارچ2026 (نیشنل اردو ٹائمز ):

یورپی یونین کونسل کے صدر Antonio Costa نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف United States اور Israel کی جانب سے جاری جنگی صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ Russia کو ہو رہا ہے اور اس تنازع کا واحد بڑا ‘فاتح’ روس ہی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے روس کی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کی توجہ بھی بڑی حد تک Ukraine کے ساتھ روس کے تقریباً چار سال سے جاری تنازع سے ہٹ گئی ہے۔انتونیو کوسٹا کے مطابق یہ جنگ اب اپنے گیارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے ساتھ ساتھ خلیجی خطے میں بعض تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔یورپی یونین کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حوالہ:

UNI News Agency،

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس

(رپورٹ: نیشنل اردو ٹائمز – NUT)

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی میں ہولناک آتشزدگی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے وفد کا دورہ

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی میں ہولناک آتشزدگی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے وفد کا دورہ نئی دہلی، 11 مارچ:2026

رٹھالا گاؤں کی بنگالی بستی، نزد رٹھالا میٹرو اسٹیشن میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں پوری جھگی بستی جل کر راکھ ہو گئی۔ اس افسوسناک حادثے میں ایک کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ سینکڑوں جھگیاں اور گھروں کا سامان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں انتہائی افسوسناک اور تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں خاندان بے گھر اور بے سہارا ہو گئے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس سانحے کے بعد جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر حضرت مولانا محمد قاسم نوری کی ہدایت پر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کا ایک وفد جنرل سکریٹری مولانا آفتابِ عالم صدیقی کی قیادت میں جائے حادثہ پر پہنچا اور متاثرہ علاقے کا معائنہ کیا۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے ان کی دلجوئی کی اور حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔وفد میں مولانا عبدالملک (نائب امام مسجد ابوبکر صدیق، بی بلاک جے جے کالونی بوانہ، دہلی)، قاری ابو بشر (امام و خطیب مسجد بلال، ایف بلاک بوانہ)، قربان انصاری، عالم بھائی، مولانا مامون رشید اور دیگر حضرات شامل تھے۔اس موقع پر مولانا آفتابِ عالم صدیقی نے بتایا کہ آگ کی اس تباہ کن واردات کے بعد متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا تمام سامان جل کر خاک ہو چکا ہے اور لوگ اس وقت بے یار و مددگار حالت میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر بھی قریب ہے اور زیادہ تر متاثرہ آبادی غریب اور ضرورت مند مسلمانوں پر مشتمل ہے، اس لیے فوری امداد اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں اور ایسے خاندانوں کی فہرست بھی تیار کی جا رہی ہے جنہیں فوری مدد درکار ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر ان بے سہارا لوگوں کی مدد کریں تاکہ اس مشکل گھڑی میں انہیں سہارا مل سکے۔(رپورٹ: نیشنل اردو نیوز)

أتم نگر واقعہ: جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، سخت نوٹس لینے اور مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ

أتم نگر واقعہ: جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات، سخت نوٹس لینے اور مسلم اقلیت تحفظ سمیت پانچ مطالبات پیش

نیشنل اردو نیوز | نئی دہلی 10- مارچ

2026نئی دہلی کے علاقہ أتم نگر میں پیش آئے حالیہ واقعہ کے سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی نے کی کی ہدایت پر جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات کی اور واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد کی قیادت، جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کی۔وفد نے جوائنٹ پولیس کمشنر کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہا کہ أتم نگر میں 26 سالہ نوجوان ترون کمار کی ہلاکت نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔جمعیۃ علماء ہند نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ بعض شرپسند عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواد پھیلا کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

*اعلانِ تعطیلات برائے تعلیمی سال 2025-2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام طلباء و طالبات اور معزز سرپرستان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کی سالانہ تعطیلات برائے تعلیمی سال 2025–26 حسبِ ذیل ہوں گی:*21 رمضان المبارک 1447ھ بمطابق 11 مارچ 2026تا6 شوال المکرم 1447ھ بمطابق 26 مارچ 2026تمام نئے اور سابقہ تعلیمی بیچز کی کلاسوں کا باضابطہ آغاز*27 مارچ 2026 بروز جمعہ، ان شاء اللہ سے ہوگا۔*تمام طلباء و طالبات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ:• عشرۂ اخیر میں انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔*• تعطیلات سے قبل اپنی تمام سابقہ ماہانہ فیس جمع کروادیں۔*اللہ تعالیٰ تمام طلباء کو علمِ نافع، اخلاص اور کامیابی عطا فرمائے۔جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء مہدی حسن عینی قاسمیبانی و ڈائریکٹرانڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبندخدیجہ حسن مؤمناتیشریک بانیانڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند🌐 ویب سائٹ: www.iiadeoband.com📞 رابطہ نمبر: 9557113167

متحدہ عرب امارات: فضائی دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون حملے ناکام بنا دیے، 4 افراد ہلاک، 117 زخمی

ابوظہبی، (نیوز ایجنسی) — متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے ملک پر ہونے والے 12 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون حملوں کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنا دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملے حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کے طور پر کیے گئے تھے۔اماراتی حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، تاہم حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک جبکہ 117 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔سرکاری بیان کے مطابق حملوں کے بعد متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایسے حملوں کی سختی سے مذمت کی جائے۔ذرائع: بین الاقوامی میڈیا رپورٹس۔

ایران میں نئی قیادت: مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر منتخب

تہران | نیشنل اردو ٹائمز

09- March 2026

Monday

ایران میں ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مرحوم سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق قیادت کے انتخاب کی ذمہ دار اعلیٰ مذہبی و آئینی مجلس Assembly of Experts نے پیر کے روز مجتبیٰ خامنہ ای کے نام کی باضابطہ منظوری دے دی۔
کونسل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو مضبوط قیادت کی ضرورت تھی، اس لیے تمام آئینی مراحل مکمل کرنے کے بعد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اعلان کر دیا گیا۔
سرکاری بیان
اسمبلی آف ایکسپرٹس کے بیان میں کہا گیا:
"جنگ کے انتہائی سنگین حالات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کا عمل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا۔”
مجتبیٰ خامنہ ای کا تعارف
Mojtaba Khamenei کی پیدائش 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شہر Mashhad میں ہوئی۔
وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور کئی برسوں سے ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو طویل عرصے سے اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا تھا۔
سپریم لیڈر کا عہدہ
ایران میں سپریم لیڈر ریاست کا سب سے طاقتور منصب ہے جو:
مسلح افواج کا سربراہ ہوتا ہے
عدلیہ اور اہم ریاستی اداروں پر اثر رکھتا ہے
ملکی اور دفاعی پالیسی کے اہم فیصلے کرتا ہے
نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد ایران کی داخلی سیاست اور خطے کی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ مسترد، ایران کے واٹر پلانٹ پر حملے میں ملوث نہیں: یو اے ای

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ مسترد، ایران کے واٹر پلانٹ پر حملے میں ملوث نہیں: یو اے ایابوظہبی | 8 مارچ 2026متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اسرائیلی میڈیا کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یو اے ای ایران کے ایک واٹر ڈیسالینیشن (پانی صاف کرنے) پلانٹ پر ہونے والے مبینہ حملے میں ملوث ہے۔اماراتی حکام کے مطابق یہ دعویٰ بے بنیاد اور غیر مصدقہ ہے اور متحدہ عرب امارات کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ یو اے ای ایک خودمختار ریاست ہے جو اپنی خارجہ پالیسی اور سلامتی سے متعلق فیصلے آزادانہ طور پر کرتا ہے۔اماراتی عہدیدار نے کہا کہ اس قسم کی غلط یا غیر مصدقہ خبریں خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ابوظہبی کی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو۔واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے متضاد رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، جن پر متعلقہ ممالک کی جانب سے وضاحتیں اور تردیدیں بھی جاری کی جا رہی ہیں۔مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خطے کے کئی ممالک محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں تاکہ تنازع مزید نہ پھیل سکے۔

ذرائع (Sources):

Al Jazeera

Reuters

Bloomberg

The National (UAE)

Middle East Eye

سعودی عرب کا ایران کو انتباہ، حملے جاری رہے تو امریکی فوج کو اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور_Saudi Arabia Warns Iran, May Allow US Forces to Use Military Bases if Attacks Continue

سعودی عرب کا ایران کو انتباہ، حملے جاری رہے تو امریکی فوج کو اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور📅 8 March 2026📍 ریاض / مشرقِ وسطیٰمشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ایران کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین یا توانائی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو ریاض سخت ردعمل دے سکتا ہے اور امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کر سکتا ہے۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق سعودی حکام نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ وہ سعودی عرب یا اس کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے فوری طور پر بند کرے۔ سعودی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ بحران کا حل سفارتی ذرائع سے چاہتی ہے، تاہم اگر صورتحال برقرار رہی تو دفاعی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔سعودی حکام کے مطابق مملکت اپنی سرزمین، شہریوں اور تیل و گیس کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

Sources

ReutersBloomberg

Al Jazeera

The National UAE

Middle East Eye

Israeli Airstrikes Hit 65 Villages in Southern Lebanonجنوبی لبنان کے 65 دیہات پر اسرائیلی فضائی حملے، درجنوں افراد جاں بحق

جنوبی لبنان پر اسرائیلی بمباری میں شدت، متعدد گاؤں نشانہ، درجنوں افراد جاں بحق


8 March 2026
بیروت / جنوبی لبنان
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔ مقامی ذرائع اور صحافتی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات اور آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنانی صحافی سارا صحافی کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے تقریباً 65 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 70 افراد جاں بحق ہو گئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پورے پورے خاندان، خواتین اور حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ حملوں کے بعد متعدد علاقوں میں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے سے متاثرین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے باعث لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔


Source
Sara Sahafi – Lebanese Journalist
مزید معلومات مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

یو اے ای کا دفاعی فیصلہ: اٹلی سے تقریباً 2 ارب ڈالر کا میزائل دفاعی نظام خریدنے کی تیاری

یو اے ای کا دفاعی فیصلہ: اٹلی سے تقریباً 2 ارب ڈالر کا میزائل دفاعی نظام خریدنے کی تیاری
8 مارچ 2026
ابوظہبی / روم
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے اپنے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نیا قدم اٹھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ مصدقہ بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق یو اے ای اٹلی سے تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کا جدید میزائل دفاعی نظام خریدنے پر غور کر رہا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی اور سفارتی ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ اٹلی کے جدید فضائی دفاعی نظام SAMP/T (Surface-to-Air Missile Platform) سے متعلق ہو سکتا ہے، جو طیاروں، ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے خلاف مؤثر دفاع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث کئی ممالک اپنے ایئر ڈیفنس سسٹمز کو مزید جدید بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات اس سے قبل بھی امریکہ سے Patriot اور THAAD میزائل دفاعی نظام حاصل کر چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں ابوظہبی نے دفاعی تعاون کو متنوع بنانے کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ بھی روابط بڑھائے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کا یہ ممکنہ دفاعی معاہدہ خلیج میں نئے اسٹریٹجک توازن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
معتبر ذرائع (Sources)
اس خبر سے متعلق معلومات درج ذیل بین الاقوامی ذرائع کی رپورٹس اور دفاعی تجزیوں سے اخذ کی گئی ہیں:
Reuters
Bloomberg
Defense News
The National UAE
Al-Monitor (Middle East Security Analysis)